
جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ گزشتہ برس صدارتی انتخابات میں انہیں جنرل پرویز مشرف کے مقابلے میں دستبردار کرانے کیلئے 3کوششیں کی گئیں ۔ دباو اور لالچ کے حربے استعمال کیئے گئے لیکن ان لوگوں کو ناکامی کا سامنا کرناپڑا ۔ پرویز مشرف کا صدارتی انتخاب دھاندلی کا نتیجہ تھا جس میں گجرات فارمولا استعمال ہوا۔ فارمولے کے تحت پہلے سے ایک بیلٹ پیپر حاصل کیا گیا تھا جس پر مشرف کے نام کے آگے نشان لگا کر ووٹر کو دیا جاتا تھا۔ ووٹر اس کو ڈبے میں ڈالتا اور خالی بیلٹ پیپر جو اسے وہاں ملتا وہ اسے واپس لے کرآتا پھر اس پر نشان لگا کر دوسرے ووٹر کو دیا جاتا تھا ۔ اس طرح خفیہ ووٹنگ کی حرمت پامال کر کے پرویز مشرف کیلئے ووٹ حاصل کیئے گئے تھے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر اے پی ڈی ایم بائیکاٹ نہ کرتی اور پیپلزپارٹی امین فہیم کو امیدوار نہ بناتی تو مشرف کو ہرایا جاسکتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں 9ووٹ ملے تھے۔ اگرگجرات فارمولے کے بجائے صحیح خفیہ رائے شماری ہوتی تو ہمیں مزید ووٹ ملتے ۔ اس صورتحال میں ہمارے پاس ایک ہی چارہ رہ گیا تھا کہ ہم پرویز مشرف کی اہلیت کو چیلنج کریں ،ایک تو وہ سرکاری ملازم تھے اور وہ باوردی تھے۔ انہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دینا تھا لیکن مشرف نے 3نومبر کو غیر آئینی اقدام کرتے ہوئے پوری سپریم کورٹ گھر بھجوادی۔ انہوں نے کہا کہ مشرف اور آصف زرداری کے صدارتی انتخاب میں صورتحال ایک جیسی تھی۔ آصف زرداری کی اہلیت کے معاملے کو اٹھایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ جسٹس(ر)وجیہ الدین نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ججز کی بحالی میں رکاوٹ صرف این آر او(قومی مفاہمتی آرڈیننس ) ہے۔ آصف زرداری کو صدر بننے کے بعد این آر او کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لئے اب انہیں کوئی خدشہ نہیں رہنا چاہیے اور امید ہے کہ اب صدر بننے کے بعد یہ سارے جج صاحبان کو بحال کر دیں گے ۔اس سوال پر کہ کیا حالیہ صدارتی انتخاب میں آپ کو امیدوار بنانے کے لئے کسی نے کو ئی رابطہ کیا تھا ؟جسٹس (ر) وجیہہ نے کہا کہ اس حوالے سے مجھ سے بلواسطہ رابطے کیئے گیئے تھے اور امیدوار بنانے کی بات کی گئی تھی لیکن میں نے معذرت کرلی تھی کیونکہ ایک تو اپوزیشن کے امیدوار کی کامیابی کا چانس نہیں تھا ۔ پچھلی مرتبہ تو جنرل مشرف کو چینلج کرنا تھا ۔ وکلاءبرادری ان کی اہلیت کو چیلنج کرنے کے حق میں تھی۔اس لیئے میں نے ذمہ دری نبھائی تھی اب یہ صورت نہیں تھی اور میری ساکھ کا بھی مسئلہ تھا ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اسی انتظار میں رہتے ہیں اسی لیئے میں نے معذرت کرلی۔ وکلاء تحریک کئے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بعض ججز کے دوبارہ حلف اٹھانے سے کچھ اثر پڑا ہے۔ میرے خیال میں دو چیزیں کمزوری کا باعث بنی ہیں ۔جس وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان ہوا اے پی ڈی ایم کی جانب سے بائیکاٹ کی بات کی گئی اس وقت وکلاء نمائندوں کا صورتحال پر غور کیلئے راولپنڈی میں اجلاس ہوا تھا ۔ میں نے اجلاس میں کہا کہ ملک میں وکلاء برادری نے اپنی ساکھ بنالی ہے ۔ انتخابات میں وکلاء برادری اپنے نمائندے کھڑے کردے یہ کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر اس اجلاس کے دوسرے یا تیسرے روز پاکستان بار کونسل نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔ اگر انتخابات میں وکلاءنمائندے کھڑے ہوتے تو آج پوزیشن کچھ اور ہوتی۔ دوسری غلطی اسلام آباد میں دھرنا اچانک ختم کرنے کی تھی جب وکلاء 14جون کو پارلیمنٹ کے سامنے پورے جوش و خروش کے ساتھ تھے اور اسی روز قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ہونا تھا ، اگر دھرنا جاری رہتا تو اسی روز فیصلہ ہوجاتا اور وکلائ کے مطالبات مان لیئے جاتے لیکن اجلاس شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیاتاہم ان جج صاحبان کو بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او قبول نہ کرکے پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کرایا تھا پھر اپنے ہاتھوں سے ہی اسے مٹادیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک اب قومی تحریک بن چکی ہے ۔ اس ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں نظام عدل قائم ہو ، سزا جزا کا نظام رہے جو اچھا کام کرے اسے انعام ملے جو غلط کام کرے اسے سزا ملے۔ اس لیئے تحریک نہ صرف جاری رہے گی بلکہ زور بھی پکڑے گی۔ ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب عوام کی طرف سے اور قانونی حلقوں کی طرف سے پی سی او ججز کو نکالنے کا مطالبہ ہوگا ۔اب جس طرح بعض غیر فعال جج صاحبان نے دوبارہ حلف اٹھا کر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑا ہے یہ اب ماضی کی طرح انصاف نہیں دے سکیں گے۔ عوام کی توقعات اس طرح پوری نہیں ہوگی جس طرح 3نومبر سے پہلے کی عدالت نے ان کو انصاف دیا تھا جس کے بعد غیر مطمئن عوام تحریک کے ساتھ ہوں گے۔جبکہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے باجوڑ ایجنسی میں آپریشن جاری ہے باجوڑ میں بہت سے علاقے شدت پسندوں کے قبضہ سے واپس چھڑا لئے گئے ہیں ۔ اور سڑکوں کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ مقامی لوگوں کو واپس بلایا جائے گا ۔ شدت پسند اسلحہ افغانستان سے حاصل کرتے ہیں ۔ ” وائس آف امریکہ “ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ علاقے میں آپریشن کرنے کا مقصد علاقے میں حکومت کی رٹ کو بحال کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں آپریشن بند کرنے کا اعلان اس شرط پر کیا تھا کہ دوسری طرف سے حملے نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے چیک پوسٹوں پر حملے کئے تاہم حکومت کو ان علاقوں میں دوبارہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوزہ بانڈی اور کبل میں فوجی آپریشن جاری ہے اور عسکریت پسند بھی وہی موجود ہیں جن کو کارروائی کے ذریعے ختم کیا جائے گا ۔ تاہم سوات میں شدت پسندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ علاقے میں آپریشن اس وقت جاری رہے گا جب تک وادی سے شدت پسند نکل نہیں جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ فضائی سطح پر علاقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جہاں پر زمینی فوج موجود نہیں اور شدت پسندوں نے م?ضبوطی سے قدم جمائے رکھے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شدت پسند وہاں کی مقامی آبادی کے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند یہ اسلحہ و سازو سامان وسطیٰ ایشیاءاور افغانستان سے حاصل کر رہے ہیں۔جبکہ سری نگر کے شوپیان قصبہ میں مسلسل تیسرے روز بھی کرفیو کے نفاذ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ مسلسل کرفیو سے مقامی آبادی فاقہ کشی پر مجبور ہوگئی ہے۔ قصبہ میں سیکورٹی انتظامات مزید سخت کردئے گئے ہیں۔ افطار کے فوراً بعد بھارتی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں، مظاہرین کی طرف سے پتھراو¿ کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر کریا۔ ادھر بارہمولہ قصبہ میںگزشتہ روز کرفیو میں نرمی دی گئی ۔ تاہم لوگوںنے دکانیں اورکاروباری ادارے بند کرکے بھارتی فورسز کی زیادتیوں کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیا۔ دوپہر سے قبل بارہمولہ میں 200افراد پر مشتمل مظاہرین نے ریاستی پولیس اور بھارتی فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ قصبہ میں مسلسل تیسرے روز بھی کرفیو کے نفاذ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ حساس مقامات پر بھارتی فورسز کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔ گلی کوچوں کی ناکہ بندی کرکے عبورومرور کے راستے مسدودکردئیے گئے ۔ اس دوران کسی کو بھی دودھ، روٹی، ساگ ، سبزی اور ادویات کے لئے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے سبب قصبہ کے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی فورسز کی طرف سے زور زبردستی کی کاروائیوں کے سبب ڈاکٹر بھی اپنی ڈیوٹی سے حاضر نہیں ہوسکے۔ چند ایک مسجدوںمیں اذان کی آواز گونجی، تاہم ان مسجدوں میں صرف بزرگوں کا نماز پڑھنے کی جازت دی گئی۔ نوجوانوں کو مسجد وں کی طرف جانے سے رورکا گیا۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکان کے مکینوں کوکھڑکیاں اور دروازے کھولنے کی پاداش میں ڈنڈوں سے زدوکوب کیا۔ مقامی لوگوںنے بتایاہے کہ قصبہ میں سخت ترین کرفیو کے سبب وہ اشیاءضروریہ او ر ادویات حاصل کرنے سے محروم رہ گئے ہیں۔ اتوار کے دن قصبہ کے بازاروں میں بھارتی فورسز کی گاڑیوں کو رواں دواں دیکھا گیا۔ جبکہ سی آر پی ایف اہلکار بازاروں میں گشت کررہے تھے بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سجاد احمدگنائی کے چہارم تک قصبہ میںکرفیو کا نفاذ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سجاد احمد کا چہارم 15ستمبر بروز سوموار کو انجام دیا جارہا ہے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment