

پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو صدر بننے کی سفارش کردی ہے۔ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جس طرح آصف علی زرداری نے پارٹی کو سنبھالا ہے اور قوم کو ایک ڈکٹیٹر سے نجات دلائی ہے اس پر ملک کے عوام کو فخر ہے ۔ جبکہ ملک بھر کے عوام کا بھی یہی مطا لبہ ہے کہ زرداری صدر پاکستان کیلئے سب سے موزوں امیدوار ہیں اور یہ ان کا حق ہے کہ کیونکہ جمہوریت کی بحالی کیلئے آصف علی زرداری نے 8 سال جیل میں گزارے ہیں۔ تشدد برداشت کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پارٹی کی دیگر لیڈر شپ نے ججوں کی بحالی اور نئے صدر کے معاملہ پر اپنے ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنماوں سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ جبکہ اراکین اسمبلی نے چیئرمین اور شریک چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کا آئندہ صدر آصف علی زرداری کو بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں اراکین اسمبلی نے زرداری صاحب سے ایک ملا قات میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں ہیں۔ جس میں انہوں نے کہا کہ صدر کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے۔ آصف زرداری نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ پارٹی ڈسپلن کا خیال رکھیں گے اور تمام فیصلے مشاورت سے کئے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ حتمی ہوگا ججوں کی بحالی پر حکمران اتحاد کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا جس کیلئے ان سے مشاورت بھی کی جائے گی اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر کے انتخاب کے بارے میں جمعہ کے روز مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ پہلے صدر کے انتخاب کا معاملہ طے کیا جائے گا۔ اس کے بعد ججوں کا معاملہ طے کیا جائے گا۔ عشائیہ کے بعد پیپلز پارٹی کی رہنما فرزانہ راجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے پارٹی شریک چیئرمین کو صدر بننے کی تجویز دی ہے تاہم صدر کے نام کا حتمی فیصلہ مجلس عاملہ کرے گی۔ علاوہ ازیں آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور اس کے سربراہ الطاف حسین نے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے اور پرامن طورپر اپنے عہدے سے الگ ہونے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ بدھ کو ایک بیان میں زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں جن کو سراہا جانا چاہئے۔ ایم کیو ایم سمیت ان تمام سیاسی قوتوں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کیلئے اتحادی حکومت کے ساتھ تعاون کیا۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مواخذے کے معاملے کو فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے خوش اسلوبی سے حل کیا جو قابل تعریف ہے، اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف نے ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں ازخود استعفیٰ دے کر ملک کو بہت بڑے بحران سے بچا لیا جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آصف زرداری زرداری نے محترمہ بے نظیر کی المناک شہادت کے صدمہ کو جس طرح صبر و تحمل سے برداشت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کو یکجا رکھا اور محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پی پی پی کے مشتعل کارکنوں کے نعروں کے جواب میں” پاکستان کھپے“ کا نعرہ ہمت وحوصلے کے ساتھ لگایا اور کارکنوں کے جذبات کو قابو میں کیا وہ ان کی دانشمندی، بردباری اور اعلیٰ حکمت عملی کا کھلا ثبوت ہے۔ الطاف نے کہا کہ زرداری نے ساڑھے گیارہ سال تک جیل کاٹی، کئی سال جلاوطنی میں گزار دیئے۔ محترمہ بے نظیر نے جمہوریت کیلئے جو قربانیاں دیں ان تمام قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب صدارتی امیدوار کیلئے چھوٹے صوبہ سے اگر صدر کے عہدے کیلئے اخلاقی طور پر کسی کا حق بنتا ہے تو وہ آصف علی زرداری کا ہی بنتا ہے اور میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو صدارتی انتخاب کیلئے اپنی اور اپنی پارٹی کی طرف سے دعوت دیتا ہوں اور آصف علی زرداری، ان کے ساتھیوں اور تمام جماعتوں کے رہنماو¿ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے اس proposal پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے آصف علی زرداری کو صدارت کے عہدے کیلئے نامزد کر کے محترمہ کی روح کو سکون پہنچائیں۔ مجھے امید ہے کہ آصف علی زرداری، ان کے ساتھی اور تمام جماعتوں کے رہنما میری اس اپیل پر ہمدردی سے غور کریں گے۔جنرل مشرف کی اقتدار سے رخصتی شہید بی بی کے تدبر، دانش اور بصیرت کی فتح ہے انہوں نے عظیم قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب وقت پر مناسب فیصلے کر کے منہ زور آمر کو کمزور کیا۔ شہید بی بی نے سیاسی تاش کے پتے بڑی ہنرمندی سے کھیلے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں دلچسپی رکھنے والی عالمی طاقتوں اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان خلیج پیدا کر دی اور یہ ثابت کرنے اور باور کرانے میں کامیاب رہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آمریت نہیں بلکہ جمہوریت ہی بہترین آپشن ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب کے طاقت کے مرکزوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی جانب ہاتھ بڑھایا جو پہلے ہی وکلاء تحریک کے دباو¿ کا شکار ہو چکے تھے اور سہارا ڈھونڈ رہے تھے جنرل پرویز مشرف سے این آر او جاری کرانا اور وردی اتروانا شہید بی بی کے اہم کارنامے ثابت ہوئے۔ انتخابات سے پہلے وردی اتارنا اور انتخابات کے بعد نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا ”بے نظیر مشرف غیر تحریری ڈیل“ کی اہم شرطیں تھیں جس کے گواہ امریکہ اور برطانیہ تھے اگر شہید بی بی ”وردی“ اور ”اعتماد کا ووٹ“ تسلیم کرانے میں کامیاب نہ ہوتیں تو جنرل مشرف آج بھی باوردی صدر ہوتے بلکہ تاحیات صدر رہتے۔ آمریت کی بے مثال شکست کا سہرا شہید بی بی کے سر ہے جو آج بھی نوڈیرو میں منوں مٹی کے اندر سے سیاست اور جمہوریت کو طاقت فراہم کر رہی ہیں بھٹو اور بے نظیر کی قبریں طاقت اور اقتدار کا سرچشمہ بن چکی ہیں ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کا راستہ بھی شہید بی بی نے ہموار کیا وگرنہ میاں نواز شریف مزید پانچ سال تک سیاسی منظر سے باہر تھے۔ میاں نواز شریف نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی خون آلود لاش پر آنسو بہا کر اور ان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھا کر شہید بی بی کی عظمت اور فراست کا اعتراف کیا اقتدار میں عام طور پر شہید قائدین نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں جب اقتدار کا نشہ اترتا ہے تو شہید قائدین مرکزی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں جن کو قتل گاہوں میں موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے انہیں حالات کی صدا جگا دیا کرتی ہے۔ بہت جلد جنرل پرویز مشرف بھی شہید بی بی کی سیاسی فراست کا اعتراف کرتے نظر آئیں گے شہید بی بی کی روح پرسکون ہوگی کہ ان کی پاکستان میں حقیقی اور مکمل جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کامیاب ہوئی۔آصف علی زرداری مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مفاہمت کی پالیسی کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی قوتیں اگر متحد نہ ہوتیں تو آمر کو گرانا ممکن نہ ہوتا۔ یہ سیاسی اتحاد کی برکت ہے کہ تاحیات صدر رہنے کا خواب دیکھنے والا آمر ایوان صدر خالی کر چکا ہے۔ اب جمہوری حکومت پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ عوام کے معاشی مسائل کو حل کر سکے گی۔ جمہور مستحکم اور مضبوط ہونگے تو جمہوریت بھی مضبوط ہو سکے گی۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے بغیر جمہور مستحکم نہیں ہو سکتے۔ سیاسی اور معاشی استحکام ہی سے ملک مستحکم ہوتے ہیں اور اپنی آزادی و خود مختاری کا دفاع کر سکتے ہیں قوم آصف زرداری کی قیادت میںگروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر پاکستان اور عوام کے لیے وقف کر دیں تو پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہو سکتا ہے، جمہوریت پائیدار ہو سکتی ہے اور عوام عزت اورسکون کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔”سب سے پہلے پاکستان“ کا تقاضا تو یہی ہے کہ آمریت کی تمام نشانیوں کا قلع قمع کر دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی طالع آزما آمرجمہوریت کو قید نہ کر سکے مگر حالات کا جبر شاید اجازت نہ دے۔شہید بی بی نے حکمران اتحاد کو مکمل جمہوریت کا تحفہ دیا ہے اب حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ٹھوس ریلیف دیں ۔ جمہوریت کا ثمر عوام کو ملے گا تو عوام کے دلوں میں جمہوریت کے لیے یقین اور اعتماد پیدا ہو گا۔ شہید بی بی کوسلام جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر عوام کو جمہوریت کا تحفہ دیا۔ خدا کرے یہ تحفہ پوری قوم کیلئے نیک فال اور بابرکت ثابت ہو۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment