International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 18, 2008

مشرف جنگی مجرم ےا محب وطن۔تحرےر:روف عامر پپا ، اے پی ایس






ہورس کا قول ہےکہ حالات انسان کو جنم نہےں دےتے بلکہ آدمی حالات کو جنم دےتا ہےجناب صدر صاحب پاکستان مےں باد مخالف کا زور ٹوٹتا نظر نہےں اتابلکہ قرائن سے ےہ سچائی زندہ جاوےد حقےقت بن کر سےاسی افق پر جھلملا رہی ہےکہ آپ عالم مےں اپنے آپکو مضبوط اعصاب و آ ا ہنی عزائم کا مرد قلندر ثابت کرنے کے لئے چاہے رنگا رنگ بےانات کے مےزائل چلاتے اور اےوان صدر مےں کچھ عرصہ اور فروکش رہنے کے لئے تجاوےز کا جنگل اگاتے رہےںآپ اپنے اقتدار کی نےا کو بےچ منجھدھار سے نکالنے کے لئے شعبدہ بازےوں کے جتنے مظاہر دھکائےںآپ مخلوط اتحاد سے مقابلہ کرنے کی جتنی ہاہاکار مچاتے رہےںچاہے آپ فطرت ےزداں کے حضور امداد و استعانت کی دعائےں کرتے رہےں ےا مےڈےا کے ذرےعے نت نئی جگالی کرکے عوام کی ہمدردی سمےٹنے کی فنکاری کرےں ےا ہداےت کاریلےکن موجودہ حالات مےں اپکے لئے سچ کو تسلےم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہےںاور سچ ےہ ہےکہ آپکے چہرے سے شکست خوردگی حقائق کے ساتھ برس رہی ہےآپ کے اعصاب ٹوٹ چکے ہےںآپ کے چل چلائو کا وقت انتہائی قرےب ہےاور ےاد رکھےںکہ وہ دن قریب ہے جب آپکے جابرانہ و آمرانہ اقتدار کی کشتی ہمےشہ کے لئے ڈوبنے والی ہےاور آپکے وحشت انگےز دور اقتدار کا سورج بھی غروب ہونے والا ہےکےونکہ موجودہ حالات و واقعات کو جنم دےنے کی ذمہ داری بھی آپکی ہے وےسے قوت کے بل بوتے پر اقتدار کے سنگھاسن پر مسلط ہونے والے بادشاہ جتنی رام کہانےاں الاپتے رہےںلےکن سچ تو ےہ ہے کہ اےسے پرنس شےشے کے گھروں مےں بےٹھ کر اپنے عکس سے گھبراتے ہےںشائد مورخےن نے آپکے متعلق کہا تھا کہ حالات انسان کو جنم نہےں دےتے بلکہ انسان اچھے ےا برے حالات کو جنم دےنے کا ذمہ دار ہےملک کی چاروں صوبائی اسمبلےاں آپکے خلاف عدم اعتماد کی قراردادےں بھاری اکثرےت سے پاس کرچکی ہےںانہی اسمبلےوں نے اپکے صدارتی الےکشن مےں اپکو جتوانے مےں روز روشن کردار ادا کےا تھاقومی اسمبلی اپکی گوشمالی کے لئے ےک جان ہوچکی ہےہوسکتا ہے کہ آپ کے قرےبی ساتھےوں طارق عزےز اور ق سے تعلق رکھنے والے لےلائے اقتدار کے مجنوں آپ کو ڈٹ جانے کا مشورہ دےں ےاآپکے قصر ابےض کا راوی آپکو ےہ بے پرکی سنائے کہ قوم ابھی بھی آپکی محبتوں کے گن گارہی ہےاور آپ اےسی بودی دلےلوں اور تاوےلوں کو سچ مان کر مقابلے کے سر تال بجاتے رہےںبہترہوگاکہ آپ اپنے کسی ممدوح ےا مرےد کو زمےنی حقائق کا پتہ چلانے کی ذ مہ داری سونپ دےں تو وہ اپکو ےہی بشارت دے گاکہ خےبر سے کراچی تک اور مےانوالی سے لےکر وادی سوات تک ہر شخص اےک ہی نظرئےے کا پرچارکرتا دکھائی دےتا ہےکہ گو مشرف گوآپ ےہ تو بتائےےکہ آپ کا اس دنےا مےں ظہور دےگر انسانوں کی طرح ہوا ےا پھر اپکا تعلق کبےرالمخلوقات کی نسل سے ہے ےا کسی خلائی مخلوق وبالائی طبقے سے ہےکہ آپ سچ کی بجائے کذب بےانےوں اور حقےقت کی بجائے خوش فہمی اور کج روی کے رسےا بن گئے ہےںمحسوس نہ کرےں تو خاکسار کو ےہ کہنے مےں کوئی قباحت محسوس نہےں ہوتیکہ آپ سٹھےا گئے ہےںےا پھر اتاولے پن نامی بےماری نے آپکو اپنے شکنجے مےں جکڑ لےا ہےکہ آپ صوبائی اسمبلےوں سے لےکر عوامی صفوں اور اقتدار کی راہدارےوں سے لےکر افواج پاکستان کے اشےانوں تک نفرت کی نشانی بن چکے ہےںاگر رب تعالی نے آپکو بصےرت سے نوازا ہوتا تو اپ اےک لمحہ ضائع کئے بغےر بےانگ دہل اےوان صدر کو خالی کرکے کسی روشن خےال ملک کی آزاد فضاوں مےں سانسےں لے رہے ہوتےچرچل نے جرنےلوں کے متعلق کہا تھاکہ جنگ جےسے معاملات جرنےلوں کے سپرد نہےں کئے جاسکتےاور نہ ہی انہےں سویلین معاملات کی گمبھےرتا کی سلجن کی ذمہ داری دی جاسکتی ہےکےونکہ افراتفری اور سےاسی انتشار سے مسلح حالات کو سلجھانے کے لئے جس فراست و آگہی کی ضرورت درکار ہوتی ہےجرنےل ان زرےں اوصاف سے تہی داماں ہوتے ہےںعنقرےب مواخذے کی صلےب پر چڑھ کر قصہ پارےنہ بن جانے والے عزےزی صدر صاحب اور اپ کے گنے چنے حوارےوں کو تارےخ کا سبق ےاد رکھنا چاہےےکہ آمرےت کا سورج ہر دور کے بارہ اکتوبر کو طلوع سے بڑے جاہ وجلال سے ہوتا ہےلےکن حقےقت تو ےہ ہےکہ فرعونےت چاہے دور موسی والی ہو ےا پھر اس کا تعلق چنگےزی نسل سے ہوامر چاہےنمرود کا بھائی ہو ےا جنرل ضےاالحق کا بگ باسڈکٹےٹرشپ کا سورج ہمےشہ تارےکےوں کی گھاٹےوں مےں اےسا غروب ہوتا ہےکہ پھر روز جزا سے پہلے کبھی طلوع ہونے کی سکت نہےں رکھتاجناب والا آپ کو شائد ےہ زعم ہو کہ پاک فوج آپکے تخت کو تہہ خاک بننے سے بچالے گیتو جناب اےسا سوچنا دن مےں تارے دےکھنے کے مترادف ہےچےف آف آرمی سٹاف نے آپکی اس خوش فہمی کے غبارے سے چودہ اگست کو جشن ازادی کے پرمسرت موقع پر ہی ہوا نکال دی جب انہوں نے اےوان صدر کی بجائے کنونشن سنٹر مےں حکومتی تقرےب مےں شرکت کرکے جمہور نوازی کی مقدس مثال قائم کردیاگر پاک فوج پروےز کےانی اےسے آئےن پرور چےف کو مشعل راہ بنا کر اپنی پےشہ وارانہ حدود و قےود تک محدود رہی تو وہ وقت دور نہےں جب اس مملکت خداد مےں فوجی ڈکٹےٹرشپ کی سےاہ رات کا ہمےشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے گالےکن اےک سچ تو ےہ بھی ہےکہ پاکستان کو منزل جمہور سے ہم کنار کرنے کے لئے آپکا بروقت مستعفی ہونا بھی لازم ہےکےونکہ حکومت جو توانائےاں آپ جناب کو راندہ درگاہ کرنے کے لئے صرف کر رہی ہے وہی اس رےاست کے لاکھوں مسکےنوں کی فلاح و بہبود کو ےقےنی بناسکتے ہےںکہاجاتا ہے کہ اپ قومی مجرم ہےںکےونکہ اپ نے اپنے عدےم النظےر دور مےں ملکی تباہی مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےاجماعت اسلامی کے امےر قاضی حسےن کے اس بےان مےں کتنی صداقت ہےاس سے تو ہم اےسے کم فہم قلمکار آگاہ نہےںلےکن اےک سچ تو ےہ بھی ہے کہ اگر آپکے دور اقتدار کا حقائق پسندانہ جائزہ لےا جائےتو بعض اوقات آپکے مخالفےن کے استدلال مےں سچائی کے عناصر روز روشن کی طرح عےاں نظر آتے ہےںآپ شےشے کے محلات مےں بےٹھ کر ٹامک ٹوئےاں مارنے منتخب حکومت کے خلاف سازشےں کرنے اور رےاست کی معاشی ترقی و سلامتی کے لئے بھانت بھانت کی درفطنےاں چھوڑنے کی بجائے قوم کو مندرجہ ذےل سوالات کے جوابات دےںاور اپنی کوتاہےوں کی معافی طلب کرےں تو ےہ قوم اس معاملے مےں بڑی اعلی ظرف ثابت ہوئی ہےہوسکتا ہےکہ ےہی قوم ُ آپ کو واپسی کی محفوظ راہ ( جسکا امکان بہت کم اور ناممکن ہے) مہےا کردےآپ کی گوشمالی نوشتہ دےوار بن چکی ہےلےکن آپ اسی ہٹ دھرمیاور خود پسندی اور رعونت کا مظاہرہ کررہے ہےں جو آپکے خوش رنگ چہرے سے بارہ اکتوبر کے انہونے انقلاب کے وقت آپکے جسم کے ہر حصے سے ساون بھادو کی طرح برستی تھیلےکن ےاد کےجئے کہ ہٹ دھرمی ضد انا پسندی خود سری اور سرکشی اپسرائےں نہےں بلکہ بلائےں ہےں جو صرف تختے کی سےر کرواتی ہےں1۔آپ نے بارہ اکتوبر99 مےں عوام کے ووٹوں سے الےکٹ ہونے والی حکومت کو ملےا مےٹ کردےاعوام کی انکھوں مےں ہائی جائےکنگ کےس کی من گھڑت داستان آمرےت کی دھول جھونکی گئیوزےراعظم کو آئےن پاکستان نے عسکری سردار کی برطرفی کا حق دےا ہےلےکن آپ کے چند ساتھےوں نے اقتدار کو گھر کی لونڈی بنانے کے لئے جمہورےت پر شب خون مارا©کےا آپکا اقدام ماورائے آئےن نہ تھا؟کےا اپ آئےن کی شق نمبر چھ کے تحت آئےن کی حرمت اور جمہورےت کی کبرےائی کا کرےا کرم کرنے کے جرم مےں سزا کے مستحق نہےں؟آپ نے عوام کے دو محبوب لےڈروں پر جلاوطنی کی تلوار لٹکائیہاکستان کے لاکھوں سےاسی ورکروں کو اس عمل سے زہنی ازےت پہنچائیاس پر طرہ ےہ کہ پی پی کی ملکہ عالم کو خود کش حملے کی بھےنٹ اپکے دور مےں چڑھاےا گےاکےا بی بی کے قتل کی زمہ داری حضرت عمر کے قول کی روشنی مےں کہ اگر فرات کے کنارے اےک کتا بھی مرگےا تو اسکی زمہ داری مجھ پر عائد ہوگیآپ پر عائد نہےں ہوتی؟کےااےجنسےوں نے بی بی شہادت کےس کے تمام ثبوت قتل کے فوری بعد ضائع نہ کردئےے تھے؟اگر اپ کی آنکھ مےں جرم کا کوئی چھتےر نہےں اٹکا تو پھر ثبوت کےوں مٹائے گئے؟کےا اس سوال کا جواب دےنا پسند فرمائےں گے کہ آپ نے اپنے سےاسی عزائم کی تکمےل کے لئے ق لےگ کا بت نہےں تراشامختلف سےاسی جماعتوں کے بے ضمےر لوٹوں کو قومی خزانے کی من سلوی سے ق لےگ کا ہمرکاب بناےا گےااور اےجنسےوں نے اپکی وفاداری کا حلف اٹھانے والے سےاسی رانجھوں کو ضلعی و تحصےلی حکومتوں کی نظامتوں کا تاج پہناےاقومی مجرموں کو حکومتی اقتدار کی طنابےں پکڑ وادی گئےںکےا آپکے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہماری سےاسی جسد مےں کرپشن کا مذےد زہر سرائےت کرگےااس جرم عظےم کی زمہ داری کس کے کھاتے مےں ڈالی جائے؟آپ کی من پسند اور لشکری کابےنہ نے ذخےرہ اندوزی ہڈ حرامی سے آٹے و چےنی سےکنڈل کے نام پر غرےبوں کی رگوں سے صرف دو چار دنوں مےں اربوں کا خون نچوڑ لےاچےنی مافےا کو قانونی پکڑ سے دور رکھا گےاکےا اس لوٹ مار کی ذمہ داری آپ پر عائد نہےں ہوتی؟آپ نے اس سےاہ نصےب قوم کو سات نکاتی اےجنڈے کا جھانسہ دےاجس مےں کرپٹ لےڈروں اور سےاسی رہبروں کا کڑا احتساب شامل تھاآپکا احتساب بےورو مخالفےن کے لئے وبال جان بن گےااربوں کھربوں کے لٹےرے ق لےگ کے مشرفی جنت مےں پاک صاف بنا کر داخل کئے گئےاحتساب بےورو کو صرف پی پی اور ن کے حق پرست رجال کاروں کو پھانسنے کا کلہاڑا بنا دےا گےاعوام کو سرمست بنادےنے والا سات نکاتی اےجنڈا اپنی تخلےق کے اےک سال بعد مرگےاعوام کو دھوکہ دےنے کے اس گھناوئنے جرم مےں آپکا احتساب ضروری ہے کہ نہےں؟کےاآپ نے افغانستان مےں اسلامی حکومت کے خاتمے کے لئے امرےکہ کو پاکستانی اڈے اور دےگر فوجی سہولےات بہم نہےں پہنچائےں؟کےا امرےکےوں کی آنکھ کا تارا بننے کے لئے آپ نے فاٹا مےں پاک فوج کو مجاہدےن کی سرکوبی پر مجبور نہ کےاکےا آپ نے قبائلی علاقوں مےں خون مسلم کے درےا نہےں بہائے؟آپ نے امرےکہ سے ےارانہ نبھاےا اور اسکے عوض امرےکی شےطانوں نے لاکھوں ماوئں کے جگر گوشے شہےد کرڈالےہزاروں قبائلےوں اور بے خانماں و بے سائباں مجاہدےن کے خون ناحق سے آپکا دامن الودہ نہ ہے؟کےا آپکو جنگی مجرم کہنا بے جا ہوگا؟آپ نے اپنی کتاب لائن اف فائر مےں تسلےم کےا ہے کہ آپکے شہسواروں نے القائدہ کے شبے مےں ہزاروں مجاہدوں کے سےنے پر انتہاپسندی کا تمغہ سجا کر اےف بی آئی کو ڈالروں کے عوض فروخت کےاآپکی دےدہ دلےری کے کےا کہنےاب ےہ دلےری آپکو عدلےہ کے کٹہروں مےں لے جانے کا سبب بن سکتی ہےکےا آپ نے خدائی فرامےن سے روگردانی نہےں کیرب کرےم کا فرمان ہےکہ ےہود و نصاری سے دوستےاں مت رکھوظالموں اور جابروں سے تعلقات مت بناواپ نے بش کو آقاوملجی بنا رکھا ہے اپ نے ڈٹ کر قبائلےوں کے خلاف امرےکی سورماوں کی مدد کیکےا اےسا کرکے آپ نے رب سائےں کے دےن محمدی سے انحراف نہےں کےا؟کےا خود کش حملوں کی رونق افزائی اپکی دہشت گردانہ پالےسےوں کا شاخسانہ نہ ہے؟ کہا جاتا ہے کہ حکومتی اختےارات کے وحشےانہ استعمال کی کوکھ سے ہمےشہ تشدد جنم لےتا ہےپاکستان اسلامی ملک ہےاسلام ہمارا دےن اور اسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہےقران پاک ہمارے لئے نجات کا خدائی زرےعہ ہےکےا اپکا کوئی عمل دےن اسلام اسوہ حسنہ اور قران فرقان سے لگا کھا تا ہے؟کےا آپ نے کشمےر کے معاملے پر ےوٹرن لےکر اکسٹھ سالہ مسئلہ کشمےر کو سرد خانے مےں ڈال دےااگر اپ نے روشن خےالی کا ڈھول پےٹ کر کشمےری مجاہدوں کا نفس ناطقہ بند ہی کرنا تھا تو پھر کارگل اےسی جانباز جنگ لڑنے کا کےا فائدہ؟ کارگل کی چوٹےوں پر بھارتی افواج کا ترنولہ بننے والے مجاہدےن اور فوجی جوانوں کی موت کا زمہ کس کے کھاتے مےں ڈالا جائے گا؟آپ قوم کو مکے دکھانے اور بڑی طاقتوں کے سامنے سربسجود ہونے کے شوقےن ہےںکسی بھی قوم کے لئے خود مختےاری اور ازادی سے بڑھ کر کوئی چےز قےمتی نہےں ہوتیلےکن آپ نے وائٹ ہاوس کو کعبہ قبلہ سمجھ کر دھرتی قائد کی سرفروشی کا جنازہ نکال دےا آپ نے قومی ہےرو ڈاکٹر قدےر خان کی پورے عالم مےں جگ ہنسائی کروائیاور اےٹمی ہےرو کو پابند سلاسل بنا دےاہےروکشی کی سزا ہونی چاہےے کہ نہےں؟ آپ کی امرےکن نوازی کا اےک مشرقانہ نمونہ ےہ ہے کہ سےنکڑوں پاکستانی گوانتاناموبے مےں گل سڑ رہے ہےںآپ کی اےک بےٹی ڈاکٹر عافےہ کو پانچ سال قبل دنےا کی اقائی کا دم بھرنے والے امرےکےوں نے پاکستان سے اغوا کرلےالےکن اپنے چوں چراں ہی نہ کیاس ظلم عظےم پر اپکی سزا کےا ہونی چاہےےاپکے آدم خور دور سلطنت مےں کرپشن غربت لوٹ مار لاقانونےتخود کش حملے سےاسی افراط مذہبی تفاوت اور خونی جنگ و جدال عروج پر تھاآپ نے رےاستی عدلےہ کو ٹکڑے ٹکڑے بنادےاجناب والہ ان سوالات کے جوابات بھی تارےخ نے وقت سے پہلے الم نشرح کردئےےآپ دنےاوی قوانےن کو جل دےکر بچ سکتے ہےںلےکن قدرت کو اپ پہلے ہی کئی بار دھوکہ دے چکےلےکن اس کارزار مےں ہر وقت بھونپو نہےں بجتاجناب آپ قومی مجرم ہےںجسکا احتساب بھی لازم ہےاور اےوان صدر سے بےدخلی بھی ضروریجناب آپ جلد از جلد مستعفی ہوں اور شوکت عزےز کے ہاں چلے جائےےورنہ قےامت سے پہلے ہی آپکو اےک اور قےامت کا سامنا کرنا ہےکےونکہ جبران کا قول ہےظالموں کی رسی دراز تو ہوسکتی ہےپائےدار نہےںصدر صاحب جلدی کرےں کہےں اےسا نہ ہو کہ ےہی رسی آپکے گلے کا پھندہ نہ بن جائے؟اے پی ایس

No comments: