
آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت نے مواخذے کی تحریک کو پرویز مشرف کو آئینی صدر تسلیم کر نے اور انہیں واپسی کا محفوظ راستہ دینے کی ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ مواخذے کے بعد حکمران اتحاد کو بھاگنے یا اپنے الگ الگ ایجنڈے پر منتشر نہیں ہو نے دیں گے بلکہ عوام سے کئے گئے ایک ایک وعدے کی پاسداری کرائی جائے گی یوم آزادی کے موقع پر بعض این جی اوز اور بھارت نواز تنظیموں کی طرف سے واہگہ بارڈر پر محفل موسیقی کا انعقاد شیخ عبدالعزیز سمیت تمام شہدائے کشمیر کے خون کے ساتھ مذاق ہے حکومت پاک بھارت سر حد پر ایسی بے ہودہ تقریبات بند کر وائے پاکستان کی بونا قیادت نے نہ صرف پاکستان بلکہ مسئلہ کشمیر کو الجھا کر رکھ دیا ہے مواخذے کی آڑ میں عدلیہ کی بحالی میں تاخیر پر حکمرانوں کا محاصرہ کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار مقررین نے بدھ کی شام راولپنڈی پریس کلب میں تحفظ و تکمیل پاکستان کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام جماعت اسلامی راولپنڈی نے کیا تھا سمینار سے اے پی ڈی ام کے مرکزی راہنما و جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ ،جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی،آئی ایس آئی کے سابق سر براہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل ،جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری محمود الحسن ،حریت کانفرنس کے راہنما غلام نبی نوشہری،جے یو آئی س کے راہنما پیرعبدالشکور نقشبندی جمعیت اہلحدیث کے راہنما ابتسام الہی ظہیر ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ ،عوامی تحریک سندھ کے راہنما عبدالقادر ،سابق ایم این اے میاں محمد اسلم ،توفیق آصف ایڈووکیٹ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اپنے اندر خود انحصاری کے تمام وسائل رکھتا ہے پاکستان میں ناکام فوجی آمریت اور نااہل و بدعنوان سیاسی قیادت ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد سے انحراف کیا ہے کشمیر میں شیخ عبدالعزیز کی شہادت نے ایک نئی کروٹ لی ہے بھارت نے ہمارے غاصب حکمرانوں کے ساتھ مل کر کشمیر پالیسی تبدیل کی اور واضح یوٹرن لیا اس سے ثابت ہو تا ہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو پاکستان کی فوجی قیادت کے ذریعے نقصان پہنچایا گیا آج بھارت کشمیر کی زمین کو بندہ کی پوجا پاٹ کے لئے مختص کر نا چاہتا ہے لیکن کشمیر ی قوم پوری طرح متحد ہے شیخ عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کی شہادت نے اس تحریک کو نیا رنگ دیا ہے واہگہ بارڈر پر بعض این جی اوز اور بھارت نواز تنظیمیں پرچم کی تبدیلی کے موقع پر محفل موسیقی کا انعقاد کر کے کشمیری شہدائ کے خون کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں انہو ںنے اپنی تنظیموں کو خبر دار کیا کہ وہ ایسے اقدام سے باز رہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت موسیقی کی تقریب بند کرے اور نام نہاد اعتماد سازی کا ڈرامہ بند کر کے کشمیریوں کی پشت بانی کی جائے آج حکمران اتحاد مشرف کے مواخذے کی بات کرتا ہے جس کا مقصد آئین کے مطابق مشرف کو آئینی صدر مان کر اس کا مواخذہ کر نا ہے ۔ مواخذے کی آڑ میں حکمران اتحاد کو بھاگنے نہیں دیں گے نہ ہی انہیں اپنے اپنے ایجنڈے پر منتشر ہونے دیں گے بلکہ عدلیہ کی بحالی ، ڈاکٹر عبدالقدیر کی رہائی ، ڈاکٹر عافیہ سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی اور آئین کی بالادستی تک اے پی ڈی ایم جدوجہد جاری رکھے گی ہمارا ا یمان ہے کہ شریعت کا غلبہ پاکستانی عوام کے دکھوں کا علاج ہے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے کہاکہ پاکستان کی تکمیل تب ہو گی جب ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو گا دیوار برلن جلد ٹوٹے گی او رہندوستان پارہ پارہ ہو گا پاکستان کی بونا قیادت نے مسئلہ کشمیر کو الجھا کر رکھ دیا پاکستانی قوم جمود کا شکار رہی جس سے ہم اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے 1990ئ کے بعد اب کشمیر میں ایسی تحریک ابھری ہے جسے روکنا اب بھارت کے لئے ممکن نہیں تاریکی کا دور ختم ہونے والاہے یہ بات طے ہے کہ تمام مسائل کا حل نفاذ شریعت میں پوشیدہ ہے انہوں نے کہا کہ افغان کا ہمیشہ یہ نعرہ رہا ہے کہ وہ صرف اسلام اور امن چاہتے ہیں اسلام کے بغیر امن اور امن کے بغیر معیشت کی مضبوطی ممکن نہیں ان سب چیزوں کیلئے انصاف نا گزیر ہے اور انصاف تبھی ہو سکتا ہے جب عدلیہ آزاد ہو آج یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں مختلف نظریات کے لوگ آئین کی بالادستی عدلیہ کی آزادی ججوں کی بحالی اور مشرف کی رخصتی پر متفق ہو چکے ہیں او ریہی پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ قوموں کو شکست نہیں دی جا سکتی ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا اگر نواز شریف اور زرداری نیکی کا یہ کام انجام دیں تو ہم ان کا ہر اول دستہ بننے کو تیار ہیں۔ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہاکہ جماعت اسلامی آزادکشمیر میں اے پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی بھرپور حمایت کرتی ہے انہوں نے حریت رہنما شیخ عبدالعزیز کی شہادت اور ان کے جنازے پر فائرنگ کر کے نہتے کشمیریوں کو شہید کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا المیہ یہ ہے کہ موجودہ منتخب حکومت نے بھی گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کشمیر پالیسی میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں کی ۔ جمعیت اہلحدیث کے رہنما ابتسام الہی ظہیر نے کہاکہ جنرل مشرف کے آٹھ سالہ دور میں اسلام پاکستان اور جمہوریت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک قوم کی بیٹی کی عزت نیلام کرنے والے پرویز مشرف کو تختہ دار پر نہیں لٹایا جاتا چیف جسٹس کو لال مسجد بمباری ، سٹیل ملزکی کرپشن اور 500لا پتہ افراد کی بازیابی کی آواز اٹھانے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا انہو ںنے خبر دار کیا کہ مواخذے کی آڑ میں چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کی بحالی میں تاخیر پر حکمرانوں کا گھیراو¿ کیا جائے گا علماء کو بدنام کرنے کیلئے لڑکیوں کے سکولوں کو آگ لگائی جارہی ہے حالانکہ علمائ لڑکیوں کی تعلیم کے حامی ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام کو ملک کا قانون بنایا جائے ۔ ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے کہا کہ 73 کے آئین میں ہر پاکستانی شہری کو یہ ضمانت دی گئی ہے کہ کسی کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا لیکن پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ڈالروں کے عوض بچوں سمیت فروخت کر دیا گیا اس طرح ہمارا آئین عدلیہ کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے لیکن پرویز مشرف اور اس کے حواریوں نے عدلیہ پر شب خون مارا انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی سزا صرف مواخذہ نہیں بلکہ اس کے محاصرے کی ضرورت ہے یہ قومی مجرم ہے جس کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے عبرت کا نشان بنایا جائے پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کا سخت ترین مواخذہ ملک و قوم کی بقا کے لئے نا گزیر ہے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا عہد تھا کہ 500سے زائد لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے گا انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کشمیری راہنما شیخ عبدالعزیز کی شہادت کشمیری اور پاکستانی قوم کے لئے بڑا سانحہ ہے۔جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ اور اے پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر جنرل پرویز مشرف کو مشکل سے نکالنے کیلئے مواخذے کا ڈرامہ رچایا ہے ۔ اگرچہ مواخذے کی کامیابی کے امکانات نمایاں نظر آرہے ہیں لیکن اس کی ناکامی کے 20 فیصد چانسز بھی رہے تو معزول جج بحال نہیں ہوں گے اور جنرل پرویز مشرف اس ملک کے آئینی صدر بن جائیں گے ۔ انہو ںنے کہا کہ وزیرستان ، باجوڑ ،سوات اور دیگر قبائلی علاقوں میں فوج کی بمباری سے شہریوںکی ہلاکت کی ذمہ دار حکومت ہے معزول ججوں کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے این آر او کے تحت اپنی بخشش کروانے پر مشرف کو بچانے کا معاہدہ کر رکھا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف سے جان چھڑانے کا آسان ترین راستہ معزول ججوں کی بحالی تھا لیکن موجودہ حکمرانوں بالخصوص نواز شریف نے بھی جنہوں نے ججوں کی بحالی کے یک نکاتی ایجنڈہ پر الیکشن لڑا معزول ججوں کی بحالی کو پس پشت ڈال کر پہلے صدر کے مواخذے اور وزارتوں میں واپسی کو ترجیح دی ۔ جج بحال نہ ہوئے تو اس سے سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کو ہی پہنچے گا ۔ عمران خان نے کہا کہ اگر جنرل پرویز مشرف نے 58 ٹو بی کے تحت اسمبلی توڑ دی تو یہ بھی خدشہ ہے کہ پی سی او جج اسے تحفظ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف اور آصف علی زرداری کے درمیان این آر او پر معاہدہ امریکہ نے کروایا جس کے تحت اس کی کھربوں روپے کی کرپشن معاف کردی گئی ۔ سرے محل جس کے بارے میں اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر انہوں نے کہا کہ یہ محل ان کا نہیں ہے آج وہ اسی سرے محل کے 50 60 کروڑ روپے مانگ رہے ہیں این آر او کے تحت آصف علی زرداری نے مشرف سے معاہدہ کیا ہے کہ وہ اسے ہر مشکل سے بچائیں گے ۔ مواخذہ تحریک بھی اسی نورا کشتی کا حصہ ہے ۔ سوات، دھیر ، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں فوج کی بمباری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت کو 10 جگہوں پر انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن اس نے کہیں بھی فوج کشی نہیں کی ۔ جبکہ ہمارے ہاں اپنے ہی شہریوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپوں کے ذریعے گولے برسائے جارہے ہیں ۔ اس سوال پر کہ کیا فوجی آپریشن کے فیصلہ میں جمہوری حکومت کی مرضی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے خود چیف آف آرمی سٹاف کو کسی بھی علاقہ میں آپریشن کرنے کا اختیار دیا تھا ۔اس لئے ان تمام معاملات کی ذ مہ دار براہ راست حکومت ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پانچ سال قبل ہماری ایجنسیوں نے اسے پکڑا اور بگرام ایئرپورٹ پر ان سے ریپ بھی کیا جاتا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو ان کے تین بچوں سمیت پکڑا گیا تھا جن میں سب سے چھوٹا بچہ ڈیڑھ سال کا تھا ان بچوں کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ کی کڈنی نکال دی گئی ہے اور اسے گولی کا بھی نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچوں کو فوری طو رپر واپس لایا جائے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے سے متعلق سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنی لیڈر کی تحقیقات اپنے ملک کے اندر نہیں کروا سکتی وہ اپنے شہریوںکو کیسے تحفظ دے سکتی ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا حکومت کی طرف سے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ا ے پی ڈی ایم مشرف کے مواخذے کی کامیابی کی صورت میں بھی معزول ججوں کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آصف علی زرداری این آر او کے تحت بخشائی گئی اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے معزول ججوںکو بحا ل نہیں کر رہے ۔ اس حوالے سے اے پی ڈی ایم کل راولپنڈی میں بڑا جلسہ منعقد کرے گی جس میں یوم آزادی کے موقع پر قوم کو حقیقی آزادی دینے سے متعلق نظمیں بھی پڑھیں جائیں گی ۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحقیقات سے متعلق اپنے کیس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی بھی اس کیس میں رکاوٹ حکومت پاکستان ہے جوسکاٹ لینڈ یارڈ کو گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔جبکہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی آئین کی خلاف ورزیاں اپنے منصب کے تقاضوں کے منافی طرز عمل کی بنیاد پر چارج شیٹ تیار کی گئی ہے جو انتہائی جامع ہے جہاں اس کی قانونی شکل ہے وہاں اس کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے صدر کو آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت وفاق کا نمائندہ ہونا پڑتا ہے مگر عملاً صورتحال یہ پیدا ہو گئی ہے کہ وفاق کے تمام یونٹس صدر پر عدم اعتماد کر چکے ہیں اس لئے اب انہیں اس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کابینہ میں شمولیت کا معاملہ زیر غور ہے انشاء اللہ چند دنوں میں تمام معاملات طے پا جائیں گے انہوں نے کہاکہ ہماری طرف سے کوئی مسئلہ اس حوالے سے بالکل نہیں ہے ہم نے اپنے چار وزراءکو کابینہ میں شمولیت کا اختیار دے دیا ہے اب پیپلز پارٹی کی طرف سے اشارے کی ضرورت ہے جب وہ کہہ دے گی کہ ان کی شمولیت قابل قبول ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہمارے وزراءکابینہ کو جوائن کریں گے انہوں نے کہاکہ اگر ججز بحال ہو جاتے ہیں تو ہمیں کابینہ میں واپس آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ہم نے قوم سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جب ججز بحال ہوں گے تو ہم کابینہ میں واپس آ جائیں گے ہم نے پیکج میں کہا تھا کہ ججز کو بحال کر دیا جائے ہمارے سب کے سب وزیر واپس آ جائیں گے ہم نے اظہار یکجہتی کیلئے چار وزراءکو دوبارہ شمولیت کی اجازت دے دی ہے ہمارے تمام وزراء اس وقت ہی کابینہ میں واپس آ جائیں گے جب ججز بحال ہو جائیں گے انہوں نے کہاکہ سات تاریخ کے مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ جنرل مشرف کے مواخذے کے فوراً بعد ہم سب کابینہ میں واپس آ جائیں گے ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں اب پیپلز پارٹی کو حتمی فیصلہ کرناہے انہوںنے کہاکہ اگر جنرل مشرف پر سیاسی چارج شیٹ بنانی ہو تو وہ کئی ہزار صفحوں پر مشتمل ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے اس لئے ہماری کوشش ہے کہ ہم تمام الزامات کو بھی شامل کریں اور اس کو بلا وجہ تاخیر سے بھی بچائیں اس کو ہم طویل ہونے سے بچانے کی کوشش میں ہیں کیونکہ اس طرح ملک میں بے یقینی کی کیفیت طول پکڑے گی اورملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا چارج شیٹ میں بنیادی الزامات بہت واضح ہیں جس میں تین نومبر کا اقدام جس کا وہ خود اعتراف کر چکے ہیں وہ غیر آئینی تھا ان کا یہ اعتراف ہی ان کے مواخذے کیلئے کافی ثبوت ہے اس طرح آرٹیکل 56کا تقاضا ہے کہ انہیں پارلیمنٹ میں ہر سال خطاب کرنا ہے یہ ان کے آئینی منصب میں شامل ہے مگر پانچ سال سے انہوں نے پارلیمنٹ کی بے توقیری کی اور اس عرصے میں پارلیمنٹ میں نہیں آئے اس طرح ق لیگ کو بنانا ان کے جلسوں میں جانا مکے لہرانا جیسے ان کا طرز عمل مواخذے کیلئے کافی ہے لوگوں کو بیچنا ان کی کتاب ہی ان کے خلاف ایک ایف آئی آر اور چارج شیٹ ہے میرے نزدیک اگر ان کی کتاب ہی انکے مواخدے کیلئے پیش کی جائے جس میں انہوں نے قوم کے رازوں کو افشا کیا ہے پاکستان کے اوپر غیر ذمہ دارانہ ایٹمی توانائی کے الزامات لگائے ہیں ملک کے خفیہ رازوں کو افشا کیاہے ۔آفیشل سیکریسی کی خلاف ورزی کی ہے کارگل پر ان کا اعتراف بھی ان کی کتاب میں موجود ہے امریکی سفیروں کی نواز شریف سے ملاقات کے بارے سوال پر انہو ںنے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ ہم بیرونی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کرتے ہیں پاکستان کی داخلی سیاست اور معاملات میں ان کے کر دار کو ہم درست نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ صدر کے مواخذے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا یہ جلدی ہو جائے گا اب صرف بلوچستان کی اسمبلی رہ گئی ہے وہ بھی ایک دو روز میں قرار داد پاس کر دے گی اس کے بعد فوری طور پر مواخذہ فائل ہو گا اورمواخدہ تحریک فائنل ہو نے کے تین روز کے اندر سپیکر اس بات کا پابند ہو تا ہے کہ وہ صدر کو بھیج دے اور اس کے بعد سات یا زیادہ سے زیادہ 14 دن تک قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا ضروری ہے اور اس میں کاروائی 5 دن تک لے سکتی ہے انہوں نے کہا کہ میں اٹھاون ٹو بی کے استعمال سے نہیں گھبراتا پرویز مشرف اس بار وہ بھی آزما کر دیکھ لیں اگر انہوں نے اٹھاون ٹو بی استعمال کیا تو قوم یہ سن لے کہ پرویز مشرف پاکستان کے اندر عبرت کا نشانہ بن جائیں گے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا ان کی عبرت کو یاد رکھے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک شخص کی جاگیر نہیں ہے کہ وہ عدالت کو توڑ دے اگر پارلیمنٹ سے خطرہ ہے تو اسے توڑ دے اگر بندوں سے خطرہ ہے تو انہیں مروا دیا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک شخص کی نہیں 16 کروڑ عوام کی جاگیر ہے ہم انہیں پاکستان کی قسمت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے انہو ںنے کہا کہ اب 58 ٹو بی ماضی کا حصہ بن چکا ہے اب انشاء اللہ اس ملک میں سولہ کروڑ عوام کی حکمرانی ہو گی اب اگر انہو ںنے اٹھاون ٹو بی استعمال کیا تو نہ اسے پارلیمنٹ تسلیم کر ے گی اور نہ ہی عوام تسلیم کریں گے یہی اسمبلی ان کا مواخذہ کرے گی۔سندھ اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی حمایت کرتے ہوئے ایک قرار داد کے ذریعہ صدر مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین کے مطابق اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں بصورت دیگر فوری طور پر مستعفی ہوجائیں ۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ایوان ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ سے سفارش کرتا ہے کہ وہ صدر کا مواخذہ کریں ۔ قرار داد ” گو مشرف گو“ کے پر شگاف نعروں کی گونج میں متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جبکہ حکومت کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ او راپو زیشن ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ‘ پیپلزپارٹی کے چار ارکان اسمبلی علی مراد راجر ‘ شمع میٹھانی ‘ مخدوم جمیل الزماں اور محسن شاہ بخاری اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ق) سے منحرف ہونے والے تین ارکان اسمبلی نے قرار داد کی حمایت کی ‘ قرار داد کی منظوری کے بعد ایوان بے نظیر‘ جئے بھٹو ‘ زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ آج کے اجلاس میں تین سرکاری بل متعارف کیلئے منظور کرلئے گئے جبکہ ایک بل کا تعارف آئندہ اجلاس تک کیلئے موخر کردیا گیا ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر نثار کھوڑو کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور نعت خوانی کے بعد ایجنڈے کی دیگر کارروائی کو معطل کرتے ہوئے وزیر قانون ایاز سومرو نے ایک قرار داد ایوان میں پیش کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جو منظور کرلی گئی جس کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو نے صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ آئین پاکستان کو توڑنے کے مرتکب ہوئے ‘ صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری میں ناکام رہے اور وفاقی کو متحدہ نہ رکھنے کے ساتھ ساتھ صوبوں کو کمزور کیا۔ اس لئے سندھ اسمبلی کا یہ ایوان صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آئین کے مطابق عوامی نمائندوں سے اعتماد میں ووٹ کا حاصل کریں بصورت دیگر فوری طور پر مستعفی ہوجائیںاگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو سندھ اسمبلی کا یہ ایوان ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ سے سفارش کرتا ہے کہ وہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کریں ۔ قرا رداد ایوان میں پیش کئے جانے کے بعد ارکان اسمبلی نے قرار داد کے حق میں بحث میں حصہ لیا ۔قرار داد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رفیق انجینئر نے کہا کہ آج اسمبلی میں پیش ہونے والی قراداد ملک کے استحکام کے لیے پیش ہورہی ہے صدر مشرف نے عدلیہ ،آئین اور فیڈریشن کو نقصان پہنچایا ہے لہذا آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت ان کا مواخذہ ہونا چاہیے بد قسمتی سے وہ دو بار آئین کو پامال کرتے ہوئے اسی اسمبلی سے اپنے آپ کو منتخب کرا چکے ہیں جبکہ اکتوبر میں آئین کو معطل کرکے غداری کے مرتکب ہو چکے ہیں ،ان کو سزا دی جائے ۔دوصوبوں میں اس وقت جنگ جاری ہے ،بلوچستان میں فوج کشی ہورہی ہے، ملک کی صورتحال انتہائی سنگین ہے ،مشرف کے دور میں لوگوں کو غائب کیا گیا جو آئین کی خلاف ورزی ہے ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی ان کے دور میں غائب کی گئیں ،انہوںنے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت استعفیٰ دے کر قوم کی جان چھوڑیں۔پیپلز پارٹی کے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی تاریخ میں آج کادن انتہائی تاریخی ہے اس دن مشرف کے خلاف قرارداد پیش کی جارہی ہے ،سندھ کے عوام اس قراداد کے تحت تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ کہ انہوںنے ملک پر قبضہ کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ چاروں صوبوں کی اسمبلیاں سینیٹرز کو منتخب کرتی ہیں اور سینیٹرز صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے آج اسمبلیاں یہ قراردادیں منظور کررہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ یکم جنوری 2004 ءکو زبردستی اعتماد کا ووٹ لیا گیا۔جب وہ قانونی ہے تو یہ قراداد کیوں نہیں ،انہوںنے کہا کہ صدر مشرف اپنی کتاب میں خود اعتراف کرچکے ہیں کہ میں نے پار ٹی بنائی مگر 18 فروری کو عوام نے ان کی پارٹی کومسترد کیا۔ہمارے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے دوماہ قبل ان کو مستعفیٰ ہونے کا کہا مگر انہوںنے استعفیٰ نہیں دیا ہمیں امید ہے کہ وہ 14اگست کو استعفیٰ دیں گے ورنہ ان کا مواخذہ ہوگا۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 3 نومبر کو صدر کی موجودگی میں چیف آف آرمی اسٹاف نے ایمرجنسی نافذ کردی ایسے صدر کو کرسی صدارت پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔اس وقت گو مشرف گو کا نعرہ پورے ملک کا نعرہ ہے بہتر یہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیں کیونکہ فوج میں رہنے کی وجہ سے ان کی کچھ عزت ہے اس پر آنچ نہ آجائے ۔سسی پلیجو نے کہا کہ سندھ اسمبلی پاکستان کی خالق اسمبلی ہے آمروں نے اس ملک میں باربار مداخلت کی ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری مشرف پر عائد ہوتی ہے اگر انہوںنے استعفیٰ دیا تو ان کی کچھ نہ کچھ عزت رہ جائے گی،کشمیر سے سندھ تک انہوںنے بے رحمانہ آپریشن کیا اور ان پر مقدمہ چلایا جائے کیونکہ انہوںنے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور انسانی حقوق کو پامال کیا ہے۔ڈاکٹر سکندر علی میندرو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ صدر اعتماد کاووٹ لیں ورنہ استعفیٰ دیں اگر انہوںنے ایسا نہیں کیاتو سینٹ اور قومی اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد ان کا مواخذہ کریں۔شازیہ عطائ محمد مری نے کہا کہ آج سندھ اسمبلی کا تاریخی دن ہے سندھ کے لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتی ہوں کہ ان کی خواہش کے مطابق آمر کے خلاف قراداد منظور ہورہی ہے۔انہوںنے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ استعفیٰ دیں کیونکہ انہوںنے پاکستانی عوام کے حقوق اور ملک کی سا لمیت پر حملہ کرکے ملکی وقار کو نقصان پہنچایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم جس قرارداد کی بات کررہے ہیں وہ پاکستان اور سندھ کی عوام کی آواز ہے۔اس اسمبلی نے اس سے پہلے پاکستان بنانے کی قراداد منطور کی تھی تو آج پاکستان بچانے کی قراداد منطور کررہی ہے ۔جام سیف اللہ دہاریجو نے کہا کہ آٹھ دس سال سے ایک آمر قابض ہے ،اور ہمیں آج موقع مل رہاہے کہ ان کے خلاف قراداد پیش کریں کیونکہ اسی اسمبلی نے پاکستان بنانے کی قراداد منظور کی تھی ۔انہوںنے کہاکہ صدر مشرف نے نچلی سطح تک اقتدار کی منتقلی کے نام پر ایسا نظام متعارف کرایا جس میں کرپشن کی کھلی چھوٹ دی گئی ۔18 فروری کو عوام نے ان کے خلاف ووٹ دیا اس وقت ملک جن حالات سے گزررہا ہے یا جو خرابیاں پیدا ہوئیں ہیں یہ سب ایک منصوبے کا حصہ ہے ،امریکہ سے جو رقم آئی اسکاکوئی حساب نہیں ہے جبکہ امریکی صحافی نے اپنی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ صدر مشرف نے شہید بے نظیر بھٹو کو دھمکی دی تھی،ان کی شہادت کی وجہ اسی رقم کا ذکر کرنا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو اس رقم کا حساب مانگ رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کا حشر” چلی “کے صدر پنوشے کی طرح ہوگا ۔جام تماچی نے کہا کہ سندھ کے ساتھ مشرف کے دور میں بڑی زیادتیاں ہوئیں ہیں سندھ کے تمام سسٹم کوجان بوجھ کر خراب کیا گیا جس سے صوبہ تباہی کا شکار ہوا۔بہتر یہ ہے کہ مشرف عزت کے ساتھ مستعفیٰ ہوجائیں اگر سیاست کرنے کا شوق ہے تو ”ق“ لیگ کی صدارت قبول کرلیں کیونکہ وہ اس وقت خالی پڑی ہے ،انہوںنے MQMکے حوالے سے کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں جب مل کرچلیں گے تو نظام چلے گا۔اے این پی کے امیر نواب نے کہا کہ مشرف کی موجودگی میں ادارے اور جمہوریت مظبوط نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی پروان چڑھ سکتی ہے۔مواخذے کی تحریک کا اعلان کرنے پر میں اتحادی جماعت کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔حمیرا علوانی نے کہا کہ ہم آج اس ایوان میں شہید بے نظیر بھٹو کے قاتل سے اپنے ووٹ کے ذریعہ انتقام لے رہی ہیں اب ان کا صرف مواخذہ ہی نہیں احتساب بھی ہوگا۔مسلم لیگ”ق“ فارروڈ بلا ک کے میر غالب حسین ڈومکی نے کہا کہ اس ملک کی اصل بڑی جماعت پیپلز پارٹی ہے اس پارٹی کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں جانے والوں کو لوٹا تو کہا جا سکتا ہے مگر ”ق“کو چھوڑ کر آنے والوں کو نہیں ،انہوںنے کہا کہ ”ق“ لیگ کا ملک باالخصوص سندھ میں کوئی ووٹ بینک نہیں ہے ،ان کے دور میں پٹھانوں اور بلوچوں کو مارا گیا اس کی سزا موت ہے ،انہوںنے کہا کہ ہم ”ق“ لیگ کی وجہ سے نہیں جیتے ہم اپنے ووٹ سے جیت کرآئے ہیں اورہماری اصل پارٹی پیپلز پارٹی ہی ہے حالات کی مجبوری کی وجہ سے تبدیلی لانی پڑتی ہے ۔پیپلز پارٹی کے نجم الدین ابڑو نے کہا کہ یہ قراداد ڈکٹیٹر کے خلاف ہے ،کالا باغ ڈیم کی تمام صوبوں نے مخالفت کی اس کے باوجود صدر مشرف نے دستور کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو ختم نہیں کیا ،انہوںنے کہاکہ صدر مشرف غیر مہذب ہیں اور ہم لوگ مہذب لوگ ہیں ، 16 کروڑ عوام کی دلوں کی دھڑکن ”گو مشرف گو“ بن چکی ہے اس موقع پر اسمبلی ”گو مشرف گو“ کے نعروں سے گونجھ اٹھی ۔حاجی منور علی عباسی نے کہا کہ جس طرح قیام پاکستان کی قراداد اسی اسمبلی نے پیش کی اور ملک وجود میں آیا اسی طرح آج ایک آمر کے خلاف قراداد منطور کی جارہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی اس قراداد سے مشرف بھی اقتدار چھوڑ دیں گے ماضی میں اس اسمبلی میں کالا باغ ڈیم،این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے قرادادیں پیش ہوچکی ہیں مگر اس پر عمل نہیں ہوا ہم چاہتے ہیں کہ مشرف مستعفیٰ ہوجائیں۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا کہ یہ سندھ کی دھرتی مقدس ہے جہاں اسلام اس خطہ میں سب سے پہلے آیا ،یہاں کے لوگوں نے کبھی سر نہیں جھکایا بلکہ ظلم کے خلاف جہاد کیا ہے ،ملک کا پہلا متفقہ وزیر اعظم بھی یہیں سے آیا آج ہم ایوان میں کھڑے ہیں اور عوام کی آواز بلند کررہے ہیں ۔ہمیں بے نظیر بھٹو نے حوصلہ دیا ہے اگرچہ وہ اس وقت ہم میں موجود نہیں ،ایوان کی آواز دراصل عوام کی للکار ہے ۔صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ ایشیاءکے ماڈل ڈکٹیٹر کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی ہے جو محترمہ کو یہ کہتا تھا کہ تم ملک نہیں آسکتی ہو اس آمر کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ یہ ملک اس کی جاگیر نہیں ،اس ملک کو آئین بھی سندھ سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دیا ۔انہوںنے کہا کہ صدر وفاق کی علامت ہوتا مگر یہاں صدر صوبوں کو آپس میں لڑاتا ہے،آصف علی زرداری نے جو فیصلہ کیا ہے وہ صحیح ہے ،مشرف کے دور میں وکلا ء،صحافیوں ،خواتین اور عوام کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ یہ وہ صدر ہے جس نے کبھی قومی اسمبلی میں خطاب نہیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ 58-2Bکا خاتمہ ہوجائے ،انہوںنے ”ق“ کے میر غالب حسین ڈومکی ،ڈاکٹر سجیلا لغاری،میر عابد علی سندرانی کا شکریہ ادا کیا کہ جمہوری عمل میں ہماراساتھ دے رہے ہیں ،انہوںنے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا بے گناہ خون ضرور رنگ لائے گا ،پی پی پی وفاق کی علامت ہے۔ ہم جمہوریت کی بحالی اور اداروں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام جاری کیے گئے آرڈنینس ختم کیے جائیں۔سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے کہا کہ قیام پاکستان میں سندھ اسمبلی کا اہم کردار رہاہے ۔آئین کے آرٹیکل 41کے سب آرٹیکل 3 کے تحت صوبائی اسمبلیاں صدارتی انتخاب کا الیکٹورل کالج ہے ،ہمار ا یہ آئینی حق ہے کہ ہم صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کریں ،آئین کے آرٹیکل 56(3 ) کے تحت صدر کو پارلیمنٹ سے خطاب کرنا چاہیے مگر 4ماہ کا طویل عرصہ گزر نے کے باوجود انہوںنے خطاب نہیں کیا ،یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔3نومبر کو ایمرجنسی صدر نے نہیں لگائی بلکہ چیف آف آرمی اسٹاف نے لگائی جو صدر مشرف خود تھے،انہوں نے مسلح افواج کو بدنام کیا ،فوج میں لیے جانے والے حلف سے انہوںنے انحراف کیا ہے اس لیے ان کا مواخذہ ہونا چاہیے ۔وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے قرار دادکے حق میں تقریر کرتے ہوئے اپنے دورہ طالب علمی میں ایک اسکاو¿ٹ کیمپ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ٹروپ لیڈر کی نا اہلی پر سرزنش پر یہ کہنا کہ میں نے سنا ہی نہیں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح جنرل پرویز مشرف بھی کہے گا کہ میں نے سنا ہی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یحیٰ خان بھی ملک دو ٹکرے ہونے کے باوجود یہ کہتا رہا کہ جنگ جاری رہے گی کیونکہ ڈکٹیٹر کسی کی سنتے ہی نہیں اور حقائق سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ انہوں نے شریف الدین پیر زادہ کا نام لئے بغیر کہا کہ ان کی عمر زیادہ اور حافظہ کمزور ہوگیا ہے اس لئے وہ آئین کی غلط تشریح کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر الزام تھا کہ وہ ڈکٹیٹر کی حمایت کررہی ہے اب پیپلزپارٹی نے ڈکٹیٹر شپ کا خاتمے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ ملک میں معاشی تباہی کے ذمہ دار صدر مشرف ہیں جو برائی کی جڑ ہیں اب ان کا ہٹنا ضروری ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے خطاب کے بعد اسپیکر نثار کھوڑو نے قرار داد ایوان میں منظوری کیلئے پیش کی جو متفقہ طور پر گو مشرف گو او رجئے بھٹو ،زندہ ہے بی بی زندہ کے نعروں کی گونج میں منظور کرلی گئی۔ اس وقت ایوان میں پیپلزپارٹی کے 88‘ اے این پی کے 2اور مسلم لیگ (ق) کے 3منحرف اراکین میر غالب ڈومکی ‘ عابد علی سرندرانی اور شکیلہ لغاری قرار داد کے حق میں ووٹ دینے کیلئے موجود تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے چار ارکان اسمبلی مخدوم جمیل الزماں ‘ شمع میٹھانی ‘ علی مراد راجر اور محسن شاہ بخاری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی دوسری جانب حکومت کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ او راپوزیشن کے ارکان نے صدر کی حمایت کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس پر قرار داد کی منظور ی کی بعد تبصرہ کرتے ہوئے پیر مظہر الحق نے ایم کیوایم اور اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہمیں یکطرفہ طور پر قرار داد منظور کرنے کا موقع دیا ۔اجلاس میں گورنر سندھ کی جانب سے سندھ پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2008ءاور سندھ مالیات کا بل 2008ء کی منظوری کا اسپیکر نے اعلان کیا جبکہ شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کا تعارفی بل آئندہ اجلاس تک موخر کردیا گیا جبکہ تین سرکاری بل جو سندھ گوٹھ آ باد ہاو¿سنگ اسکیم میں ترمیم سے متعلق ‘ سندھ کے تعلیمی بورڈز کا کنٹرول گورنر سندھ سے لے کر حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے متعلق اور وزراء کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق تعارفی بل متفقہ طور پر منظور کرلئے گئے جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح نو بجے تک کیلئے ملتوی کردیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے سندھ سے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے امکان ظاہر کیا ہے کہ صدرپرویز مشرف 24گھنٹے میں استعفیٰ دے سکتے ہیں ایم کیو ایم نے بھی سندھ اسمبلی سے غیر حاضر رہ کر صدر کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں جوش ہے ہوش نہیں جب ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو اس وقت ہوش نہیں رہتی ہم جوش کے ذریعے مشرف کو ہٹائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ (ق) لیگ کے زیادہ تر ارکان بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ صدر مشرف کو استعفیٰ دے دینا چاہیے کیو نکہ جتنی دیر تک وہ رہیں گے بحران بڑھتے جائیں گے انہوں نے بتایاکہ ہمارے پاس صدر کے مواخذے کیلئے 325 ارکان کی اکثریت ہے جن میں ق لیگ کے ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں جب چاروں صوبے اور فیڈریشن کا اتفاق ہے کہ مشرف کو اب جانا چاہیے تو یہ عوام کی آواز ہے عوام کی آواز اب یہی کہہ رہی ہے کہ گو مشرف گو ۔ انہوں نے ایک سوال پر نبیل گمبول نے کہا کہ آصف علی زرداری تمام فیصلوں میں پارٹی کو اعتماد میں ضرور لیتے ہیں پچھلے دنوں کہاجارہا تھا کہ آصف زرداری کوئی فیصلہ نہیں کر رہے بالآخر انہوں نے فیصلہ کر دیا ہے انہوںنے مناسب وقت پر فیصلہ کیا ہے تین صوبائی اسمبلیوں نے قرار داد پاس کر دی ہے اور چوتھی بھی کر دے گی انہوں نے کہاکہ چارج شیٹ بالکل تیار ہے مجھے امید ہے کہ چارج شیٹ کا سامنا کرنے سے قبل ہی صدر مشرف استعفیٰ دے دیں گے انہوں نے کہاکہ ہم ایم کیو ایم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے غیر حاضر رہ کر اپنافیصلہ دے دیاہے ان کی سیاست کا ایک طریقہ ہے کہ اگر وہ کسی کے حق میں ووٹ نہیں دیتے تو مخالفت میں بھی نہیں رہتے ان کا طریقہ قابل تعریف۔ جبکہ وفاقی کابینہ کے بدھ کو ہو نے والے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے وزراء نے شرکت نہیں کی دونوں جماعتوں کے مابین ہو نے والی مفاہمت کے مطابق مسلم لیگ ن کے چار وزراءکو اجلاس میں شریک ہو نا تھا اس اجلاس میں مواخذے کے بارے میں ایجنڈے پر غور کیا جانا تھا لیکن حکمران اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کے درمیان کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ مسلم لیگ ن کے وزراء مستعفیٰ ہو ئے ہیں وہ تمام اس اجلاس میں شریک ہوں جبکہ ن لیگ کا یہ موقف تھا کہ چار وزراء کی اجلاس میں شامل ہوں گے جبکہ پی پی پی کا موقف تھا کہ چار کی بجائے 9 وزراء کو اجلاس میں شرکت کر نی چاہیے اور مسلم لیگ ن کو مکمل طور پر کابینہ میں واپس آنا چاہیے پی پی پی کا یہ بھی موقف تھا کہ کم از کم دو سینئر وزراءکو جن میں اسحاق ڈار اور چوہدری نثار کو کابینہ میں ضرور واپس آنا چاہیے اور اس طرح چھ ن لیگ کے وزراء کو کابینہ میں ضرور شرکت کر نی چاہیے جبکہ ن لیگ کا موقف یہی تھا کہ ہمارا عوام سے وعدہ تھا کہ جب تک ججز بحال نہیں ہوں گے ہم اس وقت تک کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے مگر ہم نے اتحاد کو بچانے کی خاطر کابینہ میں علامتی طور پر شمولیت اختیار کی تھی اور ابھی بھی ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی کا یہ موقف تھا کہ ہمیں اس کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے دعوت نامے نہیں دئیے گئے جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا موقف یہ تھا کہ کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے کے حوالے سے ن لیگ کو جو ایجنڈا دیا گیا وہ ن لیگ کے ارکان نے وصول کر نے سے انکار کیا دونوں جماعتوں کے درمیان یہی اختلاف سامنے آئے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری بھی اسے متنازعہ علاقہ تسلیم کر تی ہے پاک بھارت دو طرفہ جامع مذاکراتی عمل میں کشمیر ایجنڈے کا پہلا نکتہ ہے اس لئے بھارت کی طرف سے کشمیر میں ظلم و بربریت قابل مذمت ہے امریکہ میںقید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے حکومت ہر طرح کی کوشش کر ے۔ تا کہ پاکستانی خاتون اور ان کے بچوں کو ملک واپس لایا جا سکے۔جبکہ صدر پرویز مشرف نے سیاسی قوتوں کو مفاہمت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی استحکام اور فوج پاکستان کی طاقت ہے ۔ تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔بعض بیرونی اور اندرونی عناصر ہمارے ریاستی اداروں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔کشمیری عوام کو جبر کا سامنا ہے شیخ عبدالعزیز اوردیگر کشمیریوں کی شہادتوں کے سانحے کی مذمت کرتا ہوں کشمیر خون کی طرح پاکستان کی رگوں میں دوڑ رہاہے ۔یہ ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر میں یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صدر پرویز مشرف نے قوم کو 61ویں یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ پوری قوم جوش وخروش سے یہ دن منا رہی ہے یکجہتی بڑی طاقت ہے عملی زندگی میں بھی اس کا مظاہرہ کیا جائے ۔ پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کے درمیان کوئی کشمکش نہیں ہیں ہم سب مسلمان ہیں اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ آزادی بڑی نعمت ہے سب سے پہلے پاکستان ہے ہم سب پاکستان ہیں آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں ملک کو ترقی و خوشحالی کی منزل پر گامزن کرنا ہے مل کر اس ملک کو قائم رکھنا ہے پاکستان نہ ہوتا تو کوئی بھی اس معیار اور مقام پر نہ ہوتا بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یہی ویڑن تھاکہ پاکستان کو ایک ترقی پسند ،اعتدال پسند اور خوشحال ملک بنانا ہے ۔ قیام پاکستان کے وقت دشمن سوچ رہا تھا کہ یہ قائم نہیں رہے گا عوام نے ہمت او رقوت دکھائی اور دشمن کو غلط ثابت کیا اور ملک پھلتا پھولتا رہا آج ہم خوشیاں منا رہے ہیں سوچ ، غور وفکر کا دن ہے ہم کہاں جارہے ہیں کیا رخ صحیح ہے کس مقام پر کھڑے ہیں تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں وہی دشمن اور کچھ عناصر بیرونی اور اندرونی طورپر پاکستان کو غیر مستحکم اور کمزور کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ان اندرونی اور بیرونی عناصر کی یہ ریاستی اداروں کے خلاف سازش بھی ہوسکتی ہے قوم کے طورپر کھڑا ہونا ہے۔ ثابت کرنا ہے کہ یہ ملک قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے اور قائم رہے گا۔انہوں نے کہاکہ قوم نے ثابت کرنا ہے کہ ترقی اور خوشحالی لے کر آنی ہے قوم کی طاقت فوج اور معیشت سے ہوتی ہے دونوں شامل ہوتی ہیں دونوں شامل ہوں تو قوم طاقتور سے طاقتور ہوتی رہتی ہے مسلح افواج ہماری جوہری طاقت پاکستان کی فوجی طاقت قائم دائم ہے یہ ملک کا دفاع کر رہی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی ضرورت اس بات کی ہے کہ فوج اور عوام ایک ہی چیز ہیں فوج کو اگر قوم کی سرپرستی اور حمایت حاصل رہی تو ملک ایک بن کر یکجہتی اورمضبوطی کے طور پر سامنے آئے گا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ نیچے جاتی ہوئی معیشت کو بچائیں ڈالر 75روپے تک پہنچ گیا ہے جو کہ گزشتہ سات آٹھ سالوں میں ساٹھ روپے تک تھا کوشش ہونی چاہیے کہ ملک میں سرمایہ کاروں کی جو لائنیں لگی ہوئی تھیں وہ واپس آئیں فوج اور معیشت پاکستان کی طاقت ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے ملک کو بچانا ہے مل کر ا س کا مقابلہ کرنا ہے پوری قوم فوج کے ساتھ ہو گی اور فوج اور قوم ایک ہو کر ان کا مقابلہ کریں گے انہوں نے گزشتہ روز صوبہ سرحد میں فضائیہ کی بس میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ دہشت گرد اورانتہا پسند پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا اور اسلام کا نام بدنام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں سیاسی استحکام چاہیے ہو گا سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے ۔ سیاسی استحکام مفاہمت کا سوچ کانام ہے تمام عناصر سے اپیل کرتا ہوں کہ مفاہمت کی سوچ اختیار کریں اور ملک کو درپیش مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں وقت کا تقاضا ہے کہ اختلافات کو فراموش کر دینا چاہیے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ اپنا کر ملک کو آگے لے کر چلنا ہے قوم میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک و قوم کو بچا کر رکھے اور طاقتور بنا سکے۔صدر مملکت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شیخ عبدالعزیز اور بائیس بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا گیاہے ۔ انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتا ہوں مظلوم کشمیری جبر سے دو چار ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ہر پاکستانی کشمیری بھائیوں اور بہنو ںکے ساتھ ہے اس میں کوئی شک نہیں ہوناچاہیے کہ کشمیر ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن ہے کشمیر پاکستان کی رگوں میں دوڑتا ہے ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ میںصدر کے مواخذے کیلئے اکثریت موجود ہے اور پرویز مشرف کا جانا اب یقینی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد بھی ملک میں امریکی پالیسیاں چلتی رہیں گی یا ختم ہو نگی مواخذے کی تحریک آنے سے قبل معزول ججوں کو بحا ل اور صدر مملکت پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بجائے ان پر دو دفعہ آئین توڑنے کے جرم میں آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔ مواخذے سے قبل ججوں کو بحال کیا جاتا تو مواخذے کی تحریک کی کامیابی یقینی ہو جاتی اور پرویز مشرف کا درست طریقے سے مواخذہ و احتساب ہوتا ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے مثبت اقدامات کے علاوہ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات میں بے گناہ لوگو ں کا قتل عام بندکیا جائے امریکی پالیسی کی وجہ سے حکمران عوام کے دلوں میں اپنا مقام کھوچکے ہے باجوڑ ایجنسی میںنہتے عوام پر جیٹ طیارے اور ہیلی کاپٹرز بمباری کر رہے ہیں اور لوگ اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں امریکہ کیخلاف جہاد اس کی تباہی تک جاری رہیگا ۔مقررین نے صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انہیں کڑی سزا دی جائے عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان حقیقی معنوں میں آزاد ہو اور انسان پر انسان کی بالادستی ختم ہو۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment