

پاکستان کے عوام کا مطا لبہ ہے کہ جنرل مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ملک و قوم آئین سے غداری کے مترادف ہے اس شخص نے سرکاری مشینری کے بے دریغ استعمال سے ہزاروں افراد کا قتل عام کیا ملک کو خارجی اقتصادی اور معاشی طور پر تباہ کیا ابھی تک سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں اور سینکڑوں لوگ ابھی تک بے گناہ پابند سلاسل ہیں لال مسجد ، کراچی ، پنڈی ، وانا ، وزیرستان ، سوات ، درگاہ ، غرض ہے کہ پورے ملک میں پاکستانی عوام کے لاشوں کے انبار لگائے گئے 16کروڑ عوام کو محکوم اور اداروں کو مفلوج بنایا گیا اگر ایسے شخص کو محفوظ راستہ دیا گیا تو یہ سراسر ملک و قوم سے غداری ہوگی جنرل مشرف کی غلط اور آمرانہ پالیسیز کی بدولت ملک آج اس ڈگر پر کھڑا ہے کہ کسی بھی وقت دنیا کے نقشہ سے مٹ جانے کا خدشہ ہے عوام اور فوج آمنے سامنے ہیں اور دست وگریباں ہیں ایسا شخص محفوظ راستے کا نہیں بلکہ سزا کا مستحق ہیں اور ایسی سزا کا مستحق ہے جس کو دنیائے تاریخ صدیوں یاد رکھے اور کبھی بھی کسی آمر کو جرات نہ ہو کہ وہ جمہوریت پر شب وخون مار سکے اور آئین کو پامال کرسکیں اور 16کروڑ عوام کو محکوم بنا سکے جمہوریت پسند قوتوں نے جنرل مشرف مواخذے کا جو بیڑا اٹھایا ہے عوام اسکے منطقی انجام کے منتظر ہیں اور اگرذرہ سی بھی لچک دکھائی گئی اور محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تو جمہوریت اور ملک کی سالمیت پر خطرناک نتائج برآمد ہونگے کیونکہ ایسے عناصر ملک دشمن عناصر سے ملک کر کبھی بھی ملک اور جمہوریت کو مستحکم نہیں ہونے دیں گے اور اپنی آمرانہ سوچ اور سازشی سوچ کے ذریعے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے کی بھرپور کوشش جاری رکھیں گے لہذا ایسے عناصر سے کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے انہیں سختی سے کچلا جائے تاکہ آنے والی نسلوں تک کسی آمر کو جرات نہیں کہ وہ ملک و قوم و اداروں کو محکوم بنا سکے۔ آصف زرداری نے دعوی کیا ہے کہ امر یکہ سے ملنے والی سالانہ ایک ارب ڈالر امداد میں مشرف نے کروڑوں ڈالرز خرد برد کئے ہیں۔اس ضمن میں عوام کا مطا لبہ ہے اس امداد میں جو ستر کروڑ ڈالر خرد برد ہو تے رہے اس کو فوری طور پر منظر عام پر لا یا جا ئے کہ ستر کروڑ ڈالرصرف مشرف کی جیب میں جا تے رہے ہیں یا اس کے کو ئی اور بھی حواری ہیں۔ پا کستان کے عوام نے مزید کہا ہے کہ قومی خزانہ لو ٹنے والوں کو کسی صورت معاف نہ کیا جا ئے اور اس ضمن میں مواخذہ کیلئے کسی ثبوت اور نہ کسی عدالت کی ضرورت ہے اس کیلئے صرف پا رلیمنٹ کا فی ہے اگر وہ پا رلیما نی پیداوار ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے ان کی حکومت کو سبوتاڑ کرنے کی کوششیں کیں جس کی وجہ سے انہیں (صدر) کا مواخذہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے صدر مشرف پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ کی جانب سے دی گئی امداد میں 700 ملین ڈالرز کی خوردبرد کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس امداد سے آئی ایس آئی کے خراب ممبران نے فائدہ اٹھایا ہو۔ آصف علی زرداری نے ان خیالات کا اظہار ایک برطانوی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔ آصف زرداری نے صدر مشرف پر تازہ الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کو سالانہ ایک بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے جبکہ صدر مشرف یہ تمام امداد فوج کو فراہم نہیں کرتے رہے ہیں فوج کو صرف 250 سے 300 ملین ڈالرز امداد ملتی رہی ہے۔ تاہم باقی امداد کہاں گئی؟ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ امداد بجٹ کی صورت میں جاتی رہی ہے تاہم یہ کوئی جواب نہیں ہے ہم سالانہ غائب ہونے والی 700 ملین ڈالرز کی رقم کی بات کرتے ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ امداد صدر مشرف اپنی کچھ سکیم کے لئے حاصل کرتے رہے ہیں ہم نے اس کا پتہ چلانا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ امریکی امداد شاید آئی ایس آئی کے ”خراب“ ممبران کے لئے فنڈ کی شکل میں جاتی رہی ہے جن پر امریکہ نے گزشتہ ہفتے طالبان و دیگر انتہا پسند گروپوں کے ساتھ ان کے تعلقات کا الزام عائد کیا تھا۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہم اس رقم کا پتہ چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آصف زرداری نے صدر مشرف پر معاشی بدحالی اور بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں تنازعات کو جنم دینے کے الزامات بھی عائد کئے ہیں۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمارے لئے بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رقم اس طرح خرچ کی گئی کہ ہمیں ادھار لینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ رقم تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر خرچ کی گئی نہ ہی گزشتہ 10 سالوں میں ایک میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی گئی۔ ملک میں جمہوریت کو فروغ نہیں دیا گیا اور پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ آصف زرداری نے اس موقع پر پہلی بار انکشاف کیا کہ صدر مشرف نے ان کی حکومت کو سبوتاڑ کرنے کی کوششیں کیں جس کے باعث انہیں صدر کے مواخذے کا مطالبہ کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ آصف زرداری نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کو پیغام پہنچایا تھا کہ وہ محفوظ طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں تاہم مشرف کی طرف سے انکار کے بعد ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کوئی جارحانہ قدم اٹھائیں۔ ایک سوال پر آصف زرداری نے خبردار کیا کہ اگر صدر مشرف نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی کوشش کی تو یہ ان کا عوام ‘ عوامی مینڈ یٹ اور پاکستان کے خلاف آخری فیصلہ ہو گا۔ ایک اور سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میری زندگی خطرے میں ہے جنہوں نے بے نظیر بھٹو کو مارا وہ مجھے بھی مارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی بی ہمیشہ میرے ساتھ ہیں اور میں ان کے ساتھ رہتا ہوں۔ بی بی کے بیڈ روم میں میں نے ان کی ایک بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بی بی انہیں دیکھ رہی ہیں اور یہ پوچھتی ہیں کہ آصف بتاو¿کہ یہ آسان کام ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ مواخذہ دراصل امریکن سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی جنگ ہے سی آئی اے اب گذشتہ نو سالہ خفیفہ دستا ویزات مغربی میڈیا اور اور اپنے مصنفین کے ذریعے منظر عام پر لا کر پا کستان کو عدم استحکام اور انتشار پھیلانا چا ہتی ہے۔جبکہ ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کے صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور احتساب دونوں کا مطالبہ کر دیا ۔ ایکس سروس مین نے کہا ہے کہ آمرانہ اقدامات کے حوالے سے جنرل (ر ) پرویز مشرف اور آئین کی خلاف ورزی میں ان کا ساتھ دینے والوں کو قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے ۔ انہیں نشان عبرت بنایا جائے ۔ ایکس سروس مین نے مواخذے اور ججز کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اس امر کا اظہار جنرل ( ر ) سلیم حیدر ‘ ایڈمرل ( ر ) فیصل بخاری اور بریگیڈیئر ( ر ) محمود نے تنطیم کے ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملک کی تمام جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر حکمران اتحاد کے صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور ججز کی بحالی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اہم یہ توقع کرتے ہیں کہ 7 اگست کااس اعلان کی مکمل پاسداری کی جائے گی اور اس کا حشر وہی نہیں ہو گا جو اس سلسلے میں کئے گئے پہلے اعلا میہ کا ہوا ۔ ایکس سروس مین ایسوسی ایشن اس سلسلے تمام جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ جمہوریت کے فروغ اور آئین اور قانون کی بالا دستی کے لئے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہم ملک کو درپیش خطرات اندرونی اور بیرونی مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو ملکی معاملات سے بیدخل نہیں کیا جاتا اس وقت ملکی مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہیں ہو سکتی ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جنرل ( ر ) پرویز مشرف کا مواخذہ اور مکمل احتساب کیا جائے اور ان کے آمرانہ دور حکومت کے تمام جرائم کے لئے قرار واقعی سزا دی جائے اور انہیں ہمیشہ کے لئے نشان عبرت بنا دیا جائے ۔ ہم ہر قسم کے محفوظ راستے کے خلاف ہیں ۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے ساتھیوں اور حواریوں کو جنہوں نے پاکستان کی بار بار خلاف ورزی میں ان کی مدد کی ان کو بھی اپنے کرتوتوں کی قرار واقعی سزا دی جائے ۔ ہم جمہوریت کے فروغ آئین و قانون کی بالادستی کے لئے سول سوسائٹی میڈیا اور خصوصاً وکلاء برادری کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ مکمل یگانگت کام کرتے دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف ڈیکٹو صدر ہیں ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ان سے ملاقاتوں کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہئے فوج کی واضح پالیسی ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف اس کا اعلان جبکہ آئی ایس پی آر بھی اس کی تائید کر چکا ہے ۔ یہ فوج کی ڈیکلیرڈ پالیسی ہے ایک سوال کے جواب میں جنرل ( ر ) سلیم حیدر نے کہا کہ آئین اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو سپورٹ کیا جائے گا ۔ عوام پاکستان اور آئین کے منافی اقدامات کی بھرپور مخالفت کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ایکس سروس مین ایسوسی ایشن نے فاٹا ‘ سوات کی صورت حال امن و امان اور ملکی معیشت کے جائزے کے لئے ماہرین پر مشتمل دو الگ الگ پینل قائم کر دیئے گئے ۔ پرویز مشرف کے خلاف حکمران اتحاد کی چارج شیٹ کی حمایت کی جائے گی ۔ پرویز مشرف کی حکمرانی کے خلاف انہیں انتخابات میں واضح مینڈیٹ ملا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ایکس سروس مین جن کا تعلق کسی بھی ادارے سے رہا کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کو اکھٹا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح یہ تنظیم ملک کے تمام ایکس سروس مین کی تنظیم بن جائے گی ۔ لانگ مارچ کی طرح ضرورت پڑنے پر ایکس سروس مین دوبارہ منظم ہو کر سامنے آئیں گے ۔ جبکہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ مواخذے کا اعلان محض ایک چال اور ڈھکوسلہ ہے۔یہ ڈرامہ’جنرل پرویز مشرف کو بچانے کے لیے رچایا گیا ہے۔جنرل (ر)مشرف صرف دس ارکانِ پارلیمنٹ کو خرید کر مواخذے سے بچ سکتے ہیں۔ حکمرانوں نے ان کو یہ موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس میں پرویز مشرف نے زرداری کو اور آصف زرداری نے مشرف کو تحفظ فراہم کرنا تھا، جِس کا یہ شاخسانہ لگتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مواخذے کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ حکمرانوں نے پرویز مشرف کو جائز صدر مان لیا ہے۔اپنی دلیل کے حق میں عمران خان نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ حقیقی ججوں کو باہر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ سچے ہیں تو پہلے ججوں کو بحال کریں جو کہ تین نومبر کے غیر آئینی اور غیر قانونی عمل کے ذریعے ہٹائے گئے تھے۔58(2۔B)کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر مشرف اِس آئینی شق کا استعمال کرتے ہیں تو پھر ا?ن کو عام انتخابات کرانے پڑیں گے، جِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ’جو چند ارکان ق لیگ کی شکل میں سامنے ہیں وہ بھی اگلے انتخاب میں نہیں ہوں گے۔فوج کے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ فوج ادارے کی حمایت کرے گی بجائے اس ایک فرد کے، جو اب فوج سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، اور ان کے بقول بہت ہی غیر مقبول ہو چکے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما ظفر علی شاہ نے بتایا کہ اگر مشرف نے 58(2۔B)کا استعمال کیا تو کوئی بھی اِس کا خیرمقدم نہیں کرے گا، جبکہ آئین میں یہ ہتھیار موجود ہے۔ یہ معلوم کرنے پر اگر حکمراں اتحاد کی مواخذے کی قرارداد ناکام ہو جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے آپس میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی، ظفر علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امکان اِس بات کا ہوگا کہ ’ہارس ٹریڈنگ‘ کی گئی ہے یا پھر یہ کہ کس جماعت نے اِس عمل کو سبوتاڑ کیا۔ متحدہ قومی تحریک کی رہنما نسرین جلیل نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے جِس میں اِس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے بقول، ’پھر ہی کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔‘سنیٹر شاہد بگٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات شیری رحمٰن کا دعویٰ کہ مسلم لیگ ق کے 18ارکان حکومت کے ساتھ ہیں، ’درست معلوم دیتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے زیادہ ترارکانِ سنیٹ صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری وطن پارٹی کا موقف یہ ہے کہ نہ صرف مواخذہ بلکہ صدر مشرف کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جائیں۔اے این پی کے رہنما بشیر احمد بلور نے بتایا کہ یہ دعویٰ کے قبائلی علاقے سے ارکانِ پارلیمان صدر کی حمایت کریں گے، غلط ہے۔ ا?نہوں نے کہا کہ اے این پی شروع سے ہی نہ وردی میں اور نہ وردی کے بغیر پرویز مشرف کو صدر ماننے کے لیے کبھی تیار تھی۔بشیر بلور نے بتایا کہ11 اگست کو پنجاب، 12کو سرحد، 13کو سندھ اور 15کو بلوچستان اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوگا جس میں مواخذے کے حق میں قراردایں منظور کی جائیں گی، جس کے بعد اخلاقی طور پر صدر مشرف کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف مواخذے کی تاریخ سے پہلے ہی مستعفی ہو جائیں گے۔جبکہ حکمران اتحاد میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوالے سے 8 نکاتی چارج شیٹ پر اتفاق ہو گیاہے ۔ چار ج شیٹ کے آئینی اور پارلیمانی جائزے کے بعد اسے حتمی شکل دی جائے گی ۔ چارج شیٹ میں صدر کی جانب سے ملک میں دوبارہ آئین کی معطلی ، مارشل لاء کے نفاذ ، لال مسجد اپریشن ، عدلیہ کی معزولی اور وفاق کمزور کرنے کے اقدامات کو شامل کیاگیا ہے ۔دونوں بڑی جماعتوں کی ڈرافٹنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ۔ اجلاس میں شیری رحمان ، اسحاق ڈار ، احسن اقبال اور وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے شرکت کی۔ اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا ذرائع نے بتایا کہ چارج شیٹ کے حوالے سے 8 کلیدی نکات پر اتفاق ہو گیاہے ۔کمیٹی کے مطابق مواخذے کا مسودہ کئی صفحات پر مشتمل ہو گا۔ بیشتر امور طے کر لیے گئے ہیں۔ جس کا قانونی ، آئینی اور پارلیمانی طریقے سے جائزہ لینے کے بعد اسے حتمی شکل دے دی جائے گی کمیٹی کا اجلاس آج ( پیر کو ) دوبارہ ہو گا۔ کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے کہاکہ مسلم لیگ ( ق ) کے ارکان ہم سے رابطہ میں ہیں انہوںنے کہا کہ اہم نکتہ یہ ہے کہ سب کہہ رہے ہیں کہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہاکہ کابینہ میں توسیع ہو گی۔ مگر اس وقت ہم تاریخی مواخذے پر کام کر رہے ہیں ۔ جمہوری تحریک میں مسلم لیگ ( ق ) کی بھی حمایت حاصل ہے تحریک کی حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد 350 تک پہنچ گئی ہے جو دو تہائی سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے کہا کہ مخدوم امین فہیم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ مواخذے کی تحریک میں ووٹ نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ مخدوم امین فہیم جمہوریت کے حق میں فیصلہ دیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ چارج شیٹ کے بارے میں کافی مواد جمع ہو چکا ہے ۔ تاریخی دستاویر ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی دستاویز نہیں ہو گی ۔ یہ دستاویز جمہوریت کے حوالے سے دنیا کے لئے علامت ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے معاملے پر حکومتی اتحاد تنہا نہیں بلکہ مسلم لیگ ( ق ) کے ممبران بھی رابطے میں ہیں ۔ چارج شیٹ میں ٹھوس مواد شامل کیا جائے گا یہ ایک تاریخی دستاویز ہو گی اس لئے اسے ہم غیر ذمہ دارانہ طور پر موضوع بحث نہیں بنا سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ پر کام کرنے والی کمیٹی کے اختیارات میں صدر کو محفوظ راستہ دینے کا معاملہ شامل نہیں ہے اور اس طرح کے فیصلے اتحادی پارٹیوں کے سربراہ کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز سے قاف لیگ کے ممبران نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ آن ریکارڈ وہ یہ تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ 58 ٹو بی کا استعمال نہیں ہونا چاہئے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر پرویز مشرف تنہا ہو رہے ہیں اور آمریت کمزور اور جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مواخذہ پارلیمنٹ کا اختیاری حق ہے اور اسے کسی دوسرے ادارے میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلیاں مواخذے پر اپنی قرار دادیں لائیں گی اور 4 قرار دادیں مواخذے کے حق میں آ جائیں گی تو پھر مواخذے کی مخالفت میں کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی متحد ہے اور اس وقت صف بندیاں جمہوریت اور آمریت کے درمیان ہیں اور یہ کہ اتحادی جماعتوں میں مکمل اتحاد و اتفاق اور یگانگت ہے ۔ اور مواخذے کی اس جدوجہد میں حکومت کو نہ صرف مسلم لیگ ( ق ) بلکہ کچھ دوسری جماعتوں کی بھی حمایت ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات کے بارے میں اتحادی جماعتوں کے اراکین کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق صدر پرویز مشرف نے اتوار کے روز اقتدار سے باضابطہ طور پر علیحدہ ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور آئندہ ایک دو روز میں وہ اپنا استعفیٰ دے دیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے ساتھی محفوظ راستے کے لیے حکمت عملی کوحتمی شکل دے رہے ہیں اور ذرائع کے مطابق جلد ہی ایوان صدر کے ذرائع نواز شریف اور آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کریں گے۔ صدر پرویز مشرف بریگیڈیئر ریٹائرڈ نیاز احمد اور کرنل ریٹائرڈ غلام سرور چیمہ سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر نے اپنے اہل خانہ کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے اور اب ان امور پر سوچ بچار کیا جا رہا ہے کہ وہ استعفےٰ کے بعد مقدمات سے کیسے بچ سکتے ہیں۔قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کے گروپ نے صدر کے مواخذے سے متعلق حتمی فیصلے کے لئے پیر کے روز اپنا اجلاس اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے ذرائع کے مطابق 18 آزاد ارکان میں سے کچھ رکن فاٹا سے ہیں اور 6 آزاد ارکان ایسے ہیں جو قومی اسمبلی میں آزاد حیثیت سے بیٹھتے ہیں اور انہوں نے کسی جماعت سے اپنی وابستگی ظاہر نہیں کی صدر مشرف کے مواخذے کے لیے حکومت کا ساتھ دینے والوں میں انجیئر عثمان تراکئی، سعید احمد ظفر سردار علی محمد مہر، مولوی امان اللہ ، عثمان ایڈووکیٹ اور جواد حسین شامل ہیں ۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ان کا ایک اجلاس منعقد ہو گا۔ جس میں اپنے فیصلے کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آمر کے خلاف ہیں اسی کی پالیسیوں کے خلاف ہیں اور وہ جمہوریت چاہتے ہیں۔حکمران اتحاد نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے سے پارلیمنٹ مضبوط ہو گی۔ چارج شیٹ کا پرویز مشرف سامنا نہیں کرسکیں گے۔ ان کو محفوظ راستہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ قائدین کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سنیٹر اسحاق ڈار اور احسن اقبال نے اتوار کو ڈارفٹنگ کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چارج شیٹ اتنی مضبوط ہے کہ پرویز مشرف اس کا سامنا نہیں کر سکیں گے۔ انہیں چاہیے کہ وہ مستعفی ہو جائیں انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت مواخذے کا نوٹس دیا جائے گا۔ جس میں صدر کی آئین کی خلاف ورزی اور مختلف معاملات کے حوالے سے مس کنڈکٹ کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 44کے تحت مستعفیٰ ہو جائیں تاکہ ملک و قوم کا وقت ضائع ہونے سے بچ سکے کیونکہ پوری قوم کی نظر میں اس معاملے پر لگی ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ آئین کی بحالی ملک کی بقاء و سالمیت اور جمہوریت کے استحکام کے لیے صدر کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مواخذے کے حوالے سے آئین اور قانون کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ پرویز مشرف چلے جائیں ۔ مواخذے کی تحریک کو مطلوبہ مقدار سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہو گی صدر کو حقیقت کاسامنا کرتے ہوئے استعفی دینا چاہیے مواخذے کے عمل سے بچنا چاہیے ملک و قوم کے وقت کو بھی بچانا چاہیے کیونکہ اس معاملے پر ڈیڑھ دو ماہ ضائع ہو گا چارج شیٹ مکمل طور جامع ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ کے صدر کا فیصلہ حکمران اتحاد کے قائدین کے اتفاق رائے اور اراکین کے مطابق ہو گا پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کا فیصلہ قائدین کریں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ سینکروں صفحات پر مشتمل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں ملنا چاہییایسا ہوتا ہے تو جیلوں میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان ہونا چاہیے۔ ملک میں ٹریفک کا سگنل توڑنے پر عام شہری کو سزا دی جاتی ہے پرویز مشرف نے تو آئین کو توڑا ہے انہوں نے کہا کہ یکجہتی کے لیے عوامی طور پر ان کے چاروزراء کابینہ میں شامل ہوئے مکمل واپسی تب ہو گی جب قوم سے لیے گئے وعدے کے مطابق ججز بحال ہوں گے۔۔قبائلی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے صدرمملکت پرویز مشرف کے مواخذے اور حکومت کے ساتھ حمایت کرنے پر فاٹا میں آپریشن بند کرنے کی مشروط شرائط رکھ دی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق فاٹا اور ایف آرز سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹرز نے قبائلی علاقہ جات میں آپریشن بند کرنے کی مشروط شرائط پر صدرمملکت کے مواخذے میں حکومت کا ساتھ دینے کی شراط رکھ دی ہیں ۔ ذرائع نے بتایاہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کے صدر کی طرف سے قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے فون پر گزشتہ شب رابطے کئے اورانہیں اپنی طرف سے مکمل یقین دہانی کرائی کہ قبائلی علاقہ جات میں آپریشن صدر کے مواخذے میں کامیابی کے بعد بند کر دیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین اسمبلی نے سانحہ جمرود میں ملوث ملزمان کی گرفتار ی کے لئے بھی انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کیا ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ صدرمملکت پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد قبائلی علاقہ جات میں آپریشن بند کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے سے قبل القاعدہ نے بھی صدر کیخلاف چارج شیٹ جاری کردی ہے۔ القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری کی جانب سے جاری آڈیو ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرکے قومی سلامتی خطرے میں ڈال دی۔ پہلی مرتبہ انگریزی زبان میں جاری کیا گیا ایمن الظواہری کا آڈیو پیغام پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویڑن موصول ہوا ہے ۔ نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کو ملنے والے آڈیو ٹیپ میں ایمن الظواہری نے انگریزی زبان میں ایک پیغام میں پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو ایک دلکش زبان ہے لیکن انہیں نہ آنے کے سبب مجبوری میں انہوں نے انگریزی زبان استعمال کی ہے۔ ایمن الظواہری کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان سے جذباتی لگاو¿ہے اور القاعدہ پاکستان کے امور سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اپنے آڈیو پیغام میں انہوں نے صدر پرویز مشرف پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غلط پالیسیوں کے باعث آج افغانستان میں منشیات فروش اور روس و بھارت نواز لوگ برسراقتدار ہیں، بھارت تاجکستان کے ہوائی اڈوں تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ پاک افغان سرحد پر بھی بھارتی اثروسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔القاعدہ کے رہنما نے صدر پرویز مشرف پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محض امریکی خوشنودی کیلئے قربانی کا بکرا بنایا ہے۔ڈاکٹر ایمن الظواہری کے مطابق قبائلی علاقوں میں امریکی جنگ لڑی جارہی ہے جس سے پاکستان کو سوائے نقصان کے کچھ نہ ملا۔مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنما کا کہنا تھا کہ صدر پرویز کی جانب سے پیش کیا جانیوالا مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل دراصل کشمیر کا سودا ہے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہا کہ صدر پرویز مشرف نے اسرائیل کو عملاً تسلیم کرلیا ہے اور پاکستان میں امریکی ایجنسیوں کو آزادنہ کارروائیوں کی اجازت دی ہے اور اسے پاکستان میں خفیہجیلیں بنانے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ ایمن الظواہری نے پاکستانی سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیاست امریکی سفارتخانے سے کنٹرول کی جارہی ہے اور سیاستدان امریکی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے ایٹمی صلاحیت کی حامل قوم کو غیر مستحکم کر رہے ہیں ۔ایمن الظواہری نے لال مسجد کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر دینی جماعتوں کے کردار پر بھی شدید تنقید کی اور پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آباو¿ و اجداد کے کردار کو دہراتے ہوئے جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ایمن الظواہری کا مبینہ آڈیو ٹیپ القاعدہ کے میڈیا سیل اسہاب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ٹیپ میں صدر پرویز مشرف کے مختلف انٹرویوز کے اقتسابات دکھائے گئے ہیں اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کی فوٹیج بھی اس میں شامل ہے۔القاعدہ رہنما نے پہلی مرتبہ اس آڈیو ٹیپ میں اپنی زندگی کے ذاتی تجربات بھی بتائے ہیں جس کے مطابق انہوں نے بچپن میں علامہ اقبال کے دیوان کا مطالعہ کر رکھا ہے جس کا ترجمہ ان کے دادا عبدالوہاب الزام نے کیا تھا۔ القاعدہ رہنما نے مزید بتایا کہ وہ 1980ء میں پہلی مرتبہ مجاہدین اور مہاجرین کا علاج کرنے کی غرض سے پاکستان آئے تھے جہاں انہوں نے چھ برس کا عرصہ گزارا تاہم بعد میں امریکی دباو¿کے پیش نظر نوے کی دہائی میں حکومت پاکستان نے انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ جبکہ پاکستانی سیاسسی جماعتیں غریب اور کنگال ہوگئیں۔تفصیلات کے مطابق انتخابات میں کروڑو ں روپے خرچ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس نقد رقم ایک کروڑ روپے کی موجود گی ظاہر کی گئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے اپنے آپ کو غریب اور کنگال ظاہر کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال 2007میں الیکشن کمیشن میں جمع کئے جانے والے اثاثوں کے مطابق اے این پی کے پاس چوبیس لاکھ روپے کی رقم حاصل ہو ئی ۔ تاہم انہوں نے اخراجات صرف چار لاکھ روپے ظاہر کئے اورگزشتہ سال کے اختتام پر ان کے پاس بیس لاکھ روپے کا بیلنس موجود تھا ۔گزشتہ سال 2007کے اثاثہ جات میں جو تفصیلات نو سیاسی جماعتوں نے جمع کرائی تھی ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس ماگزشتہ سال 2007کے دوران 3لاکھ 41ہزارروپے کی رقم حاصل ہو ئی جو زیادہ تر عطیات کی شکل میں تھی اور گزشتہ سال کے دوران 2لاکھ87ہزار روپے کے اخراجات کئے گئے جبکہ ان کے پاس چار لاکھ ر وپے بچے ۔ جبکہ گزشتہ سال 2006میں کچھ رقوم موجود تھی ۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ان کے پاس 4لاکھ 86ہزار روپے کی نقد رقم موجود تھی ۔ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ سال آمدن پندرہ لاکھ روپے اور اخراجات سترہ لاکھ روپے کے تھے ۔ جبکہ سابقہ رقم تین لاکھ روپے موجود تھی ۔ اسی طرح گزشتہ سال 2007کے اختتام پر ان کے پاس 88ہزار روپے کا بیلنس تھا ۔اسی طرح مسلم لیگ (ق) کی گزشتہ سال آمدنی چار کروڑ 42لاکھ ، جبکہ اخراجات 4کروڑ پندرہ لاکھ تھے ۔ ان کے پاس سابق رقم تیس لاکھ روپے تھی ۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ان کے پاس ستاون لاکھ روپے بچے ۔ جمعیت علمائ اسلام کو گزشتہ سال 36لاکھ کی آمدن ہو ئی جبکہ ستائیس لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے ۔ ان کو آٹھ لاکھ روپے بچے ۔ ایم کیو ایم کی آمدن 76لاکھ ر وپے ، اخراجات 72لاکھ روپے ، گزشتہ سال سات لاکھ روپے بچ گئے ۔ جماعت اسلامی کو آمدنی چوالیس لاکھ روپے ہو ئی اور گزشتہ سال چوالیس لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے ۔ سابق رقم چار لاکھ روپے موجود تھی جو بچ گئی تھی ۔ جمہوری وطن پارٹی کو ایک کروڑ تیس لاکھ روپے حاصل تھے ۔ اتنے ہی خرچ کر دیئے گئے ۔ سابق رقوم تین لاکھ روپے تھی ۔ پیپلز پارٹی شیر پاو¿ کو چھ لاکھ روپے حاصل ہو ئے ۔ اس نے چھ لاکھ روپے خرچ کئے اور سابق رقوم میں 45ہزار روپے تھے ۔۔وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کراچی میں سابق صوبائی صدر پاکستان پیپلزپار ٹی مخدوم امین فہیم سے ملاقات کی ۔دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں انہوں نے مخدوم امین کے صاحبزادے سندھ کابینہ میں بین الصوبائی رابطے کے وزیر مخدوم جمیل الزماں کے استعفے کی واپسی اورامین فہیم کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی تاہم ذرائع کے مطابق وہ اس کوشش میں ناکام رہے۔ امین فہیم کا کہنا تھا کہ مخدوم جمیل الزماں کا استعفیٰ دینا ان کا اپنا فیصلہ ہے انہوں نے استعفیٰ دیتے وقت میری رائے نہیں لی تھی اور نہ ان کے استعفے کا صدر پرویز مشرف کے مواخذے سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم مواخذے کی بات نہیں کرسکتے ،ملک انتہائی نازک دٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍور سے گزررہا ہے،سینکڑوں لوگ روزانہ مررہے ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے مواخذے سے زیادہ ملک بچاناضروری ہے پاکستان کی صورتحال نازک ہے اور دو صوبے جل رہے ہیں ۔پہلے ملک بچالو پھر مواخذے کی دس تحریکیں لے آنا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی میری پارٹی ہے اسے خون پسینہ دے کر مضبوط بنایا ہے اور اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ سچ کے سفر میں تنہا رہا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ سید خورشید شاہ کوئی پیغام لے کر نہیں آئے۔دوسری جانب وفاقی سید خورشید شاہ نے کہا کہ امین فہیم ہمارے ساتھ ہیں ان سے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مواخذے کی تحریک میں جماعت اسلامی ، تحریک انصاف اور اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ہم امید کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم بھی ہمارا ساتھ دے گی۔ صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخدوم جمیل الزماں نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا ۔ ہم معاشی بحران ختم کرنا چاہتے ہیں ، جب بھی ایک آمر اقتدار چھوڑتا ہے تو اس کا اثر باقی رہتا ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ میں سی ای سی کا رکن ہوں اور ہم لوگ آپس میں ملتے رہتے ہیں ۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور ججز کی بحالی کے معاملات کے حوالے آئندہ چند روز میں حکمران اتحاد اور اے پی ڈی ایم کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس متوقع ہے۔ اس ضمن میں پی پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک دو روز میں جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ قاضی حسین احمد سے رابطہ کریں گے یہ رابطے سینٹ میں آزاد اپوزیشن کے اراکین کی مواخذے کی تحریک کے بارے میں حمایت کے حصول کے لیے کیے جا رہے ہیں سینٹ میں جماعت اسلامی پختونخواہ اورعوامی نیشنل پارٹی پر مشتمل آزاد اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 9 ہے جن کی حمایت کے حصول کے لیے رابطے جاری ہیں حکمران اتحاد اور اے پی ڈی ایم کے درمیان ان رابطوں کے لیے سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مواخذے کی تحریک کی تاریخی کا میابی کے لیے تمام جمہوری و سیاسی قوتوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد سے بھی پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری رابطہ کریں گے بعد ازاں ان میں جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات کو حتمی شکل دی جا ئے گی۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے شدت پسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی مدد کی خواہش کا اظہار کیاہے جبکہ اقوام متحدہ نے کہاہے کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لئے اسلام آباد کو عالمی مدد کی ضرورت ہے اورپاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر طالبان کی مدد کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔واشنگٹن میں امریکی میڈیا سے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے انتباہ کیاکہ حکومت پاکستان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں ناقابل مصالحت لوگوں سے مذاکرات شدت پسندی کے خاتمے کا حل نہیں۔انہوں نے شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ پاکستان اور افغانستان کے لئے خطرناک ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ جنگ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد یہ شدت پسند قبائلی علاقوں میں آ بسے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کرس الیگزینڈر نے کابل میں ایک بیان میں کہاکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر طالبان کی مدد کے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے پاکستان کو عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے جاری کردہ آڈیو بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے دنیا کے دیگر معا ملات کی طرح سیاست میں بھی عالمگیریت آگئی ہے القائدہ کی ٹیپ سے صدر پرویز مشرف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمگیریت نے دنیا بھر کے بہت سے معا ملات کو مشترک بنا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیں اپنی کالونی سمجھتا ہے اور ہماری خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتا وہ ہمیں مختلف معاملات میں ڈکٹیشن بھی دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صدر پریز مشرف نے امریکا کا ساتھ دیا ۔جبکہ امریکا دنیا بھر میں مسلمانوں پرزیادتیاں کررہا ہے ۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ آڈیو ٹیپ اسی طرح صدر پریز مشرف کو فائدہ پہنچاسکتی ہے جس طرح امریکی صدر جارج بش کے صدارتی انتخاب سے قبل ایک القاعدہ کی ایک ٹیپ آئی تھی اور وہ ہارا ہوا لیکشن جیت گئے تھے مولانا فضل الرحمان نے طویل گفتگو نہ کرنے دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور جواب دینے سے گریز اختیار کیا۔پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کے ناراض رہنما مخدوم امین فہیم کو منانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں ،خورشید شاہ نے آصف زرداری کا خصوصی پیغام مخدوم امین فہیم کو پہنچایا لیکن وہ نہیں مانے ۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام لے کر امین فہیم کے گھر گئے اور انھیں آصف علی زرداری کے مو¿قف اور صدر کے مواخذے کے حوالے اور صدر کے خلاف تیار کی جانے والی جارج شیٹ کے بارے بریف کیا تاہم ذرائع کے مطابق سید خورشید شاہ پی پی کے سینئر ترین رہنما کو منانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ،جس کے بعد وہ واپس آ گئے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف علی زرداری مخدوم امین فہیم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ انھیں منانے کی بھرپور کوشش کریں گے ادھر ذرائع نے بتایا ہے کہ مخدوم امین فہیم کو منانے کے لیے مسلم لیگ(ن) بھی ان کے ساتھ رابطہ کرے گی۔مسلم لیگ ق کے دس سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے آصف زرداری سے رابطہ کر کے صدرپرویز مشرف کا مواخذہ کرنے کے بجائے محفوظ راستہ دینے کی اپیل کی ہے ۔نصراللہ بجرانی اور اسرار ترین سمیت مسلم لیگ ق کے دس ارکان اسمبلی نے صدر مشرف کے مواخذے کی تحریک واپس لینے کیلئے آصف زرداری سے رابطہ کیا۔نصر اللہ بجرانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری سے رابطوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آصف علی زرداری سے رابطہ کرنے والوں میں پرنس نواز خان ،سردار طالب نکئی،طارق حسین نکئی اور نعمان احمد لنگڑیال سمیت دس ارکان ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کی خواہش ہے کہ صدر مشرف مستعفی ہو جائیں ،اس لیے انہوں نے آصف علی زرداری سے مواخذے کی تحریک پس پشت ڈالنے کی اپیل کی ہے ۔اسرار ترین نے کہاکہ صدر پرویز مشرف کو واپسی کا محفوظ راستہ دیا جائے ،پی پی مواخذے کی تحریک نہ لانے پر غور کرے تاکہ ملک کے ادارے ٹکراو سے بچ سکیں۔پنجاب کے ایک وزیر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر صدر مشرف مستعفی نہ ہوئے تو ان میں کچھ ارکان مواخذے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment