International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 24, 2008

سیاست سے بے اصولی کا خا تمہ نا گزیر ہے۔تحر یر: محمد رفیق اے پی ایس






جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کو خوامخواہ بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے ۔نواز شریف کا صرف ایک مسئلے پر سخت مئوقف اپنانا مناسب نہیں۔ججز کی بحالی دیگر مسائل کے مقابلے میں قطعاً اہم نہیں ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ملکی مخدوش صورتحال ہے ۔ملک ٹوٹ رہا ہے اور مسائل کا فوری سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قوت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ انہیں نوازشریف کا بیان سمجھ نہیں آیا اور جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو ہمار ا معاہدہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہے ۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے پیپلزپارٹی سے ججوں کی بحالی کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور صدارتی انتخاب کے شیڈول کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال معمول پر لانا پیپلز پارٹی کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے جس کے لیے امریکا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام ، معاشی حالات بہتر بنانے اور خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور امریکی تعاون درکار ہے۔اپنے اوپرعائد کیے گئے کرپشن کے الزامات کے بارے میں ان کاکہناتھا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جنہیں پاکستانی عوام مسترد کر چکی ہے۔اگر ان الزامات میں حقیقت ہوتی تو عوام کبھی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دیتے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا امیدوار لانے کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی سیاست میں معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہوگی۔ہم چاہتے ہیں کہ اب پاکستان کی سیاست سے بے اصولی کو ختم ہو جانا چاہیئے۔آصف علی زرداری کے بیان سے بہت مایوسی ہوئی ہے ۔اگر آصف علی زرداری کی بات مان لی جائے کہ معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگاکہ قائد اعظم نے کون سی سیاست کی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آصف علی زرداری سے اپنے لئے کوئی عہدہ نہیں مانگا، ہم نے صرف سترہویں ترمیم کے خاتمے اور ججز کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کے اجلاس میں لائحہ عمل طے کریگی۔ابھی تک صدارتی امیدوار کے لئے کسی نام کا فیصلہ نہیں ہوا۔ صدارتی امیدوار کی خواہش جاوید ہاشمی کا ذاتی فیصلہ ہے ۔تاہم پارٹی اس پر غور کر ے گی۔ جلد بازی حکمراں جماعت کی طرف سے دکھائی گئی۔اور اسی جلد بازی میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ۔نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات سے قبل ججز کی بحالی اور سترہویں ترمیم کا خاتمہ کیا تو مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کریگی۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ہے۔ برطانوی اخبار سے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے انہوں نے آئندہ چھ ماہ کو ملک کے لیے انتہائی مشکل قرار دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بن گئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے وہ ملک کے اقتصادی اور سیکورٹی معاملات درست کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی غیر مقبول امریکی پالیسی نہ بدلی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی ۔ پرویز مشرف کے دور میں جس خانہ جنگی کا خطرہ تھا وہ آصف علی زرداری کی صدارت میں شروع ہوجائے گی ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں چین کو ایک کنارے پر رکھ کر قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ امریکہ کاہمیشہ سے طریقہ کار رہا ہے کہ اس نے اس ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنے یا روکنے کی کوشش کی جو اس کی عالمی استعماریت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے ” وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا آئی ایس آئی کا عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات کا الزام غلط ہے ا ور ضروری بھی نہیں کہ امریکہ کا ہر الزام صحیح ہو ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور و ہ ماضی کی طرح آئی ایس آئی کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ضیاءالحق کے اشارے پر آئی ایس آئی نے امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے اور یہاں عام لوگ طالبان مخالف جذبات نہیں رکھتے تاہم طالبان کے آئی ایس آئی اور پاکستانی افواج پر حملوں کے بعد آئی ایس آئی کو ان لوگوں سے خفیہ تعلقات نہیں رکھنے چاہیے اس وقت ہماری فوج تربیت یافتہ جنگجوو¿ں سے لڑرہی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان لوگوں کے اندر امریکہ اوروہاں کرزئی حکومت کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ القاعدہ کے نائن الیون بم حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ القاعدہ اس میں ملوث تھی یہ منصوبہ بندی افغانستان میں نہیں بلکہ جرمنی میں تیار کی گئی۔اے پی ایس

No comments: