

صدر پرویز مشرف نے حکمران اتحاد کی جانب سے مواخذے پر اپنے امریکی ساتھیوں سے دلبرداشتہ ہو کر سعودی حکومت سے رابطے شروع کردئیے ہیں ۔ صدر پرویز مشرف نے اس سلسلے میں سفارتی سطح پر سعودی حکومت کو ایک پیغام بھیجا ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سعودی سفارت کار کے ذریعے حکومت سعودیہ کو پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے سعودی حکومت سے حکمران اتحاد کی جانب سے مواخذے کی صورت میں مدد طلب کی ہے ۔ اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف کو حکومت سعودیہ کی طرف سے جواب تو ملا ہے لیکن وہ اتنا مثبت نہیں ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ سعودی حکام کی طرف سے صدر کے مواخذے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو پاکستان بھیجا جارہاہے ۔صدر پرویز مشرف اگر استعفیٰ دے دیتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب انہیں مستقل رہائش کی پیش کش کرے ۔ اس کے لئے سعودی عرب پاکستانی حکومت سے صدر پرویز مشرف پر چارجز لگانے کے بجائے انہیں عام معافی دینے کی درخواست بھی کر سکتا ہے ۔ ادھر پاکستان میں سعودی سفیر علی عواد العصری سعودی عرب کے نجی دورے کے بعد جلد واپس پاکستان آرہے ہیں ۔ واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف نے اکتوبر 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد نواز شریف کو ملک بدر کر کے سعودی عرب بھیجا تھا ۔ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ سعودی حکام پاکستان کی اندرونی سیاست سے دور رہیں کیونکہ نواز شریف کے واقعہ کے وقت پہلی بار میڈیا اور سول سوسائٹی نے سعودی عرب کے کردار پر نکتہ چینی کی تھی۔صدر پرویز مشرف نے اپنی 65 ویں سالگرہ پیر کو منائی کہیں سے پھولوں کاایک گلدستہ بھی موصول نہیں ہوا گزشتہ سال ڈھیروں پھول اور تحائف موصول ہوئے تھے اور ایف بی آرکے سابق چیئر مین عبداللہ یوسف نے نورجہاں کے ایک گانے پر ڈانس کیا تھا اس سال خاندان کے محض چند افراد نے شرکت کی صدر پرویز مشرف کی سالگرہ کے موقع پر انہیں کوئی ایک پھولوں کا گلدستہ اور سالگرہ کا کارڈ موصول نہیں ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال سینکڑوں پھولوں کے گلدستے اور تحائف وصول کیے تھے گزشتہ سال صدر پرویز مشرف نے سالگرہ کی تقرب میں کیک کاٹا تھا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی تھی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئر مین عبداللہ یوسف نے نور جہاں کے ایک گانے ”سہانوں نہر والے پل تے بلا کے “ پر ڈانس کیا تھا جس کی ویڈیو ملک بھر میں مقبول ہوئی جبکہ اس سال صدر پرویز مشرف کی سالگرہ کے موقع پر جو تقریب منعقد ہوئی اس میں خاندان کے محض چند افراد نے شرکت کی صدر پرویز مشرف 11 اگست1947ئکو بھارتی دار الحکومت نئی دہلی میں پیدا ہوئے جہاں کے بعد ازاں انہوں نے خاندان کے ہمراہ 1947ء میںیہاں سے پاکستان ہجرت کی انہوں نے 1964ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی 1998ء میں جنرل جہانگیر کرامت کے بعد وہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے گزشتہ سال ملکی اور بین الاقوامی دباو¿ کی وجہ سے صدر پرویز مشرف وردی اتار کر سول صدر بن گئے اب جبکہ گزشتہ روز وہ اپنی 65 ویں سالگرہ منانے جا رہے تھے تو ان کے خلاف مواخذے کی تیاریاں اپنے آخری مراحل طے کر رہی ہیں ان کی اپنی جماعت مسلم لیگ ق کے اراکین بھی ان کے خلاف مواخذے کی تحریک میں حکمران اتحاد کا ساتھ دے رہی ہے صدر پرویز مشرف پر دوران اقتدار 5 قاتلانہ حملے ہوئے۔صدر پرویز مشرف نے اپنی سالگرہ اس وقت منائی جب ان کے خلاف حکمران اتحاد مواخذے کی تحریک پیش کر نے جا رہا ہے اور ان کی جماعت مسلم لیگ ق بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہی ہے جبکہ حکمران اتحاد نے ان کے خلاف مواخذے کے لئے کرپشن ،قتل اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک عوامی امنگوں کی ترجمان اور آئین کے مطابق ہے تحریک کو مطلوبہ اراکین پارلیمنٹ سے زیادہ تعداد کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کی ضرورت نہیں کیونکہ مسلم لیگ ( ق ) کے کئی ارکان مواخذے کے لئے جمہوری قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں مواخذے کی تحریک کو 325 سے 350 تک اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ ( ق ) کے پنجاب اسمبلی میں فاروڑ بلاک کے 35 اراکین مواخذے کی تحریک کی حمایت کر کے تاریخ میں اپنا نام سنہری الفاظ میں لکھوا رہے ہیں ۔ صدر کے مواخذے کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہو نے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ حکمران اتحاد کے پاس مطلوبہ ارکان سے زیادہ تعداد موجود ہے جبکہ وزیر اطلاعات شیری رحمن نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلم لیگ ( ق ) اپنے ارکان کو مواخذے کی تحریک کی حمایت سے روکنے کے لئے پیسے کا استعمال کرے ۔بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر چارج شیٹ کی تفصیلات ابھی نہیں بتائی جا سکتیں ۔ صدر کے مواخذے سے جمہوریت مضبوط ہو گی مخدوم امین فہیم ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ہمیں توقع ہے وہ جمہوریت کے حق ہی میں فیصلہ دیں گے ۔ حکمران اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں ڈالر ،یورو اور سعودی ریال نایاب ہو گئے۔تفصیلات کے ملک بھر میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان سے امریکی ڈالر،یورو،سعودی ریال، دینار اور برطانوی پاو¿نڈ ز کی خریداری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لوگ ان کے عوض پاکستانی کرنسی جو روز باروز معیشت کے ہاتھوں گرتی ساکھ کی وجہ سے ڈالر اور دیگر کرنسیاں لے رہے ہیں تاکہ ان کو نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی نے اکثریت رائے سے پاس کی جانے والی قرار داد میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کے پیش نظر اپنے الیکٹرول کالج سے فی الفور اعتماد کا ووٹ لیں یا پھر صدر کے عہدہ سے استعفے دے دیں اگروہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے مواخذہ کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا ۔ پنجاب اسمبلی میں یہ قرار داد صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے پیش کی ۔ قرارداد کے حق میں321جبکہ مخالفت میں25 ووٹ آئے۔جبکہ 25 ارکان صوبائی اسمبلی غیر حاضر رہے ۔ قرار داد میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر چار نکاتی الزامات لگائے گئے جن کے تحت ان سے اپنے الیکٹرول کالج سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ قرار داد میں اکتوبر 2007ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کیلئے جنرل (ر) پرویز مشرف کی اہلیت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جو الزامات صدر مشرف پر لگائے گئے ہیں ان کے تحت وہ دوبارہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین توڑنے کے مرتکب ہوئے جبکہ انہوںنے اسلامی جمہوریت پاکستان کے آئین سے تجاوز کرتے ہوئے جمہوریت کو ڈی ریل کیا ۔ تیسرے الزام کے تحت صدر کا عہدہ آئین کے آرٹیکل 41(1) کے تحت وفاقی کی یکجہتی کی علامت ہوتا ہے جبکہ صدر مشرف کے صوبوں کے درمیان تناو¿ پیدا کیا اور صوبائی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا جس کے باعث فیڈریشن کمزور ہو گئی ان پر آخری الزام لگایا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی 8 سالہ دور کی پالیسیوں کے با عث ملک سیاسی اور معاشی بد حالی کا شکار ہوا ان کی ناکام پالیسیوں کے باعث ملک کو تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جس سے عوام مایوسی کا شکار ہیں ۔ مشرف وفاق اور قومی اداروں کو شدید نقصان پہنچانے کے مرکتب ہوئے ہیں اس لئے ا نہیں صدر کے عہدہ سے فی الفور الگ ہو جانا چاہیئے ۔ ورنہ پارلیمنٹ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جانی چاہیئے ۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے مشرف کے خلاف واضح ترین فرق سے مواخذہ کی قرار داد کامیاب کروا کر پنجاب کی پگ دوبارہ سرپر رکھی دی ہے ۔ اس تاریخی کامیابی پر مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سلوٹ کرتا ہوں جنہوں نے جمہوریت کی بحالی اور ڈکٹیٹر کے خاتمے کیلئے کلیدی رول ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا خون رنگ لایا ہے اور آج کے تاریخ ساز دن کو مشرف کی سیاسی موت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل (ر) مشرف کے خلاف مواخذہ کی قرار داد کے پاس ہونے کے بعد ایوان میں خطاب اور صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعلی نے قرار داد کی مخالفت اور 58 ٹو بی کے استعمال کے حوالے اپوزیشن ارکان کی تقاریر پر کہا کہ کیا بھاشا ڈیم ہم نے نہیں بننے دیا تھا ۔ کالے کوٹ والوں کے سر ہم نے بھارے ہیں ، چیف جسٹس آف پاکستان کو کس نے قید کیا ، منتخب وزیر اعظم کو کس نے ہتھکڑیاں لگائی تھیں، آٹا سمگل کس نے کیا ۔انہوں نے یہ بھی سوا ل کیا کہ جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں پر گولیاں کس نے برسائیں اور باجوڑ مدرسہ میں قرآن پاک کے حافظ بچوں کو شہید کس نے کیا ۔ قوم ایسے سیاہ کارناموں کے خالق کو بخوبی جانتی ہے ۔ سابق دور میں کہا گیا تھا کہ وردی اور کھال سمیت دس مرتبہ مشرف وک منتخب کروائیں گے مگر اب پنجاب جاگ اٹھا ہے اور اس نے پگ پر لگا داغ دھو ڈالا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد کو بھی مبارکباد پیش کی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راسہت نہیں دیا جائے گا اب ملک کو لوٹنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کی رخصی کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کو مری ڈیکلریشن کے تحت 2 نومبر 2007 ءکی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا ۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ 8 سال کے دوران پاکستان میں حکمرانوں نے کرپشن کے ریکارڈ توڑے اور قوم و ملک کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا اب ان نقصانات کا حساب لینے کا وقت آگیا ہے آج اپوزیشن ارکان نے بھی آمریت سے منہ پھیر لیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سندھ اسمبلی کوتوڑنے کیلئے ارکان اسمبلی کوچار کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی ہے اورمخدوم جمیل الزمان کا نام متبادل وزیراعلیٰ سندھ کانام زیر گردش ہے ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا گیاہے کہ صد رکی ہدایت پرحفیظ الدین پیرزادہ کی گزشتہ شب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم سے ڈیڑھ گھنٹے کی بات چیت ہوئی ہے جس میں صدرمشرف کے مواخذے کی تحریک کوناکام بنانے کی منصوبہ بندی ہوئی ۔ذرائع نے کہا ہے کہ حکمت عملی میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وزیراعلیٰ سندھ سے اعتماد کا ووٹ لینے کوکہا جائے گا اس ضمن میں سندھ اسمبلی کوتوڑنے کیلئے ارکان اسمبلی کوچارکروڑ سے زائد کی پیشکش کی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کے خلاف حکمت عملی میں ایم کیو ایم ،غلام مصطفی جتوئی اورپیرپگارا کواعتماد میں لیا گیا ہے۔ ۔ قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی نے کہا ہے کہ جب تک صدر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہو جاتے یاان کا مواخذہ نہیں ہو جاتا قومی اسمبلی کا رواں سیشن جاری رہے گا تا کہ 58 ٹو بی کے استعمال کا احتمال ہی نہ رہے پارلیمانی پارٹی کے مواخذے اور ججز کی بحالی کے حوالے سے قائدین کے سات اگست کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے پی پی پی پی ،مسلم لیگ ن ، اے این پی،جے یو آئی ف پر مشتمل اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں اسفند یار ولی خان ،چوہدری نثار علی خان ،سید خورشید شاہ ، شیری رحمان ،احسن اقبال، سینیٹر اسحاق ڈار ، سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا ،مولانا نور الحق قادری اور اتحادی جماعتوں کے دیگر اراکین نے شرکت کی مواخذے کے مسودے کے بارے میں قائم ڈرافٹنگ کمیٹی کے اراکین کے اجلاس کو صدر کے مواخذے کے حوالے سے مجوزہ چارج شیٹ کے اہم نکات کے بارے میں آگاہ کیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مواخذے کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کیے جائیں پارلیمانی پارٹی کے صدر کے مواخذے کے اعلان کی توثیق کر دی ہے صدر کی جانب سے 58 ٹو بی کے استعمال کے پیش نظر قومی اسمبلی کا اجلاس صدر کے رخصت ہو نے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ نوید قمر اور وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مواخذے کے حوالے سے جمہوری قوتوں اور آمرانہ قوتوں کے درمیان واضح لکیر کھینچی جائے گی انہوں نے کہا کہ غیر آئینی حربے کے استعمال کے پیش نظر صدر کے مواخذے یا استعفیٰ تک اجلاس پورے زور و شور سے جاری رہے گا غیر جمہوری قوتوں کو کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ جبکہ صدر پرویز مشرف سے پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے ملاقات کی ہے ، جس میں صدر پرویز مشرف کے خلاف حکمران اتحاد کی جانب سے مواخذے کی کوششوں، پاک امریکہ باہمی تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے راولپنڈی کیمپ آفس میں صدر سے ملاقات کی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی ۔دوسری جانب صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے امریکی سفیر نے ملاقات نہیں کی۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے واضح کیا کہ امریکا پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا اور جمہوریت کے منافی اقدامات کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میںصدر پرویز مشرف کی جانب سے صدر بش کے ساتھ رابطوں کی کوششوں اور مغربی میڈیا میں بینظیر بھٹو شہید کے ساتھ ان کی گفتگو کے ٹیپ سامنے آنے کی اطلاعات پر بھی بات ہوئی۔مسلم لیگ (ق) کے ارکان ماروی میمن ، شیخ وقاص اورامیر مقام پر مشتمل وفد نے بھی صدر سے ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان میں امریکی سفیر کی پیر کو صدر پرویز مشرف سے ہونے والی مبینہ ملاقات کو موجودہ سیاسی منظر نامے میں معنی خیز نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔راولپنڈی کیمپ آفس میں صدر سے ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں ذرائع کے مطابق این پیٹرسن نے صدر پرویز کو امریکی حکومت کا اہم پیغام پہنچایا تاہم ایوان صدر یا امریکی سفارتخانے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حکمران اتحاد کی جانب سے صدر کے خلاف مواخذے کی کوششوں کے پیش نظر اس ملاقات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ امریکی سفیر حال ہی میں واشنگٹن سے واپس آئی ہیں۔ اس سے پہلے ق لیگ کے تین ارکان نے بھی صدر سے ملاقات کی لیکن اس کی بھی باضابطہ تفصیل نہیں معلوم ہو سکی ہے تاہم ذرائع کے مطابق ملاقات میں مواخذے کی کوششوں اور آصف علی زرداری کی جانب سے صدر پر لگائے گئے الزامات پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ ایک دو دن میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ نے ہمیں آمر اور اس کی باقیات کودفن کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیاہے اور آج پنجاب اسمبلی میں صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کے حوالے سے قرارداد‘ جمہوریت کے استحکام‘ ملک کی خوشحالی اور انصاف کے بول بالا میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی اور آمریت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر اور اس کے حواریوں نے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران جس طرح ملک کے وسائل کو لوٹا اور اسے تاریکی میں دھکیلا ‘اس کا حساب لیاجائے گا اور لوٹی گئی قومی دولت بھی وصول کی جائے گی۔صدر کے مواخذے کے فوری بعد مری ڈکلیئریشن کے تحت معزول ججز کو بحال کر دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوموں کی زندگیوں میں بحران آتے رہتے ہیںلیکن زندہ قومیں ان کا مقابلہ اتحاد‘ اتفاق اوریگانگت کے جذبے کے ساتھ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام جمہوری قوتیں آمر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کمربستہ ہوچکی ہیں اور اتحاد گروپ نے جس طرح جمہوری جنگ میں ہمارا ساتھ دینے کافیصلہ کیاہے اس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے گزشتہ آٹھ سالوںکے دوران قائداعظم کے پاکستان کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے اور آج پاکستان سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے اور ان خطرات سے نکالنے کی ذمہ داری آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جمہوریت کی راہ پرگامزن کرنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں نے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور انشاءاللہ ملک میں حقیقی جمہوریت و عدلیہ کی آزادی کی بدولت اب پاکستان کو قائداعظم کے تصورات کے مطابق ڈھالا جا سکے گا ۔ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے تمام قومی وسائل کو عوام کے قدموں پر نچھاور کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف سے جلد سے جلد چھٹکارا حاصل کرلیا جائے گا اور گزشتہ آٹھ سالوں میں جس طرح صوبے کو روندا گیا اور ملک میں جبر و ستم کا دور دورہ روا رکھا گیا اس کے حساب کا وقت آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ حکومت کی ناقص و لوٹ مار کی پالیسیوں کی بدولت آج پنجاب کے عوام گھمبیر مسائل کا شکار ہیںاور ہسپتالوں‘ سکولوں سمیت ہر شعبے کی حالت دگرگوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی بحالی کے لیے ملک کی تاریخ میں 22ارب روپے کی لاگت سے سب سے بڑی فوڈ سٹیمپ سکیم کا آغاز کر رہی ہے جو صوبے کی تاریخ کا بھی ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت حقیقی مستحقین کو امداد پہنچانے کے لیے نہایت شفاف طریقہ اپنایاگیا ہے اور ڈی سی اوز اس ضمن میں فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے منتخب نمائندوں سے کہا کہ وہ بھی فنڈز کے محافظ ہیں اور اس پروگرام کی خودنگرانی کریں۔ جب مستحقین تک امداد پہنچے گی تو وہ اپنی جھولیاںاٹھا کر انہیں دعا دیںگے۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی بناء پر آج پورا ملک تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے اور اربوں روپے کے وسائل ترقیاتی منصوبوں کے نام پر برباد کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب کی صرف 66ٹی ایم ایز کے آڈٹ کے دوران 10ارب روپے کا غبن سامنے آیا ہے جبکہ ابھی آدھی ٹی ایم ایز ‘ ضلع کونسلوں اور سٹی گورنمنٹ کا آڈٹ ہوناباقی ہے سابقہ حکومت نے اپنے چہیتوں کو دیئے گئے فنڈز کا آڈٹ نہیں کرایا جس کی بدولت کھربوںروپے کے ترقیاتی منصوبے بربادی کی نظر ہوگئے۔پارلیمانی اجلاس میں اتحاد گروپ کے لیڈر عطا مانیکا اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کے لیڈر احمد محمود نے بھی مواخذے کی تحریک پرصدر کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا۔ سینئر وزیر راجہ ریاض نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف کا صدر رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں ۔ اجلاس سے پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر و سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے بھی خطاب کیا۔اجلاس میں وزیرقانون راناثناء اللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو بھی متفقہ طور پر منظور کیاگیا جس میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے پر خراج تحسین پیش کیاگیا اور ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے عزم کا اعادہ کیاگیا۔ جبکہ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے بھی کہا ہے کہ صدر کو گزشتہ دو ماہ سے محفوظ راستہ دینے کی پیشکش کر رہے تھے اب محفوظ راستے کا فیصلہ اتحادی جماعتیں متفقہ طور پر ہی کریں گی۔ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک جماعتیں متفقہ طور پر ہی کریں گی، صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک 350 سے زائد ممبران کی حمایت حاصل کریں گے پارلیمنٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت انگاروں کی بیچ ہے اس کو چلانا آسان کام نہیں ہے صدر پرویز مشرف کی گزشتہ 8 سال کی پالیسیوں نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہم نے جو صدر کے مواخذے کی بات کی ہے یہ ایک جمہوری طریقہ ہے اور اس کو بھی حق ہے کہ وہ اپنا جواب دے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے مطابق اقدام کرنا حالات پر منحصرہے اب تو پارلیمنٹ کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو آئینی ترامیم تیار کی ہیں اس میں صدر سے 58 ٹو بی کا اختیار لے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو دو ماہ سے محفوظ راستہ دینے کی پیشکش کر رہے تھے لیکن اب تو محفوظ راستے کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کو ہی کرنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی جمہوری طور پر عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہو کر آیا ہے وہ ہمارا ساتھ دے گا ہمارے پاس بہت اچھی اکثریت ہے مواخذے کی تحریک میں ہمارے ساتھ 350 سے زائد اراکین ہوں گے۔جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ آصف علی زرداری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کچھ حساس نوعیت کے معاملات پر عمل درآمد کرانا چاہتی تھی اختلاف کرنے پر اب انہیں عہدے سے ہٹا نا چاہتی ہے ایک نجی ٹیلی ویڑن کے مطابق صدر پرویز مشرف نے مسلم لیگ قاف کے ممبران پارلیمنٹ شیخ وقاص اکرم امیر مقام اور ماروی میمن سے راولپنڈی کیمپ آفس میں ملاقات کے دوران کیا ۔ صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیکورٹی ایجنسیوں کے بارے میں حساس ایجنسیوں اور آئی ایس آئی سمیت اہم عہدوں پرا پنے لوگ لاناچاہتی تھی۔ پیپلز پارٹی کشمیر کے معاملے پرروایتی اور قومی امنگوں کے برعکس پالیسی پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے اس بارے میں آئندہ دو تین روز میں اہم واقعات سامنے آئیں گے ان کے پاس دستاویزی ثبوت ہیں جنہیں وہ قوم کے سامنے لائیں گے ۔ صدر مشرف نے کہا کہ آصف علی زرداری کی طرف سے لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں وہ مقابلہ کریں گے اور یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوں گے۔ صدر مشرف نے تعاون کرنے پر ممبران پارلیمنٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف مستعفی ہونے والی بات بھول جائیں اب ان کا مواخذہ ہو گا ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد صدر کے خلاف چارج شیٹ تیار کر رہا ہے اور تمام پارلیمنٹیرین اس کے لئے تیار ہیں ۔ محفوظ راستہ دینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محفوظ راستہ دینے کا فیصلہ قوم کرے گی اور مشرف مستعفی ہونے والی بات بھول کر مواخذے کے لئے تیار ہوں ۔ پاکستان کے عوام کا خیال ہے کہ پرویز مشرف کی کشتی اقتدار ڈبونے والی ہے اب اسے کوئی بچانے نہیں آئے گا پرویز مشرف نے اقتدار کو خوب انجوائے کر لیا اب مواخذہ کا سامنا کرنا ہو گا صدر کا مواخذہ پارلیمنٹ کا جمہوری حق ہے صدر پرویز مشرف نے مواخذے اور ججز کی بحالی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے مثبت کردار پر پاکستان کی پوری قوم ان کی مشکور ہے۔ پارلیمنٹ خود مختار ادارے کی حیثیت سے صدر سے مواخذے کا حق رکھتی ہے عوام کو جلد پاکستان کو جمہوریت کے حوالے سے خوشخبری ملنی چا ہیے صدر کا مواخذہ پارلیمنٹ کا جمہوری حق ہے ملک میں جمہوریت کے لیے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران سیاسی قیادت اور عوام نے بھاری قیمت ادا کی ہے صدر پرویز مشرف پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں بصورت دیگر پارلیمنٹ خود مختار ادارہ کی حیثیت سے ان کے مواخذے کا حق رکھتی ہے جس طرح وزیر اعظم یا وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں وہ اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کر سکتا اسی طرح جب صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک آئے گی تو وہ بھی آئین کی شق 58ٹو بی کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل نہیں کر سکتے حکمران اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں سابق صدر غلام اسحق خان اور فاروق لغاری نے 58 ٹو بی کا استعمال کیا وہ مواخذہ تحریک کے اعلان کے بعد 58 ٹو بی کا رنفرنس کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور مذہبی آئین انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے اگروہ 58 ٹو بی کا غلط استعمال کریں گے تو پرویز مشرف کو سخت عوامی و قانونی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا حکمران اتحاد کو صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذہ کی تحریک کی کامیابی کے لیے دو تہائی ممبران کی ضرورت ہے اور حکمران اتحاد کے پاس دو تہائی سے کہیں زیادہ نمبر گیم ہے اور حکمران اتحاد کو روز بروز نمبر گیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے بعد چھوٹے صوبے سے بڑی سیاسی شخصیت کو صدر منتخب کیا جائے گا پرویز مشرف پر آرٹیکل سکس کا اطلاق ہوگا مواخذے کا مرحلہ اگست میں جبکہ اگست کے اوائل میں ججز بحال ہو جائیں گے حکمران اتحاد میںاس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غیر متنازعہ اور پوری قوم کے لئے قابل قبول سیاسی شخصیت کو آئندہ کا صدر منتخب کیا جائے گا مقامی تنظیموں کی رائے کے بغیر کسی جماعت کے رکن کو پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل نہیں کیا جائے گااس لئے یہی شرط ہو گی کہ یہ رکن استعفیٰ دے کر دوبارہ اپنے حلقہ کے عوام سے مینڈیٹ حاصل کرے تا کہ لوٹا ازم کی حوصلہ شکنی ہو۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment