
ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ حکمران اتحاد معزول ججوں کو آج یا کل بحال کر دے۔ تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے اور مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل پر قابو پایا جا سکے پیپلزپارٹی کے نزدیک چیئرمین آصف علی زرداری نے وعدہ کیا تھا کہ پرویز مشرف کے جانے کے بعد تمام معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا امید ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔ حکمران اتحاد کی کٹمنٹ تھی کہ جیسے ہی صدر پرویز مشرف اپنا عہدہ صدارت چھوڑیں تاہم معزول ججوں کو فوری طور پر بحال کر دیں گے سابق صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے حوالے سے پوری قوم ان کا ٹرائیل چاہتی ہے تو یہ ضرور ہونا چاہئے ۔ حکومت کااصل امتحان اب شروع ہوا ہے کیونکہ عوامی مسائل کو حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ملک بھر کے عوام کا مطا لبہ ہے کہ جس آمر نے گزشتہ نو سالوں تک ملک اور عوام پر ناجائز قبضہ کیا اور منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا اس کو کس طرح محفوظ راستہ دیاجاسکتاہے۔ جس نے ملک پر ناجائز قبضہ کرکے اس کو تباہ و برباد کیا اس کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے ۔ نیا صدر تمام اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہونا چا ہیے جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو ۔ جبکہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ حکومت کا تیار کردہ آئینی پیکج غلطیوں کا منبع اور شرمناک ڈاکومنٹ ہے جسے دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی اہلیت ایک سول جج سے زیادہ نہیں ہے۔اگر آئینی پیکج منظور ہوا تو پھر عدلیہ کبھی بھی آزاد نہیں ہوسکے گی۔ان خیالات کا اظہارجسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے زیر اہتمام ” عدلیہ کی بحالی میں عوام کا کردار “ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے ممبر پاکستان بار حامد خان ، حافظ عبدالرحمن انصاری ، سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جنرل امین جاوید چودھری ، لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انور کمال ، احمد اویس ، اظہر صدیق اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ کالے کوٹ نے انقلاب برپا کردیا ہے اور یہ انقلاب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نظام جزا و سزا قائم نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی آرڈیننس کے ذریعے ججوں کو بحال کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کے 3نومبر کے تمام غیر آئینی اقدامات کو درست تسلیم کرلیا ہے ۔وکلاءآرڈیننس یا آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی بحالی کو قبول نہیں کریں گے ۔ججوں کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جائے۔ اور جو جج 2نومبر کو موجود تھے بعد میں انہوںنے پی سی او پر حلف اٹھا لیا ہے ان کے بارے میں ہم فی الوقت کچھ نہیں کہیں گے تاہم جو 3نومبر کے بعد جج تعینات ہوئے انہیں چاہیے کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کے بعد ازخود عدالتیں چھوڑ کر گھروں کو چلے جائیں ورنہ ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوگا کہ بعد میں انہیں افسوس ہوگا کہ ہم خود ہی کیوں نہیں چلے گئے۔ وکلاءتحریک معزول ججوں کی بحال کے بعد بھی اس وقت تک جاری رہے گی جس تک ملک میں جزا و سزا نظام قائم نہیں ہوجاتا۔ممبر پاکستان بار حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف کے لئے یہ کوئی سزا نہیں کہ وہ ملک سے بھاگ جائے اور کہیں باہر جاکر عیش کی زندگی گزارے۔ہم اسے چین کی زندگی نہیں جینے دیں گے اس نے ہزاروں ماو¿ ں کے بچوں کو اغواءکرکے فروخت کیا، لاکھوں لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی ، باضمیر ججوں کو گھر بھیجا، آئین توڑا، ایسے شخص کو کوئی حق نہیں کہ وہ آرام سے زندگی گزارے۔ اس کا ٹرائل ہوناچاہیے اور اگر ٹرائل نہ کیا گیا تو ہمارا یہ قومی فرض ہوگا کہ ہم اسے چین کی نیند نہ سونے دیں۔ وکلاءمائنس ون یا ٹو کے کسی فارمولے کو قبول نہیں کریں گے اب قوم بھی اصولوں پر سمجھوتے کیلئے تیار نہیں ہیں۔سب سے پہلے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال ہونگے پھر دوسرے جج بحال ہونگے۔اور جو ضمیر فروش عدالتوں میں بیٹھے ہیں انہیں واپس جانا ہوگا۔ممبر پاکستان بار حافظ عبدالرحمن انصاری نے کہا کہ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر پوری قوم شکرانے کے نوافل ادا کررہی ہے اب قوم چاہتی ہے کہ فوری طور پر معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے اتنے سنگین جرائم کئے ہیں کہ اسے تو محفوظ راستہ دینا بھی جرم ہوگا ۔مشرف کو ملک سے بھگانے کی بجائے اس کا ٹرائل کیا جائے اور کڑی سزا دی جائے ۔سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری جنرل امین جاوید چودھری نے کہا کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق اب عدلیہ کو 2نومبر کی پوزیشن پر بحال کرے۔انہوں نے کہاکہ وکلاء برادری کا متفقہ مطالبہ ہے کہ پرویز مشرف کا ٹرائل کیا جائے اور اس کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔ جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے چیئرمین خالد خواجہ نے مستعفی صدر کا نام ای سی ایل میں شامل کرانے کے لئے پٹیشن دائر کی ۔پٹیشن میں خالد خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پرویز مشرف ، لال مسجد آپریشن اور لوگوں کے قتل عام میں ملوث ہیں ، اس لیئے انہیں بیرون ملک جانے سے روکا جائے ۔پٹیشن دائر کیئے جانے کے موقع پر لاپتہ افراد کے لواحقین اور لال مسجد آپریشن کے متاثرین وفاقی ہائی کورٹ کے باہر جمع تھے اور انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی بھی کی ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اور لاپتہ افراد کے لواحقین اسلام آباد کے تھانے میں پرویز مشرف ‘ آفتاب احمد خان شیر پاو¿ ‘ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کروانے کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں ۔امریکا کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاءرچرڈ باوچر نے سبکدوش صدر جنرل ( ر ) پرویز مشرف پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے یہ فیصلہ خود کیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے ۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہم نے وزیر اعظم گیلانی کے دورے میںیہ بات واضح کر دی تھی کہ ہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی اہم ہے اور ہم نئی حکومت کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کرناچاہتے ہیں۔ ” وائس آف امریکا “ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر مشرف کے استعفےٰ کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر ہوسکتا ہے؟رچرڈ باو¿چر کا کہنا تھا کہ جیسا کہ وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ صدر مشرف ہمیشہ سے ہمارے اچھے دوست رہے ہیں اور انھوں نے پاکستان کے لیے بہت مشکل اور اسٹریٹیجک فیصلے کیے ہیں۔ لیکن ہم 18 فروری کے بعد بننے والی حکومت کا بھی احترام کرتے ہیں اور ہمیں احساس ہے کہ ان کا اپنا پروگرام ہے جس پر انھیں عمل کرنا ہے۔ ہمارے تعلقات پاکستان کے ساتھ بدستور قریبی رہیں گے۔ امریکی معاون وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ عام تاثر یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں صدر مشرف پاکستانی عوام میں غیرمقبول ہوئے۔ کیا امریکہ کی more doپالیسی سے صدر مشرف کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی باریک بینی میرے خیال سے مورخ پر چھوڑ دینی چاہیے۔ لیکن گیارہ ستمبر کے بعد صدر مشرف نے یہ فیصلہ خود کیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے اور وہ دہشت گردوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے۔ اور انھوں نے اس سلسلے میں پالیسیز پر عملدرامد کیا۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ انھوں نے ایسا کیا۔ نئی حکومت نے بھی یہ بات بالکل واضح کی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ ان کی اپنی جنگ ہے اور وہ اسے لڑنا چاہتے ہیں۔ ہم نے وزیرِ اعظم گیلانی کے دورے میں یہ بات واضح کردی تھی کہ ہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی اہم ہے اور ہم نئی حکومت کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ معاون وزیر خارجہ نے ایک اور سوال پر کہ کیا امریکہ نے صدر مشرف کی اتنے طویل عرصے تک حمائت سے کوئی سبق سیکھا ہے اور کیا اب آ پ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی فردِ واحد کی حمائت کے بجائے جمہوری عمل کو سپورٹ کرنا زیادہ بہترامریکی پالیسی ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے لیے بہت کوششیں کیں اور ہماری کوشش تھی کہ پاکستان میں شفاف انتخابات ہوں اور ہمیں خوشی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ ہم نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کیااور پاکستان میں شفاف انتخابات کے انعقاد میں مدد کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں یہ تاثر عام کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا چاہیے کہ ہمارے تعلقات پاکستانی عوام سے ہیں۔ اس وقت ہم معیشت، جمہوریت، سیکورٹی اور سماجی شعبوں میں نئی حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور یہ ان کوششوں کا حصہ ہے جو ہم پاکستان کو مستحکم بنانے کے لیے کررہے ہیں۔ جب معاون وزیر خارجہ سے یہ دریافت کیا گیا کہ صدر مشرف کے مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ کیا وہ امریکہ آسکتے ہیں یا کسی اور ملک منتقل ہونے میں امریکہ ان کی مدد کررہا ہے۔ تو ان کا کہناتھاکہ صدر مشرف ہمارے دوست ہیں،وہ ایک آزاد شہری ہیں اور وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو سبکدوش صدر مشرف کی مستقبل میں کہیں بھی رہائش کے لیے ہم کوئی کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ان سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست اور انسانی حقوق کی بہت سی تنظیموں سمیت میڈیا بھی امریکہ پر یہ تنقید کررہا ہے کہ پر ڈاکٹر صدیقی کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ امریکی حکومت کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے۔ معاون وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر نے کہا کہ میں لوگوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ الزامات لگانے سے پہلے حقائق کا جائزہ لیں۔ بے بنیاد الزامات لگانا بہت آسان ہے لیکن حقیقت یہ ہے ہمیں یہ خاتون 17 جولائی کو ملیں۔ اس سے پہلے وہ کہاں تھیں اس بارے میں ہمیں کچھ نہیں معلوم لیکن وہ یقینی طور پر ہماری حراست میں نہیں تھیں۔ تو حقیت یہ ہے کہ ہم نے عافیہ صدیقی کو 17 جولائی کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہی تھیں اور جب انھیں حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جارہی تھی تو انھوں نے ہمارے ایک آفیسر کی بندوق چھین کر اس پر فائر کردیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔ میں پھر یہ کہنا چاہوں گا کہ الزامات لگانے سے پہلے حقائق دیکھ لینے چاہیں۔ ہم نے انھیں 17 جولائی کو گرفتار کیا۔ انھوں نے ہمارے ایک آفیسر کو مارنے کی کوشش کی اور اب ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔ ان سے اگلا سوال تھا کہ تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر صدیقی کے اتنے عرصے تک غائب رہنے سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بتانا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عرصے میں کہاں تھیں ،ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ رچرڈ باو¿چر سے آئی ایس آئی کے بارے میں پوچھا گیا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ہیں لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت پاکستان خصوصاً آئی ایس آئی پر پوری طرح بھروسہ نہیں کرتی اور یہ سمجھتی ہے کہ ان کے طالبان سے رابطے ہیں۔ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادیوں کے بارے میں اس قسم کی بداعتمادی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹنرز کے ساتھ کام کرنے میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہم پاکستان کی حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون کررہے ہیں تاکہ ملک کے ادارے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان سب کو تعاون حاصل ہوسکے۔ اس میں صرف وزیرِ اعظم ہی نہیں بلکہ آرمی اور ایجنسیز ، صوبائی اور مقامی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ ان سب سے تعاون کے بعد ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ موثر طور پر لڑی جاسکتی ہے۔ اور ان ہی امور پر ہماری پاکستانی حکومت سے بات چیت اور مشاورت ہورہی ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں پاکستان کی سرحدی حدود، اسکی آزادی اور سالمیت کا احترام ہے۔ پاکستان کو مضبوط کرنا پاکستانی حکومت کا کام ہے ہم اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔اے پی ایس،اسلام آباد

No comments:
Post a Comment