
جنرل (ر) پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدامات کو ختم اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔ پرویز مشرف تقریباً ایک دہائی تک انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتے رہے، وہ دور بالآخر ان کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچا مشرف کے غیر قانونی اقدامات پر ان کا احتساب کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو ملک میں انسانی حقوق اور قومی سلامتی کو فروغ دینا چاہیے ۔عوام نے امید کااظہار کیا ہے کہ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام پر مبنی معاشرے کے قیام کی طرف سفر تیزی سے طے کیا جائیگا۔ ایک تازہ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں کی دو تہائی تعداد نے پرویزمشرف کے مستعفی ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور آئین توڑنے پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی حمایت کی ہے۔ بین الاقوامی ادارے گیلپ پاکستان کے ایک سروے میں 65 فیصد پاکستانی شہریوں نے آئین توڑنے پر سابق صدر کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی حمایت کی ہے فیصد شہریوں نے انکے اس مشہور دعوے ”سب سے پہلے پاکستان “ کے تحت استعفیٰ دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر استعفیٰ دیا ہے۔ 63 فیصد پاکستانی شہریوں نے صدر کے مستعفی ہونے پر خوشی اور 15 فیصد نے افسوس کا اظہار کیا جبکہ 20 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس اقدام پر نہ تو کوئی خوشی ہوئی اور نہ ہی افسوس ہوا ہے۔ 49 فیصد افراد پرویز مشرف کو سخت سے سخت تر سزا دینے کے حق میں ہیں جبکہ صرف 23 اسکی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستان میں کم از کم کسی ایک آمر کو تو سزا ملنی چاہیے تاکہ سبق ملے اور آئندہ کوئی جمہوری حکومت کو ختم کر کے اسکا تختہ نہ الٹے۔ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات قائم کرنے کی کوششیں دم توڑ گئی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے میں اب کافی وقت درکار ہوگا۔ اسرائیلی روزنامہ ”یروشلم پوسٹ“ نے منگل کو اپنی اشاعت میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اس سال جنوری میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک سے فرانس کے ایک ہوٹل میں خفیہ ملاقات کی تھی، جہاں دونوں مقیم تھے۔ اخبار کے مطابق پرویز مشرف تین سال قبل اس وقت شہ سرخیوں میں آگئے تھے جب ستمبر 2005ئمیں انہوں نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماو¿ں کے استقبالیہ میں اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون سے مصافحہ کیا تھا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی صدر پرویز مشرف کے حیران کن استعفے نے پاکستان اور اسرائیل کے مابین مستقبل قریب میں تعلقات بہتر بنانے کی تمام امیدوں کو ختم کردیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی اسلامی مملکت کے ساتھ تعلقات کی امید فی الوقت ختم ہوگئی ہے۔ اسرائیلی اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ 2005ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور ان کے اسرائیلی ہم منصب سلوان شالوم کے درمیان ترکی میں تاریخی ملاقات کا اہتمام بھی پرویز مشرف نے کرایا تھا‘ تاہم اس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو وسعت دینے کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اسرائیل نے 2007ء میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین تنازع کو حل کرنے کیلئے مشرف کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ مستعفی صدر پرویز مشرف نے اسرائیل‘ فلسطین تنازع حل کرنے کیلئے ثالثی کی خاطر اسرائیل جانے کی بھی پیشکش کی تھی۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر امریکہ مشرف کو بچانا بھی چاہتا تو یہ اس کیلئے ناممکن تھا بلکہ اس سے غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو اپنے دور حکومت میں کئے گئے تمام اقدامات کے بارے میں ہر طرح کے دیوانی اور فوجداری مقدمات اور جوابدہی سے تحفظ حاصل ہوگا اور اس ضمانت کے باعث ہی پرویز مشرف کی جانب سے استعفیٰ دینے میں پیش رفت ہوئی۔ ادھر امریکی ذرائع ابلاغ پرویز مشرف کے استعفیٰ اور اس کے بعد پاکستان کی صورتحال کے بارے میں تجزیوں اور تبصروں میں مصروف ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کے سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد کئی سال تک پرویز مشرف کا سب سے بڑا حامی امریکی صدر جارج بش تھے لیکن جونہی گذشتہ چند ماہ سے مشرف کی سیاسی مقبولیت میں کمی دیکھی تو فاصلے پیدا کرلئے۔ جب امریکیوں کو پتہ چلا کہ پرویز مشرف ایک بار پھر اسمبلی توڑنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی سوچ رہے ہیں تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے پاکستانی اعلیٰ فوجی افسروں سے رابطہ کرکے واضح کردیا کہ امریکہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتا۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بھی اس امریکی اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ موجودہ حکمران مخلوط حکومت کے بارے میں بھی کوئی خوش فہمی نہیں ہے بلکہ بعض امریکی پس پردہ اندیشوں اور خدشات کا اظہار کررہے ہیں کہ یہ اتحادی حکمراں سیاسی افراتفری اور اختلافات کو علیحدہ رکھ کر پاکستان کو درپیش معاشی اور دیگر چیلنجوں کا سامنا کرنے کا کام انجام دیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ یونیفارم اتارنے سے مشرف کی سیاسی قوت میں کمزوری آئی اور پھر آتی گئی‘ نئی منتخب حکومت کے حلف اٹھاتے ہی اس میں مزید اضافہ ہوگیا بالآخر انہیں صدارت چھوڑ کر رخصت ہونا پڑا۔ عوام نے یہ بھی مطا لبہ کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینا جرم ہوگا، ان کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے اور معزول ججوں کو بحال کیا جائے ۔ پرویز مشرف پاکستان سے بچ کر نکل گئے تو وہ ملک وقوم کیخلاف غیروں کیلئے سلطانی گواہ کا کردا ر ادا کر سکتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے بصورت دیگر پھر کوئی مہم جو پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دے گا، سابق صدر کو گارڈ آف آنر پیش کرنے پر قوم کو پچھتاوا ہے ۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment