

تحریر : محمد رفیق اے پی ایس، اسلام آباد
حکمران اتحاد کے قول و فعل کے تضاد،عوام سے بار بار جھوٹ بولنے ،وعدے پر وعدہ اور چکر پر چکرکی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت کا پیما نہ لبریز ہو گیا ہواہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر معزول ججز کو بحال نہ کر نے کی وجہ منظر عام پر آنے سے ہما ری نا م نہاد سیا سی قیادت کے ساتھ سا تھ ان عا لمی طا قتوں کا چہرہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے جو انھوں نے منا فقت کا لبادہ پہن کر دہرا معیار اپنا یا ہوا ہے۔ جن قو توں نے مشرف پر دبائو ڈال کر اس کو استعفی دینے پر مجبور کیا ۔ انہی طا قتوں نے مو جو دہ حکمران اتحاد سے گا ر نٹی لی ہو ئی ہے۔ کہ آپ نے حکومتی امور کو مشرف فا ر مو لے کے تحت ہی چلا نا ہے۔ اور مو جودہ حکومت یعنی حکمران اتحاد ان طا قتوں سے اپنے وعدے کی پا س داری کر تے ہو ئے اپنے مو قف پر قا ئم ہے۔ اور پر ویز مشرف فا ر مو لے کو تیز ترین رفتار سے آگے بڑھا نے میں انھوں نے دن رات ایک کیا ہوا ہے جس میں فا ٹا، وزیر ستان اور وانا میں امریکی مزائلوں کی با رش، پا کستانیوں کا قتل عام، اور لا قا نونیت کا بازار گرم رکھنا پاکستان کے عوام پر ہر طرف سے انصاف کے دروازے بند کر دینا ہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر ججزکو بحال نہ کر نے کی اصل وجہ ہے۔ کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری کو بحال کر دینے سے پا کستان کے سو لہ کروڑ عوام پر مسلط نام نہاد سابقہ و موجودہ قیادت کا وہ اصل مکرہ چہرہ بے نقاب ہو جا تا ہے کہ وطن عزیز میں چند ڈالرز کے عوض پا کستانیوں کے قتل اور ان کے اغوا کیلئے آپ کر ائے کے قا تل اور غنڈے کیوں بنے ہو ئے ہیں؟ ہماری نام نہاد قیادت کو یہ خوف ہے کہ جن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے انھوں نے تو چودھری افتخار محمد چودھری سے رجوع کرنا ہے اور افتخار محمد چود ھری نے حکومت سے اپنے عوام پر اس غیر آئینی اقدام پر جواب ما نگنا ہے اور اس تنا طر میں افتخار محمد چو دھری کے سا منے جوابدہ نہ ہو نے اور اس غیر آئینی اقدام سے بچنے کیلئے ہماری اس نام نہاد قیادت کے اندر کا یہ چور بولتا ہے کہ چو دھری افتخار کو بحال نہ کیا جا ئے۔ سابقہ فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ کیو نکہ اس نے بھی جو ایک خونخوار امریکی کتے والا کر دار ادا کیا ہے اس کے اندر بھی یہی خوف تھا کہ کہیں قا نون کی گرفت میں نہ ا جا ئوں۔ سا بقہ و موجودہ قیادت معزول ججز کو یہ کہہ کر اعتماد میں لے سکتی تھی کہ ملک کے معا شی و دفاعی استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک مصنوعی د ہشت گر دی کی جنگ میں میں ڈالر کے حصول کیلئے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہذا ملکی سلامتی کا تقا ضا ہے کہ ملک ہوگا تو باقی سب امور اور معا ملات ہونگے تو یقینا صا حب بصیرت معزول ججز ان کی راہ میں ر کاوٹ نہ بنتے لیکن یہ بھی سا بقہ و مو جو دہ قیادت نے ضروری اس لیئے نہیں سمجھا ۔ کہ ملکی سلا متی کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک و قوم کو عدم استحکام کر نے کا مسئلہ تھا اور اس کے عوض ملنے والی خیرات کا کسی کو حساب کتاب بھی نہ دینا پڑ ے جیسا کہ اس حوالے سے میڈیا میں یہ با تیں آچکی ہیں کہ جس میں امریکی احکام پا کستان کے ان حکمرانوں پر یہ الزام تراشی کر چکے ہیں کہ پا کستان کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دی جا نے والی امداد کے حساب کتاب میں گڑ بڑ ہے۔ موجودہ حکومت اور پا رلیمنٹ میں بیٹھے حکومتی و مخالف اراکین نے ابھی تک جس کسی ایک امور پر اتفاق کیا ہے۔ وہ انھوں نے اپنی سا بقہ کر پشن چھپانے اور آ ئندہ لوٹ مار کر نے کے راستے کو ہموار کر نے کیلئے ا حتساب بیورو کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اگرچہ احتساب بیورو کی بنیاد سا بقہ حکمرانوں کی بد نیتی پر مبنی تھی۔ ایک دوسرے کو سیاسی بلیک میل کر نے کیلئے احتساب بیورو کو استعمال کیا گیا۔ حکمرانوں کی یہ گٹھیا روش جو ایک قو می ادارے کی بد نا می کا با عث بنی۔ معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے عوام پر مسلط سیا سی قیا دت کی گھٹیا ذ ہنیت کا آپ اندازہ اس با ت سے لگا سکتے ہیں کہ افتخار محمد چو دھری سو مو ٹو ایکشن نہ لینے کا وعدہ کر تے تو شا ید بات بن جا تی۔ سو مو ٹو ایکشن کس کا لیا جا تا ہے جس کیلئے انصاف کے با قی دروازے بند کر دیے جا تے ہیں ۔ ما ضی میں افتحار محمد چودھری نے صرف وہ سو موٹو ایکشن لئے جن کمزور افراد اور خا ندانوں پر با ثر افراد کی طرف سے ظلم و تشدد کیا گیا۔ اس کے علاوہ بے گناہ جو پا کستانیوں کو چند ڈالروں کے عوض فروخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ سا بقہ حکومت نے جس بے دردی سے قو می خزانے کو لو ٹا ان قو می مجر موں نے افتخار محمد چو دھری کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہو ئے اسے اپنے منصب سے ہٹا نا ضروری سمجھا۔ قصہ مختصر ہما رے سا بقہ و مو جودہ حکومت و سیا سی قیادت کی نیتوں میں اتنا زیا دہ فتور ہے کہ اب عوام کو بے و قوف بنا نے اور ان کے جذبات سے کھیلنے کا حکمرانوں کا بھا نڈہ پھوٹ گیا ہے کیونکہ وہ یہی چا ہتے ہیں کہ ان کی لو ٹ مار اور کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے رستے میں کسی قسم کا کو ئی سپیڈ بر یکر نہ آئے۔ وطن عزیز میں قیادت کے فقدان کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ پو رے ملک کے عوام کے جذبات سے کھیلا جا تا ہے کہ ہما را میزائل پروگرام دنیا کا بہترین نظا م ہے اور ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا جب ایک سفارت کار اغوا ہو جا تا ہے تو ہم اس کا تاوان دے کر اسے آزاد کرواتے ہیں۔ ایران پر میزائل کیوں نہیں گرتے، جنوبی کو ریا پر مزائل حملے نہیں ہو تے کیو نکہ ان کی قیادت میں اتنی غیرت ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات و احسا سات کے سا تھ ساتھ اپنے ملک کے وقار کا خیال رکھنا جا نتے ہیں۔ پا کستان ایک اسلامی جمہوریہ جو سو لہ کروڑ عوام کا ملک ہے اس کی بدنامی کے ذمہ دار اس پر زبر دستی مسلط کئے گئے سا مراج کے ایجنٹ حکمران ہیں۔ شوکت عزیز کے ایک واقعہ کو ہی لے لیجئے کہ شوکت عزیز جو پا رلیمنٹ کے اجلاس میں بھی بیٹھتا تھا ہما ری پا رلیمنٹ کی عمارت پر کلمہ شریف لکھا ہوا ہے جہاں اپنے دفتر میں بیٹھتا تھا وہاں اس کے سر کے اوپر با نی پا کستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کی تصویر لگی ہو ئی ہے اور اسکی یک انتہائی گٹھیا اور شر مناک بات یہ ہے کہ جب اسے ایک امریکی دورے کے دوران بش کے اوول آفس میں جا نے کا اتفاق ہوا تو اس وقت بش کی میز پر اس کا ایک پا لتو کتا بیٹھا ہوا تھا تو اس مو قع پر سو لہ کروڑ عوام اور ایک اسلامی ملک کا وزیر اعظم بش کے کتے کا منہ چو متا ہے۔ اور اسے پیار کرتا ہے۔ اس طرح کے حکمران ہم پر مسلط ہیں یعنی ملک و قوم اپنے ان لیڈروں سے کس خیر کی تو قع کر سکتی ہے جو بش کے کتوں کو Kiss اور ان کے جھوٹے گلا سوں میں شراب پی کر آ جا تے ہیں وہ ملک کو کیا استحکام دیں گے۔بات ہو رہی تھی معزول ججز کی بحالی پر تو اس ضمن میں یہی گذارش ہے عوام پر مسلط بد نیت اور بد دیانت جعلی قیادت یہی چا ہتی ہے کہ اس کے کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے خلاف پا کستان کا کو ئی بھی شہری رکا وٹ نہ بنے۔ جس ملک میں کسی با اثر شخص کے خلاف ایف آئی تک درج نہ ہو سکے وہاں انصاف کی تو قع کیسے کی جا سکتی ہے پا کستان میں طا قتور تو سزا سے بچ جا تا ہے لیکن عام آدمی کے خلاف جھوٹے مقدمات کی لا ئن لگا دی جا تی ہے۔ لیکن عوام پر مسلط جرائم پیشہ جعلی قیادت یہ بات بھی اپنے پلے با ندھ لے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری اب ایک کر دار کا نام ہے جو پا کستان کے عوام کے دل و دما غ ُ ُ پر اپنے نقش گہرے چھوڑ گیا ہے اور انھیں بیدار کر گیا ہے۔ اب پا کستان کا مستقبل پا کستان کے عوام کی کو ششوں اور ا للہ کی مدد سے افتخار پا کستان ہوگا۔ اب قیادت سمیت تمام اعلی حکومتی حکام کا مستقبل بھی افتخار چو دھری کے عزم کو عملی طور پر اپنا نے سے مشروط ہو گیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر یں گے تو عوام اب ان کی دکانداری چلنے نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ آپ سا ٹھ سا لہ دور کا جا ئزہ لیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جب تک ہمارا الیکشن کمیشن اور سپریم کو رٹ آزاد نہیں ہوتا۔ وہ نتا ئج حا صل نہیں ہو سکتے جن کیلئے مسلما نوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی ضرورت پیش آئی تھی ۔ اس کے علا وہ ہمارے ہا ں ایک اور جو بہت بڑا المیہ ہے وہ یہ کہ ایک بد عنوان اور منا فق معاشرے میں کسی انقلاب کی تو قع نہیں کی جا سکتی۔ لہذا ضروی ہے کہ ایسی اصلا حات کے ذریعے تبدیلی لا ئی جا ئے کہ جس سے اس ملک کے اصل حقدارعوام اور دیانت دار افراد کی رسائی کو ایوانوں تک ممکن بنا یا جا سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے۔ کہ الیکشن کمیشن صرف ان شہریوں کا ووٹ کا اندراج کر نے اور ووٹ دینے کا اہل قرار دے جو پا کستان کا شہری کم از کم میٹرک پاس ہو اور امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے ووٹ حا صل کر نے کا کم از کم ہدف کی شرط بھی عا ئد کر دی جا ئے اس سے ایک وقت میں کئی ایک فوائد حا صل ہو نگے۔ ایک تو یہ عوام کو یر غمال بنا نے والا جا گیر دار جس کے ووٹر اس کی اپنی نجی جیلوں میں پڑے ہو تے ہیں۔اس کا خا تمہ ہو جا ئے گا جبکہ دوسری بات وہی جا گیر دار جو اپنے علا قوں میں سکول بنا نے اور تعلیم کو عام نہین کر نے دیتا کہ کہیں میرے ووٹر میں شعور نہ آ جا ئے۔ وہ بھی اقتدار کے حصول کیلئے اپنے علاقوں میں نا خواندگی کے خا تمے اور خواندگی کی شرح بڑھا نے کیلئے ہا تھ پا ئوں ما رنا شروع کر دے گا۔ جبکہ تیسری بات جمہوریت کی وہ غلط تشریح بھی ختم ہو جا ئے گی جس میں ایک لا کھ آدمی اگر ایک کتے کو ا نسان کہنا شروع کر دیں تو اس کتے کو با قی افراد کا انسان تسلیم کرنا مجبوری بن جا تا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان ایوانوں میں بیٹھے موجودہ ضمیر فروش لوگ یہ کا م کر نے دیں گے جو عوام کیلئے انصاف کے دروازے پہلے ہی بند کر کے بیٹھے ہو ئے ہیں۔ یہ مسئلہ اللہ پر چھوڑ دیا جا ئے اور عوام اس دن کا انتظار کر یں جب خدا اس ملک اور عوام کی خا طر اس کی بھاگ دوڑ کسی ایسے شخص کے ہا تھ دے ۔ جو خا لصتنا پا کستانی ہو اور ہر وہ کا م کر گزرے جس کے حصول کیلئے پا کستان حا صل کیا گیا تھا۔ اگرچہ ججز کی بحالی کے سلسلے میں اتحادی راہنما ایک بار پھر نئی ڈیڈ لائن پر متفق ہو گئے ہیں جمعہ کے روز مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرافٹ کمیٹی کی جانب سے تیار کیا جانے والا مسودہ پیر کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اس پر دو دن بحث کی جائے اور بدھ کو ججوں کی بحالی کا دن ہونا چاہیے ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت سے اتحاد قائم رہے اور مشرف کا استعفیٰ بھی حکمران اتحاد کی مضبوطی کا نتیجہ ہے ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اور اسفند یارولی خان نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ججوں کی بحالی کے لیے تیار کئے جانے والے مسودے پر متفق ہیں واضح رہے کہ 18اگست کو صدر پرویز مشرف کے استعفےٰ کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری میں معاہدہ ہوا تھا کہ ججوں کو 24 گھنٹے کے اندر بحال کیا جائے گا لیکن ڈیڈ لائن میں 72 گھنٹے کی توسیع کے باوجود بھی جج بحال نہیں ہو سکے۔مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اگر گذشتہ جمعہ تک معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکمراں اتحاد کا ساتھ چھوڑ دے گی۔’ ہم حکومت گرانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا‘۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججوں کی معزولی نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ صدر مشرف کے مواخذے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ’ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اب ان کی باری ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے معاملے میں ہماری حمایت کریں‘۔ نواز شریف کے خیال میں ایک شخص جس نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو، آئین کو بگاڑا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو، اسے عوام کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہیئیں۔نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ’میں بدلے پر یقین رکھنے والا شخص نہیں۔ اگرچہ انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن میں ان سے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہتا۔ صدر مشرف کے استعفٰی کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا اجلاس دو دن جاری رہنے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچے بغیر منگل کو ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کے پہلے دن وزیرِ قانون اور پی پی پی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ یہ تین روزہ مہلت بھی گذشتہ جمعہ کو ختم ہو گئی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے استعفیٰ لینے اور ان کے پرامن طریقے سے جانے میں متحدہ قومی موومنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے الطاف حسین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کی سیاسی سرگرمیوں میں الطاف حسین نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے فون پر الطاف حسین سے بات بھی کی ہے ۔آصف علی زرداری نے اپنی قائد بینظیر بھٹو کا کی بات دوہرائی اور کہا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہوتا ہے‘ اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ جمہوریت ہی پر امن طریقے سے تبدیلی لاتی ہے۔ ادھر گزشتہ بدھ کو آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے بعض سینئر رہنماو¿ں سے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ججوں کی بحالی کے طریق کار پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اختلاف رائے اور نئے صدر کی نامزدگی کے بارے میں بھی مشاورت کی ۔ اس مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے نئے صدر کے امیدوار کا فیصلہ گذشتہ جمعہ کو پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائےگا۔ راجہ پرویز اشرف نے ایک سوال کے جواب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی حمایت کے بارے میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری ایک بڑی حکومتی جماعت کے سربراہ ہیں اور اس ناطے وہ صدر بن سکتے ہیں۔ دریں اثناءاسی روز اسفد یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے منتخب اراکین کے نمائندے منیر اورکزئی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ حکومتی اتحاد کے تینوں چھوٹے فریقوں نے ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ پروگرام کے مطابق اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور منیر اورکزئی مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں سے بھی ملے۔آصف علی زرداری سے رات کو وکیل رہنما اعتزاز احسن نے بھی ملاقات کی اور اکھٹے کھا نا بھی کھا یا۔ اس کے بعد اعتزاز احسن نے معزول چیف جسٹس چو د ھری افتخار سے ملا قات بھی کی بعد ازاںعتزاز نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ یہ ملاقات روٹین کی تھی میں کسی کا پیغام لے کر نہیں گیا اس بات پر بعض تجزیہ کا روں کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن کا دل کا چور بول رہا تھا زرداری کا پیغام ہی لے کر گئے ہوں گے کیونکہ زرداری صا حب ہی اس وقت اعتزاز کی پا رٹی کے سر براہ ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ ملک قیوم نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے بھی گز شتہ بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی تھی۔ ملک قیوم کو مستعفی ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ا±س وقت اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا جب پی سی او کے تحت حلف نہ ا±ٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف گزشتہ سال نو مارچ کو صدارتی ریفرنس میں ا±س وقت کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان مستعفی ہوگئے تھے۔ ملک قیوم جب لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج کام کر رہے تھے تو ا±س وقت ایک آڈیو کیسٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو مرحوم اور ا±ن کے خاوند آصف علی زرداری کو ایک مقدمے میں سزا س±نائی تھی۔ یہ کیسٹ منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا بلکہ سپریم کورٹ نے بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی جانے والی سزائیں بھی کالعدم قرار دیکر مقدمے کی از سر نو سماعت کے احکامات بھی دیئے تھے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کی دوسری کیسٹ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومین رائٹس واچ نے گزشتہ سال ا±س وقت جاری کی جب وہ کسی عزیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ ملتی ہے تو لے لیں کیونکہ انہوں نے (مسلم لیگ قاف) کی حکومت نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرنی ہے۔ اٹھارہ فروری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پرویز مشرف کی حمایتی جماعت کی شکست کے جہاں دیگر اسباب تھے تو وہاں پاکستان کے چیف لائافسر کی اس کیسٹ کی وجہ سے بھی انہیں شدید نقصان ا±ٹھانا پڑا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے اٹھارہ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد ا±ن کے قریبی رفقاء بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں ا±ن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بھی شامل ہیں جبکہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کے بھی مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کے رہنماو¿ں کا سربراہی اجلاس چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا تھا۔زرداری ہاوس میں اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور جمعیت علماءاسلام کے مولانا فضل الرحمان سمیت اتحادی جماعتوں کے دیگر اہم رہنما شریک ہوئے تھے۔ اجلاس کے اختتام پر اس میں شریک رہنما ایک ایک کر کے بغیر کسی اعلان یا پریس کانفرنس کے روانہ ہوگئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کے مطابق اجلاس میں سرفہرست معاملہ معزول ججوں کی بحالی کاتھا۔مذاکرات کے آغاز سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار نے کہا تھا کہ عوام کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معزول ججوں کی بحالی سے متعلق خوش خبری ملے گی۔ تاہم اجلاس کے اس طرح خاتمے سے محسوس ہوتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں۔پیپلز پارٹی رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اب اگلے روز کو بھی جاری رہے گا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی جماعت کی جانب سے صرف اور صرف عدلیہ اور ججز کی بحالی پر بات ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا واضح مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کے مواخذہ کے فورا بعد ہی ججز کو بحال کیا جائے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ ان کی پارٹی کا مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر کہا کہ سیاسی قوتوں نے آمریت کی بساط پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زرداری ہاو¿س سے جاری ایک بیان میں اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام جمہوری قوتوں کا شکریہ ادا کیا جن کی مدد سے اتحادی حکومت صدر کے استعفے کے اہم ہدف کو حاصل کیا تھا۔ چوہدری نثار علی خاں نے یہ بھی کہا کہ صدر پرویز مشرف کا مستعفی ہوجانا ہی کافی نہیں ہے۔ ’انہیں اپنے آٹھ سالہ تمام جرائم کا جواب انصاف کے کٹہرے میں آکر دینا ہوگا۔‘ صدر مشرف کے مستعفی ہونے کا سہرا حکمران اتحادکی بجائے پاکستان کے عوام، وکلاءاور میڈیا کو دینا چا ہیے ۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ اٹھارہ اگست کا دن پاکستانی تاریخ میں جمہوریت اور عوام کے لیئے انتہائی اہم دن ہے۔ جمہوریت کی جانب واپسی میں بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کی قربانی بھی دینی پڑی۔پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے انتہائی شدید سیاسی و عوامی دباو¿ کے نتیجے میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔دوسری طرف حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس پیپلز پارٹی کے قائم مقام چیئرمین آصف علی زرداری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ججوں کی بحالی کے لیے مشاورت کی گئی۔ پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ پرویز مشرف کی طرف سے سپیکر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجوایا گیا۔ استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا اور یوں مشرف کا نو سالہ دورے اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ اس سے قبل پرویز مشرف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا تھا۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ اسی روز پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکمران اتحاد اگلے روز معزول ججوں کی بحالی اور آئینی پیکیج کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ جو کہ حتمی ہوگا۔ اس مو قع پروزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے یہ بھی کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد ہی کرےگا۔ اور صدر مشرف کی طرف استعفیٰ کے بعد مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے کڑے احتساب پر تقریباً تمام اتحادیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا فوج ایسا ہونے کی اجازت دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد اس ایشو پر ایک موقف تو اختیار کر سکتا ہے۔ ’اگر ہمت دکھائی جائے تو تاریخ رقم کی جاسکتی ہے‘۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد نام سامنے آ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ عہدہ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل جیسے شخصیت کو دینی کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تاہم اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے سب جماعتوں کا اتفاق ہے کہ صدر نامزد کرنے کا اختیار پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کا نا م تجویز کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اور ممبر قومی اسمبلی فریال تالپور جیسے ناموں کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پرویز مشرف کے استعفے کی خوشی میں پاکستان بھر میں وکیلوں نے یوم نجات بھی منایا جس میں وکلاءرہنماو¿ں نے ججوں کی ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ور کہا کہ وہ کسی آئینی پیکج اور پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکیلوں نے پرویزمشرف کے استعفے کی خوشی میں اجتماعات کیے، مٹھایاں تقسیم کیں اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کی دکا نوں سے مٹھائی ختم ہو نے کی بھی اطلاعات آئیں اور وکیلوں نے اپنے بار رومز پر لگے احتجاجی سیاہ پرچم اتار دئیے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں عدلیہ کی بحالی میں عوام کے کردار کے موضوع پر ایک سمینار ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے حکومت کے تیارکردہ آئینی پیکج کو ایک شرمناک دستاویز قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ وکیل ججوں کی صرف ایگزیکٹو آّرڈر کے ذریعے بحالی کو ہی قبول کریں گےاورانہوں نے پرویز مشرف کی سبکدوشی کو وکلاء جدوجہد کا ثمر قراردیا۔ مشرف کے استعفی کے بعداسلام آباد میں حکمراں اتحاد کا دو روز سے جاری سربراہی اجلاس ججوں کی بحالی کے حوالے سے بغیر کسی فیصلے یا اعلان کے ختم ہوگیا تھا۔وفاقی وزیر قانون کے اعلان کے باوجود کہ معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں آج فیصلہ ہو جائے گا ایسانہ ہو سکا۔ مسلم لیگ (ن) نے مذاکرات میں کسی تعطل سے انکار کیا جبکہ اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام نے مشترکہ فیصلوں کے لیئے مزید بہتر گھنٹوں کا وقت مانگا تھا۔ چاروں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے اوراجلاس میں معزول ججوں کی بحالی، سابق صدر کے محاسبے اور نئے صدر کے انتخاب کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔ اجلاس میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی تھی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت وہ جماعت کے اندر اور دو بڑی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس سوال پر کہ مذاکرات میں ترجیح کس ایک ایشو کو زیادہ دی جا رہی ہے، کہا کہ جب وہ محاسبے کی بات کرتے ہیں تو میڈیا چلّاتا ہے کہ پہلے عدلیہ اور اگر وہ عدلیہ کی بات کرتے ہیں تو اس کے مخالف بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ایشوز پر بات ہو رہی ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے زرداری ہاو¿س میں آمد پر مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ پیپلز پارٹی نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ صدر کے چلے جانے کے بعد معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب وعدے پر عمل درآمد ہوگا۔یہ آج یا کل تک ہو جانا چاہیے‘۔ سابق وزیر اعظم نے ایسی کسی تجویز سے لاعلمی کا اظہار کیا جس میں موجودہ اور معزول چیف جسٹس دونوں کو مستعفی ہونا ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ صدر کے چلے جانے سے اتحاد کے اندر کے اختلافات بڑھیں گے۔ ’اگر یہ اتحاد ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ہے تو پھر اسے مزید مضبوط ہونا چاہیے‘۔ استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے حکمران اتحاد کے سربراہان اور مرکزی رہنماو¿ں کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاو¿س میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کسی اہم فیصلے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ اے پی ایس
حکمران اتحاد کے قول و فعل کے تضاد،عوام سے بار بار جھوٹ بولنے ،وعدے پر وعدہ اور چکر پر چکرکی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت کا پیما نہ لبریز ہو گیا ہواہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر معزول ججز کو بحال نہ کر نے کی وجہ منظر عام پر آنے سے ہما ری نا م نہاد سیا سی قیادت کے ساتھ سا تھ ان عا لمی طا قتوں کا چہرہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے جو انھوں نے منا فقت کا لبادہ پہن کر دہرا معیار اپنا یا ہوا ہے۔ جن قو توں نے مشرف پر دبائو ڈال کر اس کو استعفی دینے پر مجبور کیا ۔ انہی طا قتوں نے مو جو دہ حکمران اتحاد سے گا ر نٹی لی ہو ئی ہے۔ کہ آپ نے حکومتی امور کو مشرف فا ر مو لے کے تحت ہی چلا نا ہے۔ اور مو جودہ حکومت یعنی حکمران اتحاد ان طا قتوں سے اپنے وعدے کی پا س داری کر تے ہو ئے اپنے مو قف پر قا ئم ہے۔ اور پر ویز مشرف فا ر مو لے کو تیز ترین رفتار سے آگے بڑھا نے میں انھوں نے دن رات ایک کیا ہوا ہے جس میں فا ٹا، وزیر ستان اور وانا میں امریکی مزائلوں کی با رش، پا کستانیوں کا قتل عام، اور لا قا نونیت کا بازار گرم رکھنا پاکستان کے عوام پر ہر طرف سے انصاف کے دروازے بند کر دینا ہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر ججزکو بحال نہ کر نے کی اصل وجہ ہے۔ کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری کو بحال کر دینے سے پا کستان کے سو لہ کروڑ عوام پر مسلط نام نہاد سابقہ و موجودہ قیادت کا وہ اصل مکرہ چہرہ بے نقاب ہو جا تا ہے کہ وطن عزیز میں چند ڈالرز کے عوض پا کستانیوں کے قتل اور ان کے اغوا کیلئے آپ کر ائے کے قا تل اور غنڈے کیوں بنے ہو ئے ہیں؟ ہماری نام نہاد قیادت کو یہ خوف ہے کہ جن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے انھوں نے تو چودھری افتخار محمد چودھری سے رجوع کرنا ہے اور افتخار محمد چود ھری نے حکومت سے اپنے عوام پر اس غیر آئینی اقدام پر جواب ما نگنا ہے اور اس تنا طر میں افتخار محمد چو دھری کے سا منے جوابدہ نہ ہو نے اور اس غیر آئینی اقدام سے بچنے کیلئے ہماری اس نام نہاد قیادت کے اندر کا یہ چور بولتا ہے کہ چو دھری افتخار کو بحال نہ کیا جا ئے۔ سابقہ فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ کیو نکہ اس نے بھی جو ایک خونخوار امریکی کتے والا کر دار ادا کیا ہے اس کے اندر بھی یہی خوف تھا کہ کہیں قا نون کی گرفت میں نہ ا جا ئوں۔ سا بقہ و موجودہ قیادت معزول ججز کو یہ کہہ کر اعتماد میں لے سکتی تھی کہ ملک کے معا شی و دفاعی استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک مصنوعی د ہشت گر دی کی جنگ میں میں ڈالر کے حصول کیلئے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہذا ملکی سلامتی کا تقا ضا ہے کہ ملک ہوگا تو باقی سب امور اور معا ملات ہونگے تو یقینا صا حب بصیرت معزول ججز ان کی راہ میں ر کاوٹ نہ بنتے لیکن یہ بھی سا بقہ و مو جو دہ قیادت نے ضروری اس لیئے نہیں سمجھا ۔ کہ ملکی سلا متی کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک و قوم کو عدم استحکام کر نے کا مسئلہ تھا اور اس کے عوض ملنے والی خیرات کا کسی کو حساب کتاب بھی نہ دینا پڑ ے جیسا کہ اس حوالے سے میڈیا میں یہ با تیں آچکی ہیں کہ جس میں امریکی احکام پا کستان کے ان حکمرانوں پر یہ الزام تراشی کر چکے ہیں کہ پا کستان کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دی جا نے والی امداد کے حساب کتاب میں گڑ بڑ ہے۔ موجودہ حکومت اور پا رلیمنٹ میں بیٹھے حکومتی و مخالف اراکین نے ابھی تک جس کسی ایک امور پر اتفاق کیا ہے۔ وہ انھوں نے اپنی سا بقہ کر پشن چھپانے اور آ ئندہ لوٹ مار کر نے کے راستے کو ہموار کر نے کیلئے ا حتساب بیورو کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اگرچہ احتساب بیورو کی بنیاد سا بقہ حکمرانوں کی بد نیتی پر مبنی تھی۔ ایک دوسرے کو سیاسی بلیک میل کر نے کیلئے احتساب بیورو کو استعمال کیا گیا۔ حکمرانوں کی یہ گٹھیا روش جو ایک قو می ادارے کی بد نا می کا با عث بنی۔ معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے عوام پر مسلط سیا سی قیا دت کی گھٹیا ذ ہنیت کا آپ اندازہ اس با ت سے لگا سکتے ہیں کہ افتخار محمد چو دھری سو مو ٹو ایکشن نہ لینے کا وعدہ کر تے تو شا ید بات بن جا تی۔ سو مو ٹو ایکشن کس کا لیا جا تا ہے جس کیلئے انصاف کے با قی دروازے بند کر دیے جا تے ہیں ۔ ما ضی میں افتحار محمد چودھری نے صرف وہ سو موٹو ایکشن لئے جن کمزور افراد اور خا ندانوں پر با ثر افراد کی طرف سے ظلم و تشدد کیا گیا۔ اس کے علاوہ بے گناہ جو پا کستانیوں کو چند ڈالروں کے عوض فروخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ سا بقہ حکومت نے جس بے دردی سے قو می خزانے کو لو ٹا ان قو می مجر موں نے افتخار محمد چو دھری کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہو ئے اسے اپنے منصب سے ہٹا نا ضروری سمجھا۔ قصہ مختصر ہما رے سا بقہ و مو جودہ حکومت و سیا سی قیادت کی نیتوں میں اتنا زیا دہ فتور ہے کہ اب عوام کو بے و قوف بنا نے اور ان کے جذبات سے کھیلنے کا حکمرانوں کا بھا نڈہ پھوٹ گیا ہے کیونکہ وہ یہی چا ہتے ہیں کہ ان کی لو ٹ مار اور کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے رستے میں کسی قسم کا کو ئی سپیڈ بر یکر نہ آئے۔ وطن عزیز میں قیادت کے فقدان کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ پو رے ملک کے عوام کے جذبات سے کھیلا جا تا ہے کہ ہما را میزائل پروگرام دنیا کا بہترین نظا م ہے اور ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا جب ایک سفارت کار اغوا ہو جا تا ہے تو ہم اس کا تاوان دے کر اسے آزاد کرواتے ہیں۔ ایران پر میزائل کیوں نہیں گرتے، جنوبی کو ریا پر مزائل حملے نہیں ہو تے کیو نکہ ان کی قیادت میں اتنی غیرت ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات و احسا سات کے سا تھ ساتھ اپنے ملک کے وقار کا خیال رکھنا جا نتے ہیں۔ پا کستان ایک اسلامی جمہوریہ جو سو لہ کروڑ عوام کا ملک ہے اس کی بدنامی کے ذمہ دار اس پر زبر دستی مسلط کئے گئے سا مراج کے ایجنٹ حکمران ہیں۔ شوکت عزیز کے ایک واقعہ کو ہی لے لیجئے کہ شوکت عزیز جو پا رلیمنٹ کے اجلاس میں بھی بیٹھتا تھا ہما ری پا رلیمنٹ کی عمارت پر کلمہ شریف لکھا ہوا ہے جہاں اپنے دفتر میں بیٹھتا تھا وہاں اس کے سر کے اوپر با نی پا کستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کی تصویر لگی ہو ئی ہے اور اسکی یک انتہائی گٹھیا اور شر مناک بات یہ ہے کہ جب اسے ایک امریکی دورے کے دوران بش کے اوول آفس میں جا نے کا اتفاق ہوا تو اس وقت بش کی میز پر اس کا ایک پا لتو کتا بیٹھا ہوا تھا تو اس مو قع پر سو لہ کروڑ عوام اور ایک اسلامی ملک کا وزیر اعظم بش کے کتے کا منہ چو متا ہے۔ اور اسے پیار کرتا ہے۔ اس طرح کے حکمران ہم پر مسلط ہیں یعنی ملک و قوم اپنے ان لیڈروں سے کس خیر کی تو قع کر سکتی ہے جو بش کے کتوں کو Kiss اور ان کے جھوٹے گلا سوں میں شراب پی کر آ جا تے ہیں وہ ملک کو کیا استحکام دیں گے۔بات ہو رہی تھی معزول ججز کی بحالی پر تو اس ضمن میں یہی گذارش ہے عوام پر مسلط بد نیت اور بد دیانت جعلی قیادت یہی چا ہتی ہے کہ اس کے کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے خلاف پا کستان کا کو ئی بھی شہری رکا وٹ نہ بنے۔ جس ملک میں کسی با اثر شخص کے خلاف ایف آئی تک درج نہ ہو سکے وہاں انصاف کی تو قع کیسے کی جا سکتی ہے پا کستان میں طا قتور تو سزا سے بچ جا تا ہے لیکن عام آدمی کے خلاف جھوٹے مقدمات کی لا ئن لگا دی جا تی ہے۔ لیکن عوام پر مسلط جرائم پیشہ جعلی قیادت یہ بات بھی اپنے پلے با ندھ لے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری اب ایک کر دار کا نام ہے جو پا کستان کے عوام کے دل و دما غ ُ ُ پر اپنے نقش گہرے چھوڑ گیا ہے اور انھیں بیدار کر گیا ہے۔ اب پا کستان کا مستقبل پا کستان کے عوام کی کو ششوں اور ا للہ کی مدد سے افتخار پا کستان ہوگا۔ اب قیادت سمیت تمام اعلی حکومتی حکام کا مستقبل بھی افتخار چو دھری کے عزم کو عملی طور پر اپنا نے سے مشروط ہو گیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر یں گے تو عوام اب ان کی دکانداری چلنے نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ آپ سا ٹھ سا لہ دور کا جا ئزہ لیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جب تک ہمارا الیکشن کمیشن اور سپریم کو رٹ آزاد نہیں ہوتا۔ وہ نتا ئج حا صل نہیں ہو سکتے جن کیلئے مسلما نوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی ضرورت پیش آئی تھی ۔ اس کے علا وہ ہمارے ہا ں ایک اور جو بہت بڑا المیہ ہے وہ یہ کہ ایک بد عنوان اور منا فق معاشرے میں کسی انقلاب کی تو قع نہیں کی جا سکتی۔ لہذا ضروی ہے کہ ایسی اصلا حات کے ذریعے تبدیلی لا ئی جا ئے کہ جس سے اس ملک کے اصل حقدارعوام اور دیانت دار افراد کی رسائی کو ایوانوں تک ممکن بنا یا جا سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے۔ کہ الیکشن کمیشن صرف ان شہریوں کا ووٹ کا اندراج کر نے اور ووٹ دینے کا اہل قرار دے جو پا کستان کا شہری کم از کم میٹرک پاس ہو اور امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے ووٹ حا صل کر نے کا کم از کم ہدف کی شرط بھی عا ئد کر دی جا ئے اس سے ایک وقت میں کئی ایک فوائد حا صل ہو نگے۔ ایک تو یہ عوام کو یر غمال بنا نے والا جا گیر دار جس کے ووٹر اس کی اپنی نجی جیلوں میں پڑے ہو تے ہیں۔اس کا خا تمہ ہو جا ئے گا جبکہ دوسری بات وہی جا گیر دار جو اپنے علا قوں میں سکول بنا نے اور تعلیم کو عام نہین کر نے دیتا کہ کہیں میرے ووٹر میں شعور نہ آ جا ئے۔ وہ بھی اقتدار کے حصول کیلئے اپنے علاقوں میں نا خواندگی کے خا تمے اور خواندگی کی شرح بڑھا نے کیلئے ہا تھ پا ئوں ما رنا شروع کر دے گا۔ جبکہ تیسری بات جمہوریت کی وہ غلط تشریح بھی ختم ہو جا ئے گی جس میں ایک لا کھ آدمی اگر ایک کتے کو ا نسان کہنا شروع کر دیں تو اس کتے کو با قی افراد کا انسان تسلیم کرنا مجبوری بن جا تا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان ایوانوں میں بیٹھے موجودہ ضمیر فروش لوگ یہ کا م کر نے دیں گے جو عوام کیلئے انصاف کے دروازے پہلے ہی بند کر کے بیٹھے ہو ئے ہیں۔ یہ مسئلہ اللہ پر چھوڑ دیا جا ئے اور عوام اس دن کا انتظار کر یں جب خدا اس ملک اور عوام کی خا طر اس کی بھاگ دوڑ کسی ایسے شخص کے ہا تھ دے ۔ جو خا لصتنا پا کستانی ہو اور ہر وہ کا م کر گزرے جس کے حصول کیلئے پا کستان حا صل کیا گیا تھا۔ اگرچہ ججز کی بحالی کے سلسلے میں اتحادی راہنما ایک بار پھر نئی ڈیڈ لائن پر متفق ہو گئے ہیں جمعہ کے روز مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرافٹ کمیٹی کی جانب سے تیار کیا جانے والا مسودہ پیر کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اس پر دو دن بحث کی جائے اور بدھ کو ججوں کی بحالی کا دن ہونا چاہیے ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت سے اتحاد قائم رہے اور مشرف کا استعفیٰ بھی حکمران اتحاد کی مضبوطی کا نتیجہ ہے ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اور اسفند یارولی خان نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ججوں کی بحالی کے لیے تیار کئے جانے والے مسودے پر متفق ہیں واضح رہے کہ 18اگست کو صدر پرویز مشرف کے استعفےٰ کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری میں معاہدہ ہوا تھا کہ ججوں کو 24 گھنٹے کے اندر بحال کیا جائے گا لیکن ڈیڈ لائن میں 72 گھنٹے کی توسیع کے باوجود بھی جج بحال نہیں ہو سکے۔مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اگر گذشتہ جمعہ تک معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکمراں اتحاد کا ساتھ چھوڑ دے گی۔’ ہم حکومت گرانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا‘۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججوں کی معزولی نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ صدر مشرف کے مواخذے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ’ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اب ان کی باری ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے معاملے میں ہماری حمایت کریں‘۔ نواز شریف کے خیال میں ایک شخص جس نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو، آئین کو بگاڑا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو، اسے عوام کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہیئیں۔نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ’میں بدلے پر یقین رکھنے والا شخص نہیں۔ اگرچہ انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن میں ان سے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہتا۔ صدر مشرف کے استعفٰی کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا اجلاس دو دن جاری رہنے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچے بغیر منگل کو ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کے پہلے دن وزیرِ قانون اور پی پی پی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ یہ تین روزہ مہلت بھی گذشتہ جمعہ کو ختم ہو گئی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے استعفیٰ لینے اور ان کے پرامن طریقے سے جانے میں متحدہ قومی موومنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے الطاف حسین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کی سیاسی سرگرمیوں میں الطاف حسین نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے فون پر الطاف حسین سے بات بھی کی ہے ۔آصف علی زرداری نے اپنی قائد بینظیر بھٹو کا کی بات دوہرائی اور کہا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہوتا ہے‘ اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ جمہوریت ہی پر امن طریقے سے تبدیلی لاتی ہے۔ ادھر گزشتہ بدھ کو آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے بعض سینئر رہنماو¿ں سے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ججوں کی بحالی کے طریق کار پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اختلاف رائے اور نئے صدر کی نامزدگی کے بارے میں بھی مشاورت کی ۔ اس مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے نئے صدر کے امیدوار کا فیصلہ گذشتہ جمعہ کو پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائےگا۔ راجہ پرویز اشرف نے ایک سوال کے جواب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی حمایت کے بارے میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری ایک بڑی حکومتی جماعت کے سربراہ ہیں اور اس ناطے وہ صدر بن سکتے ہیں۔ دریں اثناءاسی روز اسفد یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے منتخب اراکین کے نمائندے منیر اورکزئی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ حکومتی اتحاد کے تینوں چھوٹے فریقوں نے ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ پروگرام کے مطابق اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور منیر اورکزئی مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں سے بھی ملے۔آصف علی زرداری سے رات کو وکیل رہنما اعتزاز احسن نے بھی ملاقات کی اور اکھٹے کھا نا بھی کھا یا۔ اس کے بعد اعتزاز احسن نے معزول چیف جسٹس چو د ھری افتخار سے ملا قات بھی کی بعد ازاںعتزاز نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ یہ ملاقات روٹین کی تھی میں کسی کا پیغام لے کر نہیں گیا اس بات پر بعض تجزیہ کا روں کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن کا دل کا چور بول رہا تھا زرداری کا پیغام ہی لے کر گئے ہوں گے کیونکہ زرداری صا حب ہی اس وقت اعتزاز کی پا رٹی کے سر براہ ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ ملک قیوم نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے بھی گز شتہ بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی تھی۔ ملک قیوم کو مستعفی ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ا±س وقت اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا جب پی سی او کے تحت حلف نہ ا±ٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف گزشتہ سال نو مارچ کو صدارتی ریفرنس میں ا±س وقت کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان مستعفی ہوگئے تھے۔ ملک قیوم جب لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج کام کر رہے تھے تو ا±س وقت ایک آڈیو کیسٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو مرحوم اور ا±ن کے خاوند آصف علی زرداری کو ایک مقدمے میں سزا س±نائی تھی۔ یہ کیسٹ منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا بلکہ سپریم کورٹ نے بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی جانے والی سزائیں بھی کالعدم قرار دیکر مقدمے کی از سر نو سماعت کے احکامات بھی دیئے تھے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کی دوسری کیسٹ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومین رائٹس واچ نے گزشتہ سال ا±س وقت جاری کی جب وہ کسی عزیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ ملتی ہے تو لے لیں کیونکہ انہوں نے (مسلم لیگ قاف) کی حکومت نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرنی ہے۔ اٹھارہ فروری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پرویز مشرف کی حمایتی جماعت کی شکست کے جہاں دیگر اسباب تھے تو وہاں پاکستان کے چیف لائافسر کی اس کیسٹ کی وجہ سے بھی انہیں شدید نقصان ا±ٹھانا پڑا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے اٹھارہ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد ا±ن کے قریبی رفقاء بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں ا±ن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بھی شامل ہیں جبکہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کے بھی مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کے رہنماو¿ں کا سربراہی اجلاس چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا تھا۔زرداری ہاوس میں اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور جمعیت علماءاسلام کے مولانا فضل الرحمان سمیت اتحادی جماعتوں کے دیگر اہم رہنما شریک ہوئے تھے۔ اجلاس کے اختتام پر اس میں شریک رہنما ایک ایک کر کے بغیر کسی اعلان یا پریس کانفرنس کے روانہ ہوگئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کے مطابق اجلاس میں سرفہرست معاملہ معزول ججوں کی بحالی کاتھا۔مذاکرات کے آغاز سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار نے کہا تھا کہ عوام کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معزول ججوں کی بحالی سے متعلق خوش خبری ملے گی۔ تاہم اجلاس کے اس طرح خاتمے سے محسوس ہوتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں۔پیپلز پارٹی رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اب اگلے روز کو بھی جاری رہے گا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی جماعت کی جانب سے صرف اور صرف عدلیہ اور ججز کی بحالی پر بات ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا واضح مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کے مواخذہ کے فورا بعد ہی ججز کو بحال کیا جائے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ ان کی پارٹی کا مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر کہا کہ سیاسی قوتوں نے آمریت کی بساط پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زرداری ہاو¿س سے جاری ایک بیان میں اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام جمہوری قوتوں کا شکریہ ادا کیا جن کی مدد سے اتحادی حکومت صدر کے استعفے کے اہم ہدف کو حاصل کیا تھا۔ چوہدری نثار علی خاں نے یہ بھی کہا کہ صدر پرویز مشرف کا مستعفی ہوجانا ہی کافی نہیں ہے۔ ’انہیں اپنے آٹھ سالہ تمام جرائم کا جواب انصاف کے کٹہرے میں آکر دینا ہوگا۔‘ صدر مشرف کے مستعفی ہونے کا سہرا حکمران اتحادکی بجائے پاکستان کے عوام، وکلاءاور میڈیا کو دینا چا ہیے ۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ اٹھارہ اگست کا دن پاکستانی تاریخ میں جمہوریت اور عوام کے لیئے انتہائی اہم دن ہے۔ جمہوریت کی جانب واپسی میں بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کی قربانی بھی دینی پڑی۔پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے انتہائی شدید سیاسی و عوامی دباو¿ کے نتیجے میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔دوسری طرف حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس پیپلز پارٹی کے قائم مقام چیئرمین آصف علی زرداری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ججوں کی بحالی کے لیے مشاورت کی گئی۔ پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ پرویز مشرف کی طرف سے سپیکر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجوایا گیا۔ استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا اور یوں مشرف کا نو سالہ دورے اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ اس سے قبل پرویز مشرف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا تھا۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ اسی روز پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکمران اتحاد اگلے روز معزول ججوں کی بحالی اور آئینی پیکیج کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ جو کہ حتمی ہوگا۔ اس مو قع پروزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے یہ بھی کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد ہی کرےگا۔ اور صدر مشرف کی طرف استعفیٰ کے بعد مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے کڑے احتساب پر تقریباً تمام اتحادیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا فوج ایسا ہونے کی اجازت دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد اس ایشو پر ایک موقف تو اختیار کر سکتا ہے۔ ’اگر ہمت دکھائی جائے تو تاریخ رقم کی جاسکتی ہے‘۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد نام سامنے آ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ عہدہ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل جیسے شخصیت کو دینی کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تاہم اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے سب جماعتوں کا اتفاق ہے کہ صدر نامزد کرنے کا اختیار پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کا نا م تجویز کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اور ممبر قومی اسمبلی فریال تالپور جیسے ناموں کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پرویز مشرف کے استعفے کی خوشی میں پاکستان بھر میں وکیلوں نے یوم نجات بھی منایا جس میں وکلاءرہنماو¿ں نے ججوں کی ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ور کہا کہ وہ کسی آئینی پیکج اور پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکیلوں نے پرویزمشرف کے استعفے کی خوشی میں اجتماعات کیے، مٹھایاں تقسیم کیں اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کی دکا نوں سے مٹھائی ختم ہو نے کی بھی اطلاعات آئیں اور وکیلوں نے اپنے بار رومز پر لگے احتجاجی سیاہ پرچم اتار دئیے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں عدلیہ کی بحالی میں عوام کے کردار کے موضوع پر ایک سمینار ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے حکومت کے تیارکردہ آئینی پیکج کو ایک شرمناک دستاویز قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ وکیل ججوں کی صرف ایگزیکٹو آّرڈر کے ذریعے بحالی کو ہی قبول کریں گےاورانہوں نے پرویز مشرف کی سبکدوشی کو وکلاء جدوجہد کا ثمر قراردیا۔ مشرف کے استعفی کے بعداسلام آباد میں حکمراں اتحاد کا دو روز سے جاری سربراہی اجلاس ججوں کی بحالی کے حوالے سے بغیر کسی فیصلے یا اعلان کے ختم ہوگیا تھا۔وفاقی وزیر قانون کے اعلان کے باوجود کہ معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں آج فیصلہ ہو جائے گا ایسانہ ہو سکا۔ مسلم لیگ (ن) نے مذاکرات میں کسی تعطل سے انکار کیا جبکہ اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام نے مشترکہ فیصلوں کے لیئے مزید بہتر گھنٹوں کا وقت مانگا تھا۔ چاروں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے اوراجلاس میں معزول ججوں کی بحالی، سابق صدر کے محاسبے اور نئے صدر کے انتخاب کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔ اجلاس میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی تھی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت وہ جماعت کے اندر اور دو بڑی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس سوال پر کہ مذاکرات میں ترجیح کس ایک ایشو کو زیادہ دی جا رہی ہے، کہا کہ جب وہ محاسبے کی بات کرتے ہیں تو میڈیا چلّاتا ہے کہ پہلے عدلیہ اور اگر وہ عدلیہ کی بات کرتے ہیں تو اس کے مخالف بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ایشوز پر بات ہو رہی ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے زرداری ہاو¿س میں آمد پر مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ پیپلز پارٹی نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ صدر کے چلے جانے کے بعد معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب وعدے پر عمل درآمد ہوگا۔یہ آج یا کل تک ہو جانا چاہیے‘۔ سابق وزیر اعظم نے ایسی کسی تجویز سے لاعلمی کا اظہار کیا جس میں موجودہ اور معزول چیف جسٹس دونوں کو مستعفی ہونا ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ صدر کے چلے جانے سے اتحاد کے اندر کے اختلافات بڑھیں گے۔ ’اگر یہ اتحاد ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ہے تو پھر اسے مزید مضبوط ہونا چاہیے‘۔ استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے حکمران اتحاد کے سربراہان اور مرکزی رہنماو¿ں کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاو¿س میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کسی اہم فیصلے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment