
اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کہا کہ وہ احتساب چاہتے ہیں لیک احتساب اور ا تقام میں بہت معمولی فرق ہے اور ہم ہیں چاہتے کہ ہم ا تقام لیں۔ آج سے اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں۔ وزیر اعظم ے کہا ’آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیک ہم پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے۔ آپ ے یہ ثابت کر ا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے یا آمریت کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیک میں کہتا ہوں کہ آمریت جت ی بھی بہتر ہو جمہوریت سے بہتر ہیں ہو سکتی۔‘ سید یوسف رضا گیلا ی سترھویں ترمیم اور اٹھاو ٹو بی کو ہ پہلے قبول کرتے تھے اور ہ اب کرتے ہیں۔وہ پہلے بھی کہتے تھے کہ صدر اور پارلیما کے درمیا تواز ہو ا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ سب مل کر اداروں کو مضبوط کریں کیو کہ جب بھی جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو آمریت کو موقع ملتا ہے۔ وزیر اعظم کو ج ہوں ے بھی جیل میں ڈالا ا کے خلاف ا کی کوئی ا تقامی یت ہیں ہے اوروہ ا کو معاف کر تے ہیں۔ ادارے مستحکم ہو ے چاہیں اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاو ٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی مضبوط کر ی چاہییں۔ حکومت سچ کمیش اور مفاہمتی کمیٹی ب ا ا چا ہتی ہے۔ قومی اسمبلی کے تمام اراکی کو حکومت کی مدد کر ی ہو گی کیو کہ اکیلا وزیر اعظم کچھ ہیں کر سکتا۔ ا ہوں ے کہا کہ ملک کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ا کا حل ڈھو ڈ ا ہو گا ایک تو ہے معیشت اور دوسرا ام و اما ۔ میڈیا، وکلاءاور عدالتی سرگرمی کا جمہوریت کے لیے بہت بڑا کردار ہے۔ قومی اسمبلی میں پاکستا مسلم لیگ واز کے ممبرا ے سابق صدر کو گارڈ آف آ ر دی ے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح آمریت ملک سے کبھی ختم ہیں ہو گی۔ لاکھوں افراد کے قاتل کو تو گارڈ آف آ ر دیا جا رہا ہے جب کہ ایک عام آدمی کو پھا سی کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ عوام کا مطا لبہ ہے کہ صدر مشرف ے تی بار آئی توڑا اور وہ کارگل اور لال مسجد میں شہید ہو ے والوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے ا کو محفوظ راستہ ہیں دی ا چاہیے۔ اگر شروع ہی میں آمر کو مثال ب ا دیا جاتا تو فوجی حکمرا یہ ہمت ہ کرتے ۔اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کی۔حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر کا موقف تھا کہ صدر مشرف کا احتساب ہو ا چاہیے۔ صدر مشرف کا احتساب اس لیے ہو ا چاہیے کہ آئی دہ اس عمل کو روکا جا سکے اور کوئی شب خو ہ مار سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کو ڈولیزا رائیس ے پاکستا کے سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے پر رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دوست رہے ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ امریکہ پاکستا کی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جسے اپ ے ملک کی فوری ضروریات پر توجہ دگ ی کر ے کی ضرورت ہے، ج میں بڑھتی ہوئی ا تہا پس دی کو روک ا بھی شامل ہے۔ امریکہ پاکستا کی مستحکم، خوشحال اور جدید جمہوری مسلم مملکت ب ے میں مدد کرے گا۔ گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ہم ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو ۔ افغا ستا کے وزیر خارجہ ے کہا کہ اس استعفے سے پاکستا میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا ایسا پاکستا چاہتا ہے جہاں قا و کی بالا دستی ہو۔ ا ڈیا ےج رل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستا کا ا درو ی معاملہ قرار دیا اور کوئی رد عمل ہیں دیا۔ ا ڈیا ے کہا کہ کہ وہ ایک مستحکم پاکستا کا خواہاں ہے۔ برطا وی حکومت ے کہا کہ دہشت گردی سے مٹ ے کے لیے اقدامات، ا ڈیا کے ساتھ مذاکرات اور کرپش کے خاتمے میں سابق صدر مشرف ے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برطا وی وزیر اعظم گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں دو وں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ’ہم ا کے لیے اچھے مستقبل کے خواہاں ہیں‘۔ ا ہوں ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment