International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 18, 2008

مشرف کے مستعفی ہونے پر وزیر اعظم اور عالمی برادری کا رد عمل ۔ تحریر : سید جواد معین بخاری،اے پی ایس










اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کہا کہ وہ احتساب چاہتے ہیں لیک احتساب اور ا تقام میں بہت معمولی فرق ہے اور ہم ہیں چاہتے کہ ہم ا تقام لیں۔ آج سے اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں۔ وزیر اعظم ے کہا ’آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیک ہم پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے۔ آپ ے یہ ثابت کر ا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے یا آمریت کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیک میں کہتا ہوں کہ آمریت جت ی بھی بہتر ہو جمہوریت سے بہتر ہیں ہو سکتی۔‘ سید یوسف رضا گیلا ی سترھویں ترمیم اور اٹھاو ٹو بی کو ہ پہلے قبول کرتے تھے اور ہ اب کرتے ہیں۔وہ پہلے بھی کہتے تھے کہ صدر اور پارلیما کے درمیا تواز ہو ا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ سب مل کر اداروں کو مضبوط کریں کیو کہ جب بھی جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو آمریت کو موقع ملتا ہے۔ وزیر اعظم کو ج ہوں ے بھی جیل میں ڈالا ا کے خلاف ا کی کوئی ا تقامی یت ہیں ہے اوروہ ا کو معاف کر تے ہیں۔ ادارے مستحکم ہو ے چاہیں اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاو ٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی مضبوط کر ی چاہییں۔ حکومت سچ کمیش اور مفاہمتی کمیٹی ب ا ا چا ہتی ہے۔ قومی اسمبلی کے تمام اراکی کو حکومت کی مدد کر ی ہو گی کیو کہ اکیلا وزیر اعظم کچھ ہیں کر سکتا۔ ا ہوں ے کہا کہ ملک کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ا کا حل ڈھو ڈ ا ہو گا ایک تو ہے معیشت اور دوسرا ام و اما ۔ میڈیا، وکلاءاور عدالتی سرگرمی کا جمہوریت کے لیے بہت بڑا کردار ہے۔ قومی اسمبلی میں پاکستا مسلم لیگ واز کے ممبرا ے سابق صدر کو گارڈ آف آ ر دی ے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح آمریت ملک سے کبھی ختم ہیں ہو گی۔ لاکھوں افراد کے قاتل کو تو گارڈ آف آ ر دیا جا رہا ہے جب کہ ایک عام آدمی کو پھا سی کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ عوام کا مطا لبہ ہے کہ صدر مشرف ے تی بار آئی توڑا اور وہ کارگل اور لال مسجد میں شہید ہو ے والوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے ا کو محفوظ راستہ ہیں دی ا چاہیے۔ اگر شروع ہی میں آمر کو مثال ب ا دیا جاتا تو فوجی حکمرا یہ ہمت ہ کرتے ۔اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کی۔حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر کا موقف تھا کہ صدر مشرف کا احتساب ہو ا چاہیے۔ صدر مشرف کا احتساب اس لیے ہو ا چاہیے کہ آئی دہ اس عمل کو روکا جا سکے اور کوئی شب خو ہ مار سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کو ڈولیزا رائیس ے پاکستا کے سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے پر رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دوست رہے ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ امریکہ پاکستا کی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جسے اپ ے ملک کی فوری ضروریات پر توجہ دگ ی کر ے کی ضرورت ہے، ج میں بڑھتی ہوئی ا تہا پس دی کو روک ا بھی شامل ہے۔ امریکہ پاکستا کی مستحکم، خوشحال اور جدید جمہوری مسلم مملکت ب ے میں مدد کرے گا۔ گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ہم ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو ۔ افغا ستا کے وزیر خارجہ ے کہا کہ اس استعفے سے پاکستا میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا ایسا پاکستا چاہتا ہے جہاں قا و کی بالا دستی ہو۔ ا ڈیا ےج رل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستا کا ا درو ی معاملہ قرار دیا اور کوئی رد عمل ہیں دیا۔ ا ڈیا ے کہا کہ کہ وہ ایک مستحکم پاکستا کا خواہاں ہے۔ برطا وی حکومت ے کہا کہ دہشت گردی سے مٹ ے کے لیے اقدامات، ا ڈیا کے ساتھ مذاکرات اور کرپش کے خاتمے میں سابق صدر مشرف ے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برطا وی وزیر اعظم گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں دو وں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ’ہم ا کے لیے اچھے مستقبل کے خواہاں ہیں‘۔ ا ہوں ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو۔ اے پی ایس

No comments: