

مشرف کے مواخذے کے حوالے سے ایک طرف پاکستان کے عوام ہیں جن کی خواہش ہے کہ قانون شکن جرنیل کو آڑٹیکل چھ کے تحت اس کو اور اس کے ساتھیوں اور اس کی حمایت کرنے والوں کو سزائے موت دیں۔جبکہ دوسری طرف مشرف کو محفوظ رستہ دینے کیلئے اسلام اور پاکستان دشمن اسرائیل ہے جس نے امریکی و دیگر سفارتی درائع سے مشرف کو محفوظ رستہ دینے کیلئے سر توڑ کو ششیں شروع کی ہوئی ہیں ۔اب دیکنا یہ ہے کہ پا رلیمنٹ مواخذہ کے حوالے سے پاکستان کے عوام کی رائے کا احترام اور اس کی نمائندگی کر تے ہوئے قانون شکن جر نیل مشرف کو سزا دیتی ہے یا اسلام اور پاکستان دشمن اسرائیل کی طرف داری کرتے ہوئے اور سامراج کی نمائندگی کرتے ہوئے قانون شکن جرنیل کو محفوظ راستہ فراہم کرتی ہے۔ اگر حکمران اتحاد نے مشرف کو محفوظ راستہ دیا تو حکران اتحا دی یہ بات پلے باندھ لیں کہ جمہوری دشمن طاقتیں بھی مشرف کے پیچھے پیچھے آپ کو بھی رخصت کر دیں گی ۔وہ کس طرح جس طرح پہلے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ر ہا۔ جبکہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مشرف نے نواز شریف کو محفوظ راستہ دیا تھا۔اب ان کا بھی حق ہے ۔ ان کے خیال میں جب مشرف نے نواز شریف کا دھڑن تختہ کیا تھا تو اسی مشرف کو پا کستان کے عوام نے خوش آمدید کہا تھا اور مشرف کی آمد کی خوشی میں مٹھائیاں با نٹی گئی تھیں۔ جبکہ بعض تجزیہ کا روں کا خیال ہے کہ عوام نہ تو نواز شریف اورزرداری سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں وہ تو صرف اس لئے مشرف کا مواخذہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کے چند ایک ایسے اقدام جس سے پا کستان کا وقار دنیا بھر میں مجروح ہوا ہے اور جس کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ اور اسی طرح کے چند ایک اور غیر آئینی اقدام اندرون ملک میں کئے گئے جس کی وجہ سے مشرف عوام میں نفرت کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔ جب تک پاکستان میں نو آبادیاتی نظام ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک پاکستان میں اقتدار کی گیند جاگیردار اور قانون شکن جرنیل ایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہیں گے۔ اور عوام اس سیا سی با سکٹ بال کا تماشا جو ساٹھ سال سے دیکھتے چلے آرہے ہیں مزید دیکھتے رہیں گے اس کے لئے ضروری ہے کہ نظام بدلا جائے لیکن پارلیمنٹ میں بیٹھے جا گیر دار اور نام نہاد سیاستدان ایسا نہیں کرنے دیں گے ۔ جب بھی کسی فوجی آمر نےTake Overکیا تو عوام نے اس کا صرف اور صرف اس لئے استقبال کیا کہ شاید یہ نظام بدلنے کی بات کر ے لیکن عوام دشمن طاقتوں نے اسے یہی مشورہ دیا کہ آپ ان لوگوں کو ساتھ لیکر چلیں جنھوں نے ملک بھر میں اپنی غنڈہ گردی سے عوام کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اور سابقہ فوجی حکمرانوں نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت جو صورتحال ہے عوام فوجی اور سول آمروں یعنی دونوں سے نہ صرف ف ما یوس بلکہ تنگ ہیں۔لہذا جب تک نظام کی تبدیلی کی عملی طور پر بات نہیں کی جاتی۔مشرف کے بعد بھی کچھ نہیں ہوگا۔ آصف زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ہم نظام بدلیں گے جناب آصف زرداری سے گذارش ہے کہ نظام کی تبدیلی کی شروعات کا یہ سنہری موقع ہے کہ آپ عوام کی خواہش کا احترام کر تے ہوئے مشرف کا نہ صرف مواخذہ بلکہ محاسبہ کر یں تاکہ گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دفن جہموریت کے علمبرداروں کی قر با نیاں رائیگاں نہ ہوں۔اگر آپ میں ایسا کر نے کی ہمت ہے تو آپ وطن عزیز کے عوام کے سامنے قائد اعظم کے بعد دوسرے بڑے لیڈر ہونگے۔ کیونکہ لیڈر صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر نے پر بنتے ہیں ۔اب عوام اس انتظار میں ہیں کہ ااپ نظام کی تبدیلی کیلئے شروعات کہاں سے کر تے ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے کہا ہے کہ مواخذے کی کاروائی شروع ہونے کے بعد صدر پرویز مشرف کے پاس استعفے کا آپشن باقی نہیں رہے گا۔ مواخذے کا نوٹس دئیے جانے کے بعد صدرکے پاس یہ آپشن نہیں ہو گا کہ وہ اپنے خلاف الزامات کا جواب دینے کے بجائے مستعفیٰ ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات سامنے آنے کے بعد ان کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمینٹ کرے گی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ پارلیمینٹ الزامات کی تحقیقات کے بجائے مشترکہ اجلاس میں محض صدر کے خلاف ایک قرار داد منظور کر لے۔ ایسی صورت میں بھی صدر اپنے عہدے سے معزول تصور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مواخذے کا مطلب صدر کا کریمینل ٹرائل نہیں، ان کے عہدہ صدارت سے فارغ ہونے کے بعد عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات چلانے یا نہ چلانے کا انحصار حکمران اتحاد کی اعلیٰ قیادت پر ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ چارج شیٹ کا مسودہ انہیں موصول ہو گیا جسے وہ قانونی نکتہ نظر سے دو روز میں حتمی شکل دے دیں گے۔جبکہ صدر پرویز مشرف کو ممکنہ مواخذے اور اس کے بعد بغاوت سمیت سنگین نوعیت کے الزامات پر مقدمات سے بچانے کیلئے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں ۔ سعودی عرب ، امریکہ اور برطانیہ سب سے زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ شہزاادہ مقرن نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا ہے اور صدر مشرف سمیت حکمران اتحاد کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں ہیں اور صدر مشرف کے مواخذے پر بات چیت کی ہے شہزاد مقرن نواز شریف کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر خصوصی طیارے پر واپس وطن روانہ ہو گئے ہیں ۔ ادھر صدارتی ترجمان راشد قریشی نے شہزادہ مقرن کی پاکستان آمد اور صدر سے ملاقات کی تردید کر دی ہے اعلیٰ ترین سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کو سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا ہے جہاں انہوںنے صدر مشرف سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہزادہ مقرن نے پاکستان میں قیام کے دوران صدر کو شاہ عبداللہ کا اہم پیغام پہنچایا شہزادہ مقرن نے صدر پرویز مشرف کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگراہم افراد سے بھی ملاقاتیں کی ہیں ذرائع کے مطابق شہزادن مقرن نے ان ملاقاتوں میں صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ شہزادہ مقرن اسلام آباد میں صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد لاہور روانہ ہوئے جہاں انہوں نے میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی لیکن ذرائع کے مطابق نواز شریف کی طرف سے انہیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا جس کے بعد سعودی شہزادہ اپنے خصوصی طیارے پر واپس روانہ ہو گئے ہیں ۔تاہم بعض ذرائع نے کہاہے کہ شہزادہ مقرن اور حکمران اتحاد کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک واپس لے لی جائے گی اور انہیں محفوظ راستہ دیاجائے گا جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ معاہدہ سعودی شاہی خاندان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کروایا ہے ۔معاہدے کے حوالے سے دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان بھی رابطے ہوئے ہیں۔اعلٰی ترین سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی روز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور لاہور میں برطانوی سفراءکی مختلف سیاسی اکابرین سے ملاقوتوں کے بعد ثالتی کے یہ مذاکرات اب صدر مشرف کے استعفی اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے حوالے سے تفصیلات طے کرنے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ہیں اور پیر تک اہم اعلان متوقع ہے۔اس بارے میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما سینیٹر طارق عظیم نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ معاملہ افہام و تفہیم سے طے کیا جائے کیونکہ صدر کا مواخذا قومی مفاد میں نہیں ہے۔جب ان سے پوچھا کہ وہ لوگ کون ہیں اور کیا ان میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اور برطانیہ کے سابق ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ بھی شامل ہیں تو طارق عظیم نے کہا کہ ’وہ لوگ جو صدر پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی قومی مصالحت کے عمل میں شامل رہے وہ کوششیں کر رہے ہوں اور مارک لائل گرانٹ تو اس عمل میں پہلے روز سے شامل رہے ہیں۔طارق عظیم نے صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں وضاحت کی کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ’مجھے پکا یقین ہے کہ وہ پاکستان میں رہیں گے۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما جو نائب وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت صدر کے ساتھ ہے اور موجودہ حالات میں مواخذے کا مقابلہ کرنے یا مستعفی ہونے کا فیصلہ صدر نے خود کرنا ہے۔ حکومتی اتحاد اور صدر کے درمیان ثالثی کے حوالے سے گزشتہ روز وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے بھی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’صدر پرویز مشرف کے ساتھیوں نے انہیں محفوظ راستہ دینے کے لیے حکومت سے رابطے کیے ہیں۔وزیر دفاع نے اسلام آباد ایئر پورٹ کو بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیے جانے کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں یہ بھی کہا تھا کہ صدر کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں بہت سارے معاملات طے پاچکے ہیں اور اس کی تفصیلات بہت جلد سامنے آجائیں گی۔ ادھر برطانوی نشریاتی ادارے نے اعلیٰ حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف پہلے تو کہہ رہے تھے کہ وہ کیوں مستعفی ہوں اور بعد میں جب ان پر دباو¿ بڑھ گیا تو پھر یہ پیشکش کی کہ وہ اسمبلی توڑنے اور گورنروں کی بھرتیوں سمیت بعض اختیارات چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جیسے جیسے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا وقت قریب آرہا ہے تو اب ’بعض لوگوں‘ کے ذریعے عہدہ چھوڑنے کی صورت میں کچھ مطالبات رکھے ہیں۔ جس کے مطابق وہ گزشتہ برس تین نومبر کو آئین معطل کرنے، ایمرجنسی لگانے اور ججوں کی برطرفی سمیت جو بھی احکامات جاری کیے انہیں قانونی تحفظ دینے، مستعفی ہونے کے بعد ریٹائرمینٹ کے فوائد بشمول پروٹوکول اور کسی بھی معاملے میں ٹرائل نہ کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ دریں اثناءمسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے بھی جمعہ کو پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اِس وقت صدر پرویز مشرف آٹھ سالہ گناہوں کی معافی اور باقی زندگی سکون سے گزارنے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ(ن) کا موقف واضح ہے کہ صدر مشرف کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کی ضرورت ہے اور نہ محفوظ راستہ دینا چاہیے۔ ’ان کا آئندہ مقام انصاف کا کٹھڑا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کہاگیا تھا کہ صدر پرویز مشرف نے مواخذے کی صورت میں امریکی ساتھیوں سے دلبرداشتہ ہو کر سعودی حکومت سے رابطہ کیاہے اور مدد طلب کی ہے پرویز مشرف نے یہ رابطہ پاکستان میں سعودی عرب کے اعلیٰ سفارتی اہلکار کے ذریعے سعودی حکومت سے رابطہ کیا ہے ۔ ادھر صدارتی ترجمان راشد قریشی نے سعودی شہزادہ مقرن کے پاکستان آنے اور پھر صدر مشرف سے ملاقات کی تردید کی ہے انہوں نے کہاکہ سعودی شہزادہ نہتو پاکستان آیا ہے او رنہ ہی انہوں نے کسی سے ملاقات کی ہے ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدارت پر پاکستان پیپلزپارٹی کا حق ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے اور آئندہ کا صدر بھی اسی جماعت سے ہی ہو گا ہمارا صدر اٹھاون ٹو بی کے اختیارات خود واپس کرے گا ،صدر مشرف کو استعفیٰ دینے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کافیصلہ اتحادی جماعتوں سے باہم مشورے کے بعد کیا جائے گا۔ میں معزول ججوں کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہا صدر مشرف کے ٹرائل کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ۔نسیم حسن شاہ نے بھٹو کے حوالے سے غلط فیصلے کا اعتراف کیا تھا جسٹس افتخار چوہدری سے میری کوئی ذاتی چپقلش نہیں میں ان کے مستقبل میں رکاوٹ کیوں ڈالوں ۔ این آر اوکے خاتمے سے مجھے کوئی خوف نہیں کیونکہ میں نے گیارہ سال جیل کاٹی ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں ہو سکا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کیا۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مذاکرات کی راہ اپنائی ہے اسی پالیسی کی و جہ سے ہم نے جنرل (ر) محمود علی درانی کو مشرف کے پاس بھیجا اور استعفیٰ دینے کیلئے کہا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ صدر مشرف کو استعفیٰ دینے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کافیصلہ اتحادی جماعتوں سے باہم مشورے کے بعد کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ بیرونی ممالک کے سربراہوں کی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ صدر مشرف پر مقدمات نہ بنانے کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا جہاں عوام کے منتخب نمائندے موجودہوتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اکیلی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی آصف علی زرداری نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بارے میں علم آئندہ آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتقام پر یقین نہیں رکھتے،اس پالیسی پر گامزن ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی شہادت کا بدلہ نظام بدل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کا بدلہ ہم نے اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہد سے نہیں لیاحالانکہ انہوں نے بھٹو کے عدالتی قتل کا اعتراف بھی کیا ۔انہوں نے بھٹو کے حوالے سے غلط فیصلے کیے،آصف علی زرداری نے کہا کہ میں این آر او کے خاتمے پر افتخار چوہدری سے نہیں ڈرتا ۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ آئندہکے صدرکو 58 ٹو بی کا اختیارات حاصل نہیں ہو گا۔ تاہم آئندہ کے صدر کے لیے اتحادی پارٹیوں سے مشاورت ضرور کی جائے گی ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا بدلہ تب ہو گا جب بلاول ملک کی خدمت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری افتخار چوہدری کے ساتھ میری کوئی رنجش نہیں ہے اس لیے میں ان کے مستقبل کی راہ میں کیوں رکاوٹیں کھڑی کروں۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کے خاتمے سے نہیں گھبراتے کیونکہ میں نے 11سال جیل کاٹی مگر کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہاکہ ہم مخلوط حکومت کو مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں آصف علی مرداری نے کہاکہ قوموں پر مشکلات آتی رہتی ہیں ہم زندہ قومیں اپنے بلند حوصلوں سے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے ان پر قابو پالیتی ہیں کوریا اور کچھ دیگر ملکو ںکی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میں ق لیگ کے سیاسی فلسفے کو نہیں مانتا انہوں نے کہاکہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہیں انہوں نے کہاکہ جہاں پاکستان کو مشکلات ہیں وہاں پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاس ان کے خاتمے کیلئے تدبر اور حکمت بھی ہے انہوں نے کہاکہ صدر مشرف کے پاس دو آپشنز ہیں استعفیٰ یا مواخذہ کا سامنا اب فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے۔ ایک سوال پر انہو ںنے کہاکہ ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے غلط فیصلے کا اعتراف بھی کیا مگر اس کے باوجود ہم نے ان کے ٹرائل کافیصلہ نہیں کیا۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ پرویز مشرف کو اس کے آٹھ سالہ جرائم کی معافی اور محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا ۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ( ق ) نے فاورڈ بلاک کا مسلم لیگ ( ن ) میں ضم ہونے کا امکان ہے ۔ پارلیمانی قوت کو کسی کے غیر آئینی اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک کے حوالے سے چارج شیٹ کو دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین ہفتہ کومنظوری دے دیں گے ۔ آئندہ ہفتہ کے دوران تحریک قومی اسمبلی میں جمع کرا دی جائے گی۔ پرویز مشرف کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ جو شخص قوم کو ” مکے “ دکھاتا تھا اور بے نظیر بھٹو کو کک مارنے اور نواز شریف کو ملک میں داخل نہ ہونے کی بات کر رہا تھا وہ آج اپنے آٹھ سالہ جرائم کے لیے معافی آئینی اور قانونی جواز فراہم کرنے اور دنیا میں کسی بھی جگہ محفوظ مقام کے لیے کاوشیں کر رہاہے یہ ہمارے دائیں بائیں بھی اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں تاہم مسلم لیگ ن اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دیا جائے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی قوت اس شخص کو محفوظ راستہ دینے کے لیے استعمال نہیں ہو گی ۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے اور خاندان کے ساتھ پرویز مشرف کی زیادتیوں کو معاف کر دیاہے لیکن لال مسجد میں نہتے مسلمانوں پر گولیاں برسانے ، اسلامی اقدار کی پامالی ، فاٹا میں اپنے لوگوں پر بمباری ، ملک کی آزادی و خود مختاری کو غیروں کے ہاتھوں گروی رکھنے والے پرویز مشرف کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ( ق ) کے کئی ارکان سے ہمارے رابطے ہیں ایسے ارکان کو مسلم لیگ ن میں شامل نہیں کیا جائے جس نے پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ۔ انہوںنے کہاکہ ہماری اطلاع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ( ق ) کے فارورڈ بلاک کے ارکان کی تعداد 29 سے 36 ہو گئی ہے ان سے ہمارے رابطے ہیں۔ امکان ہے کہ مسلم لیگ ( ق ) میں فارورڈ بلاک کو اکثریت حاصل ہو جائے گی ۔یہ گروپ مسلم لیگ ن میں ضم ہونے کی بات کر رہاہے ۔ اچھی شہرت رکھنے والے اراکین کو پارٹی قیادت کی منظوری سے مسلم لیگ ن میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ معزول ججز کی بحالی پر پاکستان مسلم لیگ ان کے تمام وزراءکی کابینہ میں واپسی ممکن ہو گی ۔ چار وزراءکو علامتی طور پر کابینہ میں بھیجا ہے۔ اس اعلان پر قائم ہیں۔جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں کسی صورت استعفی نہیں دیں گے اگر مواخذے کی تحریک پیش ہوئی تو بھرپور طریقے سے اس کا سامنا کریں گے۔ راولپنڈی صدارتی کیمپ آفس میں چوہدری برادران سے ملاقات کے موقع پر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ پارلیمنٹ نے انہیں پانچ سال کے لیے منتخب کیاہے اور اپنا آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے ۔صدر پرویز مشرف نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کے ذمہ دار میاں محمد نواز شریف ہیں۔ حکومت سیاسی مفاہمت کی پالیسی اخیتار کرے اور اداروں کے درمیان تصادم سے گریز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری برادران نے ایک بار پھر صدر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مواخذے کی تحریک میں ان کا بھرپور ساتھ دیں گے ۔ چوہدری برادران نے کہاکہ حکمران اتحاد کے پاس مواخذے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود نہیں اور وہ ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے ۔ دوسری جانب نواز شریف کے ترجمان پرویزرشید نے کہا کہ عوام 18 فروری کو صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کر چکے ہیں اور اب صرف قانونی کارروائی باقی ہے۔حکمران اتحاد نے اعلان کیاہے کہ صدرپرویز مشرف کے خلاف چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھاری اکثریت سے منظور ہونے والی قرار دادوں کو بھی مواخذے کی تحریک کے متن میں شامل کیا جائے گا سنگین نوعیت کے جرائم پر مبنی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے کر وفاقی وزیر قانون و انصاف کے سپرد کر دی گئی ہے قائدین کی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی میں جمع کروادیاجائے گا ۔ صدر کے محفوظ راستے کے حوالے سے حکومت کو پیغام نہیں بھجوایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شیری رحمن اور وفاقی وزیر تعلیم وپاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے مواخذہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ جمعہ کو کمیٹی کا اجلاس وزیر اطلاعات کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں چارج شیٹ کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ۔ اجلاس میں شیری رحمن ، میاں رضا ربانی ، سینیٹر اسحاق ڈار ، احسن اقبال ، فرحت اللہ بابر ، فاروق نائیک نے شرکت کی یہ اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا چارج شیٹ کا مسودہ ہفتہ کو (آج) یا کل پی پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو پیش کر دی جایا جائے گا ۔حکمران اتحاد کے قائدین کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں مواخذے کی قرار داد جمع کرا دی جائے گی اس حوالے سے آصف علی زرداری مولانا فضل الرحمن ار اسفند یار ولی خان کو بھی اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ الزامات کی طویل فہرست پر مبنی ہے سات کلیدی نکات میں 1999ءمیں فوج کے اقتدار پر قبضہ ، صدر کی جانب سے چاروں صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بغیر این ایف سی یوارڈ کا اعلان ڈمہ ڈولا میں امریکہ حملے کو حکومت پاکستان کی کارروائی قرار دینے ، لال مسجد آپریشن، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کرنے ، بلوچ عوام کو خطرناک نتائج کی دھمکی ، بلوچستان میں آپریشن اور تین نومبر کو ایمر جنسی اور دیگر غیر آئینی اقدامات کو شامل کیاگیاہے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شیری رحمن نے کہاکہ کمیٹی نے اہم کام مکمل کیا ہے انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کے سفارشات کو وزیر قانون کے سپرد کیا ہے ڈرافٹ کی منظوری قائدین دیں گے ڈرافٹ کی تکمیل اہم پیشرفت ہے انہوں نے بتایاکہ صوبائی اسمبلیوں کی قرار دادوں کو بھی مواخذے کی تحریک کے ڈرافٹ میں شامل کیاجائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام کیلئے کوشاں ہے صدر کے مواخذے سے جمہوریت مضبوط ہو گی انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی آئین قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں احسن اقبال نے کہاکہ چاروں صوبے پرویز مشرف پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں صدر کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ملک بحران کا شکار ہو رہاہے تحریک کے مواخذے کے حوالے سے چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ہر پاکستانی جانتا ہے کہ پرویز مشرف کی مقبولیت صرف چار فیصد ہے آٹھ سالوں میں پرویز مشرف نے ملک و قوم کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں دیا انہیں خود بھی اپنی ناکامیوں کا اندازہ ہو چکا ہے ملک کو ہر قسم کے بحرانوں کا تحفہ دیا گیا انہوں نے کہاکہ سیاسی قوتوں کے خلاف ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنانے والے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں پرویز مشرف مکمل طورپر گھبرا چکے ہیں۔ پرویز مشرف 86فیصد مقبولیت رکھنے والے لیڈر نواز شریف کو بحران کا ذمہ دار قرار دے رہاہے جو انتہائی مضحکہ خیز بات ہے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آج جتنی بھی تباہی ہو رہی ہے اس کی تنہا ذمہ داری جنرل مشرف پر عائد ہوتی ہے پچھلے آٹھ سالوں میں تنہا فرد واحد تمام سیاہ و سفید کا مالک بن کر پاکستان کی معیشت سیاسی اداروں ، عدالتی اداروں کو تباہ کیا پاکستان کے عوام کو غربت ، مہنگائی بے روزگاری تحفے میں دی میں جنرل(ر) پرویز مشرف سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا دو مرتبہ آئین نواز شریف نے توڑا یا جنرل مشرف نے توڑا ہے ؟ کیاپاکستان کی عدلیہ کو نواز شریف نے قید کیاہے یا پرویز مشرف کی وجہ سے ، بالوں سے پکڑ کر چیف جسٹس آف پاکستان کو گھسیٹا گیا اور ساٹھ ججوں کو اہل خانہ سمیت گھروں کے اندر قید کیا میں پوچھتا ہوں کہ کیا نواز شریف نے پاکستان میں قبضہ گروپوں اور لینڈ مافیا کو پروان چڑھایا جنرل مشرف نے چڑھایا انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف نے ملک میں کبھی چینی مافیا ، کبھی گندم مافیا ، سیمنٹ مافیا اور کبھی آئل کمپنی مافیا کو پروان چڑھایا کیانواز شریف نے ملک میں ہارس ٹریڈنگ کرکے کنگ پارٹی بنائی یا جنرل مشرف نے یہ عمل کیا انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف نے ملک میں کرپشن کے مگر مچھوں کو اکٹھا کر کے کنگ پارٹی بنا کر پاکستان کے جمہوریت کے کلچر کو تباہ کیا احسن اقبال نے کہاکہ پوری قوم جانتی ہے پاکستان کے وقار ، خود مختاری ، اس کی سلامتی کا سودا جنرل مشرف نے کیاہزاروں پاکستانیوں کو قتل کیا گیا صرف جنرل مشرف نے بیرونی ممالک کو اپنی افادیت دکھانے کیلئے ایسا کیا۔ جنرل مشرف نے سینکڑوں پاکستانیوں کا ڈالروں میں سودا کیا آج ڈاکٹر عافیہ کا مقدمہ چل رہا ہے کیا نواز شریف نے انہیں باہر بھیجا یا جنرل مشرف نے بھیجا جنرل مشرف کا یہ کہنا کہ نواز شریف ملک کے بحران کے ذمہ دار ہیں یہ ایک بہت بڑا مذاق ہے احسن اقبال نے کہاکہ نواز شریف ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اگر اس ملک میں آئین قانون اور عدالتوں کی بحالی کی جدوجہد کو لڑنے کا مقصد بحران پیدا کرنا ہے تو پھر ہم اس بحران کو بار بار پیدا کریں گے انہوں نے کہاکہ جب تک اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں ہو گی عدلیہ آزاد نہیں ہو گی جمہوریت کی بالادستی نہیں ہو گی یہ ملک نہ محفوظ ہو سکتا ہے نہ ترقی کر سکتا ہے آج صرف جنرل مشرف کی ہٹ دھرمی اور ہر قیمت پرویز مشرف کی کرسی پر بیٹھے رہنے کی خواہش پاکستان کو بحران کے اندر دھکیل رہی ہے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ مواخذے کے لئے کمیٹی اتفاق رائے سے کام کر رہی ہے تمام شقوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور انہیں وزیر قانون کے سپرد کر دیا گیا ہے اسے اب وہ ٹیکنیکل زبان میں ترتیب دیں گے اس کے بعد لیڈر شپ اس کی منظوری دے گی انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کرلیاہے انہوں نے کہاکہ مواخذے کے لئے طویل دستاویز ہے ہم نے اس میں کوئی ایسی چیز نہیںڈالی جو ثبوت کے بغیر ہو ۔ ہم بیانات اور مفروضوں پر دستایوز تیار نہیں کی بلکہ ثبوت کی بنیاد پر تیار کی ہے احسن اقبال نے کہاکہ جنرل مشرف نے اپنے دورمیں آئین کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے اپنے طرز عمل سے صدر کے منصب کے تقاضوں کی دھجیاں بکھیری ہیں ان کے اس طرز عمل سے پاکستان کا وقار کمزورہوا۔ جبکہ امریکا نے صدر پرویز مشرف پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی بحران کو طول دینے کے بجائے رضاکارانہ طورپر عہدہ چھوڑ دیں ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے پاکستانی حکام اور مغربی سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف کے حوالے سے بتایا ہے کہ بش انتظامیہ نے صدر پرویز مشرف سے کہا ہے کہ ان کے حق میں بہتر یہی ہو گا کہ مستعفی ہو جائیں ۔ اور اس سیاسی بحران کا خاتمہ کریں ۔ امریکا اچھے اور پر امن طریقے سے اقتدار کی منتقلی دیکھنے کا خواہاں ہے اور مشرف کے جانشینوں سے اچھے اور قریبی تعلقات کابھی خواہش مند ہے۔ رپورٹ کے مطابق بش انتظامیہ کو اس بات میں دلچسپی ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں تعاون آگے بڑھے۔ مغربی سفارتکاروں کے مطابق حکمران اتحاد نے صدر مشرف کے لیے ایسا سیاسی چیلنج پیش کر دیا ہے جس سے وہ نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اسی لیے بش انتظامیہ صدر مشرف پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباو¿ ڈال رہی ہے۔حکومت نے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے باجوڑ میں طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی موجودگی میں ” ہینڈز اپ “ نہ کرنے والوں کو گولی مارنے کے پمفلٹ گرا دئیے ۔ علاقے سے اپنی ہی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ خاندان ہجرت کرگئے ہیں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا سلسلہ جاری ہے ۔ خواتین اور بچے بھی بمباری کی زد میں آئے ہیں۔ وفاق اور اے این پی کی صوبائی حکومت امریکی تابعداری میں سابقہ حکومت سے دو قدم آگے بڑھ گئی ہے باجوڑ کے مہاجرین کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے ۔ ان خیالات کااظہار جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر اور سابق سینئر وزیر سراج الحق نے باجوڑ کے سابقہ ایم این اے ہارون رشید کے ہمراہ جمعہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے حکومتی پمفلٹ کی ا ور خواتین اوربچوں پر گرنے والے میزائل اور بموں کے ٹکڑے میڈیا کے سامنے پیش کیے ۔ حکومت کی جانب سے باجوڑ میں گرائے جانے والے پمفلٹس میں مقامی آبادی سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں جہازوں کی فضا میںموجودگی کے دوران لوگ اپنے ہاتھ بلند کرلیں ۔ ورنہ خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی ۔ جو شخص پیدل سڑک پر ہو گا وہ نہیں رکا اور ہاتھ نہ اٹھائے تو اسے فوری گولی مار دی جائے ۔ کسی بھی شخص کے پاس اسلحہ نظر آنے پر اسے مار دیا جائے گا۔ علاقے اور بستیوں کو خالی کردیا جائے ۔ رات کے وقت گھروں سے نکلنے والوں کے لیے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے پوری قوم کو ہینڈز اپ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے انتخابات کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت سے عوام کو توقع تھی کہ اسلام اور پاکستان دشمنی پر مبنی امریکی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے گا مگر پرویز مشرف کی پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے امریکی غلامی اور تابعداری کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں دو قدم آگے بڑھ گئی ہیں انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں چھ اگست سے جنگی طیاروں کی جاری بمباری کے نتیجے مین انسانوں کے ساتھ ساتھ مدارس اور مساجد کو شہید کردیا گیا ہے ۔ چودہ اگست اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بھی بمباری کی گئی ۔بمباری کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ سرحد حکومت نے باجوڑ میں وہ اقدام کیا ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں ‘ ہندووں نے کشمیریوں اورروس نے افغانوں کے ساتھ بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کا موقف ہے کہ علاقے میں دھماکے کی وجہ سے آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ دھماکے تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی ہوئے ہیں اس جرم کی پاداش میں باجوڑ میں آپریشن جائز تھا تو اسلام آبادمیں کیوں جائز نہیں ہے ۔ اس کا آغاز تو اسلام آباد سے ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی امریکہ سے اپنے عوام کے خلاف آپریشن کرنے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں چودہ امریکی مشن کو ان کے حالیہ دورے پاکستان کے موقع پر اطمینان دلایا گیا ہے پرویز مشرف اگر مواخذے کے ذریعے چلا گیا تو اے این پی‘ پی پی پی اور دیگر اتحادیوں پر مشتمل حکومت آپریشن جاری رکھے گی ۔ امریکہ کی جانب سے سپرد کیے گئے کاموں کی نگرانی کی جائے گی ۔ سراج الحق نے کہا کہ باجوڑ مین قتل عام کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئی مذاکرات اور عدالت موجود نہیں ہے ۔ عدلیہ مفلوج اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تو مظلوم ہیں قوم کے بچوں کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا جا رہا ہے ۔ ایجنسیوں نے اس دھرتی کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ڈالروں کے عوض امریکہ کو فروخت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں مہاجرین باجوڑ سے زخمی حالت میں گھر بار چھوڑ رہے ہیں اپنے ہی ملک کی فوج نے ان لوگوں کو مہاجرین بننے پر مجبور کیا ہے انہوں نے کہا کہ صرف الخدمت فاو¿نڈیشن ان مہاجرین کو سنبھال رہی ہے مقامی آبادی اپنے بس کے مطابق کیمپ اور غذا کی اشیاء فراہم کرہی ہے ۔عالمی برادری اورریلیف ایجنسیاں کوئی ان کی مدد کے لیے آئی ہیں نہ حکومت نے کوئی کیمپ لگایا ہے ۔ ایک ایک جگہ پر دو ہزار سے زائد خواتین اور بچے پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہیں بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں ۔ خواتین ادویات سے محروم ہیں۔ علاقے میں قیامت بپا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپر آپریشن کو بند کرے‘ لٹے پٹے قافلوں کی مدد کی جائے ۔ علاقے میں آپریشن سے فوج کا وقار ختم ہو رہا ہے ۔ قوم نے کیا فوج کو اسلحہ بارود گولیاں اس لیے دی تھیں کہ دشمن کے بجائے اپنے لوگوں کو اس کا نشانہ بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن جاری رہا تو نیٹو کو مداخلت کا جواز ملے گا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی ایسا کوئی باضمیر انسان نہیں ہے ۔ جو انسانوں کے بہنے والے خون پر صدائے احتجاج کرسکے ۔ انہوں نے علاقے میں بچوں اور خواتین کی شہادت کے حوالے سے ثبوت بھی پریس کانفرنس میں پیش کیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے صوبائی حکومت اور مشیر داخلہ رحمن ملک کی جانب سے آپریشن جاری رکھنے کے اعلان کو یکسر مسترد کردیا انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں جب بنگالیوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو اس وقت بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ حالات کنٹرول میں ہیں ۔ مگر 80 ہزار فوج کو جنگی قیدی بنانے اور ڈھاکہ ٹوٹنے کا سانحہ سب نے دیکھا۔اس حوالے سے گذشتہ روز وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قو می اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ صوبہ سرحد کے قبائی علاقے باجوڑ کی مخدوش صورت حال پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے رابطہ کرلیا ہے۔ فوج کے سربراہ کی جانب سے اس بارے میں جلد ہی وزیراعظم کو تازہ صورت حال کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی ۔ حکومت نے باجوڑ س ے نقل مکانی کرنے والے افراد کی ہر ممکن مدد کے لیے صوبائی حکومت کو وسائل کی فراہمی کا اعلان کیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں جمعہ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاو¿ کے نکتہ اعتراض کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صورت حال کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف سے بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیںکہ ملک میں امن ہو دہشت گردی اور انتہا پسندی نہ ہو کوئی بھی حکومت اپنے لیے مسائل پیدا نہیں کرتی ۔ ہم نے ان ایشوز کے حوالے سے حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے ۔ مذاکرات اور سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں ہتھیار پھینکنے والوں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں قبائلی عمائدین ، عسکریت پسندوں سے خود کو الگ کرلیں۔پسماندگی کی وجہ سے عسکریت پسند حالات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے فاٹا میں معاشی سماجی ترقی، مذاکرات کو ترجیحات میں شامل کیا ہے ۔ طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا۔ سوات میں امن معاہدہ کیا گیا اس کے باوجود علاقے میں سکولز ، سی ڈی ایز شاپس ، ہوٹلز ز ،باربر شاپس کو اڑا دیا گیا ۔ سیکورٹی فورسز پر حملے شروع کردئیے گئے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا گیا جس پر کارروائی لازمی تھی دو متبادل حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ باجوڑ میں نہ صرف فورسز کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کے اغوائ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔ ملک کا امن تباہ کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے قبائلی عوام محب وطن ہیں صرف چند شرپسندوں جن کا تعلق ازبک چیچنیا اوردیگر غیر ممالک سے ہے امن تباہ کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مشیر داخلہ کو نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے صوبہ سرحد بھجوایا گیا ہے ۔ بے گھر افراد کو و فاق کی جانب سے خیمے ، غذا اور دیگر سامان فراہم کیا جائے گا۔فوج کے سربراہ سے موجودہ صورت حال کے ہوالے سے بریفنگ کے لیے رابطہ کیا ہے وہ جلد ہی ہمیں باجوڑ کی تازہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ قبائلی عوام کو یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ حکومتی رٹ اور امن کا قیام ان کی مشاورت سے چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں خودکش حملوں کی وجہ سے سرمایہ کاری اور معیشت متاثر ہو رہی ہے امن وامان کا قیام اور معاشی استحکام حکومتی ترجیحات ہے ۔ اس حوالے سے عوام ہماری مدد کریں۔جبکہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف اور آصف علی زرداری ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں جبکہ نوازشریف ان سے قدرے بہتر ہیں۔ یہ سب امریکہ کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری خود انصاف کیلئے ٹھوکریں کھارہا ہے وہ ہمیں کیا انصاف دلائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج شاہ کوٹ کی مسجد ومدرسہ اشرفیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں حکمرانوں کی نظر میں دہشت گرد ہوں مگر میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کررہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب جامعہ مدرسہ حفصہ میں آپریشن ہوا اس وقت طلبہ وطالبات کی تعداد چار ہزار تھی جن میں سے 17سو نے گرفتاری دے دی جبکہ بقیہ کا کوئی پتہ نہیں۔ آپریشن کے دوران چھوٹے بچوں کو بھی شہید کردیا گیا۔ ہمارے پاس جگہ اتنی کم تھی کہ ہم نعشوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے رہے۔ آپریشن کے دوران پانی وبجلی اور گیس کے ساتھ ساتھ ہمیں خوراک کی فراہمی پر بھی پابندیاں عائد کردیں گئی۔ ہم چنے بارش کے پانی میں بھگو کر کھاتے رہے۔ جب تک مولانا عبدالعزیز گرفتار نہیں تھے اس وقت تک آپریشن کی رفتار بڑی سست تھی اور ہمیں نماز کی ادائیگی کا وقت مل جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کیا اور آپریشن میں بے گناہوں بچوں کا قتل عام کیا۔ بلوچستان اور وزیرستان میں بھی امریکہ کو خوش کرنے کیلئے آپریشن کیا جارہا ہے۔ جبکہ ملک بھر کی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کی مرکزی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر کے وکلاء پرویز مشرف کے کامیاب مواخذے یا ان کے رضا کارانہ استعفے کے بعد ہر دو صورتوں میں پرویز مشرف کو محفوظ راستے دینے کے کسی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ 15 ستمبر سے قبل اگر مواخذے کی تحریک نمٹانے اور کامیاب مواخذے کے 3 دن کے اندر اگر چیف جسٹس سمیت تمام معزول ججوں کو اعلان اسلام آباد کے مطابق بحال نہ کیا گیا تو ملک بھر میں دھرنا تحریک سے پاکستان کو جام کردیا جائے گا اور پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی موجودہ حالات میں اگر اٹھاون ٹو بی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کے وکلاء اور عوام پارلیمنٹ کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے ۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے دن ملک بھر میں جشن اور یوم نجات منایا جائیگا۔ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ بارکے صدر بیرسٹراعتزاز احسن نے جمعہ کے روز ہائی کورٹ بار میں قومی مشاورتی کونسل کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مشاورتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ملک بھر کی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کے عہدیدار بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اعتزاز احسن نے اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گو کہ پاکستان کے وکلاء وعوام ججوں کی بحالی پہلے دیکھنا چاہتے تھے لیکن وکلاء کے لگائے ہوئے گو مشرف گو نعرے کے تحت پرویز مشرف کے مواخذے کی مکمل طورپر حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دلیر وکلاء سول سوسائٹی اور عوام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے وکلا یہ سمجھتے ہیں کہ کسی عدالت کی طرف سے حکم امتناعی کے اجراء کا شائبہ کی اطلاعات کے حوالے سے کسی عدالت کو یہ حق نہیں کہ پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹ بنے ایسا کوئی حکم امتناعی کسی صورت جاری نہیںکیا جا سکتا اگر ایسا ہوا تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی اعلان اسلام آباد پر تمام سیاسی جماعتوں کے یہ الفاظ کہ اتحادی حکومت تمام ججوں کو بحال کرے گی جس کے بعد ” مائنس ون “ کا کوئی فارمولا لاگو نہیں ہو سکتا جو اعلان مری کی توثیق ہے انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے ا علان مری پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے جس کے لیے کوئی آئینی پیکج اب رکاوٹ نہیں رہا ۔ اب کسی جج کی مدت ملازمت میں کمی یا اختیارات پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی حکمران اتحاد نے مواخذے کے فوری بعد ججوں کی بحالی کا الان کیا ہے اگرچہ حکمران اتحاد نے مواخذے کی صورت میں پرویز مشرف کو صدر ڈکلیئر قرار دیا لیکن ہم اپنے تمام تحفظات کو برقرار رکھتے ہوئے اعلان مری کے احاطے پر یہ سمجھتے ہیں کہ جس قیادت نے اس معاہدے پرد ستخط کیے ہیں وہ اس کی پابندی بھی کریں گے اور اس کا حشر اعلان مری جیسا نہیں ہو گا۔ حکومت عوام سے اپنا وعدہ پورا کرے گی اس دعوے میں کوئی آئینی پیکج اور مائنس ون فارمولا رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ حکومت کے اس غیر مبہم اعلان کے بعد اب شک کی گنجائش باقی نہیں رہی ہمیں خدشہ تھا کہ مواخذے کی طوالت کے باعث ججوں کی بحالی کا معاملہ مزید طول پکڑے گا لیکن چار صوبائی اسمبلیوں نے تیزی کے ساتھ مواخذے کی حمایت کیہے اور پرویز مشرف کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد یں منظور کی ہیں ۔ آج شیر پاو¿ اور ایم کیو ایم کے علاوہ ان کی اپنی جماعت بھی پرویز مشرف کو چھوڑ چکی ہے بہتر ہے کہ ان حالات میں پرویز مشرف خود مستعفی ہوں بہرحال پرویز مشرف کا مواخذہ ہو یا وہ خود استعفی دیں ہم ان کے کسی محفوظ راستے کے حق میں نہیں ہیں۔ لہذا پرویز مشرف کا غیر جانبدارانہ اور سخت ترین ٹرائل کیا جائے ۔ کامیاب مواخذے کی کارروائی کے بعد ہم وکلاء بھی یہ عید کرتے ہیں کہ جس روز مواخذہ کامیاب ہو یا پرویز مشرف استعفی دیں تو وکلاء ملک بھر میں جشن اور یوم نجات منائیں گے اور قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ قوم سے جشن اور یوم نجات میں بھرپور شرکت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے وکلاءکا پہلے سے ہر جمعرات کو جاری ہفتہ وار بائیکاٹ یومیہ سے علامتی ہڑتال اور بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔ علاوہ ازیں وکلاء کے اجلاس میں میڈیا کے موجودہ کردار کوبھی سراہا گیا ہے ۔ بالخصوص 12 مئی 7 جولائی اور 9 اپریل کے شہید وکلاء کے جذبوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیاہے ان کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت اب ہماری منزل قریب ہے ہم حکومت پر اعتماد کرتے ہیںلیکن اگر ججوں کی بحالی میں تاخیر ہوئی یا 3 یوم میں ججوں کو بحال نہ کیا گیا اور پندرہ ستمبر تک مواخذہ نمٹانے کے بعد ججوں کو بحال نہ کیا گیاتو ملک بھر کے وکلاء اپنے 19 جولائی کے فیصلے پر پوری طرح عمل کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اور آل پاکستان وکلاء کانفرنس کے فیصلوں کے تحت دھرنا تحریک اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کرکے پاکستان کو جام کردیا جائے گا ہر تحصیل اور ضلع کی سطح پر بھرپور احتجاج کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے 9 سے 12 اکتوبر تک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس کا افتتاح چیف جسٹس افتخار چوہدری کریں گے جبکہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق کانفرنس میں بیرون ملک سے وکلائ اور جج شرکت کریں گے ۔جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو میڈل دیا جائے گا۔ جو200 سالہ تاریخ میں ایسا اعزاز ہے جسے وصول کرنے چیف جسٹس بوسٹن جائیں گے یورپی ممالک میں مقیم پاکستانی چیف جسٹس کے استقبال کے لیے بے تاب ہیں اس وقت تک اگر چیف جسٹس بحال نہ ہوئے تو پاکستان کی عالمی سطح پر رسوائی ہوگی انہوں نے کہا کہ امریکی بار ایسوسی ایشن نے پاکستان کے وکلاء کی جرات پر انہیں خصوصی ایوارڈ دیا ہے جسے ملک بھر کی وکلائ قیادت ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عصمت اللہ کی حفاظتی تحویل میں دینے کا اعلان کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی مشاورتی کونسل کا آئندہ اجلاس 20 اگست کو اسلام آباد میں ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اٹھاون ٹو بی کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جوپارلیمنٹ پرویز مشرف کا مواخذہ کرکے ججوں کو بحال کرنے والی ہے اگر اٹھاون ٹو بی کا استعمال کیا گیا تو ملک بھر کے وکلاء اور عوام فوری سڑکوں پر نکل کر پارلیمنٹ کا تحفظ کریں گے اور پارلیمنٹ بحال رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی کال دینا کسی بھی بار ایسوسی ایشن کا حق ہے لہذا ہم اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں کہ کوئی بارکونسل کسی ایسوسی ایشن کو احتجاج سے روکے اور تمام صوبائی بار کونسلیں پاکستان بار کونسل کے اس فیصلے کے خلاف متحد ہیں ۔قبل ازیں ملک گیر سطح پر وکلاء کی قومی مشاورتی و عملدرآمد کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کی جبکہ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رشید اے رضوی ، رکن پاکستان بار کونسل حامد خان، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری اسلم سندھو ، ہائی کورٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار عصمت اللہ ، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال ، پشاور ہائی کورٹ کے صدر لطیف آفریدی ، ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر محمود اشرف ، کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر محمود الحسن ، ڈیرہ اسماعیل خان ہائی کورت بار کے صدر داود خان ، لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری لطیف سرا ، بلوچستان ہائی کورٹ بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ اور موجودہ صدر امان اللہ ایبٹ آباد ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری ملک امجد ، ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے صدر سردار طارق مسعود ، ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد کے صدر ہارون الرشید ، سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید ، آزادکشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین ابراہیم ضیاء، نائب صدر سپریم کورٹ بار سعید اختر اور سپریم کورت بار کے سابق صدر جسٹس(ر) طارق سمیت دیگر وکلاء قائدین نے شرکت کی ۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment