International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 11, 2008

کیسا جشن اور کیسی عید آزادی



پاکستانی قوم ہر سال چودہ اگست کوپورے جوش و جذبے سے عےد اذادی مناتی ہےحکومتی ادارےغےر سرکاری تنظمےں اربوں روپے کے اصراف سے گھروں بازاروں اور گلی کوچوں مےں سبز ہلالی پرچم لہرا کر عےد اذادی کا جشن مناتے ہےںبڑے شہروں مےں سڑکوں کو جھنڈےوںتحرےک پاکستان کے قائدےن کی دلکش تصاوےر اور قد آور پورٹرےٹس سے دلہن بنادےا جاتا ہےسرکاری دفاتر مےں پرچم پاکستان لہرا کر تحرےک پاکستان کے مقاصد کے ساتھ تجدےد عہد کےا جاتا ہےہوٹلوں اور مےٹنگ ہالز مےں سےمےنارز ارگنائز کئے جاتے ہےںفوجی جوان پرےڈوں مےں بابائے قوم کی تصوےروں کو سلامےاں پےش کرتے ہےں توپوں کی گھن گرج سے اپنے زندہ ہونے کاڈھول پےٹاجاتا ہے چودہ اگست کوصدر سے لےکر وزرائے اعظموں تک اور صوبوں کے ولی عہدوں سے لےکر کوتوالوں اور بےوروکرےٹوں تک سارے قائد کی محبت مےں ہلکان نظر اتے ہےںمےڈےا مےں صاحبان اقتدار کے لمبے لمبے خوش فہم بےانات چھپتے ہےںوزرا اور دانشور کانفرنسوں مےں پھےپھڑوںکا پورا زور لگا کر تحرےک پاکستان کے بانےان کو خراج عقےدت پےش کرتے ہےںمجموعی طور پر پورے ملک مےں دوچار ارب روپے عےد ازادی کے جشن کا اےندھن بنادئےے جاتے ہےں لطف کی بات تو ےہ ہے کہکوئی سرکاری ادارہ عےد ازادی کے نام پر جتنا فنڈ پھونک دئےاس طلسماتی رقم کا کوئی آڈٹ نہےں ہوتا نوجوان عےد سعےد کے موقع پر بہت متحرک ہوتے ہےںٹی وی پروگرامز مےں ناچ گانے منعقد ہوتے ہےںمشاعرے جوبن کے اسمان پر چم ستاروں کی مانندچمک رہے ہوتے ہےںرات کو جشن چراغاں کی محفلےں سجتی ہےںجن مےں اخلاق سے عاریاسلامی و مشرقی رواےات کے برعکس مناظر دکھاے جاتے ہےں بابائے قو نے فرماےا تھاکہ پاکستان مےں شراب پر پابندی ہوگی خاکسار دعوے سے کہتا ہےکہ پورے ملک مےں سب سے زےادہ شراب چودہ اگست کو سےل ہوتی ہےملک کے گلی کوچوں مےں قائم طوائف خانوں مےں کافی جوش و خروش پاےا جاتا ہےبازاروں مےں کھانے پےنے کی اشےا پھلوں اور سبزےوں کی قےمتےں سو گنا بڑ ھا دی جاتی ہےں کہا جاتا ہےکہ زندہ و باوقار قومےں اپنے قومی دنوں کو پوری ان بان شان سے مناتی ہےںلےکن سچ تو ےہ ہےکہ عےد ازادی کے دوسرے روز پورے ملک کا منظر ہی بدل جاتا ہے پندرہ اگست کو نہ تو کسی کو قائد اعظم کی ےاد ستاتی ہے اور نہ ہی کسی کو اےک روز پہلے کی جانےوالے تقارےر کا متن ےاد اتا ہےخاکسار عےد ازادی منانے والے ہر شخص سے وہ چاہےصدر مملکت ہو ےا جرنےل وہ سرکاری افسر ہو سےاسی طرم خاندانشور ہو ےا صحافی اےک سوال پوچھنے کی جسارت کررہا ہےکہ کےا اس ملک مےں عےد ازادی منانا جائز ہےجس رےاست کی اٹھاونے فےصد ابادی کو دوفےصد کے اقلےتی ٹولے نے پچھلے ساٹھ سالوں سے غلام بنا رکھا ہوجہاں سرحدوں کی حفاظت پر مامور جرنےل اقتدار پرستی و جاہ پرستی کی ہوس گےری مےں آئےن کو روند دےں جہاں فوجی امر بودے لزامات کی آڑ مےں جمہوری حکومتوں پر شب خون مار کر مےکاولے کے پرنس بن جاتے ہےں جہاں سال کے364 دنوں مےں سرکاری دفاتر مےں بانی پاکستان کی تصوےر کے عےن نےچے اربوں روپے کی رشوت وصول کی جاتی ہوجہاں بانی پاکستان کے منشورتحرےک پاکستان کے افکار کی بوقلمونےوں اور ملک کی تخلےق کا فن پارہ بنانے والی جماعت مسلم لےگ کی حرمت کا لوٹ ماراقتدار پرستیکرپشن اور ناانصافی کے بازار مےں روزانہ جنازہ پڑھا ےاجاتا ہوجس دھرتی پر اطراف و جوانب مےں کمزوروں پر ظلم کی ےلغار جبر کی بھر مار اور حکومتی چےرہ دستےوں کی برسات کی جاتی ہوجہاں انصاف بکتا ہومقہور سکتا ہوانصاف کا طالب عدلےہ کی دہلےزوں پر تڑپ تڑپ کر مرتا ہوجہاں سرماےہ داروں جاگےرداروں بےوروکرےٹوں اور جرنےلوں پر مشتعمل اقلےتی گروپ انواع اقسام کے کھانے اور جام شےرےں نوش فرماتا ہواور انکے کتے ہوائی جہازوں کی سےر فرماتے ہوں اور مخمل کے بستروں پر ےہی کتے آرام کرتے ہوںاور دوسری طرف لاکھوں کروڑوں بچے روزانہ چائلڈ لےبر کے شکنجے مےں کسے جاتے ہوںمعصوم بچے گند کے ڈھےروں سے پےٹ کی بھوک مٹانے کے لئے روٹی کا نوالہ تلاش کرتے ہوںجس زمےن پر مساجد کے امام فرقہ وارےت کا درس دےکر دوسرے مسلمان بھائےوں پر کفر کے الزامات کی من و سلوی کرےںجہاں سولہ کروڑ کی ابادی مےں سے نوکروڑ پاکستانی افلاس کی گولیبھوک کا کےپسول اور مفلوک الحالی کا ٹانک روز بروز کھانے پےنے کے بعد لاغر ڈھانچوں کا روپ ڈھال چکے ہوں ےہ کےسا سماج ہےجہاں دوکروڑ سے زائد کم عمر بچوں کے پاس زےور تعلےم سے ہم اہنگ ہونے کے لئے اےک پےسہ نہےںجبکہ دوسری طرف وڈےروں اور ارباب بزجمہر کے بچے مہنگے ترےن سکولوں اور غےر ملکی ےونےورسٹےوں مےں تعلےم حاص کرتے ہوںجہاں اکےسوےں صدی مےں بھی ہزاروں تعلےمی ادارے بنےادی سہولتوں سے محروم ہےں©جہاں شرح خواندگی صرف تےس فےصد ہوجہاں جمہورےت کا نقارہ بجا نے والی سےاسی جماعتوں مےں ڈکٹےٹرشپ اور خاندانی وراثت کا غلبہ ہوجہاںوڈےرے اور جاگےردار ہی الےکشن لڑ سکتے ہوںغرےب ادمی کے لئے الےکشن لڑنے کا تصور ہی محال ہے جہاں قانون سکتا ہواور قانون کی اتھارٹی صرف جس کی لاٹھی اسکی بھےنس والے مقولے سے مشابہت رکھتی ہوجہاں اےک جانب حکومتی گماشتے اور اقتدار کی راہدارےوں پر قابض سلاطےن اور سربرائے سلطنت بادشاہوں کی سےکےورٹی اور تزک و احتشام کے لئے بارہ بارہ گھنٹے سڑکےں بند کرکے ہزاروں لاکھوں پاکستانےوں کو زہنی کوفت کا نشانہ بناےا جاتا ہوجبکہ دوسری جانب اےمبولےنس کو راہ نہ مل سکےاور اس مےں پڑا ہوا بدبخت مرےض اپنے حاکموں کے وی ائی پی پروٹوکول کی بھےنٹ چڑھ کر جان جان آفرےں کے سپرد کردےجس رےاست کے ہسپتالوں مےں عوام کی مسےحائی کا دعوع کرنے والے ڈاکٹرز مرےضوں کو بار برداری کا کام کرنے والے گدہوں بےلوں اور ڈنگروں جےسے سلوک سے نوازتے ہوںناداروں کا خون نچوڑتے ہوں جہاں سےاست تجارت بن جائےلاچار و بے بس ووٹرز کے کاندھوں پر سوار ہوکر اسمبلےوں مےں جلوہ گر ہونے والے ممبران پارلےمنٹ اور سےنٹ پل پل مےں بندر کی طرح چھلانگےں لگاتے پھرےںاور وزارتوں و شاہی نعمت خواناں کے لالچ مےں اےمان و ضمےر فروشی کرنے کو قومی مفادات کا نام دےںجس حرماں نصےب ملک کی عدلےہ فوجی حکمرانوں کے امرےت زدہ فےصلوں کو اےل اےف او اور پی سی او کا لباس پہنا کر قانونی جواز دےنے کی عادی بن جائے جہاں ہر ڈکٹےٹر کی خوشنودی کے لئے نظرےہ ضرورت کا تےر بحدف نسخہ استعمال کےا جائے جہاں انصاف کی پاسداری قانون کی سربلندی اور جمہورےت کی کارفرمائی قصہ پارےنہ بن جائےعدل کی گھمبےرتا کا المےہ ملاحظہ کرےںکہ اےک امر نے رےاست کی بلند و بالا عدالت کے سرخےل کو اپنے دفتر مےں محض اس وجہ سے محبوس کردےا کہ وہ لاٹ کی جنبش ابرو پر سرنگوں ہواور مراعات کے عوض مستعفی ہو مگر چےف ڈٹ گےاجھکا نہےںاکڑ گےا مگر بکا نہےں چوہدری کی ثابت قدمی پرحاکم وقت اور اسکے حواری سےخ پا ہوگئےاور انہوں نے اپنی بے عزتی کا بدلہ چکانے اور چےف کی حق پروری پر اسے راندہ درگاہ بنانے کے لئے پورے ملک کا عدالتی نظام تباہ کرڈالااور رےاست کے سب سے بڑے منصف اور قاضی القضاہ کو ڈنڈے کے زور پر معزول کرڈالاپورا ملک اس کی بحالی کا نعرہ لگاتا ہےوہ خود دربدر ہوکر سڑکوں پر انصاف کے حصول کے لئے خاک چھان رہا ہےلےکن تخت نشےنوں کو کوئی پرواہ نہےںانکے کانوں مےں جوں تک نہےں رےنگتیجہاں کے بادشاہ عوام کی اہوں سے بچنے کی بجائے انکے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہوں جس رےاست کی فوج کو امرےکےوں کی خواہش پر اپنے ہم وطنوں پر چڑھا کر خون کی ہولےاں بہانے اور اپنوں کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کردےا جائےجس کے کتھارس کے طور پر قبائلی بھی سربکف ہوچکےطرفےن نے اےک دوسرے کے ہزاروں فوجےوں و انتہاپسندوں کی زندگےوں کا چراغ گل کردےا ہوجس ملک کا قانون ساز ادارہ قانون سازی کی بجائے سوکنوں کی لڑائی کے مناظر دکھاتا ہواور جس پارلےمنٹ کو مچھلی بازار کا اےوارڈ دےا جاتا ہو پارلےمنٹ کے ممبران اپنی متعلقہ سےاسی جماعت کے مدح سرا بن جائےںانکی نکےل جماعتوں کے قائدےن کے ہاتھ مےں ہوجو پانچ لاکھ افراد کی نمائندگی کرتا ہےلےکن پارٹی چےف اسے پتلےوں کی طرح ادھر ادھر گھماتے ہوںوہ باضمےر ہونے کے باوجود پارٹےوں کے غلام بن جاتے ہےںلےکن اےسی سنہری و قابل دےد خدمت کے عوض شاہی خلعت فاخرہ سے نوازے جاتے ہوں جہاں قدم قدم پر فحاشی کے اڈے کھلے عام کاروبا کرتے ہوں اس سے بڑا ظلم اور کےا ہوگاکہ معماران قوم کو دشمن ملکوں کی تہذےب و ثقافت سے اراستہ و پےراستہ کرنے کے لئے گلی گلی قرےہ قرےہ بھارتی فلمےں دھوم دھڑکے سے دکھائی جاتی ہوں جس ملک مےں عورت اےسی مقدس ہستی کو سرعام گےنگ رےپ کے جہنم مےں ڈالا جاتا ہوجہاں لاقانونےت کا بول بالا ہوجہاں خود کش بمباروں کا راج ہوبے روزگاری کے لشکر دندنا رہے ہوںہر طرف پسماندگی و جہالت کی اتھاہ تارےکےاں شب ظلمت بن کر چھائی ہوئی ہوںعلما نفرتوں اور حقارتوں کا درس دے رہے ہوںاور ےہی عالم فاضل خدا بن کر جنت کی ٹکٹےں بھی بانٹ رہے ہوںجہاں کی خود مختےاری کا ےہ عالم ہوکہ امرےکی اےجنسےوں کے اےجنٹ انتہاپسندی کا نام لےکر چاروں صوبوں سے لوگوں کو پکڑ کر گوانتاناموبے بھےج رہے ہوں حد تو ےہ ہے کہ عوام کی جان و مال کی نگہبانی کے ذمہ داران اور سےکےورٹی فورسز نے آئی بی سے چھ سو ڈالر فی کس لےکر ہم وطنوں کو خود گرفتار کرواےا جہاں قومی مفادات پر زاتی ترجےحات کو فوقےت حاصل ہوجس ملک کی خارجہ پالےسی ےہود و نصاری کے فوائد کو مدنظر رکھ کر تشکےل دی جاتی ہوجہاں راتوں رات سےاسی جماعتوں کا بت کھڑا کردےا جاتا ہوقومی اثاثوں کو کوڑےوں کے بھاو بےچ دےا جاتا ہومگر عوام کی زبانوں پر چپ کے پہرے لگ جائےںجس ملک مےں قدم قدم پر لوگوں کا استحصال کےا جاتا ہوجہاں وڈےروں نے رےاست کے اندر رےاستےں بنا رکھی ہوںاور خود زاتی عدالتےں بھی قائم کررکھی ہوںان عدالتوں مےں وکےل بھی گودہچےف جسٹس بھی گودہ اور فےصلہ سنانے والا بھی گودہجو گودے کے حکم کی اتباع نہ کرے اسے علاقہ بدر ےا حوالہ پولےس کردےا جاتا ہوجس ملک مےں اےک ڈکٹےٹر نے اسلام کے نام پر گےارہ سال حکومت کیاس نے وحشت کا ثبوت دےکر کروڑوں پاکستانےوں کے دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے جمہوری و منتخب وزےراعظم کو عدالتی قتل کا شکار بنا کر قوم کو دنےاوی ترقی کی دوڑ مےں سو سال پےچھے کردےا دوسرے نے ادھا ملک بادہ و جام مےں گھول کر قوم کو نہ بھولنے والا سقوط ڈھاکہ نام کا زخم دےاجس سے تاقےامت دکھوں اور اہوں کا خون رستا رہے گاتےرے عسکری مےاں مشرف نے طےارہ ہائی جےکنگ نام کا ڈرامہ لکھااور پھر اس کی سربراہی مےں تمام اداکاروں نے حقےقی اداکاری کرکے جمہوری حکومت کا گلا گھونٹ ڈالاجس زمےن پر قومی ہےروز کو پاےہ زنجےر کرکے قےد کی وحشت ناک تنہائےوں کے سپرد کردےا جائےاور قوم چوڑےاں پہن کر گھروں مےں روتی رہتی ہوجس ملک کا سربراہ اےٹمی قوت کے ہتھےار سے تو لےس ہومگر ےہود و نصاری کے سامنے مٹی کا مادھو بن کر غےرت و حمےت کو رےت کی طرح جھاڑ دے جہاں کوئی بھوک سے مررہا ہو تو کوئی رےاستی استحصال کی چاند ماری سے جاں بلب ہوکوئی دو وقت کی روٹی کے لئے صدائےں دے رہا ہو تو کوئی انصاف کی دہائی دے رہا ہوکوئی محرومےوں کی وادےوں مےں اوندھا پڑا ہو تو کوئی وڈےرے کی ظلمت سے بچانے کی اہ و بکا کررہا ہو جہاں انصاف معدوم ہوجائےرہبر رہزن بن جائےںدولت والے معاشرے کی پہچان جبکہ غرےب غربا اچھوتجہاں پورا دےس مسائل و مصائب کے انبار تلے دھاڑ رہا ہوملکی سلامتی خطرے سے دوچار ہوجائےلےکن شاہی محلات کے راوی چےن کی بانسری بجاتے ہوںجس دےس مےں امن کی بجائے طوائف الملوکیجمہورےت کی بجائے ازمنہ قدےم والی بادشاہت قائم ہودو فےصد تو موجےں اڑائے لےکن اٹھانوے فےصد دھتکار دےں جائےںجہاں ہر طرف جورو جفا کی اندھےاں چل رہی ہوںجہاں قوم کے بچوں کو جہالت کے ٹوپ پہنائے جاتے ہوںلوگ خود کشےوں کو مسائل کا حل سمجھےںکےا سےاسی افراط و انتشارمذہبی گروہ بندینسلی و فروعی مسائلاقرباپروریلوٹ مارنفرت و حقارت سے لبرےز معاشروں مےں عےد ازادی نام کا نقارہ بجاےا سکتا ہے؟کےا اےسے معاشروں مےں جشن ازادی کے نام پر اربوں کو خرچ کرنا درست ہے؟کےا افکار قائد کی بے حرمتی کرنے والے حکمرانوں کو قائد کے نام کی تقارےر کرنے کا حق حاصل ہے؟ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا قارئےن اور عےد ازادی کے مبلغےن کو تلاش کرنے چاہےں بانی پاکستان نے فرماےا تھا کہبڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے ہم سب پر مملکت کے ملازم اور خادم ہےںبابا نے اپنی زندگی مےں اےک نصےحت اموز فقرہ ےوں کہاں تھا کسی بھی شخص کے پاس کےا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے اعلی معےار پر مبنی جمہورےت و مساوات اور ازادی سے گھبرائے اےک اور موقعہ پر قائد ےوں گوےا ہوئےکہ مےرے پاس جو پےسہ ہےوہ مسلمانوں کی امانت ہےعےد ازادی کے مبلغےن اور چودہ اگست کو اربوں کی سلامی وصول کرنے والے ارباب بست و کشاد سے ےہ پوچھا جانا ضروری ہےکہ کےا ہم افکار قائد کو حرز جان بناتے ہےں؟کےا ہمارے حکمران چاہے وہ فوجی تھے ےا سےاسی وہ معذور تھےےا شباب و کباب کے دلدادہوہ مرد مومن تھے ےا روشن خےال خاقان اعظم نے پچھلے ساٹھ سالوں مےں اس سےاہ شب مملکت کے کم نصےب لوگوں کو مساوات رواداری و انصاف سے لبرےز نظام حکومت کی فےض گسترےوں سے نوازا ہےکےا کلمہ طےبہ اور اسلامی جمہورےت کو منشور بنا کر حاصل کردہ ملک مےں ارباب بست کشاد نے حقےقی جمہورےت کی بنےادےں کےوں کھوکھلی کردےں؟ہمارے ہاں کتنے فےصد مسلم لےگی اےسے ہےںجن کے دامن پر امرےت کو سےاسی اےندھن مہےا کرنے کی الودگی موجود نہےں؟ کتنے فےصد سےاسی لےڈر اپنی دولت عوام کی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہےں؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی مےں ہےتو پھر کونسی جشن ازادی اور کےسی عےد ازادیصاحبو چودہ اگست حکمرانوں سے لےکر سےاسی راجکماروں تک اور عوام سے لےکر فوجی بابووں تک کئے عےد ازادی نہےںبلکہ اپنے اپنے احتساب کی پےشی کا دن ہے اے پی ایس

No comments: