
پرویز مشرف کی روانگی نوشتہ دیوار بن چکی تھی ‘ امریکا اور فوج کی حمایت سے محرومی کے بعد عبرت آمیز ذلت ہی ان کا مقدر تھی۔ مشرف کے بعد اب ان کی پالیسیوں سے نجات بھی ضروری ہے ۔ پاکستان کے عوام برسوں سے اس دن کے منتظر تھے اب اگر پرویزمشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ عوامی امنگوں کے منافی ہوگا۔ پرویز مشرف کا دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ۔ انہوں نے قوم کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا ۔ امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے فوج اور عوام کو آپس میں لڑایا ‘ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو روشن خیالی کی بھینٹ چڑھایا۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ٹکوں کے عوض امریکا کے حوالہ کیا ۔ علمائے کرام کو قتل کیا گیا ۔ قوم کو مہنگائی اوربے روزگاری کا تحفہ دیا گیا ۔ آج باجوڑ خالی ہوچکا ہے اور باجوڑ کی عزت مآب خواتین اور معصوم بچے رو رہے ہیں وزیرستان اور بلوچستان کے عوام پر ستم ڈھایا گیا ہے ۔ مشرف دور حکومت نے سینکڑوں انسانی المیوں کوجنم دیا۔ مشرف ہی نہیں اس کی پالیسیوں سے بھی نجات ضروری ہے حکمران اتحاد اپنے وعدے کی روشنی میں اب فوری طورپر ججوں کو بحال کرے ۔ چارٹر آف ڈیمو کریسی کی روشنی میں ملک کو چلانے کی ضرورت ہے ۔ این آر او کو ختم کر کے لوٹی ہوئی دولت پاکستان لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر بنائی جاسکے ۔ بدامنی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے ۔ امریکی اثر سے خارجہ اور داخلہ پالیسی کو آزادی دلانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے عوام آزاد قوم کی حیثیت سے سانس لے سکے۔ عوام نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دینے کا مطالبہ کردیا ۔ ضروری ہے کہ عوام کی خواہشات اور جذبات کا احترام کیا جائے اور پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اٹھاون ٹو بی کو آئین سے ختم کردیا جائے گا۔ صدر پرویز مشرف کا استعفی سیاسی جمہوری قوتوں کی فتح ہے پوری قوم میں خوشی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔پرویز مشرف کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ملک کے قوم کے مفاد ات کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ پرویز مشرف کے استعفی سے پارلیمنٹ کو استحکام حاصل ہو گا۔ اگر چہ وزیراعظم نے اراکین کویقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اقدامات کرے گی عوامی خواہشات کے منافی کوئی اقدامات نہیں ہوں گے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئین کے آرٹیکل سکس کے تحت پرویزمشرف کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس امر کا اظہار صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اورمسلم لیگ (ن) کے سنیئر رہنما سردار مہتاب احمد خان نے پیر کو قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے استعفیٰ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی کو معطل کرتے ہوئے پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد کی ممکنہ صورتحال پر ارکان نے اظہار خیال کیا سردار مہتاب احمد خان نے کہاکہ تاریخ کا ایک اہم دن ہے پارلیمانی سیاسی تاریخ میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہے معمول کی کارروائی کو نہ لیا جائے ساری قوم پارلیمنٹ کو دیکھ رہی ہے معمول کے بزنس کو لیں گے تو اہم پیغام نہ جائے گا وقفہ سوالات کو معطل کیاجائے نو سالہ آمریت سے ملک و قوم کو نجات مل گئی ساری قوم شکر بجا لارہی ہے اٹھارہ فروری کے مینڈیٹ کا قوم کو نتیجہ ملا ہے قوم کو استحصال سے نجات ملی ہے اگرچہ تاخیر سے استعفیٰ آیا ہے ایوان صدر میں صدر پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف سازشیں جاری تھیں وہ پارلیمنٹ کی توقیر کو گرانے کی سازش کر رہا تھا حکمران اتحاد کے قائدین فاٹا کے اراکین سیاسی جماعتوں کو مبارک باد دیتا ہوں نازک مرحلے پر پارلیمنٹ کا ساتھ دیا اور مشرف سے نجات دلائی سازش کے تحت معیشت کو تباہ کیاجارہا تھا۔ عوام کی خواہش کے مطابق پرویز مشرف کو ملک سے نہ جانے دیا جائے احتساب ضرور ہو تاکہ مارشل لاءکا راستہ بند ہو سکے کسی آمر کو آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی جرات نہ ہو پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر اور تین نومبر 2007ءکو آئین کو پامال کیا گیا آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کو پھانسی دی جائے وزیر قانون فاروق نائیک نے تجویز دی کہ رولز معطل کر کے صدر مشرف کے استعفی کے حوالے سے صورتحال پر ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا جائے انہوں نے خود ہی قواعدو ضوابط معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے کہا کہ اس شخص سے نجات دلائی ہے جس نے صوبہ سرحد بالخصوص فاٹا کے عوام کا جینا حرام کر دیا تھا فاٹا کے مظالم کا ازالہ کیا جائے ہزاروں لوگوں کا خون بہایا گیا کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے مظالم کی تلافی کے حوالے سے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کیاجائے۔ پرویز مشرف کا جانا قوم کے لیے نیک شگون ہے جس طرح کوئی ڈکٹیٹر جاتا ہے اسی طرح جنرل(ر) پرویز مشرف بھی رسوا ہو کر رخصت ہوئے پرویز مشرف کے اپنے دور میں بہت ظلم کیے اس نے بے گناہ بچیوں اور لوگوں کو مروایا ۔ ڈالروں کے عوض بے گناہوں کو امریکہ کے حوالے کیا ۔ پرویز مشرف کا استعفی دینا ایک اچھافیصلہ ہے اس سے ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے جنرل(ر) مشرف نے انتہائی مجرمانہ اقدامات کیے معصوم بچیوں کو ماورا ا ور چند ہزار ڈالر کے عوض اپنے ہم وطنوں کو امریکہ کے حوالے کیا مشرف کا انجام بھی ایک ڈکٹیٹر کی طرح ہوا ہے جنرل مشرف کا بیٹا جو امریکہ میں ایک انشورنس کمپنی میں انتہائی کم رینک کے درجے کی ملازمت پر کام کررہا ہے اسے امریکہ سے دہشت گردی اور اپنے لوگوں کی حوالگی کے عوض ملنے والے اربوں روپے دئیے گئے اور ان پیسوں سے سعوی پرنس سے مل کر ایک انوسٹمنٹ کمپنی قائم کی ۔کہ آمریت کی تعفن زدہ بے گورو کفن لاوارث نعش کو کوڑے نہیں لگانا چا ہیے ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ہے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو بحال کردے ورنہ قوم انھیں معاف نہیں کرے گی مثبت عمل سے ماضی کے دھبے دھونے ہوں گے ۔ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ذہنوں میں نہیں بسا یا جا سکتا ۔ پرویز مشرف نے اچھا کیا یا برا کیا تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔ پرویز مشرف استعفی دینے کے بعد ایسے دوڑے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچا ایوان میں بیٹھے ہوئے ان کے سیاسی رفقاءکیسے حالات کا سامنا کریں گے۔ ملک پر چار جرنیلوں نے 34 سال براہ راست حکومت کی ۔ پہلا موقع ہے کہ سولہ کروڑ عوام کے فیصلے کو بندوق کی طاقت پر بالادستی حاصل ہوئی ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ۔ معلوم نہیں ہے کہ پرویز مشرف اس وقت کہاں ہے ۔ 12 اکتوبر 1999 ء کے اقدامات کو کسی سیاسی جماعت نے تسلیم نہیں کیا تھا آخری وقت میں مسلم لیگ(ق) نے پرویز مشرف کو قبول کرنے سے انکار کردیا آمریت کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ آمریت کی تعفن زدہ لاوارث نعش پڑی ہوئی ہے کوئی دفن کرنے والا نہیں ہے۔ آگے کی طرف دیکھنا ہے ۔ شخصیات کی جنگ نہیںہے خاک و خون کے مرحلے سے گزر کر اس مقام پر عوام آئے ہیں ۔ 60 ججز کو گھر بھیج دیا گیا افغانستان کے چپے چپے پر بمباری کے لیے پاکستان کی فضا ئی حدود کو استعمال کیا گیا آگ ہماری سرزمین پر آگئی ہے ۔ باجوڑ کے ساڑھے تین لاکھ افراد دربدر ہیں نو سالہ پالیسی کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کو بحال کیا جائے ورنہ قوم حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔ قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر آج بھی جیل میں بیٹھا ہوا ہے طالع آزماوں نے ملک کو بھوک دی ہے ۔ امریکہ کی غلامی دی ہے ۔ آنے والے کل سے حکمرانوں کااحتساب شروع ہو گا ۔ طے ہو گیا کہ آمریت مر چکی ہے ۔ جمہوریت کے چراغ روشن کرنے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی ‘ بے نظیر کے خون ‘ نواز شریف کی جلا وطنی ‘ آصف علی زرداری کی قید کے حوالے سے قربانیوں سے قوم سے کیے گئے وعدوں کو حکمرانوں نے پورا کرناہے ۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment