International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 11, 2008

چودہ اگست کے حوالے سےعنوان عالم ارواح سے قائد اعظم بن پاکستان




مےں عالم بالا سے قوم پاکستان کو عےد ازادی کے دلفرےب موقع پر مبارکباد پےش کرتا ہوں ےہ اور بات ہے کہ نہ وہ ملک رہا اور نہ ہی تمھارے اندر اچھے پاکستانےوں اور مسلمانوں اےسے اوصاف رہے لےکن تم مےری اولاد ہوگو کہ تم مجھے فراموش کرچکےمےرے افکار کے شےش محل کو کرچی کرچی کربےٹھےلےکن محبتوں کے رشتے کبھی ختم نہےں ہوا کرتےمےرا دل آج بھی اس ےقےن سے مالا مال ہےکہ اگر تم قےام پاکستان کے حقےقی منشور کو زہن نشےن کرلوتو تم دوبارہ اےک نئے اور پائےدار پاکستان کی بنےاد رکھ سکتے ہےںکےونکہ تارےخ بتاتی ہےکہ قومےں بنتی ہےںبگڑتی ہےںاور پھر کھڑی بھی ہوجاتی ہےںاگر لےڈر شپ دلےر پاک نےت اور دےانت دار مےسر اجائے مےں ےہاں تمھارے لئے دعا ہی کرسکتا ہوںکہ اللہ مےرے دےس اور باسےوں کو سدا سلامت اور قائم رکھےمےں تمھےں بھی نصےحت کرتا ہوں کہ چودہ اگست کو مسخروں کی اچھل کوداربوں روپے کی فظول خرچیاور پرچم پاکستان کے نام پر کرپشن کو عےدازادی اور جشن ازادی کا نام دےنے کی بجائے رب العالمےن کے سامنے گڑ گڑا کر دعائےں مانگواپنا احتساب کرودعا پر اعتماد ہی نےکی ہےجب ہم تنہائی مےں دعا مانگےں تو ہم اس ےقےن کا اعلان کررہے ہوتے ہےںکہ ہمارا اللہ تعالی تنہائی مےں ہمارے ساتھ ہےہمارے پاس ہےاور وہپ خاموشی کی زبان بھی سنتا ہےدعا مےں خلوص انکھوں کو پرنم بنادےتا ہےےہی انسو دعا کی منظوری کی دلےل ہےںدعا مومن کا سب سے بڑا وسےلہ ہےدعا ناممکنات کو ممکن بنا دےتی ہےدعا زمانے بدل دےتی ہےدعا گردش روزگار کو روک سکتی ہےدعا انے والی بلاوں کو ٹال سکتی ہےدعا مےں بڑی قوت ہےجب تک سےنے مےں اےمان ہےدعا پر ےقےن ہےجسکا دعا پر ےقےن نہےں اسکا اےمان نہےںاللہ سے دعا کروکہ غربتماےوسےوںمحرومےوںلاقانونےتکرپشن مذہبی نفرتوںسےاسی حقارتوںاور خودکش حملوں کی جہنم کا منظر پےش کرنے والے اس ملک کو ان خوابوں کی تعبےر کی جنت مےں بدل ڈالےجو ہم نے چودہ اگست 1947 کو اپنی انکھوں مےں سجائے تھے لےکن ےاد رکھو صرف خالی اور کھوکھلی دعائےں مانگنے سے بھی حالات بھی نہےں بدلا کرتےحقےقی آزادی کی برکات سے لطف اندوز ہونے کے لئے خون جگر کا استعمال بھی ضروری ہےحقےقی جمہورےت کے احےااور اسلامی رواےات سے مزےن نظام حکمرانی کے لئے تمھےں اےک دفعہ پھر آج سے ساٹھ سال پہلے والی تارےخ دہرانی ہوگیجب ہم نے متحد و متفق ہوکر سامراجےوں اور ہندو بنےوں کے گٹھ جوڑ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کو افرنگےوں کی استبدادےت سے نجات دلا ئی تھی اربوں کی وہ رقم تم جو عےدازادی کے نام پر لٹادےتے ہووہ تعلےم پر خرچ کروکےونکہ تعلےم ہماری قومےں عالم بالا سے قوم پاکستان کو عےد ازادی کے دلفرےب موقع پر مبارکباد پےش کرتا ہوں ےہ اور بات ہے کہ نہ وہ ملک رہا اور نہ ہی تمھارے اندر اچھے پاکستانےوں اور مسلمانوں اےسے اوصاف رہے لےکن تم مےری اولاد ہوگو کہ تم مجھے فراموش کرچکےمےرے افکار کے شےش محل کو کرچی کرچی کربےٹھےلےکن محبتوں کے رشتے کبھی ختم نہےں ہوا کرتےمےرا دل آج بھی اس ےقےن سے مالا مال ہےکہ اگر تم قےام پاکستان کے حقےقی منشور کو زہن نشےن کرلوتو تم دوبارہ اےک نئے اور پائےدار پاکستان کی بنےاد رکھ سکتے ہےںکےونکہ تارےخ بتاتی ہےکہ قومےں بنتی ہےںبگڑتی ہےںاور پھر کھڑی بھی ہوجاتی ہےںاگر لےڈر شپ دلےر پاک نےت اور دےانت دار مےسر اجائے مےں ےہاں تمھارے لئے دعا ہی کرسکتا ہوںکہ اللہ مےرے دےس اور باسےوں کو سدا سلامت اور قائم رکھےمےں تمھےں بھی نصےحت کرتا ہوں کہ چودہ اگست کو مسخروں کی اچھل کوداربوں روپے کی فظول خرچیاور پرچم پاکستان کے نام پر کرپشن کو عےدازادی اور جشن ازادی کا نام دےنے کی بجائے رب العالمےن کے سامنے گڑ گڑا کر دعائےں مانگواپنا احتساب کرودعا پر اعتماد ہی نےکی ہےجب ہم تنہائی مےں دعا مانگےں تو ہم اس ےقےن کا اعلان کررہے ہوتے ہےںکہ ہمارا اللہ تعالی تنہائی مےں ہمارے ساتھ ہےہمارے پاس ہےاور وہپ خاموشی کی زبان بھی سنتا ہےدعا مےں خلوص انکھوں کو پرنم بنادےتا ہےےہی انسو دعا کی منظوری کی دلےل ہےںدعا مومن کا سب سے بڑا وسےلہ ہےدعا ناممکنات کو ممکن بنا دےتی ہےدعا زمانے بدل دےتی ہےدعا گردش روزگار کو روک سکتی ہےدعا انے والی بلاوں کو ٹال سکتی ہےدعا مےں بڑی قوت ہےجب تک سےنے مےں اےمان ہےدعا پر ےقےن ہےجسکا دعا پر ےقےن نہےں اسکا اےمان نہےںاللہ سے دعا کروکہ غربتماےوسےوںمحرومےوںلاقانونےتکرپشن مذہبی نفرتوںسےاسی حقارتوںاور خودکش حملوں کی جہنم کا منظر پےش کرنے والے اس ملک کو ان خوابوں کی تعبےر کی جنت مےں بدل ڈالےجو ہم نے چودہ اگست 1947 کو اپنی انکھوں مےں سجائے تھے لےکن ےاد رکھو صرف خالی اور کھوکھلی دعائےں مانگنے سے بھی حالات بھی نہےں بدلا کرتےحقےقی آزادی کی برکات سے لطف اندوز ہونے کے لئے خون جگر کا استعمال بھی ضروری ہےحقےقی جمہورےت کے احےااور اسلامی رواےات سے مزےن نظام حکمرانی کے لئے تمھےں اےک دفعہ پھر آج سے ساٹھ سال پہلے والی تارےخ دہرانی ہوگیجب ہم نے متحد و متفق ہوکر سامراجےوں اور ہندو بنےوں کے گٹھ جوڑ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کو افرنگےوں کی استبدادےت سے نجات دلا ئی تھی اربوں کی وہ رقم تم جو عےدازادی کے نام پر لٹادےتے ہووہ تعلےم پر خرچ کروکےونکہ تعلےم ہماری قوم کے لئے عزت و موت کا مسئلہ ہے پہلے مےں اپکو اپنا حال بتانا چاہتا ہوںکہ تم ہر سال جس چودہ اگست کو جس بابا کی تصوےرےں اٹھا کر ازادی کے نعرے لگاتے ہوجسے بابائے قوم کا اےوارڈ دےتے ہووہ انتہائی کرب کی حالت مےں ہےرب العالمےن نے اپنی بے شمار عناےات سے نواز رکھا ہےلےکن مجھے مےرے دےس کی موجودہ حالتلوگوں کی بے حسیحکمرانوں کی ڈکٹےٹرشپسےاسی جماعتوں کی افراتفری پر کبھی سکون مےسر نہےں اےاتمھاری موجودہ حالت زار پر مےری روح ہر وقت تڑپتی رہتی ہےکبھی کبھار تو مےں ےہ سوچ کر کھکھلا اٹھتا ہوںکہ چلو اچھا ہوارب سائےں نے مجھے قےام پاکستان کے فوری بعد اٹھا لےاورنہ تخت نشےن مےرا حشر وےسا ہی کرتےجےسا کہ انہوں نے ڈاکٹر قدےر خان کا کےا ہےاور تم سکون سے گھروں مےں پڑے رہتےکہ چلومرنے دو ہم نے اپنا کام نکلوا لےا ہےمےں نے ابتدا مےں اپکے لئے قوم کا لفظ استعمال کےا ہےلےکن مجھے ےہ کہتے ہوئے شرم اتی ہے اور مےں سوچتا ہوںکہ کےا نفسا نفسیمادہ پر ستیبے حسیچھناجھپٹی کو اپنا شعار بنانے والے انسانوں کو قوم کا نام دےا جاسکتا ہےمجھے افسوس کے ساتھ کہناپڑ رہا ہےکہ نہ ہی تو تم قوم ہواور نہ ہی تم اذاد ہومےں نے اپنی زندگی مےں اس جملے کو کئی بار دہراےا تھاکہ قومےں اس وقت بنتی ہےںجب لوگ مساواتاخوتالفت و ےگانگت کا دامن تھامےںلےکن تم ےہ سب کچھ چھوڑ چکے ہومےں تسلےم کرتا ہوںکہ استحصالی ٹولے نے تمھارے حقوق سلب کر رکھے ہےںحکمرانوں نے تمھےں خونی مصائب و مسائل کے گرداب مےں پابند سلاسل بنادےا ہےجاگےر داروںجرنےلوں اور بےوروکرےٹوں نے اےکا کرکے قومی وسائل کو اپنے باپ دادا کی جاگےر سمجھ کر ہتھےا رکھا ہے عالم بالا مےں جب مجھے غربتو ناانصافی سے دلبرداشتہ ہوکر خود کشےوں کی آری سے اپنا گلا کاٹنے والے ملنے کے لئے اتے ہےںاور تمھاری وبال جان بنی ہوئی زندگےوں کے اور تازہ ترےن سےاسی وحکومتی معاملات کی تازہ ترےن صورتحال بتاتے ہےںتومےں دھاڑےں مار کر رونے لگتا ہوں کہ علامہ اقبال نے جس خواب کو بنےاد بناکر برصغےر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے علحےدہ مملکت کا مشورہ دےااور جس خواب کو حقےقت کا روپ دےنے کے لئے ہم نے مسلم لےگ کے جھنڈے تلے ےکسو ہوکر لے کے رہےں گے پاکستان اور بن کے رہے گاکے نعرے لگا ےا کرتے تم وہ خواب بکھےر چکے ہو تم نے ازادی کے نعروں کی حرمت کے لبا س کو تار تار کرڈالامےں نے چودہ اگست چالےس کو تحرےک مقاصد کے لئے مسلمانوں کو پکارا تو وہ بنگال سے بمبی تک اور ڈھاکہ سے مےانوالی تک کے مسلمان علامہ کے خواب کو عملی شکل دےنے کے لئے نہ صرف سربکف ہوگئے بلکہ پورا ہند منٹو پارک مےں امڈ اےااس روز مسلمانوں مےں عجےب مستی و سرشاری کا جذبہ چھاےا ہوا تھاےہ وہ جذبہ تھاجسے الفاظ مےں لکھا نہےں جاسکتازبان سے بولا نہےں جاسکتااور ترازو مےں تولا نہےں جاسکتااسی جذبے نے سامراج کو لرزہ براندام بنادےااور پھر پورے عالم نے دےکھاکہ صرف سات سال بعد دنےا کے نقشے پر اس عالم کی سب سے بڑی اسلامی نظرےاتی مملکت ابھری جس پاکستان مےں تم رہتے ہواس کی بنےادوں مےں بےس لاکھ مسلمانوں کا خون شامل ہےتمھارے اباو اجداد نے اگ و خون کے درےا پار کرنے کے بعد علامہ کے خواب کو پاکستان کے خواب کو ےقےنی بناےالےکن مےرے دل مےں ہول اٹھتا ہےکہ تم اور تمھارے حکمرانوں اور سےاسی رہبروں نے اپنی لغزشوں حماقتوں اور مکر کرنےوں سے تحرےک پاکستان کے ہمرکابوں کی لازوال و باکمال قربانےوں پر حرف تنسےخ پھےر ڈالااگر تمھےں احسان فراموشی کی بلند و بالا مسند پر فروکش کردےا جائے تو غلط نہ ہوگا کےونکہ تم تحرےک قےام پاکستان کے حقےقی مقاصد کو زندہ درگور کرچکے ہوتمھاری ناعاقبت اندشےوںکی اس سے بڑی انتہا اور کےا ہوسکتی ہےکہ تم نے نئی نسلوں کو تحرےک ازادی پاکستان اور تحرےک مقاصدسے روشناسس نہےں کرواےاکارےگر کی نےت جب تک ٹھےک ہوتی ہےاس وقت تک مشےنےں بھی صےح کام کرتی ہےں زرہ دےکھو اور سوچو کہ نوجوان نسل کا زہنی انحطاط اور کرےکٹر زوال کی آخری حدوں کو چھو رہا ہےکےا سارا دن ہندووں کی تہذےب و ثقافت کی دھن مےں نازاں و رقصاںبھارتی و مغربی فلموں کے رسےااور ڈاکٹر قدےر علامہ اقبال کی بجائے امےتا بھچنو شاہ رخ کو اپنا ہےرو سمجھنے والی روشن خےال نسل کو پاکستانی کہنا درست ہوگا؟ مےں نے نے اےک مرتبہ اےک جملہ کہا تھاکہ اگر کوئی چےز اچھی ہےتو وہ عےن اسلام ہےاگر کوئی چےز اچھی نہےں ہوسکتیتو وہ اسلام نہےں ہوسکتی ہےکےا سارا دن ہندووں کی تہذےب و ثقافت کی دھن مےں نازاں و رقصاںبھارتی و مغربی فلموں کے رسےااور ڈاکٹر قدےر علامہ اقبال کی بجائے امےتا بھچنو شاہ رخ کو اپنا ہےرو سمجھنے والی روشن خےال نسل کو پاکستانی کہنا درست ہوگامےں نے اےک مرتبہ اےک جملہ کہا تھاکہ اگر کوئی چےز اچھی ہےتو وہ عےن اسلام ہےاگر کوئی چےز اچھی نہےں ہوسکتیتو وہ اسلام نہےں ہوسکتیکےونکہ اسلام کا مطلب ہی عےن اسلام ہےمےں نے اےک مرتبہ دعوی کےا تھاکہ مجھے اپنی نوجوان نسل پر پورا اعتماد ہےلےکن مےرا ےہ دعوی غلط نکلاکےونکہ ہمارے جوان تو مغربی ثقافت کو اپنا کر اندھےروں کے سفےر بن چکے ہےںخدا رااس دےس کی نئی نسل کو تباہی کے قبرستان سے واپس لانے کے لئے تمھےں دےن محمدی کا استعمال کرنا ہوگاجس روز نوجوانوں کو قران فرقان کےtheme سے اگاہ کردےا گےااس روز ےہی جوان سورج پر کمند ڈالنے کی صلاحےت پالےں گےمےں نوجوانوں کو اچھی طرح ےہ بات سمجھا دےنا چاہتا ہوں کہ وہ تعلےم کے ساتھ ساتھ خدمت ہمت اوربرداشت کے سچے جذبات کا مظاہرہ کرےںوےسے بھی ہماری نجات اسوہ حسنہ کی پےروی مےں ہےہم نے اےک اےسے پاکستان کی تعمےر کی بنےاد رکھی تھیجہاں اسلامی جمہورےت کا ڈنکا بجےجہاں عوام کو عزت کے ساتھ جےنے کا حق ملےجہاں ہر انسان کو اسکے جمہوری حقوق مل سکےںجہاں افرنگےوں کی باقےات کی جاگےروں کو پاکستانی قوم کے درمےان منصفانہ تقسےم کردےا جائےہم نے اےک اےسے مہذب و باقار ملک کی تصوےر کھنچی تھیجہاں ظلم کا نام و نشان باقی نہ رہےجہاں قوم کے ہربچے کو زےور تعلےم سے ہم آہنگ کےا جائےجہاں کی فوج ملک کی نظرےاتی سرحدوں کی محافظ ہولےکن مجھے دکھ کے ساتھ ےہ کہناپڑرہا ہےکہ ہماری افواج نے سےاست دانوں کی ملی بھگت سے اقتدار پرستی کی ہوس کو سےنے سے لگا رکھا ہےجنہوں نے مےدان جنگ مےں کفار کو لوہے کے چنے چبوانے تھےوہ سرکاری عہدوں کے پےچھے بھاگ رہے ہےںفوجےوں نے ہمارے ہاں جمہورےت کے تارو پود کو بکھےر کر رکھا دےا ہےمےں نے1948 کو سٹاف کالج کوئٹہ مےں فوجےوں کو تنبےہہ کردی تھیکہ وہ سےاست سے دور رہےںجبکہ سےاست دان ہی ملکی امور نپٹائےں گےلےکن جرنےلوں نے اس ملک پر چار بار ڈکٹےٹرشپ مسلط کردیجس کا نتےجہ ےہ نکلاکہ جمہورےت کا پودا تناور و توانا بننے سے پہلے ہی کملا گےا پورے سماج مےں کرپشن پھےل گئیزخےرہ اندوزی اور لوٹ مار کے بادل چھا گئےنو کروڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکےر سے بھی نےچے چلے گئےچہار سو ناانصافےوں کا دور دورہ ہےمےں ےہ جان کر افسردہ ہوتا ہوں کہ پاکستان کا چےف جسٹس اپنے مقدمے کے منصفانہ حل کے لئے دربدر کی ٹھوکرےں کھا رہا ہےمےں ملک کی مفلس و نادار کمےونٹی سے اپےل کرتا ہوںکہ اگر اپنے مسائل کا حل چاہتے ہےںتو وہ گھروں مےں بند ہوکر عورتوں کی طرح مگر مچھ کے ٹسوے مت بہاوبے حسی کی چادر اوڑھنا چھوڑ دواور ےک جان بن جاوےہ تمھارا پاکستان ہےتمھاری پاس اےسی طاقت ہےتمھاری اواز مےں اےسا سحر ہےکہ جب تم نئے پہاکستان کی تعمےر کا نعرہ لگاو گےتو تمھاری اواز مےں اتنی قوت شامل ہوجائے گیکہ وہ اےسے طوفان کا روپ دھار لے گیجو قومی وسائل اور اقتدار کے شاہی محلات پر سانپ بن کر مسلط ڈکٹےٹروںبےوروکرےٹوں اور جاگےرداروں کو بھسم کردے گیاور پھر وہ پاکستان طلوع ہوگاجس کی روشنی ظلمفسق و فجورناانصافیغربتبے روزگاریامرےتجہالت مذہبی تفاوتنفسا نفسیتنگ نظری کی تارےکےوں کا سےنہ چےر دے گیاے پی ایس

No comments: