
بش انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے افغان نڑاد سفیر زلمے خلیل زاد کے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطوں پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفیر کو پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ بش انتظامیہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کو سخت سوالات کا سا منا ہے اور امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے اور جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے زلمے خلیل زاد کے اس اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے ۔امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز “کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے کئی مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔ حتیٰ کہ دونوں رہنماوں کے درمیان اگلے ہفتے دبئی میں ملاقات کا پروگرام بھی طے پا گیا تھا جسے امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باوچر کو پتا چلنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔ اخبار کے مطابق رچرڈ باوچر کو خود آصف علی زرداری نے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ زلمے خلیل زاد کی طرف سے مسلسل ہدایات اور مدد مل رہی ہے۔ جس کے بعد رچرڈ باوچر نے زلمے خلیل زاد کو خط لکھ کر ان سے وضاحت طلب کی کہ وہ زرداری کو کس قسم کی ہدایات اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ رچرڈ باو¿چر نے18اگست کو زلمے خلیل زاد کو لکھے گئے خط میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امریکہ نے پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ محدود تعلقات رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ایسے میں آپ کس قسم کی ہدایات اور امداد فراہم کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سمجھنے میں میری مدد کریں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اخبار کے مطابق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نیگروپونٹے نے بھی ان خفیہ رابطوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر کی کوئی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ خلیل زاد زلمے کے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے قریبی تعلقات تھے اور گزشتہ گرمیوں میں اسپن کولو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے دونوں نے ایک نجی طیارے میںسفر کیا تھا۔ اخبار کے مطابق آصف زرداری کے ساتھ اس قسم کے رابطوں کے انکشاف کے بعد امریکہ میں یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ زلمے خلیل زاد افغانستان کی صدارت کے لئے ذاتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کو اس سال جنوری میں سوٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقعے پر ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھنے اور افغان حکام سے تعلقات استوار کرنے پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہوا تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد زلمے خلیل زاد کو آزادانہ اظہار رائے سے اجتناب برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم ان کے خلاف تادیبی کارروائی خارج از امکان نہیں ہے۔ ادھر ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد اور آصف علی زرداری کے درمیان کئی سالوں سے تعلقات ہیں اور یہ تعلقات اس وقت سے استوار ہوئے ہیں جب شہید بے نظیر بھٹو نیویارک میں وقت گزار رہی تھیںا ور آصف علی زرداری ان کے ہمراہ تھے پاکستانی اہلکار نے کہا کہ دونوں آصف علی زرداری اور خلیل زاد کے درمیان مشاورت معلومات کا کھلم کھلا تبادلہ خیال تھا اور دونوں رہنما ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت سے استفادہ کرتے رہے انہوں نے کہا کہ خلیل زاد ایک سیاسی شخصیت ہیں وہ پاکستانی سیاسی قیادت کی امریکی محکمہ خارجہ میں بیورو کریٹس تک رسائی اور ان سے مستقبل میں استفادہ سے بخوبی واقف ہیں پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ سفیر پالیسی بناتے یا تبدیل کرتے نہیں وہ صرف ایک متبادل چینل ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چےئرمین اور صدارتی امیدوار آصف زرادری کے ذہنی توازن پر شکوک و شبہات کااظہار کیا جارہاہے کیونکہ سوائس عدالت میں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے دوران ان کے ڈاکٹروں کی طرف سے پیش کئے گئے عدالتی دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ حالیہ گزشتہ سال سے شدید نفسیاتی دباو کاشکا رہے ہیں گزشتہ روز سوئس حکومت نے آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم کر کے ضبط کی گئی رقم جنیوا حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے دریں اثناء برطانیہ کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ آصف زرداری مکمل فٹ اور تندرست ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں پارٹی امور چلانے کے لیے اہل قرار دیاہے ۔ برطانوی اخبار ” فنانشنل ٹائمز “ کے مطابق یہ بات آصف علی زرداری کے ڈاکٹروں کی طرف سے عدالت میں پیش کئے گئے دستاویزات میں کہی گئی ہے ۔ دو سال سے زائد عرصے پر مشتمل میڈیکل رپورٹس کے مطابق آصف علی زرداری کی تشخیص میں یہ بات سامنے آئے تھی کہ وہ پاگل پن ، شدید ذہنی دباو اور کوفت کاشکار ہیں۔ آصف زرداری جو گزشتہ بیس سالوں کے دوران کرپشن کے الزامات میں 11 سال جیل میں رہے صدر پرویز مشرف کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے اخبار کے مطابق ان میڈیکل رپورٹس پر تبصرہ کرنے کے لیے آصف زرداری سے رابطہ نہ ہو سکا تاہم برطانیہ کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے ان کی طرف سے کہا کہ آصف زرداری اب مکمل فٹ اور صحت مند ہیں نیویارک میں مقیم ماہر نفسیات فلپ سلٹائل کی طرف سے فنانشنل ٹائمز کو بھیجے گئے عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ قید سے رہائی کے بعد مارچ 2007 میں آصف زرداری کی تشخیص کی گئی جس میں ان کی یادداشت اور ذہنی مسائل کے علاوہ جذباتی عدم استحکام سامنے آیا سلٹائل نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے میں نے ان کے مسائل میں بہتری نہیں دیکھی نیویارک کے ایک اور ماہر نفسیات سٹیفن رائچ نے بتایا کہ آصف زرداری کو اپنی بیوی اور بچوں کا یوم پیدائش یاد نہیں رہتا اور مسلسل یہ خدشہ موجود ہے کہ وہ کہیں خودکشی کے بارے میں نہ سوچیں آصف علی زرداری کی طرف سے سوئس عدالت میں ان دستاویزات کے پیش کیے جانے کے باعث عدالت کی جانب سے وہ اپنے خلاف کیس خارج کرنے میں کامیاب رہے گزشتہ مارچ میں ان کے برطانیہ میں منجمند اثاثے بھی واپس بحال کیے گئے ہیں اورساتھ ہی پاکستان میں کرپشن کے الزامات مسترد کردئیے گئے پاکستان کے ہائی کمشنر شمس الحسن جو آصف علی زرداری اور بھٹو خاندان کے طویل عرصے سے سیاسی ساتھی ہیں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ آصف علی زرداری باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کر رہے ہیں اور ان کے ڈاکٹروں نے انہیں مکمل طورپر فٹ قرار دیا ہے اور وہ اپنی جماعت کو چلانے کے مکمل اہل ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کو سمجھ لینا چاہیئے کہ آصف علی زرداری جن الزامات میں قید تھے ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا حتی کہ ان پر جیل میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا اسی صورت حال میں جب آپ ہر وقت خوف میں ہو کوئی بھی انسان ذہنی کوفت کا شکار رہے گا۔ اے پی ایس

No comments:
Post a Comment