
اس وقت پا کستان کے سو لہ کروڑ عوام ، قا نون نا فذ کر نے والے ادارے اور قا نو ن سا زی کر نے وا لوں کی بے بسی کا یہ عا لم ہے کہ ایک قو می مجرم جسے حرف عام میں پر ویز مشرف کہا جا تا ہے۔اس کے ساتھ قا نون کے مطابق دو ہا تھ کر نے سے بھی قا صر ہیں۔ اس قو می مجرم کے خلاف اسلام آباد کے تھا نوں میں بھی در خواستیں پڑی ہو ئی ہیں لیکن کسی کی جرئات نہیں کہ اس کے خلاف مقدمہ درج ہو، اس ضمن میں عوام یہی قیاس آرائیاں کر تے ہیں کہ واقعی اس کی پشت پر اسرائیل ہے کہ اتنا کچھ کر نے کے با و جود بھی مشرف پر پا کستان کا قا نون بے بس ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملک کا ناک نقشہ ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں صرف بے گنا ہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہیں۔ عوام اب سوچتے ہیں کہ یہ ملک سو لہ کروڑ مسلمانوں کے تحفظ کے لئے بنا تھا یا قا نون شکن جر نیلوں اور نا م نہا د جا گیر دار سیا ست دانوں کی بد معاشی کیلئے کہ وہ قا نون کو ایک گدھے کی طرح اس پر جب جی چا ہیں سوار ہو کر اپنی مر ضی کے مطا بق کا ن مروڑ کر سمت کا تعین کر لیں اور کمزور آدمی جب اس کے قریب آئے تو دو لتیاں اس کا مقدر ہو۔ عوام میں یہ بھی تشویش پا ئی جا تی ہے کہ جب آرمی بھی سیا ست سے دور ہو گئی ہے تو وہ کو نسی طا قت ہے جس نے ملک و قوم کے مجرم کو تحفظ دیا ہوا ہے۔ جب کہ بعض عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ کہ شوکت عزیز ، طارق عزیز اور پر ویز مشرف قا د یا نیوں کا وہ ٹو لہ تھا جنھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے اور اسلام اور پا کستان کو نقصان پہنچا کر اس بات کا بدلہ لیا ہے جب بھٹو دور میں انھیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ بہر حال اس میں کتنی صداقت ہے خدا بہتر جا نتا ہے عوام میں اتنا غصہ ہے کہ اس سے زیا دہ وا ویلے کر رہے ہیں جو یہاں بیان کر نا منا سب نہیں۔ جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے حکمران اتحاد کی طرف سے تیار کی گئی چار ج شیٹ اتنی اہم نہیں جتنے اہم وہ دستاویزات ہیں جو مشرف نے امریکن سے معاہدے کیے تھے کہ وہ اس ملک میں سرعام جو چا ہیں کریں کوئی پوچھنے والا نہیں لہذا اس ضمن میں ضروری ہے کہ اگر حکمران اتحاد واقعی اس ملک اور عوام کا خیر خواہ ہے تو وہ مشرف کے ان تمام معا ہدوں کے دستاویزات عوام کے سا منے پیش کر ے جو مشرف نے امر یکن سے معا ہدے کر کے اس ملک اور اس کے عوام کا مستقبل دائو پر لگا دیا ہوا ہے اور مشرف کے جا نے کے بعد بھی عوام حکمرانوں سے سوال کر تے ہیں کہ مشرف تو چلا گیا ہے بجلی پھر بھی جا رہی ہے ،ما ر کیٹوں میں آٹے کی عدم دستیابی ہے اگر لو گوں کو آٹا ملتا ہے تو اس میں اتنی ملا وٹ ہے کہ لو گو ں کے پیٹ میں درد ہے۔ مہنگائی آسمان سے با تیں کر رہی ہے ۔ اور معزول ججز بھی بحال نہیں ہو نے والے۔ مشرف کا مستعفی ہونے میں حکمران اتحاد کا کو ئی کمال نہیں ۔ امریکہ کا گزشتہ نو سال سے مشرف کو استعمال کر کے اب اسے ٹشو پیپر کی طرح پھیکنا مجبوری تھا کیونکہ ایک طویل نو سالہ مدت میں مشرف عوام کے سا منے ایک نفرت کی علامت بن چکے تھے اور اس کی وجہ سے عوام امریکہ کو بھی برا بھلا کہتے تھے۔ عوام میں اس بات کی بہت زیادہ تشویش پا ئی جا تی ہے کہ اب مشرف تو چلا گیا ہے کیا اب امریکن کے ایجنڈے کی تکمیل کی ذمہ داری کیا حکمران اتحا د اور ان کی حکومت نے اٹھا لی ہے کہ ہم امریکی وفا داری میں مشرف کو بھی پیچھے چھوڑ جا ئیں گے۔ یہ وہ تحفظات اور خدشات ہیں جس کا عوام کو کھٹکا لگا ہوا ہے کیو نکہ عوام مشرف سے نفرت نہیں کر تے تھے بلکہ اس کے کر توتوں سے نفرت کر تے تھے۔ ویسے بھی جب ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت حکمران اتحاد نے مشرف کو ہا تھ دڈا لنا ہی نہیں تو عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کیا ضرورت ہے۔چارج شیٹ کے حوالے سے مشرف پر پر لگا ئے گئے زیادہ تر وہی الزام ہیں جو مشرف دور میں اخبارات میں آتے رہیں ۔ جب کسی کے خلاف قا نونی کا روائی کر نی ہو تو الزام ایک بھی کا فی ہے۔ حکمران اتحاد یہ بات یاد رکھیں کہ اگر ججز کو بحال نہ کیا گیا اور ملک اور عوام کو درپیش چیلنجز سے فی الفور نمٹا گیا تو یہی وکلائ،عوام اور میڈیا آپ کو گھر بیجھنے کا مو جب بنے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے سعودی عرب جانے کے حوالے سے تیاری شروع کردی ہے اس ضمن میں منگل کو سعودی ععرب کے سفارت خانے نے پرویز مشرف کو سعودی عرب کا ویزہ جاری کردیاہے سابق صدر کے سعودی عرب جانے کے حوالے سے دستاویزی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے ۔ پرویز مشرف آئندہ چند روز میں سعودی عرب جائیں گے۔وہاں عمرہ کر یں گے پھر وہ ہمیشہ کیلئے لندن میں بحثیت مہاجر پناہ لے کرسکونت اختیار کر لیں گے۔سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف حکمران اتحاد کی طرف سے تیار کردہ چارج شیٹ کی سمری میڈیا کو پیش کر دی گئی جس کے چیدہ چیدہ نکات میں کہاگیاہے کہ پرویز مشرف نے آئین کے آرٹیکل 209ءکی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو معزول کیا انہیں نظر بند رکھا اسی طرح آرٹیکل 232کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق صدر نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو معزول کیا۔ حکمران اتحاد کے مطابق سابق صدر نے آرٹیکل 5سب سیکشن 2کی خلاف ورزی کی جس کے تحت تمام شہریوں کو آئین اور قانون کا تابع ہونا لازمی قرار دیا گیا اسی طرح چارج شیٹ کے مطابق آرٹیکل 41کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق صدر نے فیڈریشن کو کمزور کیا اس میں بلوچستان آپریشن شرع کرنے ، ڈیویلیشن پلان کے ذریعے صوبوں کے حقوق چھیننے ، گیس رائلٹی کا مسئلہ حل نہ کرنے اور صوبوں کو ہائیڈل منافع نہ دینے کے الزامات شامل ہیں اسی طرح آئینی خلاف ورزیوں میں آرٹیکل48سب سیکشن 6کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق صدر مشرف نے30اپریل 2002ء کو ریفرنڈم کروایا اور خود کو صدر بنا لیا۔آرٹیکل 56کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے2005-06کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کیا جبکہ آرٹیکل 160اور 161کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا خود ہی اعلان کر دیا اور اس کا آئینی طریقہ پورا نہ کیا اسی طرح چارج شیٹ میں آرٹیکل 155کی خلاف ورزی بیان کی گئی ہے جس کے مطابق سابق صدر نے پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے مشترکہ مفاد کی کونسل کا اجلاس بلانے کے بجائے دوکمیٹیاں بنا لیں سرکاری راز افشا نہ کرنے کے حوالے سے چارج شیٹ میں کہاگیا ہے کہ سابق صدر کی کتاب ان دی لائن آف فائر میں درج شدہ کچھ چیزیں اٹھائی گئیں ہیں جس کے تحت سابق صدرنے پاکستان کی طرف سے اٹھارہ ٹن نیو کلیر ہارڈ ویئر اور ڈیزائن کو غیر قانونی طو رپر شمالی کوریا اور دیگر ممالک کے حوالے کرنے کا اعتراف کیاہے جسے خفیہ رازوں کی خلاف ورزی کہاگیا ہے اسی طرح مشرف کی تقریر بارہ مئی 2007ء کو ایک الزام کے طورپر چارج شیٹ شامل کیاگیاہے۔ بلوچوں کے بارے میں مشرف کے بیان کو ایک الزام کے طورپر شامل کیا گیا ہے جس میں مشرف نے کہاتھا کہ بلوچوں کو علم نہیں ہو سکے گا کہ کس طرح ان کو ہٹ کیا جائے گا اس چارج شیٹ میں بہت بڑا مالی بدعنوانی کا الزام بھی لگایا گیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ الیکشن 2008ء سے کچھ پہلے 400ارب روپے غائب ہوئے اور صدر مشرف نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہ کی چارج شیٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ مشرف نے سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض غیر ممالک کو فروخت کیا جس کا ذکر خود انہوں نے اپنی کتاب میں کیا یہ بھی الزام عائد کیاگیا ہے کہ انہوںنے اپنے دوستوں اور قریبی افراد کو مالی فوائد پہنچائے ۔جبکہ پرویز مشرف کے عہدہ صدارت سے استعفی کا کابینہ ڈویڑن کی جانب سے باضابطہ طورپر نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیاہے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیاگیا ہے استعفیٰ سے متعلق سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیاگیا ہے الیکشن کمیشن کو صدارتی انتخاب کی تیاری کے حوالے سے صدر کے استعفیٰ سے آگاہ کیاگیا۔جبکہ حکمران اتحاد نے اتحادی جماعتوں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو72گھنٹوں کے دوران ججز کی بحالی کے حوالے سے فارمولا طے کرنے کا ٹاسک دے دیا۔پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اس حوالے سے ججز کی بحالی کا الٹی میٹم دیاہے۔آ مریت کے خاتمے پر متفقہ طور پر تمام اتحادی جماعتوں اور قائدین نے پوری قوم کو مبارک باد دی ہے اور مستحکم جمہوریت اور مضبوط پاکستان کے حوالے سے مل جل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیاہے۔ عدلیہ کی بحالی کے ایشو کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ماضی میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔اس سلسلے میں جو بھی نشیب و فراز آئے جے یو آئی (ف) ،اے این پی اور فاٹا کے اراکین کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا پہلی بار مشترکہ اجلاس میں اس ایشو کا جائزہ لیاگیا۔اس سلسلے میں دونوں بڑی جماعتوں نے تفصیلات سے آگاہ کیا ہم اس ایشو کے حوالے سے پورے اعتماد کے ساتھ ایک موقف لینا چاہتے ہیں دونوں بڑی جماعتوں میں مشکل سامنے آرہی تھی جس پر ہمیں کہاگیا کہ ہم اس کے حل میں کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہاکہ اختیار دیاگیاہے کہ بہتر گھنٹوں میں مشترکہ موقف طے کیا جائے حتمی حل کیلئے کردار ادا کرنے کے بارے میں ہم نے ذمہ داری قبول کر لی ہے آپس میں مل بیٹھ کر تجاویز مرتب کریں گے نواز شریف اور آصف علی زرداری اور دونوں جماعتوں کی ٹیموں کے ساتھ رابطے اور گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے جانے کے بعد تمام ایشوز پر مشترکہ موقف وضع کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مشکلات کو میڈیا میں نہیں اچھالا جا سکتا احتیاط کے ساتھ کام کریںگے۔اسفند یار ولی خان نے کہاکہ دونوں بڑی جماعتوں نے پہلی بار ججز کی بحالی کے حوالے سے اپنے معاہدے کی دستاویزسے ہمیں آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہمیں مزید تفصیلات کا جائزہ لینا ہے ہم نے وقت طلب کیاہے کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے ہمیں اپنی جماعتوں کے پاس مشاورت کیلئے جانا ہے انہوں نے کہاکہ دوماہ پہلے کون تصور کر سکتا تھا کہ پرویز مشرف چلے جائیں گے ہمیں کام کرنے دیں ۔فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے بتایاکہ بدھ کو اسلام آباد میں اجلاس ہو گا جس میں مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی خان اور میں شرکت کریں گے۔فاٹا کو اعتماد میں لیاگیا ہے خوش آئند بات ہے۔ تاہم حکمران اتحاد ججز کی بحالی ،صدارتی عہدے پر نامزدگی کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔تاہم ججز کی بحالی کیلئے ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) نے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو 24گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیاہے۔حکمران اتحاد کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں منعقدہوا۔اجلاس چار گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہا اجلاس میں پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف ، پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان ، خواجہ محمد آصف ، چوہدری نثار علی خان ، سینیٹر اسحاق ڈار ،میاںرضا ربانی ، شیری رحمن اور دیگر رہنماو¿ںنے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ججز کی بحالی، صدارتی عہدے کیلئے نامزدگی ، صوبوں میں گورنروں کی تبدیلی، اعلیٰ بیورو کریسی میں رد وبدل ، وفاقی کابینہ میں ممکنہ توسیع سمیت دیگر ایشوز کا جائزہ لیا گیا۔تاہم کسی بھی معاملے کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیاجاسکا ۔ حکمران اتحاد نے پرویز مشرف کے صدارتی عہدے سے استعفے کے بعد ممکنہ صورتحال کا جائزہ لیا ۔پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے نہ دینے کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور اس حوالے سے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبات سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی ۔ججز کی بحالی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہونے پر ذرائع کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے اس معاملے کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو چوبیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔اے پی ایس،اسلام آباد

No comments:
Post a Comment