International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 17, 2008

کیا مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے؟۔تحریر: چودھری احسن پریمی اے پی ایس




صدر پرویز مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے اپنا یہ واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو اب صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ صدر ایک وفاق کی علامت ہوتا ہے لیکن جب وفاق کی اکائیاں ہی پرویز مشرف کو پسند نہیں کرتیں اس لیے انہیں ان صوبائی اسمبلیوں میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں کہا گیا تھا۔ جبکہ ملک بھر کے عوام کا مطا لبہ ہے کہ اگر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوتے تو پھر آئین کے ارٹیکل 47 کے تحت ان کا مواخذہ کیا جائے ۔ صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں حکمراں اتحاد کے پاس تعداد پوری ہے۔ صدرپرویز مشرف کا نعرہ ’سب سے پہلے پاکستان‘ ہوتا تھا اور اب پاکستان کی عوامی عدالتوں یعنی اسمبلیوں میں ان کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے تو صدر مشرف کا مستعفیٰ نہ ہونا سب کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پاکستانی فوج ملکی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف نے بھی تین صوبائی اسمبلیوں میں ان کے حق میں بھی ووٹ نہیں دیا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے صدر کے خلاف پیش ہونے والی تحریک میں ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ جبکہ وزیر اطلاعات شیری ر حمن نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کےلیے تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو تاریخی دستاویز قرار دیا۔ حکمراں اتحاد انتقامی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی اور صدر کا مواخذہ آئینی اور پارلیمانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ صدر کے خلاف تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اسے آئندہ ایک دو روز میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کے حوالے کردیا جائے گا اور اسے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کردیا جائےگا۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صدر کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا قانونی پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کردیا ہے۔ اس کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی، وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے سنیٹر اسحاق ڈار اور احسن اقبال شامل تھے۔ صد کے مواخذے کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں صدر کے مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی۔ حکمراں اتحاد کا صدارتی کیمپ سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور صدر اگر چاہیں تو وہ آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت مستعفی ہوسکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں فیصلہ حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت ہی کرے گی۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے زرداری ہاو¿س میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں جو دو گھنٹے تک جاری رہی، صدر کے مواخذے کے علاوہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔صدر پرویز مشرف کے چارج شیٹ کو آخری شکل دے دی گئی ہے ۔پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے قریبی مشیروں سے بات چیت میں کہا ہے کہ ان کے استعفیٰ دینے کی خبریں افواہیں ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ صدر مشرف نے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں بھی اپنے وکلاءسے مشورہ کیا ہے۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں تو اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں ملک قیوم نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی الزام لگایا نہیں گیا اس لیے اس کا جواب دینا ممکن نہیں۔ ابھی صرف الزامات اخبارت کی حد تک ہی لگائے جا رہے ہیں۔ آئین کے تحت ریاست کے تین بڑے ستونوں میں اختیارت کا توازن فراہم کیا گیا اور کوئی ایک ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ آئین میں صدر کو ان کے عہدے سے علیحدہ کرنے کے بارے میں دیئے گئے طریقہ کار کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ صدر کو دو طرح سے ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر صدر کا دماغی توازن بگڑ جائے اور وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہ رہیں تو ان کے عہدے سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر صدر پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور انتہائی غلط رویہ اختیار کریں تو ان کا پارلیمنٹ میں مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی صدر کا مواخذہ نہیں کیا گیا اور دنیا میں بھی اس کی کم مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اس کا طریقہ کار تو دیا گیا ہے لیکن اس بارے میں واضح قواعدہ و ضوابط موجود نہیں اور ان پر ابہام پایا جاتا ہے۔ مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی یا سینیٹ کے پچاس فیصد ارکان اپنے دستخطوں کے ساتھ سپیکر یا چیئرمین کو پیش کر سکتے ہیں۔ تحریک کے پیش ہو جانے کے بعد اس میں لگائے جانے والے الزامات سے تین سے سات دن کے اندر سپیکر یا چیئر مین سینٹ صدر کو مطلع کرتا ہے اور اس کے بعد سات سے چودہ دن کے اندر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا ہے۔ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدر اپنے کسی نمائندے یا بذات خود اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینے کا مجاز ہوتا ہے۔ ایوان خود یا اپنی کسی کمیٹی کے ذریعے ان الزامات کی تحقیقات یا تفتیش کرا سکتا ہے۔ جس کے بعد یہ تحریک ایوان میں پیش کی جاتی ہے اور اگر اس تحریک کے حق میں دو تہائی ارکان ووٹ دے دیں تو صدر کو فوری طور پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہونا پڑتا ہے۔ صدر پرویز مشرف کو مواخذے کی تحریک کے دفاع کے لیے قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر نشست دی جائے گی ۔ سپیکر ڈائس پر آنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی زیر صدارت اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران مواخذے کی تحریک پر بحث کے دوران صدر پرویز مشرف الزامات کے دفاع کے لیے پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو انہیں ایوان میں اپوزیشن کی طرف سے نشست دی جائے گی ۔ الزامات کے دفاع کے لیے سپیکر ڈائس پر نہیں آسکیں گے ۔ ایوان میں مواخذے کی تحریک پر بحث کے دوران پارلیمنٹ ہاوس کی غیر معمولی سیکورٹی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اے پی ایس




No comments: