International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, August 19, 2008

پرویز مشرف کا استعفیٰ -----محاسبہ ہونا چاہے؟ ممتاز احمد بھٹی






12اکتوبر 1999کوا س وقت کے وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے پرویز مشرف کو بطور چیف آف آرمی سٹاف برطرف کر دیا اور جنرل ضیا ءالدین کو چیف آف آرمی سٹاف مقررکر دیا جو وزیر اعظم میاں نواز شریف کا آئینی حق تھا اس وقت پرویز مشرف سری لنکا سے واپس آرہے تھے ۔ طیارے سے ہی اپنے خاص کمانڈروں کو حکم دیا اور میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیامیاں نواز شریف کی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی ۔ شریف برادران سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا ۔ جہاز نہ اترنے دینے کا ڈرامہ رچایا جو تقشیش کے بعد بھی ڈرامہ ثابت ہوا۔ تمام اختیارات کا مالک بننے کے لئے20جون 2001کو صدر کا عہدہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا تو اپنے آپ کو طاقتور ترین شخص سمجھنے لگا کیونکہ بیک وقت چار عہدوںچیف آف آرمی سٹاف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس ، چیف ایگزیکٹواور صدر پر قابض تھا اپنی غیرآئینی اور غیر قانونی حیثیت کو تحفظ دینے کے لئے بدنام زمانہ ریفرنڈم کرایا جس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی۔ اپنے ساتھ چند سیاستدان ملائے الیکشن کرایا واضع کا میابی نہ ملنے پر نیب کو استعمال کیا فاروڈبلاک بنا کر میر ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ وزیر اعظم سمیت اسمبلی ربڑسٹیمپ تھی تمام فیصلے ایوان صدر میں ہوتے رہے ۔ پھر میر ظفر اللہ جمالی کو ہٹا کر چوہدری شجاعت کو وزیراعظم پھرضمنی الیکشن سے قبل ہی شوکت عزیز کووزیراعظم نامزد کر دیا۔ شوکت عزیز کے آتے ہی کرپشن کے بڑے سیکنڈلز بھی آنا شروع ہو گئے اگست 2002 میں پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لئے LFO(لیگل فریم ورک آرڈر) جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے ، نیشنل سیکورٹی کونسل کا قیام ، اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ریٹائر منٹ کی عمر میں توسعی کی گئی چارفروری 2004کو پاکستان کے ہیروایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو چال کے ذریعے ملاقات میں ایران ، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو قبول کرنے کو کہا اورٹی وی پر بیان پڑھوایا پھر ڈاکٹر عبدالقدیر کو قید کر لیا قیدتنہائی ، ذہنی دبائو ہراساں کرنے سے ڈاکٹر اے کیو خان کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلاہو گئے ۔ قوم سے کئے گئے وعدے بھی پورے نہ کئے پہلے کہا کہ میں صدر نہیں بنوں گاصدر بن گئے پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وردی اتار دوں گامقررہ تاریخ پروردی نہ اتاری پھر کہا کہ اگر میری جماعت یعنی ق لیگ الیکشن ہارگئی تو مستعفی ہو جائوں گا اور مستعفی نہ ہوئے جبکہ اپنے منصب کا خیال نہ رکھتے ہوئے ق لیگ کے لئے ہر جلسے میں ووٹ مانگے ان بے مقصد جلسوں پر قوم کے کروڑوںروپے ضائع کر دیئے۔ 9/11کے حملوں کے بعد جس طرح پرویز مشرف امریکہ کے گھٹنوں میں بیٹھ گئے امریکہ کو کھلی چھٹی دے دی گئی بے شمار لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔ آج بھی ان لوگوں کے ماں باپ بیوی بچے بہن بھائی ان کی تلاش کے لئے دربدر دھکے کھار ہے ہیں مگر ان کے پیاروں کاکوئی پتہ نہیں چل رہا ان کی اُمید کی ایک کرن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی صورت میں نظر آئی تھی ۔ چیف جسٹس نے لا پتہ افراد کے لئے سنجیدگی سے کام شروع کیا تو اس کے رزلٹ بھی آنا شروع ہو گئے پھر اختیارات کے نشے میں مست پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو بلایا اور حکم دیا کہ یہ عہدہ چھوڑ دو، ورنہ بہتر نہیں ہو گاکیونکہ پرویز مشرف کو ایسے احکامات جاری کرنے کی عادت پڑچکی تھی اور ان کے ہر حکم پر فوری عمل ہوتا تھا مگر افتخار محمد چوہدری نے انکار کر دیا جو پرویز مشرف سمیت اس کے حواری بھی حیران رہ گئے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹا دیا تو اسی دن پرویز مشرف کا زوال شروع ہو گیا پاکستانی قوم اٹھ کھڑی ہوئی سڑکوں پر نکل آئی پھر جولائی 2007میں لال مسجد آپریشن کا حکم دیا جس سے معصوم بچیوں کو فاسفورس بمبوں سے جلا کر مار ڈ الا جس سے پرویز مشرف کے خلاف لوگوں کی نفرت عروج پر پہنچ گئی کوئی طبقہ کوئی حلقہ ایسا نہیںتھا جس نے پرویز مشرف کے خلاف آواز نہ اٹھائی ہو۔ دوسری بار آئین توڑنے پر دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی دوسری مرتبہ آئین اس لئے توڑ ا کہ عدالت کیس میرے خلاف ہی فیصلہ نہ دے دے ۔ میڈیا کی آزادی کی بات کرنے والے کے دور میں جتنے صحافی قتل ہوئے ، اغواہ ہوئے ، تشدد ہوا اتنے کسی کے دور میں نہیں ہوئے جیوٹی وی پر حملہ ، 12مئی کو خونی کھیل کی کوریج کرنے والے آج ٹی وی پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں ۔ الیکشن کمیشن آفس کے سامنے صحافیوں پر تشدد کے تمام ریکارڈ توردیئے۔ بے ہوش صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ صدا بادشاہی صرف اور صرف خد ا ہی کی ہے اور رہے گی اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے جب پڑتی ہے تو پتہ نہیں چلتا یہی پرویز مشرف جس کے حکم سے سینکڑوں جانوں کو فاسفورس بمبوں سے اڑا دیا گیا تھا اسی کے ہی حکم پر بلوچستان میں آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کے ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ۔قبائلی علاقوں میں موت اسی کے دور میں بٹنے لگی ۔ پرویز مشرف سے ملنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنے والے سیاستدان اس کا فون تک نہیں سن رہے تھے ۔ مکے لہرانے والے کا چہرہ دیکھ کر لوگوں کو رحم آرہا تھا وہ محفوظ راستے کے لئے گڑگڑارہا تھا۔ امریکہ کی خاطر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے کو امریکہ نے ہی پناہ دینے سے انکار کر دیا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جابر اور ظالم حکمرانوں کو عبرت کا نشان بننا پڑا ۔ مگر پاکستانی قوم کواس وقت حیرت ہوئی جب قانون شکن شخص کو گارڈآف آنر دیا گیا۔ اس طرح تو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانے والے آتے رہےں گے اگر ہم آمریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روکنا چاہتے ہیں تو پرویز مشرف کا محاسبہ کرنا ہو گا۔ پرویز مشرف کے خلاف تحقیقات کی جائیں مقدمہ چلایا جائے مقدمے گی کاروائی اتنی شفاف ہو کہ پاکستانی عوام سمیت پوری دنیا اس پر اعتماد کرے اور قرار واقعی سزا ملے کیونکہ 61سالوں میں 32سال تو پہلے ہی آمریت میں گزار چکے ہیں ۔ اب ملک و قوم آمریت کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ اے پی ایس

No comments: