International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Saturday, August 9, 2008

امریکی مصنف کی کتاب کے پس پردہ پاکستان دشمن طاقتوں کی پیشگی منصوبہ بندی۔تحریر محمد رفیق اے پی ایس




امریکی مصنف کی کتاب کے حوالے سے راقم الحروف کا خیال ہے کہ کتاب ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ کتاب کو منظر عام پر لا نے والی پس پر دہ قوتوں کی اس حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی تھی اور انھوں نے مذکورہ کتاب میں پیپلز پا رٹی اور پر ویز مشرف دو نوں کو چلتا کر نے کیلئے ایسے الزاما ت لگائے ہیں کہ اقتدار کیلئے کسی ایسے تیسرے کو دعوت دی جا ئے جو سامراج کا ایجنٹ بھی ہو اور اسے پا کستان میں عوامی حما یت بھی حا صل ہو ۔






صدر کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں کہ وہ مواخذے کا سامنا کریں یا استعفیٰ دے دیں اگر صدر نے آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی کے تحت اپنااختیار استعمال کیا تو سیاسی قوتیں اسٹیبلیشمنٹ اور عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے تاہم صدر کو جرات کے ساتھ مواخذے کا سامنا کر نا چاہیے۔ جبکہ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ حکمران اتحاد ی حکومت کی اولین ترجیح بن گیا ہے اگرچہ انہوں نے معزول ججوں کو بحال کر نے کا بھی عزم کیا ہوا ہے۔ یہ دونوں مسئلے بہت اہم ہیں۔ آصف علی زر داری نے خود سے یہ اعلان کیا ہے کہ صدر کے مواخذے کے فوراً بعد ججوں کو اعلان مری کے مطابق بحال کیا جائے گا اتحادی حکومت کو ایک اہم نصب العین کی طرف بڑھنا ہوگا۔ جبکہ حکمران اتحاد نے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوالے سے ٹاسک فورس کے اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے دو دو ارکان پر مشتمل ٹاسک فورس کو صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوالے علیحدہ علیحدہ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ٹاسک فورس کے ایک رکن کو ارکان پارلیمنٹ کی دو تہائی تعداد پوری کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ٹاسک فورس کے دوسرے رکن کو صوبائی اسمبلیوں سے منظور کرائی جانے والی قراردادوں کی تیاری اور اس سلسلے میں ضروری رابطے کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ مواخذے کی تحریک کے حوالے سے چارج شیٹ تیار کرنے اور ضروری قانونی مراحل طے کرنے کی ذمہ داری تیسرے رکن کو دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ سے باہر سیاسی جماعتوں سے رابطے اور صدر مشرف کے خلاف ماحول تیار کرنے کی ذمہ داری چوتھے رکن کو سونپی گئی ہے۔ جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نہیں توڑوں گا۔ آئین کے مطابق مواخذے کی تحریک کا مقابلہ کیا جائے گا۔ نوازشریف شروع ہی سے جمہوری نظام کے خلاف ہیں۔ قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے تین نومبر کے اقدامات کیے گئے تھے۔ مواخذے کے حوالے سے الزامات دیکھ کر مستقبل کا فیصلہ کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات میں کیا ہے۔مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے صدر پرویز مشرف سے ہفتہ کو صدارتی کیمپ آفس میں طویل ملاقات کی یہ ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔ ملاقات میں چوہدری پرویز الہیٰ ایس ایم ظفر بھی چوہدری شجاعت کے ہمراہ تھے اس موقع پر صدر مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے اس ملک پر ڈاکہ نہیں ڈالا کرپشن نہیں کی جائیدادیں نہیں بنائیں بلکہ خلوص نیت سے اس ملک کی خدمت کی ہے اور ان یہ آئین کی خلاف ورزی کا الزام قطعی بے بنیاد ہے انہوں نے کہا ہے کہ تین نومبر کے اقدامات قومی سلامتی کا تقاضا تھے ملک اور جمہوریت بچاننے کے لیے کئے گئے تھے اور صدر نے ملاقات میں یہ واضح کر دیا ہے وہ 58 ٹوبی کا استعمال نہیں کر یں گے۔ نواز شریف شروع سے ہی جمہوریت کے خلاف ہیں پارلیمنٹ نہیں تووں گا انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت ذاتی سیاسی انتقام کی سیاست کر رہی ہے یہی جماعت صدارتی کو بگاڑنا چاہتی ہے صدر ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکمران اتحاد کی جانب سے ان کے اراکین کو توڑنے کے لئے پیسے کے استعمال کی کوشش کی جا رہی ہے صدر پرویز مشرف 58ٹو بی کے استعمال کا ارادہ نہیں رکھتے میڈیا نے مزید استفسار پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف پارلیمنٹ تو ڑیں گے نہ انہیں ایسا کر نا چاہیے جمہوری دور آئینی طریقے سے مواخذے کی تحریک کا مقابلہ کیا جائے گا اس حوالے سے اتوار کو (آج) پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں حکمت عملی پر غور ہو گا انہوں نے ان کی جماعت مکمل طور پر متحد ہے جن اراکین کی بات کی جا رہی ہے وہ پارلیمنٹ میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔ آصف علی زرداری نے صدر مشرف کا مواخذہ مہینوں کے بجائے ہفتوں میں مکمل کرنے کا اشارہ دے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ صدارت کے امیدوار نہیں اور انہوں نے دو ماہ قبل باہمی دوستی کے ذریعے صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر کے مواخذے کے لئے ایم کیو ایم سے مذاکرات جاری ہیں،اگرصدر مشرف مواخذے کے بغیر مستعفی ہوئے تو فیصلہ عوام کریں گے،ان کا کہناتھا کہ امریکی موقف میں تبدیلی پاکستان میں جمہوریت کی فتح ہے۔ انہوں نے دو ماہ پہلے مشترکہ دوست کے ذریعے صدر کو استعفے کا مشور ہ دیا تھا۔ اگر اٹھاون ٹوبی استعمال ہوئی تو یقین ہے عدلیہ ساتھ ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ صدر کے مواخذے میں کامیابی کا ایک سو دس فیصد یقین ہے۔ عا لمی میڈیا بھی مواخذہ کے حوالے سے دعوے کر رہا ہے کہ’صدر مشرف نے ماضی میں بھی سیاسی بحرانوں کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے‘ برطانوی اور امریکی اخبارات میں پاکستان کی سیاسی صورتِ حال خصوصاً صدر مشرف کے مواخذے کی خبریں شہ سرخیوں میں شائع ہو رہی ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی فوج صدر مشرف کو کہے گی کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ فوج کی قیادت چاہے گی کہ صدر مشرف مواخذے کی خفت سے بچ جائیں۔اخبار کے مطابق پاکستان فوج اور امریکہ دونوں ہی اعلانیہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ دوسری طرف دی ٹیلیگراف مسلم لیگ ق کے رہنما چوھدری شجاعت حسین کے حوالے سے یہ بھی لکھتا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہے کہ اتحادی رہنما صدر مشرف کے مواخذے پر پی پی پی کے آصف زرداری کو صدر بنائے جانے کے معاہدے کے بعد ہی متفق ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کے اہم حلیف صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف حکمران اتحادی پارٹیوں کیطرف سے مجوزہ مواخذہ پہلے سے ہی عدم استحکام میں گھرے پاکستان جیسے جنوبی ایشیائی ملک کو مزید خطرات کی طرف دھکیل دے گا۔ ایسے تبصروں کے بیچ ایک امریکی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلیجنس ایجینسیاں صدر بش پر زور دے رہی ہ?ں کہ وہ پاکستان میں القاعدہ کے لوگوں کا پیچھا کرنے کے لیے امریکی فوج کو اقدامات کرنے کے احکامات میں لچک اختیار کریں۔ اخبار دی ٹائمز کی سرخی ہے ’مواخذہ، سازش اور طاقت کا کھیل‘۔ اخبار کے مطابق ابھی یہ سوچنا قبل از وقت ہو گا کہ پاکستان کے سیاستدان معاہدے کے مطابق صدر مشرف کا مواخذہ کریں گے۔ ’چاہے مواخذے کا نتیجہ کچھ بھی ہو فائدہ نواز شریف کو ہی ہو گا‘ ۔اخبار یہ بھی لکھتا ہے کہ اگر صدر مشرف چلے بھی جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا۔ پارلیمان کو نیا صدر منتخب کرنا پڑے گا۔ پی پی پی کی پارلیمان میں زیادہ نشستیں ہیں اور آصف زرداری کئی مرتبہ یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اس عہدے کے خواہاں ہیں۔ تاہم اخبار لکھتا ہے کہ یہ بہت مشکل لگتا ہے کہ نواز شریف آصف زرداری کے صدر بننے پر رضامندی ظاہر کریں۔ اخبار فائنانشیئل ٹائمزز کی سرخی ہے ’مشرف مواخذے کے خلاف ڈٹ گئے‘۔ اخبار کے مطابق صدر مشرف اپنے نو سالہ دورِ اقتدار میں پہلے بھی کئی مرتبہ سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے حریفوں کو غلط ثابت کر سکے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان کے ایک سینیئر مشیر نے کہا ہے کہ صدر لڑائی کے بغیر میدان نہیں چھوڑیں گے۔ اخبار کے مطابق صدر مشرف نے رات گئے تک اپنے سیاسی حلیفوں اور قانونی مشیروں سے مشورے کیے ہیں۔ اخبار دی گارڈیئن کے مطابق مواخذے کی خبر کا مطلب پاکستان میں مزید سیاسی عدم استحکام ہے۔۔۔ کم از کم تھوڑے عرصے کے لیے تو ضرور۔اخبار لکھتا ہے کہ اگرچہ آصف علی زرداری اور نواز شریف میں بالآخر معاہدہ ہو گیا ہے لیکن یہ ایک عارضی مفادات کا اتفاق ہے نا کہ یہ ایک نئی یکجہتی ہے۔ تاہم اخبار کہتا ہے کہ صدر مشرف نے اولمپک کھیلوں میں شرکت کے لیے چین نہ جانے کے فیصلے سے یہ ضرور تاثر دیا ہے کہ وہ اس دھمکی کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ آخر میں اخبار کہتا ہے کہ حالیے بحران کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو یہ نواز شریف ہی ہوں گے جو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی وزارت خارجہ کے افغانستان اور پاکستان پر ایک سابق تجزیہ نگار مارون وینبام کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان میں حکمران جماعتی اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے خلاف مجوزہ مواخذے کے تناظر میں ’اگر فوج نے مداخلت کی تو پھر ملک میں دہشتگردی کے خلاف کیے جانیوالےاقدامات کا خطرناک حد تک رخ مڑ جائے گا۔‘ لیکن اسی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں قیادت کی تبدیلی کیلیے پہلے ہی تیار ہے اورمشرف کی ذات سے باہر پاکستان کی متخب حکومت اور سیاسی قیادت تعلقات رکھے ہوئے ہے۔ ادھر امریکہ کے با اثر اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا ہے کہ ’اگرچہ صدر مشرف عالمی براردری کی طرف سرے خطے میں ایک مدبر رہنما اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک اہم ترین اور قابل بھروسہ حلیف مانے جاتے ہیں جو انکی شخصیت کے بارے میں ایسا تصور ان کے گ?ار سمتبر دو ہزار ایک کے بعد امریکہ کی ساتھ اتحادی بننے کے بعد ابھر کر آیا تھا لیکن ان کی دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ وفاداری اور خلوص پر شک بھی کیا جانے لگا ہے۔‘ ’نیویارک ٹائمز‘ نے جنرل پرویز مشرف کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حمایت ہونے کی طرف عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مہینے ایک گولف کلب میں جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق کیانی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماو¿ں نے جنرل مشرف کو آنیوالے دنوں میں پیدا ہونیوالی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا تھا- جبکہ اخبار ’لاس اینجلز ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں ایک جگہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان لو فنٹر کے حوالے سے کہا ہے ’صدر مشرف کے خلاف مواخذہ پاکستان کا اندورنی معاملہ ہے تاہم امریکہ اسے پاکستانی آئین و قانون کی حمکرانی کے تناظر میں طے ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی پارلیمنٹ کی بالا دستی اور خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے تحریک کو 325اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو گئی ہے صدر کے مواخذے سے پاکستان پر غیر ملکی دباو¿ میں کمی آئے گی اور ملک میں سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہوتے ہوئے ہم آہنگی کی فضا قائم ہو گی پرویز مشرف کو پانچوں اسمبلیوں کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال نے پارٹی سیکرٹریٹ میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ علامتی طور پر کابینہ میں شامل ہوئے ہیں تاہم ججز کی بحالی تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر مستعفی وزراءکابینہ میں شامل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ججز کی بحالی کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کے معزول ججز کے حلف کے حوالے سے نوٹیفکیشن کو موخر کرنا پڑا ہے حکمران اتحاد کے فیصلوں کے ذریعے ججز کی بحالی کے کاز کو محفوظ کیا سمجھوتہ نہیں کریں گے پرویز مشرف کے مواخدے سے محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو گی نئی اسمبلیوں میں کسی ایک اسمبلی کا بھی پرویز مشرف کو اعتماد حاصل نہیں ہے وہ غیر نمائندہ صدر بن چکے ہیں گزشتہ اسمبلی کی بھی مدت ختم ہوئی وہ دھوکہ دے کر صدر بنے تھے ان کے وکیل نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پرویز مشرف نئی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ لیں گے انتخابات میں کنگ پارٹی کی شکست پر انہیں مستعفی ہوناچاہیے تھا جس کا انہوں نے خود اعلان کیاتھا وفاق اور صوبوں میں کہیں بھی صدر کو خوش آمدید نہیں کہا جارہاہے پنجاب سندھ ، سرحد ، بلوچستان کہیں بھی وزراء اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان ان کے استقبال کیلئے نہیں آئے کیونکہ ایوان صدر میں جمہوری عمل کو سبو تاڑ کرنے کی سازش کی گئیں اس لئے صدر کا مواخدہ ناگزیر ہو گیا ہے مواخذے سے محاذ آرائی ختم ہو گئی او رہم آہنگی پیدا ہو گئی انہوں نے کہاکہ ہم بزنس کمیونٹی کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ پرویز مشرف کے جانے سے سیاسی بحران اور بے یقینی ختم ہو جائے گی سرمایہ کاری کے بہترین مواقع اور فضا قائم ہو گی ان کی موجودگی سے نظام میں کشیدگی کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔پرویز مشرف کے مواخذے سے معاشی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا جھنڈا بلند ہوا ہے ۔ مواخذہ ملکی ترقی کی علامت ہے اور ثابت ہو گا کہ بڑے بڑے عہدے والا بھی قانون آئین کے سامنے جواب دہ ہے ۔ اس سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ مواخذہ انہونی بات نہیںہے ۔ امریکہ دو اور ایک اسرائیلی صدر مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اعظم کی جواب طلبی ایک و زیراعظم کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے ،کسی کو جلا وطن ، ہتھکڑی لگانے ، اٹک قلعہ کی کال کوٹھری میں قید کیا جا سکتا ہے تو آئین توڑنے ، بے گناہ شہریوں کو گولیوں سے بھوننے ، ڈالروں میں اپنے شہیدیوں کا سودا کرنے ملک کے کلیدی اثاثوں کو کوڑیوں کے مول بیچنے کے عمل میں شرکی ہونے ، عدلیہ کو تباہ کرنے ، ملک کی آزادی خود مختاری کو داو¿ پر لگانے فوج اور قومی اداروں کو سیاست میں ملوث کر کے انہیں متنازعہ بنانے کے ذمہ دار ،نائن الیون کے بعد پاکستان آنے والے 75ارب ڈالر کو فضول خرچیوں شاہانہ اخراجات کے لئے استعمال کرنے اور لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی ، آٹے چینی سیمنٹ کے مافیا پیدا کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف کا مواخذہ کیوں نہیں ہو سکتا ۔ اگر ایسے شخص کا مواخذہ نہیں ہو تا تو ملک بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردینا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مواخذہ پارلیمنٹ کا داخلی معاملہ ہے ۔ اس میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی ۔ مواخذے کی تحریک کی کامیابی پر پرویز مشرف صدارتی عہدے کے لئے فارغ تصور ہونگے ۔ جو کلاء ، پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ وہ پرویز مشرف کے جاتے جاتے دو ڈھائی کروڑ فیس کی صورت میں ہتھیانے کے لئے اس قسم کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے مداخلت کی تو پارلیمنٹ کی خود مختار ی اور بالا دستی کا دفاع کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے فلور پر یہ جنگ لڑی جائے گی ۔ پی سی او کے ججز پرویز مشرف کا دفاع نہیں کر سکتے ۔ ان کے ساتھی خود کہہ رہے ہیں کہ پرویز مشرف جنگ ہار چکے ہیں انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بجائے ان پر قانون کی گرفت ضروری ہے ۔ اس نے ملک کی عزت و قار احترام معیشت آئین عدلیہ جمہوریت کو نشانہ بنایا ہے ۔ مواخذے کی تحریک 86فیصد عوام کے امنگوں کی ترجمان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو رکن پارلیمنٹ تحریک کے موقع پر پرویز مشرف کی حمایت کرے گا ۔ آئندہ انتخابات میں وہ عوام کے ووٹوں سے محروم ہو جائے گا ۔ تحریک کو 325اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے ۔تحریک پیش ہونے پر اس تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا جب حکمران اتحاد کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے تو ہارس ٹریڈنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ پارلیمنٹ اپنے ضمیر کی روشنی میں پرویز مشرف کو رخصت کرے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن ) کا بینہ میں مکمل طور پر اس وقت شامل ہو گی جب ججز بحال ہونگے ۔ نواز شریف نہیں پرویز مشرف نے جمہوریت کو پٹری سے ہٹایا ۔ مشرف نے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ 58ٹو بی کا استعمال تاریخ کا عجوبہ ہے ۔ کسی فوج کے سربراہ کی مرضی کے بغیر اس کا استعمال نہیں ہے ۔ فوج کی قیادت فوج کو سیاست سے نکالنے اور غیر جانبدار رہنے کے اعلانات کر چکی ہے ۔ پرویز مشرف اپنی گرتی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لئے دوبارہ فوج کو سیاست میں نہیں جھونک سکتے ۔ فوج غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی مصنف کے پرویز مشرف کے بارے میں انکشافات کے بعد بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں پرویز مشرف کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ گذشتہ روز اخبارات میں امریکی مصنف کے حوالے سے شائع ہو نے والی رپورٹ کے مطابق کہ امریکا میں شائع ہونے والی ایک کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خفیہ طور پر شدید اور موثر چالیں چلنے کیلئے وطن واپسی سے قبل بے نظیر بھٹو کی فون کالز ریکارڈ کیں، کتاب میں اہم انکشافات کئے گئے ہیں ۔"The Way of the World"کے عنوان سے شائع ہونیوالی کتاب ایوارڈ یافتہ امریکی صحافی ران سسکند (RON SUSKIND) نے لکھی ہے جو انکشافات سے بھر پور ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا حصہ مشرف بے نظیر گفتگو پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مشرف کا فقرہ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے بے نظیر کو کہا کہ ”تمہاری سلامتی کا انحصار ہمارے ساتھ تمہارے تعلقات پر منحصر ہے۔“کتاب کے مصنف نے لکھا کہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کی کونڈولیزارائس کی سربراہی میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھر پور حمایت کی، جبکہ نائب صدر ڈک چینی نے اس قدر مخالفت کی کیونکہ ان کے بقول بے نظیر بھٹو ایک ”مشکل اور باقابل یقین شخصیت ہیں۔“کتاب میں انکشاف کیا گیا کہ بے نظیر نے جب بھی مشرف کے بارے میں سخت رویہ اپنایا تو اسلام آباد میں امریکی سفیر نے انہیں مشرف پر تنقید کم کرنے کا مشورہ دیا، کتاب کے مصنف نے لکھا کہ بے نظیر نے اکثر گلہ کیا کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی نے مشرف کو اپنا رویہ درست کرنے کا کبھی نہیں کہا بلکہ مجھے ہی ان کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے۔ ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران جب مشرف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کرنے سے انکار کیا تو بے نظیر نے کہا کہ ”پھر آپ مجھے کیا دے سکتے ہیں؟کیا الیکشن کمیشن میں حقیقی اصلاح ہو سکتی؟“مشرف نے کہا کہ ”انہیں (بے نظیر کو) زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے“ کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک مرتبہ بے نظیر کی اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ گفتگو بھی ریکارڈ کی۔ ”یہ (ایجنسیاں) ان کی (بے نظیر کی) کالز کئی مہینوں سے ریکارڈ کر رہی تھیں جس میں ایک کال بلاول کے ساتھ بات چیت والی بھی شامل تھی۔“کتاب میں لکھا ہے کہ اس کال میں بے نظیر نے بلاول کو ان خفیہ بینک اکاو¿نٹس اور خاندانی خزانوں کے بارے میں بتایا جس کے بارے میں تحقیقات کنندگان کو عرصے سے غیر قانونی ہونے کا شبہ تھا۔ اسی لئے جب بے نظیر بھٹو نے یہ تجویز دی کہ مشرف کے قریبی اہم افراد کے غیر ملکی اکاو¿نٹس منجمد کر دیئے جائیں تو ایک امریکی اہلکار نے انہیں سمجھایا کہ اس طرح اگر ضرورت پڑی تو امریکا ان کے اکاو¿نٹس اس طرح رد ک دے گا جس طرح وہ آج مشرف کیلئے تجویز کر رہی ہیں۔مصنف کے مطابق محترمہ بھٹو کے نمائندوں نے ان کی وطن واپسی کا منصوبہ تیار کرنے کیلئے 2006ءکے موسم بہار میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ شروع کیا لیکن وائٹ ہاو¿س نے ان کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا اس وقت شروع کیا جب چیف جسٹس کی معزولی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوئے اور یہ منصوبہ مشکل میں پھنسے واحد اتحادی مشرف کو مشکل سے نکالنے کیلئے تھا۔کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو وکلاء اور خاص طور پر افتخار چوہدری کو ایک مسئلہ سمجھتی تھیں اور یہ کہ وہ (وکلاءاور ججز) بہت زیادہ اصول پرست تھے۔ جب وہ جمہوریت کا راگ الاپ رہی تھیں تو وہ ایک ڈیل میں پھنس گئیں۔ اس دوران انہوں نے ”کہنا کچھ اور کرنا کچھ“ کے امریکی رویے کا بڑے قریب سے مشاہدہ کیا۔کتاب میں محترمہ بھٹو کی امریکی سینیٹر جان کیری سے ملاقات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے جس میں بے نظیر نے سینیٹر موصوف سے سکیورٹی کی درخواست کی ہے لیکن انہوں نے (سینیٹر نے) جواب دیا کہ ”امریکا عموماً ان لوگوں کی حفاظت کی ضمانت دینے سے ہچکچاتا ہے جو نامزد رہنما نہ ہوں۔“پاکستان سے متعلق کتاب کے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں۔ ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ، مصنف کے مطابق یہ کام امریکی قومی سلامتی ایجنسیوں (این ایس اے) نے کیا۔ بلاول کے ساتھ بے نظیر کی گفتگو کے متعلق لکھا گیا کہ ”این ایس اے سن رہی تھی۔ وہ ان کی کالز کئی مہینوں سے سن رہے تھے، جس میں بلاول کے ساتھ ان (بے نظیر) کی گفتگو بھی شامل تھی۔ اس کال میں بے نظیر نے بلاول کو خفیہ اکاو¿نٹس اور خاندانی دولت کے بارے میں بتایا، یہ خزانے وہ ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کنندگان کو طویل عرصے سے شبہ ہے کہ وہ ناجائز طور پرحاصل کئے گئے۔“اس راز کا فاعل جانتا ہے کہ شہادت حاصل کر لی گئی ہے جو تباہ کن اقدامات اور فیصلوں کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس دوران این ایس اے نے بے نظیر کی اور بھی بہت سی بڑی اہم گفتگو بات چیت ریکارڈ کر لی ہے۔ یہ چیز مفادات سے بھر پور خفیہ چالیں موثر طور پر چلنے میں امریکا کی مدد گارہوں گی۔ یہ ریکارڈ شدہ گفتگو امریکی حکومت کے سامنے بے نظیرکو ان فٹ قرار دینے کیلئے بطور شہادت استعمال ہوں گی۔ یہ ریکارڈ ”گاجر اور چھڑی“ پالیسی کے تحت وسیع تر تناظر میں استعمال ہوں گی۔ جس میں امریکا بے نظیر کو کہے گا کہ مشرف کے ساتھ معاہدہ کرنے پر وہ (امریکا) ان (بے نظیر) کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہے، لیکن اسی اثناء میں اگر بے نظیرنے کسی چیز کی خلاف ورزی کی تو ان کیخلاف جاری تحقیقات کے حوالے سے امریکا ان کی زندگی اجیرن کر دے گا۔ جس چیز کو انہوں نے نظر انداز کیا وہ سیاق و سباق اورلہجہ ہے جو انہوں نے مختلف کالز کے دوران اختیار کیا۔ جو چیز نظر انداز کی گئی وہ ان کا (بے نظیر کا) نزدیک آتی موت کیلئے تیاری اور اس کا خوف تھا۔ بھٹو کو این ایس اے کی طرف سے کالیں ریکارڈ کرنے کا علم نہ تھا۔ لیکن ایک امریکی عہدیدار نے ان کو سمجھایا کہ امریکا جب ضرورت پڑی، ان کے اثاثے بھی روک لے گا جس طرح وہ اب مشرف کیلئے کرنے کی تجویز دے رہی ہیں۔مشرف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو:وطن واپسی سے 3 ہفتے قبل ان کی کیپٹل ہل میں امریکی قانون سازوں، جان کیری اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام سے ہونیوالی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے مصنف نے کہا ”اچانک جوڑا (بے نظیر اور زرداری) نمودار ہوئے۔ ان کا ایک ساتھی ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور کہا کہ مشرف کے ایک ساتھی کی کال آئی تھی۔ ان کے ساتھی نے انہیں بتایا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کے خاتمے کے حوالے سے مشرف ان کی حمایت نہیں کر سکتے اور وہ (مشرف) بے نظیر سے بات کرنا چاہتے ہیں، بھٹو اسلام آباد سے آنیوالی کال لیتی ہیں۔“انہوں نے مشرف کو بتایا کہ ”دو مرتبہ منتخب ہونیوالی شق میرے لئے بہت اہم ہے۔ اگر اب اس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تو آپ مجھے کیا دے سکتے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن میں کوئی اہم حقیقی اصلاح ہو سکتی ہے؟ مشرف نے جواب دیا کہ ”انہیں کچھ زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے“ بہت سی کالز کے دوران وہ (مشرف) حیران کن حد تک نرم خور دوستانہ اور اکثر بڑے معقول رویہ اپنائے رہے، لیکن اس مرتبہ لگتا تھا کچھ بدل چکا ہے، اس مرتبہ ان کی آواز سخت تھی اور تقریبا بے نظیر کا مذاق اڑانے والا انداز تھا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اگر امریکی حکام نے آپ سے کوئی بات چیت کی ہے تو یہ بات واضح ہو جائے کہ میرا تحفظ تمہاری (مشرف کی) ذمہ داری ہو گی۔ مشرف نے کہا کہ ”ہاں کسی بندے نے بات کی ہے“ پھر ہنستے ہوئے کہا کہ”امریکی جو چاہیں کہہ سکتے ہیں اور میرے اور آپ کے بارے میں تجاویز دے سکتے ہیں، ان کو کہنے دیں۔“ انہوں (مشرف) نے ایک واضح وارننگ کے ساتھ فون کال ختم کر دی۔ مشرف نے حتمی طور پر بے نظیر کو کہا کہ ”آپ کو سمجھنا چاہیے، آپکی سلامتی کی ضمانت ہمارے ساتھ آپ کے تعلقات پر منحصر ہے“ پھر بے نظیر نے فون اس طرح سے بند کر دیا جیسا کہ وہ خود بیمار محسوس کر رہی ہوں۔ کراچی پہنچنے کے بعد بے نظیر پر قاتلانہ حملے کے بعد ہونیوالی مشرف بے نظیر فون کالز کے حوالے سے مصنف نے لکھا کہ ”اگلے روز مشرف نے محترمہ بھٹو سے ان کی رہائش گاہ پر رابطہ کیا، انہوں (بے نظیر) نے ان کی طرف سے ہمدردی کے اظہار کو بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ قبول کیا۔“ مشرف نے کہا کہ ”میں دشمن نہیں ہوں بی بی، محترمہ بھٹو نے جواباً کچھ نہ کہا، وہ جانتی تھیں کہ فون کال ریکارڈ کی جا رہی ہے، یہ کوئی نئی چال تھی اور وہ اپنے پتے دکھانا نہیں چاہتی تھی۔“ سینیٹر جان کیری کے ساتھ گفتگو!محترمہ بھٹو کی سینیٹر جان کیری کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے مصنف نے لکھا کہ ”اس دورے کی ترجیح محترمہ بھٹو کیلئے سکیورٹی حمایت حاصل کرنا تھا، اکتوبر 18 کی تاریخ آنے میں صرف 3 ہفتے باقی تھے، کیری جلدی سے عمل کرنے والا شخص ہے، بے نظیر تم جس صورتحال کا شکار ہو رہی ہو وہ بہت نازک ہے۔ انہوں کیری نے کہا کہ امریکا عموماً نامزد رہنماو¿ں کے سوا کسی اور شخص کو تحفظ کی ضمانت دینے سے ہچکچاتا ہے، امریکی قانون امریکی فورسز کو خود مختار ریاستوں کے اندرونی جھگڑوں میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔“ بے نظیر نے کہا کہ سینیٹر کیری میں چاہتی ہوں کہ پاکستان مجھے قانون کے مطابق میرا حق بننے والی سکیورٹی مہیا کرے، میں آپ کی شکر گزار ہوں گی اگر آپ مشرف حکومت سے بات کریں انہیں بتائیں کہ امریکا ان (مشرف) سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توقع رکھتا ہے۔“ کیری نے بھر پور سانس لیا، ظاہر ہے ایک سینیٹر تن تنہاملک کی خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتا۔”اچھا، بے نظیر، میں یقینا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بات کرونگا کہ وہ مشرف سے اس حوالے سے بات کرے۔“ انہوں نے یہ بات اس قدر پرزور انداز میں کہی، جتنا کہ اس بارے میں خوش اعتقادی کا اظہار کیا جا سکتا ہو۔ ان کی حالیہ قسمت ان آدھ درجن افراد کے ہاتھوں میں ہے جو اس (بے نظیر) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ یہ افراد سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور نائب صدر کے دفتر کے سینئر عہدوں پر متمکن پالیسی ساز ہیں۔بے نظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کوئی بھی سرکاری رابطہ اسی چھوٹے سے گروپ کے ذریعے رہا ہے ، جن کی در حقیقت ڈک چینی اور رائس نگرانی کرتے ہیں، ہر دو شخصیات باہمی تنازعات کی طویل تاریخ رکھتی ہیں، اس میں زیادہ تر نائب صدر کا غلبہ رہاہے۔ کونڈولیزارائس بمقابلہ ڈک چینی: بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپس لانے کا منصوبہ در حقیقت رائس کی سربراہی میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تیار کیا تھا۔ ڈک چینی کے نقطہ نظر کے حوالے سے ان کے ایک سینئر مشیر نے بتایا کہ ”ہمارا خیال تھا کہ اس شادی (مشرف بے نظیر ڈیل) کااہتمام ہمارے لئے اچھا ثابت نہیں ہو گا، بھٹو ایک مشکل اور ناقابل یقین شخصیت ہیں۔ بہترین پالیسی یہ ہے کہ مشرف کی حمایت کی جائے اور اقتدار میں رہنے کیلئے انہیں (مشرف کو) جو چاہیے اسے دیا جائے، مشیر نے مزید کہا کہ ”ہمارا خیال تھا کہ بے نظیر کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ریاست سے باہر ہو رہا ہے، ان کو خودہی بھگتنے دیا جائے‘ کونڈولیزارائس، بھٹو ٹیلی فونک گفتگو!بھٹو مشرف مذاکرات کو ہینڈل کرنے والے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رچرڈ باو¿چر بیمار ہو گئے تھے اور انہیں ہسپتال داخل کرانا ضروری تھا۔ رائس نے مداخلت کی کوشش کی، انہوں نے لندن ہوٹل میں جہاں بے نظیر اپنے حامیوں سے ملاقات کر رہی تھیں سے فون پر بات کی، بھٹو نے کال نہ سنی، انہوں نے بعد میں بتایا کہ ”کسی نے کہا کہ رائس فون پر ہیں، میں نے سمجھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔“انہوں (رائس) اور بے نظیر نے اکثر اوقات رات بھر بلکہ صبح تک طویل ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں مشرف کے ساتھ اہم معاملات طے کرنے پر بات چیت کی، محترمہ بھٹو نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی سلامتی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے شبہ ہے کہ امریکا انہیں صرف مشرف کو مشکل سے نکالنے کا ذریعہ سمجھتا ہے نہ کہ جمہوریت کی چیمپئن اور انہوں نے جنرل کے ساتھ اپنے تبادلے کو ایک کمزور تعلق ظاہر کیا۔ مشرف کی طرف سے سکیورٹی فرم کو ویزا دینے سے انکار!وطن واپسی سے دو روز قبل محترمہ بھٹو بڑی پریشان ہیں، اس کی ٹیم ان کیلئے سخت سکیورٹی اقدامات کرنے میں بری طرح مصروف ہے، بے نظیر کے امریکی مشیران مارک سیگل اور لیری ویلس بلیک واٹر کے معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ستمبر میں فرم کے نمائندوں نے دبئی میں بے نظیر سے بات چیت کی اور ان سے سکیورٹی پلان پر گفتگو کی، جس کے ا خراجات 4 لاکھ ڈالر ماہانہ تھے، وہ پاکستان میں اپنے الحاق شدہ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے تھے کیونکہ مشرف نے بے نظیر کی سکیورٹی کیلئے امریکا سے درآمد شدہ گارڈز کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا، انہوں نے فرم کو انکار کر دیا، وہ جانتی تھیں کہ امریکا نے ان کی سکیورٹی کے حوالے سے مشرف کی یقین دہانی قبول کر لی ہے۔ جس میں انہوں (مشرف) نے کہا کہ ان (بے نظیر) کی سکیورٹی کنٹرول میں ہے، لیکن بے نظیر نے اس پر اعتبار نہ کیا اور ”میری موت کی صورت میں“ والا پیغام مشرف کو ارسال کیا، جس میں ان (مشرف) کے قریب انتہا پسند اسلامی اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی جو ان (بے نظیر) کے قتل کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ مذ کورہ با لا رپورٹ کے حوالے سے راقم الحروف کا خیال ہے کہ کتاب ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ کتاب کو منظر عام پر لا نے والی پس پر دہ قوتوں کی اس حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی تھی اور انھوں نے مذکورہ کتاب میں پیپلز پا رٹی اور پر ویز مشرف دو نوں کو چلتا کر نے کیلئے ایسے الزاما ت لگائے ہیں کہ کسی تیسرے کو دعوت دی جا ئے جو سامراج کا ایجنٹ بھی ہو اور اسے پا کستان میں عوامی حما یت بھی حا صل ہو ۔ کیااسمبلی میں پیش ہونے والی قرارداد عدالت میں چیلنج ہو سکتی؟ اس حوالے سے بھی پاکستان میں اس وقت یہ بحث عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیار کو استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں جبکہ سابق وزرائے قانون کے دلائل کا عمومی جھکاو¿ اس جانب دکھائی دیتا ہے کہ صدر مملکت اپنے مواخذے کی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتے۔ سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ عام حالات میں پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر مواخذے کی کارروائی کے دوران ایسے غیر متعلقہ الزامات عائد کیے جائیں جس کا تعلق مواخذے سے نہ ہو اور آئین کے تحت ان الزامات کی بنیاد پر موخذاہ نہ کیا جا سکتا ہو تو ایسی غیر معمولی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے بعد اسمبلی کی تحلیل کا اختیار استعمال کر سکتے ہیں اور اس اختیار کے استعمال میں آئینی اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے صدر اسمبلی توڑنے کے اختیار کو کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔ اسمبلی میں پیش ہونے والی قرارداد کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول اسمبلی ہر طرح کی قرارداد منظور کر سکتی ہے تاہم ان قراردادوں کا قانونی اثر نہیں ہوتا۔ سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صدر پرویز مشرف اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اختیار کوئی کمزور شخص استعمال نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول صدر مشرف کے پاس اب دو ہی راستے ہیں کہ وہ اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کریں یا پھر مستعفی؟ ہو جائیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک صدر مملکت کے خلاف الزامات سامنے نہیں آتے اس وقت وہ عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس شخص کو پارلیمان کا اعتماد حاصل نہ ہو ایسے شخص کی عدالت کس طرح داد رسی کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے عدالتی فیصلے موجود ہیں جہاں مقامی حکومتوں کے نظام میں جب کسی ناظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو عدالت نے داد رسی نہیں کی اس لیے صدر مشرف اپنے خلاف موخذاے کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں صدر پرویز مشرف کے خلاف جو موخذاے کی کارروائی ہوگی اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا اوراس کارروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ’ کیاصدر کے خلاف مواخذہ صرف ان کی موجودہ معیاد عہدہ کے مطابق کیا جا سکتا ہے‘ اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ معروضی صورتحال سے ہٹ کر مواخذے کی تحریک پیش کی جائے تو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول صدر کے خلاف مواخذے کا اعلان اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اس لیے گمان ہے کہ آئین میں دی گئی وجوہات سے ہٹ کر چارج شیٹ پیش کی جائے اور کارروائی عمل میں لائی جاتے تو اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ صدر کے خلاف مواخذہ صرف ان کی موجودہ معیاد عہدہ کے مطابق کیا جا سکتا ہے اور مواخذے کی کارروائی میں ان کے سابق اقدامات کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے بقول صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے باوجود اسمبلی تحلیل کرنے کا صدراتی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے آئین میں یہ تو درج ہے کہ جب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے تو وہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کرسکتے تاہم بقول ڈاکٹر خالد رانجھا آئین میں یہ کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ جب صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہو تو وہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے۔ اگر صدر مواخذے کے دوران اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اسمبلی کی تحلیل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور اس الزام کو ایک جواز کے طور پر اٹھایا جائے گا کہ اسمبلی بدنیتی کی بنیاد پر توڑی گئی تھی۔ جبکہ اقبال حیدر کاکہنا ہے کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ صوبائی اسمبلیاں صدر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کریں جس میں صدر کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جائے۔ صدر پرویز مشرف مواخذے کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے کیونکہ مواخذے کی کارروائی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور اس کارروائی میں عدالت مداخلت کی مجاز نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صدر مواخذے کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو یہ اقدام غیر آئینی ہوگا۔ اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیار کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر کوئی فعل قانون کے مطابق کیا جائے لیکن اس میں بدنیتی شامل ہو تو یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگا۔ ان کے بقول صدر پرویز مشرف کے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اگر انہوں نے اسمبلی تحلیل کرنے کی جرات کی یہ اقدام غیر آئینی ہوگا جس کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔ اے پی ایس



No comments: