International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, August 15, 2008

مواخذہ مشرف کا نہیں جنرل غلام محمد کا ہے۔تحریر محمد رفیق اے پی ایس





پاکستان میں جمہوریت اس دن آئے گی جس دن فوجی آمروں کے ساتھ ساتھ سویلین آمر بھی دفن ہو جائیں گے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام سیا سی جماعتوں کے سربراہ دیانتداری کے ساتھ ہر سال اپنی پا رٹیوں میں الیکشن کر وائیں اور اپنے دوسرے ساتھیوں پر بھی اعتماد کر نا سیکھیں۔ ملک میں جمہوری استحکام کیلئے ضروری ہے کہ فوجی آمروں کے ساتھ ساتھ سویلین آمروں کے بھی اقتدار میں داخل ہونے کے تمام دروازے بند کر دیے جا ئیں۔ مواخذہ مشرف کا نہیں بلکہ ان تمام فوجی آمروں کا ہے جنھوں نے قیام پا کستان کے بعد آئین توڑنے کی روایت قائم کی تھی۔ آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزائے موت دینا اس لئے لازم ہے کہ دراصل یہ سزائے موت مشرف کی نہیں بلکہ جنرل غلام محمد اور اس کی سوچ رکھنے والے ان تمام افراد کی ہوگی جو جمہوریت،پاکستان کے آئین اور عوام کے قاتل ہیں جن میں سے کچھ قبروں میں چلے گئے ہیں کچھ جا نے والے ہیں اور کچھ اب بھی اقتدار کے چور دروازے کی چوکھٹ پر جھولی پھیلائے بیٹھے ہیں۔ جس طرح کسی جرنیل نے اس ملک کو نہیں بنایا اسی طرح ملک کسی جا گیر دار کیلئے نہیں بنا یا گیا کہ وہ اس ملک میں اپنی نجی جیلیں بنا کر غنڈہ گردی کر تا رہے اس کے لئے ضروری ہے مواخذہ یعنی ایک قانون شکن جرنیل کو کیفر کردار تک پہنچا کر فورا بعد ان تمام جا گیر داروں سے نمٹا جا ئے جنھوں نے ساٹھ سال سے اپنی جا گیروں کی وجہ سے پا کستان کے سولہ کروڑ عوام کو اقتدار سے دور رکھا ہوا ہے۔جبکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے آصف علی زرداری کو صدر مشرف کے مواخذے کے لیے اپنے پانچ سینٹرز کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین نے آصف علی زرداری نے قاضی حسین احمد کو ٹیلی فون پر جشن آزادی کی مبارکباد دی۔ دونوں رہنماو¿ں نے صدر کے مواخذے اورسیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔قاضی حسین احمد نے آصف زرداری کویقین دلایا کہ سینٹ میں جماعت اسلامی کے پانچ سینٹرز مواخذے کی تحریک میں حکمران اتحاد کا ساتھ دیں گے۔ قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ مواخذے کی تحریک پر کوئی دو آرا نہیں ۔تاہم اگر پہلے ججز بحال کردیے جاتے تو مواخذے کی تحریک زیادہ موثر ثابت ہوتی۔ آصف علی زرداری نے قاضی حسین احمد کو یقین دلایا کہ مواخذے کے بعد ججوں کو بحال کیا جائے گا۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو فارغ کر کے معزول ججز کو بحال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے کہا کہ ججوں کو بحال کرنے کے ساتھ صدر کو بھی فارغ کرنے کی ہوئی بات تو میں نے کہا کہ ہوگئی بات،زرداری نے کہا ملاو ہاتھ ، تو میں نے ملایا ہاتھ۔یہ بات نواز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر علامہ اقبال کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔نواز شریف نے کہا کہ صدرکے مواخذہ کی قرارداد چار ماہ پہلے ہی منظور ہوجانی چاہئے تھی اور یہ بھی کہا تھاکہ مشرف کو چلا جاناچاہئے ورنہ مواخذہ کیا جائے لہذا چند دن پہلے زرداری صاحب سے مل کر کہا کہ مری میں جج بحال کرنے کے متعلق دستخط کئے تھے اگر وزیر اعظم کی جانب سے ججوں کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ بحالی کا حکم بھی جاری کردیا جاتا تو اچھا تھا اب پانچ ماہ ہوچکے لیکن جج بحال نہیں ہوئے تو زرداری صاحب نے کہا کہ صدر کے مواخذے اور پھر ججوں کی بحالی پر معاہدہ کرلیں تو میں نے ہاں کردی۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ معاہد ے کی رو سے اب پہلے مشرف کا مواخذہ ہوگا اور پھر فوری جج بحال ہوں گے۔نواز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب کے اصرار پر چار وزیر کابینہ میں دیئے ہیں باقی ججوں کی بحالی کے بعد کابینہ میں شامل ہوں گے۔انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بات ہورہی ہے ،ایسے شخص کو محفوظ راستہ دیا جائے جس نے آئین اور قانون توڑا،پاکستان کی خودمختاری کا سودا کیا، عدلیہ کو توڑ دیا،بلوچستان کا کیا حال کیا اور بگٹی جیسے لوگوں کو گولی ماری۔کیا مشرف کو تمغہ جرات یا ستارہ جرات ملنا چاہے آپ ہی بتائیں جو قانون توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے یا جزا۔انہوں نے کہا کہ یہ مشرف کا مواخذہ نہیں ، آمریت کا مواخذہ ہے جس نے پاکستان کے 61 سال بربادکئے،یہ آئین کو برباد کرنے والے کا مواخذہ ہے، بے روز گاری اور مہنگائی بڑھانے والے کا مواخذہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے کہنے کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنادیا لیکن مشرف امریکہ کی غلامی کرتا ہے،یہ وہی مشرف ہے جس نے اپنی کتاب میں اعتراف کیاکہ اس نے پاکستانیوں کو بیچ کر ڈالر بنائے،بتایا جائے کہ ڈالر کہاں ہیں۔نوازشریف نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن کشمیر کا معاملہ پاکستان کا بھی اتنا ہی معاملہ ہے جتنا کشمیریوں کا ہے،بھارت کو یہ ظلم بند کرنا چاہئے اور کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ہم سب نے مل کر پاکستان کو بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذات کو شامل نہیں کرتا یہ پاکستان کا معاملہ ہے۔ جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہاہے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی ملک میں امن،استحکام اور سالمیت کی ضامن ہے۔وہ راول پنڈی میں یوم آزادی کے سلسلہ میں ارٹلری میس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔تقریب میں پاکستان آرمی کے ریٹرئد سینئرحاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران، جونئیر کمیشنڈ افسران اور نان کمیشنڈ افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران اس ادارہ کے لیے رول ماڈل ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور سینئر افسران نوجوان افسروں کے لیے ایک مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان افسران پر پوری قوم اور آرمی کو فخر ہے۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف تمام مہمانوں میں گھل مل گئے۔انہوں نے ریٹائرڈ افسران سے ان کی خیریت دریافت کی اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایوانِ صدر کی تقریب میں وزیرِ اعظم اور کابینہ کے کسی رکن نے شرکت نہیں کی ۔پاکستان کے باسٹھویں یوم آزادی کے موقع پر صدر اور وزیر اعظم نے جمعرات کو الگ الگ تقریبات منعقد کیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ یوم آزادی کی دو مرکزی تقریبات منعقد کی گئیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جب جمعرات کی صبح کنوینشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تو اس تقریب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، بیشتر وزراء، سینئر بیوروکریٹس، صحافی اور سفارتکار بھی شریک ہوئے۔ صدر پرویز مشرف نے تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب ایوان صدر میں سلام پاکستان کی جو تقریب منعقد کی اس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی یا ان کی کابینہ کے کسی رکن اور آرمی چیف نے شرکت نہیں کی۔ صدر مشرف نے سلام پاکستان کی تقریب تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب منعقد کی ۔البتہ ایوان صدر کی تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان شریک ہوئے۔ ایوان صدر میں جمعرات کی صبح تمغے اور اعزازات دینے کی ایک تقریب منعقد ہوئی اس میں بھی وزیراعظم اور ان کی کابینہ یا آرمی چیف نے شرکت نہیں کی۔ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب آرمی چیف جنرل کیانی نے یوم آزادی کے سلسلے میں کاکول میں تقریب میں شرکت کی۔ ان کے مطابق چودہ اگست کی صبح آرمی چیف نے وزیراعظم کی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی اور اس کے بعد راولپنڈی میں سینئر فوجی افسران اور ریٹائرڈ فوجیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں حکمران اتحاد نے صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کی ہے آرمی چیف کی وزیراعظم کی تقریب میں شرکت سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ فوج صدر پرویز مشرف کے ساتھ نہیں۔ گزشتہ شب ایوان صدر میں منعقد تقریب میں صدر کو سگار پیتے اور پان کھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا اور بظاہر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ وہ مواخذے کی تحریک سے پریشان نہیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے صدر کے مواخذے کے اعلان کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی عوامی تقریب میں نظر آئے۔ صدر نے تقریب سے خطاب میں اپنے مواخذے کے بارے میں براہ راست تو کوئی بات نہیں کی تاہم ملکی سلامتی کی خاطر ٹکراو¿ کے بجائے مصالحت پر زور دیا۔ صدر نے ملکی سلامتی کے لیے ’ملٹری اور معیشت کے استحکام‘ کی نئی اصطلاح بھی متعارف کروائی۔ صدر کی گزشتہ رات کی تقریر میں کئی بار دعائیہ فقرے بھی سننے کو ملے جس پر ایک صحافی نے کہا کہ صدر امریکہ، آرمی اور عدلیہ سے مایوسی کے بعد اب اللہ کو کثرت سے یاد کر رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں ملکی استحکام کے لیے فوج اور قوم کے متحد ہونے کو بھی لازمی جز قرار دیا۔ لیکن وزیراعظم کی تقریر میں ملکی استحکام کے لیے حکومت اور عوام کے متحد اور متقق ہونے پر زور دیا گیا۔ جبکہ لاہور میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس کی تین الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔اس دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیموں نے ایس پی سی آئی اے ، ایس پی آپریشنز اور ایس پی انوسٹیگیشن کی نگرانی میں مختلف پہلوو¿ں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس نے خود کش بمبار کا سر اور جسم کے دیگر حصوں کو قبضے میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی بھجوا دیا ہے۔ یہ بم دھماکہ بدھ کی شب رات کو گیارہ بجے کے بعد ملک کی آزادی کے جشن شروع ہونے سے تھوڑی دیر قبل علامہ اقبال ٹاو¿ن پولیس سٹیشن کے بالکل سامنے دبئی چوک پر ہوا تھا۔ دھماکا اس وقت ہوا جب شہر بھر میں نوجوان موٹر سائیکلوں، کاروں اور دوسری گاڑیوں میں سوار ہوکر ٹولیوں کی شکل میں آزادی کا جشن منانے کے لیے گشت کر رہے تھے اور شہر بھر میں چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار جشن آزادی کی رات امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تعینات تھے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پیدل آ کر مون مارکیٹ کے دبئی چوک پر جشن آزادی کے سلسلے میں سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ مون مارکیٹ میں موجود شہری بھی حملے کا شکار ہوئے۔ دھماکے کے وقت مون مارکیٹ میں اپنے کنبوں کے ساتھ کھانے پینے اور خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جبکہ علامہ اقبال ٹاو¿ن کی مرکزی شاہراہ ہونے کی وجہ سے سڑک پر دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں گاڑیاں بھی رواں دوں تھیں جس کی وجہ سے عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں بھی بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے بم دھماکہ اتنا شدید تھا اس کی زد میں آنے والے لوگوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے جبکہ چوک پر واقع مسجد اور دیگر عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے آٹھ افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے پولیس کو نشانہ بنا کر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور ایک تیس سالہ نوجوان تھا جو پیدل تھا اور اس نے عقب سے آکر پولیس چوکی کے پاس اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ہلاکتوں کی تعداد پہلے چھ بتائی گئی تھی جبکہ دو زخمیوں نے بعد میں دم توڑ دیا۔ شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ جشن آزادی کے موقع پر جمعرات کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، لاہور میں جمعرات کو ریڈ الرٹ ہے اور تمام تقریبات کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور پولیس کے جوان اپنی جان پر کھیل کر شہریوں کی حفاظت کریں گے۔ ان کے مطابق پہلے سے لاہور میں دہشتگردی کے خطرات موجود تھے اور انہیں ایسی اطلاعات بھی تھیں جس کی وجہ سے شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو دس دس لاکھ، ہلاک ہونے والے شہریوں کے ورثاءکو تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ طالبان ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کی گولہ باری جاری ہے پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق گھروں پر مارٹر گولے گرنے سے آٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں۔دوسری طرف باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی گاڑی کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے تاہم طالبان کے مطابق گاڑی میں طالبان رہنما موجود نہیں تھے۔ باجوڑ سے موصولہ اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات اور جمعرات کی صبح سکیورٹی فورسز نے سالارزئی اور ماموند تحصیلوں پر شدید گولہ باری کی جس میں عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک مارٹر گولہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا ایک مارٹر گولہ شین کوٹی کے علاقے میں گرنے سے بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم سرکاری طورپر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دریں اثناء باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی گاڑی کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے جس سے ان کی گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مولوی فقیر محمد کے گاڑی کو نشانہ بنایا جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ تاہم ان کے بقول گاڑ ی میں مولوی فقیر یا کوئی اور طالب موجود نہیں تھا۔ عام لوگوں کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے فوری طورپر نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ادھر باجوڑ ایجنسی میں حکومت کی طرف سے ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں عام لوگوں کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے فوری طورپر نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ پمفلٹ کے مطابق باجوڑ ایجنسی کے تمام سڑکیں عوام اور گاڑیوں کے لیے کھلی رہیں گی تاہم جب بھی فضا میں ہیلی کاپٹر نظر آئے گا تو تمام سواریاں گاڑی سے نیچے اتر کر ہاتھ فضا میں بلند کریں گی، گاڑی درخت کے نیچے نہیں بلکہ سڑک پر کھڑی کی جائے گی اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خلاف ورزی کرنے والوں پر حملہ کیا جائے گا۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص پیدل نظر آئے گا اگر اس نے ہوا میں ہاتھ بلند نہ کیے تو اسے بھی مارنے کا حکم ہے ، اگر کوئی شخص بیٹھا ہے تو کھڑا ہو کر ہاتھ بلند کرے۔ جہاں کہیں طالبان ہیں ان علاقوں کو مقامی باشندے فوری طورپر علاقے خالی کر دیں۔ جبکہ سرینگر میں کئی مقامات پرمظاہرین نے انڈیا مخالف نعرے بازی کی اور آزدای کا مطالبہ کیا ہے ۔بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے چار اضلاع میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جبکہ سرینگر سے کرفیو اٹھا لیا گیاہے۔ بارہ مولہ، باندی پورہ، پلوامہ اور شوپیان میں ابھی تک کرفیو میں نرمی نہیں کی گئی ہے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پرگولی چلانے کے خلاف لوگوں میں زبردست غم وغصہ ہے اور وادی میں حالات اب بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ پلوامہ میں بعض لوگوں نے مرکزی ریزرو پولیس کے ایک افسر پر پتھر پھینکے تھے جس کے بعد مزید پولیس وہاں پہنچ گئی اور انہوں نے لوگوں کے گھروں میں گھس کر زد و کوب اور تشدد کیا۔ اس کے جواب میں ہزاروں لوگوں نے جلوس نکالا جس پر پولیس نے فائرنگ کی۔ درمیانی شب سرینگر میں بالکل وہی ماحول تھا جیسا کہ انیس سو نوّے میں ہوا کرتا تھا۔’ لوگ گھروں سے باہر آ کر مسجدوں میں اور سڑکوں پر جمع ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی کیونکہ کئی مقامات سے پولیس کے لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے کی خبریں آئی تھیں۔‘ اطلاعات کے مطابق رات کو شروع ہوئے مظاہرے صبح چار بجے تک جاری رہے اور فجر کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تازہ مظاہرے سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک بیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جموں شاہراہ پر ہندو بلوائیوں کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں تین دن میں انیس افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف وادی میں گزشتہ دو روز میں چوبیس افراد مارے گئے ہیں۔ گزشتہ تیرہ برس میں یہ پہلا موقع تھا کہ کشمیر کے سبھی اضلاع میں ایک ساتھ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم سرینگر اور باڑگام میں بدھ کی صبح آٹھ بجے سے گ?ارہ بجے کے درمیان کرفیو میں نرمی دی گئی تھی۔ اب تک ہونے والے جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی تعداد پانچ سو سے زائد ہو چکی ہے اور مقامی پولیس کے مطابق زخمیوں میں ایک سو بانوے سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے صوبائی سربراہ کلدیپ کمار کھوڑا نے منگل کی شام ایک پریس کانفریس میں بتایا تھا کہ ’دو روز کے دوران سترہ افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے، جن میں ایک سو بانوے پولیس و نیم فوجی عملے کے اہلکار بھی شامل ہیں‘۔ اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال اور شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایمرجنسی شعبوں سے وابستہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے باعث ضروری ادویات اور طبی ساز و سامان کا فقدان ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کی نگہداشت میں مشکلات درپیش ہیں۔ تاہم محکمہ داخلہ کے نگران حاکم انِل گوسوامی نے بتایا ’نیشنل ہائی وے پر کوئی بلاکیڈ (ناکہ بندی) نہیں ہے، اور مال بردار گاڑیاں برابر وادی آرہی ہیں اور یہاں سے جموں جا رہی ہیں‘۔ واضح رہے کشمیری میوہ کاشتکاروں اور میوہ صنعت سے ج±ڑے تاجروں نے گیارہ اگست کو جموں میں ہندو شدت پسند گروپوں کی طرف سے جموں۔سرینگر شاہراہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظفرآباد روڈ کھولنے کے لیے ایک عوامی تحریک چھیڑدی جس کے دوران علیٰحدگی پسندوں اوردیگر عوامی حلقوں کی حمایت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس مقام کی طرف مارچ کرنے لگے جہاں سے مظفرآباد کی طرف راستہ جاتا ہے۔ ’مظفرآباد چلو‘ عنوان سے چلائی جارہی اس تحریک کے پہلے روز یعنی سوموار کو چھ مقامات پر فوج اور پولیس نے عوامی قافلے روکنے کی کوشش کی جس دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے اور پولیس و فوج کی فائرنگ سے حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت سے پوری وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی خطوں میں تناو¿ پیدا ہوگیا اور منگل کو انتظامیہ نے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا، لیکن ہزاروں افراد نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر کی جامع مسجد میں شیخ عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اے پی ایس


No comments: