International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 18, 2008

پرویز مشرف ایک رویے کا نام جو اب بھی باقی ہے۔ تحریر: چودھری احسن پریمی،اے پی ایس





صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی قرآنی آیت کا ترجمہ ہے " اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑھائی نہیں چاہتے اور نہ فساد چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لئے ہے سو جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں لے آنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے وہ عمل کیا کرتے تھے"۔ سبکدوش ہونے والے صدر پرویز مشرف نے پیر کے روز قوم سے اپنے تقریبا پچاس منٹ دورانیے کے خطاب میں اپنی عدلیہ کی آزادی سلب کرنے ، لال مسجد آپریشن ، قبائلی علاقوں میں بمباری اور سینکڑوں پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق کوئی ذکر نہ کیا ۔ وہ اپنی تقریر کے دوران معاشی پالیسیوں جمہوری کاوشوں اور تعمیر وترقی سمیت 9 سالہ دور حکومت کے کار ہائے نمایاں گنواتے رہے ۔ جبکہ ان کی تقریر میں بعض جملے خالصتا مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف سے سخت نفرت اور رنج کا اشارہ دے رہے تھے۔بالآخر 18 اگست کو صدر جنرل پرویز مشرف مستعفی ہو گئے حالانکہ وہ کہتے رہے کہ مستعفی نہیں ہوں گے ۔اٹھائیس نومبر دو ہزار سات کو پاکستان فوج میں جنرل مشرف کا تقریباً چھیالیس سالہ عسکری کیرئر، جس میں نو برس بری فوج کے سپہ سالار کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں، بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اس موقعہ پر جنرل مشرف نے کہا کہ ملک کا وجود فوج کے بغیر ممکن نہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج اس وقت دباو¿ میں ہے۔ فوج پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھٹکے ہوئے عناصر ہیں جو نہیں سمجھتے کہ پاکستان کی سالمیت و ترقی میں فوج کا اہم ترین کردار ہے۔‘ جنرل مشرف نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’اس بات کا افسوس ہے کہ کل فوج کی کمان میں نہیں ہوں گا۔ یہ فوج میری زندگی ہے۔ یہ فوج میرا جنون ہے۔ اس فوج سے میں نے محبت کی ہے۔ یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا لیکن میں وردی میں اب نہیں رہوں گا۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ نئے صدر کے حوالے سے اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں مل کر کریں گی۔ عوام کو امید ہے کہ حکمران اتحادعنقریب عوام کو ججوں کی بحالی کی خوشی کی خبر بھی سنائیں گے۔وکلاءملک بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے استعفے کے ساتھ ہی معیشت میں کیابہتری آتی ہے۔ اگر مشرف کے جا نے کے بعد بھی نا انصافی، بے روز گا ری ، مہنگائی، آٹے و بجلی کا بحران جاری رہتا ہے تو عوام یہی سمجھتے رہیں گے کہ مشرف ایک رویے کا نام تھا جو مشرف کے جا نے کے بعد بھی قائم دائم ہے کیونکہ حکمران اتحاد کسی شخص کے خلاف مواخذہ نہیں کر رہی تھی بلکہ اس سوچ کے خلاف کر رہی تھی جو آئین کے خلاف ہے۔ حکمران اتحاد یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انھوں نے فی الفور ملک اور عوام کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں و معزول ججز کو بحال نہ کیا یا کوئی اور ہشیاری چالاکی کی تو معزول ججز ،وکلاءمیڈیا اور عوام جس کی وجہ سے آج مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہے۔یہی ہاتھ حکمرانوں سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ملک عوام کا ہے کسی کی نہ تو ذاتی جا گیر ہے اور نہ ہی کسی کے باپ کا ہے۔اگر حکمرانوں نے مذکورہ بحران و چیلنجز پر کو ئی اگر مگر کر نے کی کوشش کی تو یہ بھی ایک خدشہ ہے ایک بار پھرخون خوار ما رشل لاءبھی آ سکتا ہے۔ امید ہے کہ جمہوری ملک کے غیر جمہوری سیاستدان یہ نوبت نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا۔انہوں نے اپنا استعفیٰ قومی اسمبلی کی سپیکر کو دیا ہے۔ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو قائم مقام صدر ہوں گے اور آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذہ جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بحران سے پاکستان کو نکا لنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ صدر مشر ف نے فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے کردار کو سراہا اور انہیں سیلوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی دعائیں، بچوں اور بیگم کی مدد ان کی طاقت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔ پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔ صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔ ضیاءالحق سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ صدر مشرف نے اٹھارہ اگست کو استعفیٰ دیا۔صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ پندرہ ستمبر تک اعلی عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو ملک بھر کے کلیدی مقامات پر دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معزول جج پندرہ ستمبر سے پہلے بحال ہو جائیں گے۔ گذشتہ جمعہ کے روز اسلام کے جڑواں شہر راولپینڈی میں وکلاءکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد راو لپنڈی ہائی کورٹ بار میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے بتایا تھاکہ اعلان اسلام آباد کے مطابق حکمران اتحاد صدر کے مواخذے کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کو تین دن کے اندر بحال کرنے کا پابند ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر صدر مشرف کے مواخذے میں تاخیر ہوتی ہے اور پندرہ ستمبر تک ججوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انیس جولائی دو ہزار آٹھ کو آل پاکستان وکلاءکانفرس میں کیے جانے والے فیصلے کے مطابق ملک گیر دھرنے دیے جائیں گے اور دھرنے کو آہستہ آہستہ سول نا فرمانی کی تحریک میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اعلان اسلام آباد کا معاملہ بھی اعلان بھوربن جیسا ہوگا لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ حکمران اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمام ججوں کو بحال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان اسلام آباد کے بعد اب آئینی پیکج کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اور معزول ججوں کو اعلان بھوربن کے تحت انتظامی حکم نامہ کے ذریعے بحال کیا جائے۔ انہوں نے وکلاءکی طرف سے عوام سے درخواست کی کہ جس دن صدر مشرف کے مواخذے کی قرارداد منظور ہوتی ہے یا وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ملک بھر میں یوم نجات اور جشن منایا جائے۔ اعتزاز احسن نے صدر کے مواخذے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا تھاکہ کسی عدالت کو یہ آئینی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مواخذے کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری کرے اور اگر ایسا اقدام اٹھایا جاتا تو اس کی بھر پور مذمت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وکلاءکو یہ خدشہ تھا کہ صدر کے مواخذے میں تاخیر کی جائے گی لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ان کے خلاف قرداد منظور ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ صدر کا مواخذہ جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا احتساب کیاجائے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نو اکتوبر سے بارہ اکتوبر تک انٹرنیشنل کانفرس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرس میں ایک بہت بڑی تعداد میں وکلاءاور جج شرکت کریں گے۔ ججوں کی بحالی کے ل وکلاءتنظیموں کی جانب سے انیس جولائی کو حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی جس کے بعد وکلاءکی ایکشن کیمٹی کا اجلاس جمعہ کو ہوا جس میں جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، رشید اے رضوی سمیت دیگر وکلاءرہنماوں نے شرکت کی۔ واضع رہے کہ اس پہلے وکلاء رہنما حکمران اتحاد سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صدر مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جاتا۔کونڈولیزا رائس نے کہا کہ صدر مشرف امریکہ کے اچھے اتحادی ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر مشرف کو سیاسی پناہ دینے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ صدر مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی نفاذ کرنے کے فیصلے کے خلاف تھا لیکن انہوں نے وردی اتارنے کا اپنا دعدہ پورا کیا اور اب پاکستان میں ایک جمہوری حکومت ہے۔ صدر پرویز مشرف نے صوبائی اسمبلیوں کی طرف قراردادیں منظور کیے جانے کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کیا ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صدر مشرف سے ملاقات کے بعد کہا انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ صدر مشرف نے ان سے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں بھی مشورہ کیا۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں تو اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر حکمران جماعت صدر مشرف پر مستعفیٰ ہونے کے لیے دباو¿ بڑھا رہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم ر ہنماءاور سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے اپنا یہ واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو اب صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ صدر ایک وفاق کی علامت ہوتا ہے لیکن جب وفاق کی اکائیاں ہی پرویز مشرف کو پسند نہیں کرتیں اس لیے انہیں ان صوبائی اسمبلیوں میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں کہا گیا ۔ رضا ربانی نے کہا کہ اگر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوتے تو پھر آئین کے ارٹیکل 47 کے تحت ا±ن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں حکمراں اتحاد کے پاس تعداد پوری ہے۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا تھا کہ صدر کے خلاف تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ا±سے آئندہ ایک دو روز میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کے حوالے کردیا جائے گا اور اسے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کردیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صدر کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا قانونی پہلوو¿ں سے جائزہ لینے کے بعد ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کردیا۔پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ پاکستان ٹیلی ویڑن اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ایوان صدر اسلام آباد سے صدر پرویز مشرف کے قوم سے براہ راست خطاب کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ پی ٹی وی کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کا خطاب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ایک بجے پی ٹی وی سے براہ راست نشر کیا جائے ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صدر قوم سے براہ راست خطاب کریں گے۔ براہ راست تقریر نشر کرنے کے لیے ٹیکنیکل سٹاف ایوان صدر میں انتظامات کر رہا تھا ۔ پی ٹی وی نے تکینکی وجوہات کی بناء پر ایوانِ صدر کے حکام سے صدر کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کرنے اور پھر اسے نشر کرنے کی تجویز دی تھی۔ ماضی میں ہمیشہ صدر اور وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کیا جاتا تھا اور پھر اسے نشر کیا جاتا ۔ تاہم ایوانِ صدر نے اس بات پر اصرار کیا کے صدر اپنے قوم سے خطاب کو ریکارڈ نہیں کروانا چاہتے اور وہ براہ راست قوم سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء ایوان صدر نے پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن چینلوں کی ٹیموں کو بھی آرمی ہاو¿س راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی ۔ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف قوم سے خطاب کر رہے تھے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس خطاب کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس اچانک قوم سے خطاب کا محور ان کے اپنے مواخذے کی وہ تحریک ہوگی جس کے لیے حکمران اتحاد کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں۔ حکمران اتحاد کی جانب سے پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف نے تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے مواخذے کی تحریک کا تذکرہ کیے بغیر مفاہمت کی سیاست پر زور دیا تھا۔ پیر کی صبح صدر پرویز مشرف کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ وہ استعفی دینے کی بجائے مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق صدر نے یہ بات متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی۔ یاد رہے کہ حکمران اتحاد کے رہنما صدر کو مسلسل یہ مشورہ دے رہے کہ وہ مواخذے کی تحریک سے قبل خود ہی رخصت ہوجائیں تو بہتر ہے۔تاہم صدارتی ترجمان میجر جنرل راشد قریشی اور صدر کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے تواتر سے یہ بیانات آئے ہیں کہ صدر کا استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ معاشی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔یوم آزادیِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ پروگرام کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اختلافات بھلا دینے چاہیں‘۔ان کوحکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے بد عنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے کے لیے دباو¿ کا سامنا تھا۔ جمعرات کو جشن یوم آزادی کے حوالے سے ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھاکہ ’میں ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام عناصر سے مفاہمت کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کی جانب توجہ دے سکیں‘۔ ’ہمارے مخالفین مختلف سمتوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں‘۔صدر مشرف نے ملک کے دفاع کے حوالے سے کہا تھاکہ ’ہماری افواج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں‘۔صدر پرویز مشرف نے اپنا یہ خطاب ایسے دن کیا تھاکہ جب ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سرحد اور سندھ نے بھی ان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔ صدر کو اب مواخذے سے بچنے کے لیے ایک مشکل جنگ سے گزرنا پڑا۔صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے بتایا تھاکہ ’صدر مشرف کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور مواخذے کی تحریک کے خلاف لڑیں اور یا اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر جائیں‘۔ ’اگر وہ مواخذے کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی بھر پور حمایت کریں گے اور ہم اسی کو ترجیح دیں گے‘۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی پاکستانی لیڈر کا مواخذہ نہیں ہوا لہذا اگر یہ مواخذہ ہوتا ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کیونکہ حکمران اتحادی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مواخذے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد موجود ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ اگرچہ پاکستان کے صدر کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیا ل تھا کہ وہ اس کو استعمال نہیں کریں گے۔ جب سندھ اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی گئی تو صوبائی اسمبلی میں صدر مشرف کا دفاع کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ ایم کیو ایم اور اپوزیشن کے اراکین ایوان میں غیر حاضر رہے۔ حکمران جماعت نے ایم کیو ایم کے اس عمل کو ان کے موقف کی حمایت قرار دیا ۔اس کے بعد صوبائی وزیر نے قرار داد پیش کی جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الیکٹرول کالج سے اعتماد کا ووٹ لیں یا مستعفی ہوجائیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے توان کا مواخدہ کیا جائے۔ قرار دادا پیش ہونے کے بعد صوبائی وزیر شازیہ مری، سیف اللہ دہاریجو، ایاز سومرو، رفیق انجنیئر، شہلا رضا اور پیر مظہرا لحق نے اپنی تقریر میں صدر پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کا قاتل قرار دیا اور کہا کہ وہ اس قرار داد کے ذریعے ان سے انتقام لے رہے۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان پر تشدد ، بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان اور ملکی صورتحال کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو قرار دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو اس کے بعد ملکی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہوں گے۔ مقررین کے مطابق سندھ اسمبلی نے اس سے قبل ملک بنانے کے لیے قرار داد منظور کی تھی اور آج ملک بچانے کی لیے یہ قرار منظور کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ پنجاب، سرحد اور اب سندھ اسمبلی صدر مشرف کو جانے کے لیے کہہ چکی ہیں مگر وہ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صدر مملکت جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران استعفےٰ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی جشن کا سماں پیدا ہو گیا ۔ استعفیٰ کا اعلان کرتے ہی ہزاروں سیاسی و مذہبی کارکنان ‘ وکلاء ‘ تاجر ‘ طلباء ‘ مزدور اور سول سوسائٹی کے ارکان سڑکوں پر نکل آئے ۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت مسلم لیگ ( ن ) ‘ پیپلزپارٹی ‘ جماعت اسلامی ‘ تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی و مقامی دفاتر ‘ اراکین اسمبلی کے پبلک سیکرٹریٹ بڑے تجارتی و کاروباری مراکز بوائز کالجوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر جشن ریلیاں نکالی گئیں ۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اس موقع پر زبردست ہوائی فائرنگ اور آتشبازی کے مظاہروں کے علاوہ پرویز مشرف کے علامتی جنازے نکالے گئے ۔ پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران کوئی تعطیل نہ ہونے کے باوجود سڑکوں پر ہو کا عالم رہا اور ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ پرویز مشرف کا آخری خطاب سننے کے لئے درجنوں اور بیسیوں شہری الیکٹرانکس کی دکانوں اور ہوٹلوں ‘ سرکاری و نجی دفاتر میںجمع رہے ۔ تاہم مستعفیٰ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی حاضرین و ناظرین خطاب کو بھول کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ جا بجا شہری اور سیاسی کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے استعفیٰ کے اعلان کے ساتھ فون کالوں اور ایس ایم ایس کے ذریعے مبارک بادوں کی وجہ سے موبائل سسٹم انتہائی معروف اور جام ہو کر رہ گیا ۔ ر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہوتے ہی پاکستانی روپے کی قیمت میں 1.20 روپے اضافہ ہو گیا جبکہ سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، انڈکس 100پوائنٹ سے یکدم 400 پوائنٹ پر پہنچ گیا ۔ مشرف کے استعفےٰ سے ملک میں بے یقینی بے چینی کی صورتحال ختم ہوتے ہی پاکستانی کرنسی میں استحکام آگیا۔اے پی ایس



No comments: