International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, August 22, 2008

ملک و قوم عدم تحفظ کا شکار ۔ تحریر : چو دھری احسن پر یمی اے پی ایس



حکمران عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو ان کا پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کیا جواز ہے ملک کی خارجہ ، داخلہ اور دفاعی پا لیسیا ںپارلیمنٹ میں بنائی جائیںنام نہاد دہشت گردی کا مسئلہ پر عالمی برادری سے مذاکرات کر کے جان چھڑائی جا ئے اگر مو جودہ قیادت و دیگر سیا سی جما عتیں ایسا نہیں کر سکتیں تو اخبارات میں ایک اشتہار دیا جا ئے کہ ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عالمی بصیرت رکھنے کے ساتھ عا لمی بر داری سے نا م نہاد ہشت گردی سے جان چھڑانے کی اہلیت رکھتی ہو امید ہے کہ وطن عزیز میں اس سطح کے بھی ایک سے ایک بڑھ کر بے روز گا ر ہیں جو اس مسئلہ پر بخوبی احسن نہ صرف قا بو پا سکتے ہیں بلکہ بر طا نیہ ، امر یکہ ، اسر ائیل اور بھارت کے خفیفہ اداروں کی طرف سے کھیلے جا رہے اس شیطانی کھیل کو نا کا م بھی بنا سکتے ہیں اس کے با و جود عا لمی بر ادری کو نا را ض بھی نہیں ہو نے دیں گے۔ کیو نکہ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک لیڈر شپ کیلئے ضروری ہو تے ہیں ہما رے ہا ں نام نہاد ذہنی معذور سیا سی قیادت میں ایک سٹینو گر ا فر سے ز یا دہ ذہنی وسعت نہیں اس ضمن میں ضر وری ہے کہ عوام کو ایسی قیادت چا ہیے جس میں خو د اعتمادی ، وطن سے محبت اور جرات مند پا کستانی ہو نہ کہ ملک و اسلام دشمن طا قتوں کا دلال ہو ۔ کیو نکہ ابھی تک ساٹھ سا لہ دور کا آپ با ریک بینی سے جا ئزہ لیں تو آپ کو تما م کے تما م سا مراج کے ایجنٹ ملیں گے جن کی دلا لی کی وجہ سے آج پا کستان کے سو لہ کر و ڑ عوام کو کسی قسم کا کو ئی تحفظ نہیں ہر طرف لا قا نو نیت ہے۔یہ بھی ایک اتفاق کی با ت ہے کہ اگر کو ئی قیا دت ملک اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے منا فقت کا لبا دہ اتار کر عملی عزم کا اعادہ کر تی ہے تو اسے سا مراج طا قتیں کسی کو پھا نسی، کسی کو جلا وطنی، کسی کو دہشت گر دی کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔ مشرف کے سا تھ بھی یہی ہا تھ ہوا ہے وہ بھی گزشتہ نو سال سے ان سا مراجی طا قتوں کا آلہ کا ر بنا رہا جب اس پر سا مراجی طا قتوںنے ڈبل کر اس کا الزام لگا یا تو اس کے سا تھ ہی اس کا بھی دھڑن تختہ کر دیا گیا ۔ ملک و قوم کے دشنوں سے نمٹے کیلئے اگر چہ ہما ری عوام میں ہر طر ح کی صلا حیت ہے اور اس ضمن میں ہما رے عوام ایک نمبر اور اس کے نصیب میں لکھی ہو ئی قیادت دو نمبر ہے جو سا ٹھ سال دور میں وطن عزیز میں کسی طر ح کا بھی استحکام نہیں لا سکے۔ ملک کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں ہے لاہور ،واہ کینٹ،ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات ہو ئے ہیں بڑے شہروں میں حملوں کی دھمکیاں دی گئیں ہیں ان وجوہات کا جائزہ لیا جا ئے۔ حکومت کثیر الجہتی پالیسی اختیار کرے۔ اور صدر بش کو بتا ئے کہ سیاسی عمل کو اہمیت دی جائے اور قبائلی علاقوں میں ہتھیار ڈالنے والوں سے بات چیت کی جائے ۔سیاسی جماعتوں اور عوامی رد عمل کی تجویز وںپر عمل کریں ۔ فاٹا کے عوام کو عسکریت پسندوں سے الگ تھلگ کریں۔ آئندہ بریفنگ میں قائد حزب اختلاف کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔ امریکہ نے 15 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جن میں سے ایک ہزار ار ب روپے فاٹا میں خرچ کیے جائیں گے۔ عوام حلقوں میں یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر ان حلقوں کی تعمیر و ترقی میں امریکی فنڈز نیک نیتی سے خرچ کئے جا تے تو شاید مو جو دہ صورتحال مختلف ہو تی۔ محب وطن قیادت نے سو چنا ہے کہ مل کر ملک کو کس طر ح بچانا ہے شہریوں کے جان ومال کا تحفظ بنیادی ریاستی ذمہ داری ہے اگریہ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا ان کیا جواز ہو گا۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی میں افغان آرمی اورشمالی اتحاد کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ۔ پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن پرنشر ہونے والی تصاویر میں کرم ایجنسی اوردیگرقبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران حملوں کے دوران استعمال ہونے وردیوں اورسامان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قبائلی علاقوں میں افغان آرمی اورشمالی اتحاد براہ راست اس دہشت گردی میں شریک ہے ۔ مشیر دا خلہ رحمن ملک کئی د فعہ پر یس کا نفر نسوں میں اس بات کا انکشاف کر چکے ہیں کہ دہشت گر دوں کے سر حدوں پا ر را بطے ہیں وزیر اعظم سمیت ان تما م مجاز احکا م کو مذ کو رہ مسئلے کا سنجیدگی کے ساتھ سد باب کر نا ہو گا۔ ر حمن ملک مشیر دا خلہ ہو نے سا تھ سا تھ دا خلی امور پر ایک پیشہ وارانہ ما ہر کی بھی ایک حثیت ر کھتے ہیں لہذا اس ضمن میں کا بینہ سمیت بعض ارا کین پا ر لیمنٹ جو رحمن ملک کے با رے مبینہ بغض رکھتے ہیں اس گٹھیا سو چ سے با لا تر ہو کر ایسی حکمت عملی بنا ئی جا ئے جو انسداد دہشت گر دی کیلئے مو ثر ہو نے کے سا تھ سا تھ عوام کو بھی قا بل قبول ہو۔ عوامی حلقوں نے ان تحفظات اور خدشات کا بھی اظہار کیا ہے کہ گذ شتہ روز ایک قو می اخبا ر میں شا ئع ہو نے والی خبر کہ " اسر ا ئیلی اور بھا رتی طیا رے پا کستا نی ا ٹیمی تنصیبات پر حملہ کر نے کیلئے بھا رتی ائیر بیس واقع نا گپور تیا ر کھڑے ہیں اور اس ضمن میں بھارت میں گذشتہ جمعرات کو بر طا نوی ، امر یکی، اسرا ئیلی اور بھا ر تی خفیفہ اداروں کے اہلکا روں کا ایک اجلاس بھی ہو رہا ہے" مذکورہ خبر کے حوالے سےپا کستان کے عوام کا وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی سے مطا لبہ ہے کہ پرویز مشرف جو کہ مبینہ طور پر مذکورہ پاکستان اور اسلام دشمن طا قتوں کا نما ئندہ سمجھا جا تا ہے کہیں اقتدار چھین لینے کے انتقام میں آکر اور سلطانی گواہ بن کر پا کستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کو فو ری طور پر اپنی رہا ئش پر ہی قید کر کے ٹیلی فون رابطے کا ٹ دیے جا ئیں اور ملا قا تیوں پر پا بندی لگا دی جا ئے۔ملک و قوم کی سلا متی کیلئے کسی قسم کا سمجھو تہ نہ کیا جا ئے۔اے پی ایس

No comments: