
یکم اگست کے کالم ’’ایچ ای سی کی کیا سزا ہے؟‘‘ پر ہائرایجوکیشن کمیشن نے 7 اگست کو ایک وضاحت جاری کی ہے۔ جسے مکمل حالت میں یہاں نقل کر رہا ہوں تاکہ ان کا موقف بھی سامنے آئے۔ پہلے اسے پڑھ لیں پھر اپنی مزید بات کروں گا۔کیوبن سکالر شپ کے بارے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت’’روزنامہ جناح کی یکم اگست 2008ء کی اشاعت میں جناب تزئین اختر نے ’’ایچ ای سی کی کیا سزا ہے‘‘ کے عنوان سے جو کالم لکھا ہے اس پر ایچ ای سی نے ضروری سمجھا ہے کہ اس معاملے میں حقائق پر مبنی وضاحت جاری کی جائے۔ حقائق یہ ہیں کہ1۔ اکتوبر 2005ء کے شدید زلزلے کے بعد کیوبا کی حکومت نے پاکستانی طلباء کے لئے میڈیکل گریجویٹ سٹڈیز میں ایک ہزار سکالر شپس کی پیشکش کی تھی اور حکومت پاکستان نے نہایت شکریے کے ساتھ یہ پیشکش قبول کر لی تھی تاکہ پاکستان اور کیوبا کے مابین باہمی تعلقات کو مزید تقویت ملے۔ اس ضمن میں وزیراعظم سیکرٹریٹ نے 5 اگست 2006ء کو وزیراعظم کا ایک ڈائریکٹو ارسال کیا جس میں ایچ ای سی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان ایک ہزار وظائف کا انتظام اور انصرام وزارت صحت اور وزارت تعلیم کی معاونت سے کرے۔ اس پروگرام کی حکومت پاکستان کی ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے بھی منظوری دی۔2۔ یہ پروگرام ایک قومی سٹیئرنگ کمیٹی کے تحت ایچ ای سی کے حوالے سے جاری وساری ہے۔ اس سٹیرنگ کمیٹی جس میں وزارت صحت، وزارت تعلیم، ایچ ای سی کے نمائندے اور ممتاز میڈیکل کے ماہرین شامل ہیں ، وزیراعظم پاکستان سے منظورشدہ ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 29 مئی 2006ء کو اس ضمن میں ایک این او سی جاری کیا کہ طلباء کا انتخاب پی ایم ڈی سی کے طریقہ کار کے مطابق کیا جائے۔ جس کے مطابق درخواست دینے والے طلباء کو ایف ایس سی پری میڈیکل میں کم از کم ساٹھ فیصد نمبر ہوں اور ان کی عمر سترہ سے 25 سال ہو۔ طلباء کا انتخاب ایف ایس سی اور میٹرک کے امتحانات پر مبنی میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کی ہدایت کے مطابق زلزلہ زدہ علاقوں اور صوبائی کوٹہ کو بھی مدنظر رکھا گیا۔3۔ اسی منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق جولائی 2008 ء تک 822 طلباء میڈیکل کی تعلیم کے لئے کیوبا بھجوائے جا چکے ہیں اور امید واثق ہے کہ رواں مہینے میں ہی باقی طلباء کو بھجوانے کے انتظامات مکمل ہو جائیں گے۔ کیوبا کے حکام نے بتایا ہے کہ ان طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لیٹن امریکن سکول آف میڈیسن کی ڈگری دی جائے گی جو کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے منظور شدہ ہے۔ پی ایم ڈی سی کے قواعد وضوابط کے مطابق تعلیم مکمل کر کے آنے والے طلباء کو پی ایم ڈی سی کی جانب سے منعقد کردہ ایک نیشنل امتحان بھی پاس کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ میڈیکل پروفیشنل کی حیثیت سے رجسٹرڈ کئے جا سکیں گے۔4۔ نیشنل سٹیرنگ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق طلباء کے ہر گروپ کے ساتھ ایک یا دو آفیشلز کو بھی بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ ہوانا ’’(کیوبا) میں پیش آنے والے امیگریشن پراسیس میں ان طلباء کی مدد کریں اور کیوبن اتھارٹی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ان کا عرصہ تعلیم سہل بنا سکیں ۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ بھیجے جانے والے طلباء کی عمریں محض اٹھارہ سے بیس سال ہیں اور انہوں نے کبھی بھی غیر ملکی سفر نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اپنے والدین سے علیحدہ رہنے کا تجربہ ہے۔5۔ کالم میں دی گئی عسکری ٹریول کی معلومات بھی حقائق پر مبنی نہیں ۔ انہیں طلباء کی روانگی کے انتظامات کے لئے کہا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ساٹھ سے سو طلباء کے لئے سفر کے انتظامات کریں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے 27 جولائی 2008ء کو اطلاع دی کہ محض 15 طلباء کی سیٹیں کنفرم ہوسکی ہیں ۔ جس پر انہیں بتایا گیا کہ 15 طلباء پر مشتمل بیج کسی صورت بھی قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے تمام پروگرام تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس پر عسکری ٹریول نے درخواست کی کہ اگر یہ سیٹیں کینسل کی گئیں تو ایئر لائن اگلی فلائٹس میں مزید سیٹیں دینے سے انکار کرسکتی ہے جس کی بنا پر ایچ ای سی نے عسکری ٹریول کو ایک مرتبہ پھر اپنی خدمات جاری رکھنے کے لئے کہا کہ آئندہ پندرہ طلباء کا بیج ایک آفیشل کی معیت میں یکے بعد دیگرے بھجوایا جائے گا اور یہ عمل انشاء اللہ بہت جلد تکمیل کے مراحل طے کرلے گا۔‘‘ایچ ای سی کی یہ وضاحت من وعن ہے۔ اب میں وضاحت ڈرافٹ کرنے والی شخصیت کو دعوت دیتا ہوں کہ یہ وضاحت بھی سامنے رکھ لے اور میرا کالم بھی۔’’وضاحت کے پیرا 1 میں جو بات لکھی گئی ہے وہ میرے کالم کے مندرجات ہی کی تصدیق ہے۔’’وضاحت‘‘ کا پیرا 2 بھی میرے کالم سے ٹیلی کر لیں ۔ کم از کم مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس میں وضاحت نگار کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے بھی یہی لکھا تھا کہ یہ کام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے تو این او سی لینا پڑا مگر وضاحت نگار یہاں پر بات گول کر گئے کہ یہ این او سی بھی عبوری تھا، حتمی این او سی کے مراحل بعد میں طے کئے گئے جو کہ پہلے کرنا چاہئیں تھے مگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی اور یہی اصل مسئلہ تھا۔ وضاحت نگار نے اس سے پہلو بچا کر نکلنے کی کوشش کی ہے۔پیرا 3میں بھی ایسی کوئی بات نہیں لکھی گئی جسے وضاحت کہا جاسکے اور میں نے اس کے برخلاف کچھ لکھا ہو۔ میں نے بھی لکھا تھا کہ طلباء اب جارہے ہیں اور وضاحت نگار نے جولائی 2008ء تک روانگی کا جو حوالہ دیا ہے وہ خود ثابت کررہا ہے کہ پورے ایک سال کی تاخیر ہوئی اور میرے کالم کا لب لباب بھی یہی تھا۔زیرنظرکالم کے ساتھ 13مئی کے مظاہرے کی تصویر ملاحظہ کرلیں جس میں بینرپر لکھا ہے 644طلباء 10ماہ سے روانگی کے منتظر ہیں ۔ اس میں جون اور جولائی ملالیں تو 12ماہ، ایک سال کاعرصہ ہوجاتا ہے۔پیراگراف 4میں طلباء کے ساتھ ایچ ای سی حکام کی روانگی کا جواز دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ایک یا دو افسر جاتے ہیں یہاں سوال یہ ہے کہ دوافسروں کو بھیجنا کیوں ضروری ہے۔ رہنمائی کے لئے ایک افسر بھی کافی ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ ہر گروپ کے ساتھ الگ الگ دو دو افسروں کو بھیجا جارہا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ایک دو افسر ایک بار جاکر وہیں رہ جائیں اور تمام طلباء کو ایڈجسٹ کرواکر واپس آ جائیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کا مسئلہ بنا لیا جائے۔پیراگراف5میں بھی تمام تفصیلات وہی ہیں جو میں نے گزشتہ کالم میں لکھیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرا موقف تھا کہ ایچ ای سی نے ایک افسر کی ٹکٹ بننے کی وجہ سے 15کے گروپ کی روانگی میں رکاوٹ ڈال دی کیونکہ ایچ ای سی 2افسروں کو بھیجنا چاہتا تھا اور میرے ذرائع کے مطابق واقعہ بھی یہی ہے۔ایچ ای سی کی وضاحت کے شروع میں میرے کالم کے مندرجات بارے یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ ’’یہ غیر مصدقہ اطلاعات اور مفروضوں پر مبنی ہیں ‘‘ مگر وضاحت نگار نے اس فقرے کے بعد جو کچھ لکھا ہے اس میں 90فیصد سے زائد میرے کالم کی تائید کی ہے۔ اس پر میں وضاحت نگار کا شکر گزار ہوں ۔ باقی 10فیصد نان ایشو ہے۔ اصل مسئلہ ایک سال کی تاخیر تھا اور وضاحت نگارنے اس کے متعلق ایک سطر بھی نہیں لکھی لہٰذا میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ وضاحت نگار نے میرا موقف پڑھے اور سمجھے بغیر اوپر ایک بنی بنائی سطر کہ’’مندرجات غیر مصدقہ اور مفروضوں پر مبنی ہیں ‘‘ لکھی اور نیچے میرے مندرجات کی تصدیق کردی۔ مزید یہ کہ وضاحت کے آخر میں نام اور عہدہ بھی نہیں لکھا۔ پتہ نہیں کس نے کس کیفیت میں یہ ’’شاہکار‘‘ تخلیق کیا ہے۔

No comments:
Post a Comment