
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمی آصف علی زرداری ے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ا قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقی اور اسی کو بہتری بدلہ سمجھتی ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ۔ ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں۔ پاکستا کا صدر ب ے کے بارے سوچا بھی ہ تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا۔ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے امریکی اخبار کو ا ٹرویو دیتے ہو ئے کیا۔آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ہم جیسی قوتوں کے لیے جوجمہوریت کو بہتری بدلہ سمجھتے ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی ۔ ا ہوں ے کہا کہ یہ بات عام طورپر سمجھی جا رہی ہے کہ ہم کسی بھی محاذ آرائی می ہیں پڑ ا چاہتے اور ہ ہی پرویز مشرف کے خلاف کچھ کررہے ہیں کیو کہ ہم جمہوریت کی مکمل م تقلی چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک میں کیوں ہیں رہ ا چاہیے ہم ا کے پاکستا میں رہ ے کو خوش آمدید کہتے ہیں پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے پارلیم ٹ طے کرے گی ا ور ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستا پیپلزپارٹی کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پوزیش میں ہیں ہے آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ا کاکہ ا تھا کہ ہم ے یہ ج گ جمہوریت کے لیے لڑی ہے اور جو طاقتیں پرویز مشرف استعمال کرتے رہے ہیں وہ سب غیر جمہوری تھیں اس بات کی بحث پارلیم ٹ میں ہو گی اور وہی طے کرے گی کہ آءدہ صدر کے پاس کت ے اختیارات ہو ے چاہئیں اور وزیراعظم کو کس طرح بااختیار ب ایا جا سکتا ہے ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میںصدر کے پاس اسمبلی کو تحلیل کر ے کے اختیارات ہیں ہو ے چاہئیں ۔ کہ آءدہ صدر کا زیادہ تر رسمی کردار ہو گا۔ پارلیم ٹ بااختیار ہے اور اس وقت پاکستا کو جمہوریت کی طرف لے جا ے کے بارے میں سوچ ا چاہیے جو ملکی مفاد فرد واحد سے زیادہ ا ہم ہے ا ہوں ے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارا اتحاد واز شریف کے ساتھ قائم رہے گا اور میںا تمام مسائل میں ج کا ہمیں سام ا ہے دوسروں کو حصہ دار بتا ا چاہتا ہوں کیو کہ ہمیں مستحکم پاکستا اچھی حالت میں معیشت اور سرحدوں پر کوئی اچھی صورت حال ورثے میں ہیں ملی ا تمام مسائل کو حل کر ے کے لیے ایک مفاہمت کی ب یاد پر قائم حکومت کی ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری کا کہ ا تھا کہ میں ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد وہ سیاسی ہوچکے ہیں ا ہوں ے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر کوئی فرق ہیں پڑے گا کیو کہ امریکہ کا فوجی ج رل کے ساتھ تجربہ اکام ہو چکاہے اس لیے امریکہ ے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی حمایت کرے گا ۔ا ہوں ے کہا کہ مسائل کی وجہ سے موجودہ عوامی حکومت کمزور ہو گی لیک ہم اپ ی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور ترقی کریںگے۔ ا ہوں ے کہا کہ یہی وہ سفر ہے جس سے ملک اور عوام ایک مضبوط جمہوریت قائم کر سکتے ہیں ا کا کہ ا تھا کہ بے ظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سیملک کے ا در موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔بے ظیر بھٹو ے اپ ی کتاب میں کہا تھا کہ میری موت تبدیلی کے لیے عمل ا گیز کا کام کرے گی ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف ے بے ظیر بھٹو کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم ہیں کی جس کی وجہ سے وہ ا کی شہادت کے ذمہ دار ہیں لیک میں پرویز مشرف پرالزام ہیںلگاتا بلکہ میں اس کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں ا ہوں ے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بے ظیر کی تحقیقات میں دخل دی ے کی ضرورت ہے لیک ہم کسی شخص کو سزا دلوا ے کے حق میں ہیں ہیں ا ہوں ے کہا کہ ہم ایک یا اور جمہوری پاکستا ب ا ا چاہتے ہیں۔ بے ظیر بھٹو کی ز دگی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور اگر جمہوریت اپ ی اصل شکل میں آجاتی ہے تو یہ بے ظیر کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا ا ہوں ے کہا کہ میں ے کبھی بھی پاکستا کا صدر ب ے کے بارے میں ہیں سوچا تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا مجھے اس عہدے کے لیے صرف بے ظیر بھٹو کے بعد پیدا شدہ خلا کی وجہ سے م تخب کیا گیا ہے ا ہوں ے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف ملک میں ہی رہیںاور ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح ملک کو کامیابی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور یہی بے ظیر بھٹو کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اپ ے دائرہ کار میں رہے گی اور آئی کا احترام کریگی کیو کہ ا ہوں ے کہا کہ ا کا کام حکومت کر ا ہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج ے عوامی حکومت کا احترام کریں گے اگر فوج کی مداخلت ہوتی تو پرویز مشرف بھی موجود ہوتے ۔ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا میں بھارتی سفارتخا ے پر حملے میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی پاکستا تردید کر چکا ہے آئی ایس آئی اس قسم کے کسی حملے میں ملوث ہیں ہے اور آئی ایس آئی کو ک ٹرول کیا جا رہا ہے کیو کہ آئی ایس آئی ریاست کا حصہ ہے ا ہوں ے کہا کہ میں یہ ہیں کہتا کہ آئی ایس آئی ماضی میں مسئلہ ہیں تھی لیک ہرکوئی اپ ی غلطیوں سے سیکھتا ہے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ حکومت گزشتہ پا چ سالوں کی حکومت سے زیادہ مستحکم ہے کیو کہ مغربی حکومتوں کو اتحادی حکومت کے ساتھ کام کر ے کا ابھی کم وقت ملا ہے لیک اگر آپ بھارتی تجربے کو دیکھیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں سترہ جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں اس لیے چار یا پا چ جماعتوں کے اتحاد کو ہم قائم رکھ سکیں گے ا ہوں ے کہا کہ ملک میں کسی قسم کا عدم استحکام پیدا ہیں ہوگا۔ ا ور ہ ہی کوئی ئے ا تخابات ہوں گے اور اگر ئے ا تخابات ہوئے تو ہر کوئی اس میں حصہ لے گا اگر کوئی جماعت پیپلزپارٹی سے زیادہ مقبول ہے تو اسے حکومت کر ے کا حق ہے اوراگر ہیں تو ہم حکومت ب ائیں گے ا ہوں ے کہاکہ پاکستا پیپلزپارٹی اور اپوزیش کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں یہ ج گ پاکستا کے خلاف ج گ ہے اور یہ ج گ ہماری سرزمی پر ہے اس ج گ میں ہمارے بچے ‘لڑکے مر رہے ہیں ‘بے گھر ہو رہے ہیں اور ہماری بیٹیاں جو بے گھر ہوگئی ہیں ا س لیے ہم اپ ی سرزمی کی حفاظت کریں گے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ میں بے ظیر بھٹو کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف ہیں بلکہ یہ اس وقت بھی بہت بڑھ گئی تھی جب ہماری گزشتہ حکومت قائم تھی لیک یہ اس لیے پھیلی کیو کہ جمہوری قوتیں ملک میں موجود ہ تھیں اوردہشت گردی کے خلاف ج گ میں تو پوری د یا پرویز مشرف کے ساتھ تھی اس لیے وہ تمام اس کے ذمہ دار ہیں ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف ج گ میں اکام ہوا ہے اس لیے ہمیںدہشت گردی کی اصل وجوہات ڈھو ڈ ے کی ضرورت ہے جو جمہوریت جمہوری سوچ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ایک آمرا ہ ذہ یہ ہیں کرسکتا۔اے پی ایس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمی آصف علی زرداری ے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ا قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقی اور اسی کو بہتری بدلہ سمجھتی ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ۔ ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں۔ پاکستا کا صدر ب ے کے بارے سوچا بھی ہ تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا۔ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے امریکی اخبار” یوز ویک“ کو دئیے گئے خصوصی ا ٹرویو میں کیا ۔آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ہم جیسی قوتوں کے لیے جوجمہوریت کو بہتری بدلہ سمجھتے ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی ۔ ا ہوں ے کہا کہ یہ بات عام طورپر سمجھی جا رہی ہے کہ ہم کسی بھی محاذ آرائی می ہیں پڑ ا چاہتے اور ہ ہی پرویز مشرف کے خلاف کچھ کررہے ہیں کیو کہ ہم جمہوریت کی مکمل م تقلی چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک میں کیوں ہیں رہ ا چاہیے ہم ا کے پاکستا میں رہ ے کو خوش آمدید کہتے ہیں ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے پارلیم ٹ طے کرے گی ا ور ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستا پیپلزپارٹی کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پوزیش میں ہیں ہے آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ا کاکہ ا تھا کہ ہم ے یہ ج گ جمہوریت کے لیے لڑی ہے اور جو طاقتیں پرویز مشرف استعمال کرتے رہے ہیں وہ سب غیر جمہوری تھیں اس بات کی بحث پارلیم ٹ میں ہو گی اور وہی طے کرے گی کہ آءدہ صدر کے پاس کت ے اختیارات ہو ے چاہئیں اور وزیراعظم کو کس طرح بااختیار ب ایا جا سکتا ہے ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میںصدر کے پاس اسمبلی کو تحلیل کر ے کے اختیارات ہیں ہو ے چاہئیں ۔ا ہوں ے کہا کہ آءدہ صدر کا زیادہ تر رسمی کردار ہو گا۔ پارلیم ٹ بااختیار ہے اور اس وقت پاکستا کو جمہوریت کی طرف لے جا ے کے بارے میں سوچ ا چاہیے جو ملکی مفاد فرد واحد سے زیادہ ا ہم ہے ا ہوں ے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارا اتحاد واز شریف کے ساتھ قائم رہے گا اور میںا تمام مسائل میں ج کا ہمیں سام ا ہے دوسروں کو حصہ دار بتا ا چاہتا ہوں کیو کہ ہمیں مستحکم پاکستا اچھی حالت میں معیشت اور سرحدوں پر کوئی اچھی صورت حال ورثے میں ہیں ملی ا تمام مسائل کو حل کر ے کے لیے ایک مفاہمت کی ب یاد پر قائم حکومت کی ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری کا کہ ا تھا کہ میں ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد وہ سیاسی ہوچکے ہیں ا ہوں ے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر کوئی فرق ہیں پڑے گا کیو کہ امریکہ کا فوجی ج رل کے ساتھ تجربہ اکام ہو چکاہے اس لیے امریکہ ے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی حمایت کرے گا ۔ا ہوں ے کہا کہ مسائل کی وجہ سے موجودہ عوامی حکومت کمزور ہو گی لیک ہم اپ ی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور ترقی کریںگے۔ ا ہوں ے کہا کہ یہی وہ سفر ہے جس سے ملک اور عوام ایک مضبوط جمہوریت قائم کر سکتے ہیں ا کا کہ ا تھا کہ بے ظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سیملک کے ا در موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔بے ظیر بھٹو ے اپ ی کتاب میں کہا تھا کہ میری موت تبدیلی کے لیے عمل ا گیز کا کام کرے گی ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف ے بے ظیر بھٹو کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم ہیں کی جس کی وجہ سے وہ ا کی شہادت کے ذمہ دار ہیں لیک میں پرویز مشرف پرالزام ہیںلگاتا بلکہ میں اس کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں ا ہوں ے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بے ظیر کی تحقیقات میں دخل دی ے کی ضرورت ہے لیک ہم کسی شخص کو سزا دلوا ے کے حق میں ہیں ہیں ا ہوں ے کہا کہ ہم ایک یا اور جمہوری پاکستا ب ا ا چاہتے ہیں۔ بے ظیر بھٹو کی ز دگی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور اگر جمہوریت اپ ی اصل شکل میں آجاتی ہے تو یہ بے ظیر کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا ا ہوں ے کہا کہ میں ے کبھی بھی پاکستا کا صدر ب ے کے بارے میں ہیں سوچا تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا مجھے اس عہدے کے لیے صرف بے ظیر بھٹو کے بعد پیدا شدہ خلا کی وجہ سے م تخب کیا گیا ہے ا ہوں ے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف ملک میں ہی رہیںاور ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح ملک کو کامیابی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور یہی بے ظیر بھٹو کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اپ ے دائرہ کار میں رہے گی اور آئی کا احترام کریگی کیو کہ ا ہوں ے کہا کہ ا کا کام حکومت کر ا ہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج ے عوامی حکومت کا احترام کریں گے اگر فوج کی مداخلت ہوتیتو پرویز مشرف بھی موجود ہوتے ۔ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا میں بھارتی سفارتخا ے پر حملے میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی پاکستا تردید کر چکا ہے آئی ایس آئی اس قسم کے کسی حملے میں ملوث ہیں ہے اور آئی ایس آئی کو ک ٹرول کیا جا رہا ہے کیو کہ آئی ایس آئی ریاست کا حصہ ہے ا ہوں ے کہا کہ میں یہ ہیں کہتا کہ آئی ایس آئی ماضی میں مسئلہ ہیں تھی لیک ہرکوئی اپ ی غلطیوں سے سیکھتا ہے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ حکومت گزشتہ پا چ سالوں کی حکومت سے زیادہ مستحکم ہے کیو کہ مغربی حکومتوں کو اتحادی حکومت کے ساتھ کام کر ے کا ابھی کم وقت ملا ہے لیک اگر آپ بھارتی تجربے کو دیکھیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں سترہ جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں اس لیے چار یا پا چ جماعتوں کے اتحاد کو ہم قائم رکھ سکیں گے ا ہوں ے کہا کہ ملک میں کسی قسم کا عدم استحکام پیدا ہیں ہوگا۔ ا ور ہ ہی کوئی ئے ا تخابات ہوں گے اور اگر ئے ا تخابات ہوئے تو ہر کوئی اس میں حصہ لے گا اگر کوئی جماعت پیپلزپارٹی سے زیادہ مقبول ہے تو اسے حکومت کر ے کا حق ہے اوراگر ہیں تو ہم حکومت ب ائیں گے ا ہوں ے کہاکہ پاکستا پیپلزپارٹی اور اپوزیش کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں یہ ج گ پاکستا کے خلاف ج گ ہے اور یہ ج گ ہماری سرزمی پر ہے اس ج گ میں ہمارے بچے ‘لڑکے مر رہے ہیں ‘بے گھر ہو رہے ہیں اور ہماری بیٹیاں جو بے گھر ہوگئی ہیں ا س لیے ہم اپ ی سرزمی کی حفاظت کریں گے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ میں بے ظیر بھٹو کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف ہیں بلکہ یہ اس وقت بھی بہت بڑھ گئی تھی جب ہماری گزشتہ حکومت قائم تھی لیک یہ اس لیے پھیلی کیو کہ جمہوری قوتیں ملک میں موجود ہ تھیں اوردہشت گردی کے خلاف ج گ میں تو پوری د یا پرویز مشرف کے ساتھ تھی اس لیے وہ تمام اس کے ذمہ دار ہیں ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف ج گ میں اکام ہوا ہے اس لیے ہمیںدہشت گردی کی اصل وجوہات ڈھو ڈ ے کی ضرورت ہے جو جمہوریت جمہوری سوچ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ایک آمرا ہ ذہ یہ ہیں کرسکتا۔

No comments:
Post a Comment