International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, August 19, 2008

وہ جارہا ہے مگر



پرویز مشرف اپنے زرعی فارم واقع چک شہزاد میں خوشگوار موڈ میں




پرویز مشرف کا متوقع استعفیٰ تو آگیا مگر اب اس سے بھی بڑامسئلہ یہ ہے کہ چھوڑ دیا جائے یا قید کیا جائے۔ ۔ ۔ بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ 16اگست ہفتے کو خبر دی تھی کہ فریقین اور ضامنوں کے درمیان پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس پر رکھنے کی بات بھی ہو رہی ہے اور اس کی خواہش خود پرویز مشرف نے ظاہر کی ہے مجھے اس کا تو علم نہیں کہ فیصلہ کیا ہوا یا ہوگا مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ تجویز دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو سکتی ہے حکمران اتحاد کو مواخذے سے بڑا چیلنج محفوظ راستے کا درپیش ہے پرویز کو جانا تو تھا مگر عوام صرف مواخذہ نہیں محاسبہ بھی چاہتے ہیں ۔حساب مانگتے ہیں ۔ اپنے گمشدہ پیاروں کا ،آگ اور لوہے کی بارش میں جل مرنے والے اپنے جگر گوشوں کا، بم دھماکوں میں چیتھڑے ہو کر اڑ جانے والے اپنے بیٹوں کا۔ چند ڈالروں کے عوض فروخت کردئیے جانے والے بے گناہوں کا ۔نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں لٹ جانے والی عصمتوں کا ،اپنے خالی پیٹوں کا اور بلال مشرف کے 20ارب ڈالر کا، غربت کی وجہ سے بیچے جانے والے جسموں کا اور تنگدستی کے باعث ماں باپ کے ہاتھوں مار ے جانے والے معصوم بچوں کا۔ آئین کے خلاف بغاوت کا ،منتخب وزیراعظم (نواز شریف) کا تختہ الٹنے کااور سابق وزیراعظم( بی بی شہید) کے قتل کا ۔ پتہ نہیں پرویز مشرف کے کسی بیج میٹ نے انہیں بتایا یا نہیں کہ فوجیوں کے شہر راولپنڈی کے درودیوار پر ان کے متعلق کیا لکھا ہے ۔نوشتہ دیوار تو ایک محاورہ ہے ۔جرنیلوں کے شہر میں باقاعدہ دیواروں پر لکھا ہے کہ پرویز مشرف فلاں ہے، پرویز مشرف فلاں ہے، اس لئے ہم شروع سے کہتے آئے ہیں کہ پرویز مشرف کا جانا مسئلے کا حل نہیں حل یہ ہے کہ ان پر لگے الزامات کا حساب لیا جائے۔ اس بار عوام قبول نہیں کریں گے کہ سویلین کے ساتھ کچھ اور ملٹری والے کے ساتھ کچھ اور سلوک ہو، قانون اور آئین کی بات کرنا ہے تو سب کیلئے کریں ، یہاں ہوتا کیا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو غلط کیس بنا کر ناحق عدالت کے ذریعے قتل کردیاجاتا ہے۔ اکبر بگٹی آمر کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں تو پہاڑ کوقبر بنا دیا جاتا ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر کے گھر گھس کر اس کا ریپ کیا جاتا ہے اور بجائے مجرموں کی نشاندہی کر کے انہیں پکڑنے اور سزا دینے کے مدعی ہی کو غائب کردیا جاتا ہے کیونکہ تحقیق وتفتیش کی صورت میں ان کی بدنامی ہو گی جو اللہ میاں سے لکھوا کر لائے ہیں کہ یہ فرشتے ہیں کوئی غلط کام نہیں کر سکتے۔ بینظیر بھٹو کو سڑک پر خون میں نہلا دیا جاتا ہے ۔منتخب وزرائے اعظموں کو ہتھکڑیاں لگا دی جاتی ہیں اور قلعوں کے تہہ خانوں میں اس طرح بند کر دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی ملک دشمن عناصر ہوں اور خود جو مرضی گل کھلاتے رہیں ۔ انہیں کچھ نہیں کہنا بس جانے دینا ہے، کیا بات ہے ۔حکمران اتحاد کے لئے یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ایوان صدر سے نکلنے کے بعد پرویز مشرف کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کا دونوں کو بخوبی احساس ہے کہ عوام رخصتی ہی نہیں سزا بھی چاہتے ہیں مگر اس پر کلےئر صرف نواز شریف ہیں جن کا موقف ہے کہ وہ اپنے ساتھ کی ہوئی زیادتیاں تو پرویز مشرف کو معاف کر سکتے ہیں مگر ملک اور قوم کے ساتھ جو کھلواڑ انہوں نے کیا وہ معاف کرنے کا اختیار صرف اور صرف قوم کا ہے اور قوم پرویز مشرف کو معاف نہیں کرناچاہتی۔ چند روز قبل ان کے ساتھی خواجہ سعد رفیق بھی یہی بات کررہے تھے۔ ایک مذاکرے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان، ممتاز پارلیمنٹیرین میاں عبدالستار اور راقم شریک تھے۔ مجھ سے سوال ہوا کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ پرویز مشرف ایسے ہی چلے جائیں گے اور الزامات کا سامنا نہیں کریں گے ۔اس پر میرا موقف یہ تھا کہ ’’ پرویزمشرف باقی آمروں سے مختلف واقع ہوئے ہیں ۔پھر ان کو اپنے کمانڈو ہونے کا بھی بڑا زعم ہے ۔ اس لئے مہم جوئی کرسکتے ہیں کوئی بعید نہیں کہ وہ سامنے آجائیں اور کہیں ’’لائیں میرے خلاف کیا الزامات ہیں ؟ ‘‘اس پر خواجہ سعد رفیق کا موقف بھی ملتا جلتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ پرویز مشرف نے 8سال تک اس ملک اور قوم کے ساتھ جو ظلم کئے ہیں ان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں ‘‘۔علاج یہی ہے کہ وہ قوم کو جواب دیں خود نہ آئیں تو بھی انہیں پکڑ کر پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر دیا جائے جیسے انہوں نے نواز شریف کو پولیس اور فوجیوں کے ہاتھوں عدالتوں ، جیلوں اور قلعوں میں رسوا کیاتھا اور صفائی کا پورا موقع دے کر سزا سنا دی جائے کیونکہ ویسے تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ہمارے کہنے کی بات نہیں یہ تو زبان حلق کہہ رہی ہے کہ وہ کیا ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ زبان خلق اب کہنے لگی ہے اور ہم نے ’’2002‘‘ہی میں لکھ دیا تھا کہ ’’قہر ٹوٹے گا اور ایسا ٹوٹ کر برسے گا کہ نام نہاد فرنٹ لائن کے تمام بند بہا کر لے جائے گا‘‘ ۔جب غزنی سے علاج کے لئے معصوم بچے پاکستان آنا چاہ رہے تھے مگر فرنٹ لائن اتحادیوں نے سرحد پر ہی روک لیا اور وہ دسمبر کی سردی میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گئے۔اب اگر حکمران اتحاد پرویز کو استعفے کے بعد ایسے ہی جانے دیتا ہے تو پھر ان کی بھی خیر نہیں ۔ عوام پرویز مشرف کو مجرم سمجھتے ہیں تو وہ مجرم کو سزا دئیے بغیر بھگادینے والوں کو کیسے چھوڑ دیں گے ؟ قانون تو ان کو بھی مجرم گردانتا ہے جو مجرم کو بچانے میں اس کی مدد کریں اور فرار کرادیں ۔تو یہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے حکمران اتحاد کیلئے کریں تو کیا کریں ہماری رائے میں ابھی بھی انہیں پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر کے جواب لیا جاسکتا ہے۔پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس میں رہنے دینے سے آدھا مسئلہ حل ہوجاتا ہے چونکہ دونوں کے مفاد میں بھی ہے اس لئے اس کے امکانات بھی کافی ہیں ۔ اگر پرویز مشرف کو سیکیورٹی دے کر چک شہزاد میں رکھ لیتے ہیں تو عوام کا آدھا غیض وغضب ختم ہو جائے گا ۔ ان کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا جائے گا کہ ’’ ہم نے بھاگنے تو نہیں دیا‘‘ باقی کا غصہ وقت کے ساتھ رفع دفع ہو جائے گا کیونکہ اس دوران ایسے بیانات اور وعدے کئے جاتے رہیں گے کہ ’مجرم ہمارے پاس ہے ، مناسب وقت پر مقدمہ چلا کر سزا بھی دیں گے‘‘ عوام اپنی روزی روٹی کی تلاش میں لگ جائیں گے اور دو تین ماہ کے اندر بات آئی گئی ہو جائے گی۔پرویز مشرف کے لئے یہ حل اس لئے اچھا ہے کہ آگے ان کے لئے چانس موجود رہے گا۔ چند ماہ فارم ہاؤس پر سبزیا ں اگانے اور گائے بھینس پالنے کے بعد (جیسا کہ اسی مقصد کیلئے یہ فارم ہاؤس بنائے گئے تھے مگر حکمرانوں نے آپس میں بانٹ لئے)وہ پھر سیاست میں آسکتے ہیں اور ان کے پاس جواز بھی ہو گا کہ میں ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا اس کے لئے ضروری ہے کہ قائد لیگ تب تک باقی بھی ہو اور ان کو لینا بھی چاہے ۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد حکمران اتحاد عوام کے مسائل حل نہ کر سکے اور عوام اس سے بھی متنفر ہو جائیں ۔ حکمران اتحاد برقرار نہ رہے اور اس طرح قائد لیگ کو بھی دوبارہ عوام کے پاس جانے کا موقع مل جائے اور پرویز مشرف کو بھی ہمراہ لے لیں ۔ پرویز مشرف کے دل میں واپسی کی حسرت ضرور رہے گی اور وہ کسی بھی طرح اس کو ممکن بنائیں گے۔ گزشتہ روز کی تقریر سے وہ ماحول بنانے میں کامیاب رہے ہیں انہوں اپنا کیس خوبصورتی سے پیش کر دیا ،اس کا فائدہ انہیں چند ماہ کے اندر ہونے والا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اتحاد خوشیاں منانے میں مصروف ہو جاتا ہے یا اپنا کام پکا کرتا ہے ۔ پرویز مشرف اپنا ہاتھ اوپر رکھ گئے ہیں ۔ اس ہاتھ پر ہاتھ نہ ڈالا تو حکمران اتحاد گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار سیاسی قوتوں کے ہاں کتنی کمٹمنٹ ہمت اور برداشت ہے ۔ وہ صرف پرویز مشرف سے نجات پر اکتفا کرجاتے ہیں یا جرنیلی جمہوریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملک اور قوم کی جان چھڑا دیتے ہیں ۔ وقتی حل نکال کر ڈنگ ٹپاتے ہیں یا فرشتہ آمریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر انسان کی برتری یقینی بنالیتے ہیں ۔ سیاستدانوں نے ہمیشہ ’’ آخری مکے‘‘ کے وقت کمزوری دکھائی ہے قدرت نے باربار ان کو موقع دیا ، باور کرایا کہ انسان ’’فرشتوں ‘‘ سے افضل ہے، اپنا منصب سمجھو، خدا کے نائب تم ہو، یہ ’’فرشتے‘‘ نہیں مگر یہ ہر بار اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کر گئے ۔عوامی انقلاب کا باربار ماحول بنا مگر ہر بار کلائمیکس کے نزدیک پہنچ کر سکرپٹ بدل دیاگیا۔لوہا بار بار گرم ہوا مگر کسی نے چوٹ نہیں لگائی۔ پانی ڈال دیا اب لوہا ایک بارپھر گرم ہے، بات صرف چوٹ لگانے کی ہے ،’’سلطانی جمہور‘‘ پر شب خون مارنے والے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔سلطانان جمہور انہیں انجام تک پہنچاتے ہیں یا نہیں ،ہم دیکھیں گے۔ سب دیکھیں گے مگر اس پر کیانی صاحب( ہمارے ملنے والے) کا کہنا ہے کہ دیکھنا کیا ہے ،سب کچھ طے ہو چکا ہے، اسی لئے پرویز مشرف کو قوم سے خطاب کا موقع دیاگیا، جب ہونا ہی کچھ نہیں تو دیکھنا کیا ہے ؟ ہونی صرف باتیں ہیں سنتے جائیے اور سردھنتے جائیے۔

No comments: