

اگر چہ ملک و قوم جو اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے اور اس کو دوبارہ استحکام کی راہ پر لا نے کیلئے آئینی بحران کا خا تمہ اس ضمن میں آزاد منش معزول ججز کی بحالی نا گز یر ہے لیکن بعض عوامی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرا ئیاں گر دش میں ہیں کہ مشرف دور میں ایک سو چی سمجھی سا زش کے تحت آ ئینی بحران پیدا کیا گیا تا کہ پا کستان کے عوام قبا ئلی علا قوں میں ہو نے والے امر یکی حملوں کے رد عمل میں سڑکوں پر نہ آ ئیں اور نہ ہی سا بقہ حکومت کی قو می خزانے کو بے دردی سے لو ٹنے سے پیدا ہو نے والے کئی ایک بحرا نوں، جس میں مہنگا ئی ، بے روز گا ری ،نا انصافی اور خاص کر تو ا نا ئی کے بحران جیسے مختلف بحرانوں سے عوامی تو جہ ہٹا نے کیلئے آ ئینی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ اور قبا ئلی علا قو ں میں امریکی حملوں کے تسلسل کیلئے ایک خا ص حکمت عملی کے تحت ضروری سمجھا گیا ہے امریکی حملوں کے جا ری رہنے تک آئینی بحران کو بھی جا ری رکھا جا ئے صرف اس لئے کہ پا کستان کے عوام اگر سڑکوں پر آئیں تو صرف معزول ججز کی بحالی کی بات کر یں نہ کہ پا کستان پر امریکی حملوں کیلئے۔ جبکہ آصف علی زرداری کے بیان” معاہدے اور عہد کوئی قرآن وحدیث نہیں“ کو قرآن پاک وحدیث مبارکہ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ قرآن پاک کی 21آیات میںبدعہدی پر سخت و تا کید کی گئی ہے اور عہد نبھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جن چار افراد پر لعنت کی گئی ہے ان میں سے ایک بدعہد اور ایک جھوٹا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت پر وہ آدمی فائز ہورہا ہے جو بدعہدی کو اپنی سیاست کہتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے۔ قوم نے پہلے ایک بدعہد سے بمشکل جان چھڑائی ہے۔ ہر نیا صدر پاکستان خود حلف اٹھا کر ایک عہد کرتا ہے پاکستان اس وقت ایک لحاظ سے حالت جنگ میں ہے۔ ایسی حالت میں ہماری پارلیمنٹ، ہماری سالمیت اور ہمارے اثاثے کسی ایسے فرد کے ہاتھ میں ہونا کہ جو عہد کی پاسداری کا سرے سے قائل ہی نہ ہو قوم کی بڑی بدقسمتی ہوگی۔جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کو خوامخواہ بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے ۔نواز شریف کا صرف ایک مسئلے پر سخت مئوقف اپنانا مناسب نہیں۔ججز کی بحالی دیگر مسائل کے مقابلے میں قطعاً اہم نہیں ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ملکی مخدوش صورتحال ہے ۔ملک ٹوٹ رہا ہے اور مسائل کا فوری سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قوت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ انہیں نوازشریف کا بیان سمجھ نہیں آیا اور جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو ہمار ا معاہدہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہے ۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے پیپلزپارٹی سے ججوں کی بحالی کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور صدارتی انتخاب کے شیڈول کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال معمول پر لانا پیپلز پارٹی کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے جس کے لیے امریکا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام ، معاشی حالات بہتر بنانے اور خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور امریکی تعاون درکار ہے۔اپنے اوپرعائد کیے گئے کرپشن کے الزامات کے بارے میں ان کاکہناتھا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جنہیں پاکستانی عوام مسترد کر چکی ہے۔اگر ان الزامات میں حقیقت ہوتی تو عوام کبھی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دیتے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا امیدوار لانے کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی سیاست میں معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہوگی۔ہم چاہتے ہیں کہ اب پاکستان کی سیاست سے بے اصولی کو ختم ہو جانا چاہیئے۔آصف علی زرداری کے بیان سے بہت مایوسی ہوئی ہے ۔اگر آصف علی زرداری کی بات مان لی جائے کہ معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگاکہ قائد اعظم نے کون سی سیاست کی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آصف علی زرداری سے اپنے لئے کوئی عہدہ نہیں مانگا، ہم نے صرف سترہویں ترمیم کے خاتمے اور ججز کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کے اجلاس میں لائحہ عمل طے کریگی۔ابھی تک صدارتی امیدوار کے لئے کسی نام کا فیصلہ نہیں ہوا۔ صدارتی امیدوار کی خواہش جاوید ہاشمی کا ذاتی فیصلہ ہے ۔تاہم پارٹی اس پر غور کر ے گی۔ جلد بازی حکمراں جماعت کی طرف سے دکھائی گئی۔اور اسی جلد بازی میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ۔نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات سے قبل ججز کی بحالی اور سترہویں ترمیم کا خاتمہ کیا تو مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کریگی۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ہے۔ برطانوی اخبار سے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے انہوں نے آئندہ چھ ماہ کو ملک کے لیے انتہائی مشکل قرار دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بن گئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے وہ ملک کے اقتصادی اور سیکورٹی معاملات درست کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی غیر مقبول امریکی پالیسی نہ بدلی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی ۔ پرویز مشرف کے دور میں جس خانہ جنگی کا خطرہ تھا وہ آصف علی زرداری کی صدارت میں شروع ہوجائے گی ۔ جبکہ قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے صدراتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔یہ اعلان اتوار کو پشاور میں پارٹی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز سے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے پاکستان پیپلز پارٹی کو صدارتی امیدوار چننے کا حق حاصل ہے جبکہ آصف علی زرداری کا تعلق بھی ایک چھوٹے صوبے سندھ سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی امن، وفاقی جمہوری نظام، عدلیہ، میڈیا کی آزادی اور صوبائی خودمختاری کے مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر آصف علی زرداری کو اتحاد کا امیدوار سمجھتی ہے اور چھ سمتبر کو ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد آصف زرداری ملک کے سیاسی نظام سے آمریت کے باقیات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔ اے این پی ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لیے جمہوری قوتوں کے درمیان تعاون کو بہت اچھا سمجھتی ہے اور عوام کی نمائندہ جمہوری جماعتیں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم پروگرام پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز آصف زرداری کی طرف سے صدارتی انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی حکمران اتحاد کی پہلی جماعت ہے جس نے زرداری کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ہے جبکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کی عہدہ صدارت کے لیے نامزدگی سے قبل ہی اعلان سے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں چین کو ایک کنارے پر رکھ کر قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ امریکہ کاہمیشہ سے طریقہ کار رہا ہے کہ اس نے اس ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنے یا روکنے کی کوشش کی جو اس کی عالمی استعماریت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ کا آئی ایس آئی کا عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات کا الزام غلط ہے ا ور ضروری بھی نہیں کہ امریکہ کا ہر الزام صحیح ہو ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور و ہ ماضی کی طرح آئی ایس آئی کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ضیاءالحق کے اشارے پر آئی ایس آئی نے امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے اور یہاں عام لوگ طالبان مخالف جذبات نہیں رکھتے تاہم طالبان کے آئی ایس آئی اور پاکستانی افواج پر حملوں کے بعد آئی ایس آئی کو ان لوگوں سے خفیہ تعلقات نہیں رکھنے چاہیے اس وقت ہماری فوج تربیت یافتہ جنگجوو¿ں سے لڑرہی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان لوگوں کے اندر امریکہ اوروہاں کرزئی حکومت کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ القاعدہ کے نائن الیون بم حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ القاعدہ اس میں ملوث تھی یہ منصوبہ بندی افغانستان میں نہیں بلکہ جرمنی میں تیار کی گئی۔ بعض تجزیہ کا روں اور سیا سی رہنمائو ں اور عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری صدر پاکستان کے عہدے کیلئے انتہائی ناموزوں شخص ہیں۔ ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کئی مقدمات اندرون وبیرون ملک کی عدالتوں میں زیر سماعت تھے جنہیں این آر او کے ذریعے ختم کیا گیا۔ مہذب دنیا کے کسی ملک کے حکمران پر کرپشن کا الزام لگ جائے تو وہ اقتدار سے الگ ہوجاتا ہے جبکہ آصف علی زرداری پر کرپشن کے کئی الزامات ثابت بھی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ججوں کی بحالی کے لئے اب تک کئے گئے تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے اخلاقی طور پر بھی وہ صدارت کے اہل نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کو صدارتی امیدوار نامزد کرکے سنگین غلطی کی ہے۔ صدارت کیلئے ایسی شخصیت کو نامزد کیا جانا چاہئے تھا جس پر تمام جماعتوں اور پوری قوم کا اتفاق ہو۔ آصف علی زرداری متنازعہ شخصیت ہیں اور کرپشن میں سے سے پاو¿ں تک لتھڑے ہوئے ہیں۔ این آر او کے چشمے میں غسل کرلینے سے وہ پاک نہیں ہوگئے۔ پھر ایسے شخص کو صدر بنانا جو معاہدوں کا لحاظ ہی نہیں رکھتا اور ان کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتا ہے کہ ” معاہدے قرآن وسنت کے الفاظ نہیں کہ بدل سکیں“ ان کا یہ طرز عمل دنیا میں پاکستان کی کیا تصویر پیش کرے گا اور اس کے بعد دنیا کے ممالک میں پاکستان کے معاہدوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ جو لوگ آصف علی زرداری کو صدر بنانے میں تعاون کریں گے وہ قومی مجرم قرار پائیں گے اور عوام ان کا کڑا احتساب کریں گے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں آصف علی زرداری کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پرویز مشرف کو ہٹانے کیلئے امریکہ کو مشرف سے بڑھ کر وفاداری کی یقین دہانی کرائی تھی اور باجوڑ میں فوج کے ذریعے اپنے عوام پر شدید بمباری اس بات کا ثبوت ہے۔ کسی ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بمباری کرکے انہیں اپنے ہی ملک میں ہجرت پر مجبور کردے یہ دنیا کی نادر مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری ججز کو بحال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ آزاد عدلیہ کی موجودگی میں وہ من مانی کاروائیاں نہیں کرسکیں گے۔ جمہوری معاشروں میں آزاد عدلیہ کا اہم کردار ہے لیکن جہاں آمریت ہو وہ آزاد عدلیہ کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی۔ آصف علی زرداری ملک پر آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں انہوں نے پہلے ہی تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ صدر بننے کے بعد وہ آمر مطلق بن جائیں گے۔ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر ملک میں آمریت کا راستہ روکنا چاہئے۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment