
پی ایم ایل ن کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے بہت سے معاہدے پورے نہیں ہوئے جمہوری ذہن عوام کو پی پی پی اور ن لیگ کا اتحاد ٹوٹنے کا دکھ ہے ، عوامی حلقوں کے مطابق اتحاد توڑنے کا اقدام خود پی پی پی نے یکطرفہ طور پر کیا ہے جبکہ بعض سیا سی رہنماءاتحاد برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں پی پی پی کی جانب سے اعلان مری پر عمل نہیں ہوا بارہ مئی کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا سات اگست کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا متنازعہ گورنر پنجاب کا تقرر عمل میں لایا گیا پی سی او ججز کے ذریعے نواز شریف کی اہلیت کو نا اہلی میں تبدیل کیا گیا (ن) لیگ نے جمہوریت کے فروغ کی خاطر بہت سے کڑوے گھونٹ پیئے ہیں جبکہ پی پی پی نے اتحاد کو ختم کرنے کا یکطرفہ طور پر حتمی اقدام اٹھایا ہے ان کے مطا بق وہ چاہتے تھے کہ ہر قیمت پر اتحاد کو چلائیں تاکہ دونوں جماعتیں مل کر دہشت گردی مہنگائی ، بے روز گاری اور دیگر مسائل مل کر حل کریں ججز کی بحالی کے بارے میں بعض غلط سگنل آنے پر عوامی شدید رد عمل میں کہا گیا ہے کہ پی پی پی کے بعض لیڈر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کردار کشی کر رہے ہیں ملک میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے جبکہ اس بے یقینی کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش نا کا م ہو رہی ہے اور پا کستان ایک نئے ما ر شل لا ءکی طرف تیزی سے گا مزن ہے۔ عوام کو دکھ ہے کہ مو جو دہ دیا سی قیا دت نے گذشتہ نو سال تک ذلیل و رسوا ہو نے کے با و جود بھی کو ئی سبق نہیں سیکھا اور نہ ہی کسی طرح سے یہ معاملہ حل ہو سکا ہے ۔لیکن عوام کو بھی افسوس ہے کہ معاہدوں پر عمل نہیں کیاگیا اور اس کی خلاف ورزی کی گئی ان کے نزدیک سترہویں ترمیم کے خاتمے کے بعد آصف زرداری کی نامزدگی ہوئی ۔ جبکہ آئین ایک ایسی دستاویز کا نام ہے جو زندہ قوموں کی شناخت اور ان کی منزل کا تعین کرتی ہے‘ جس کی راہ پر چل کر قومیں اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں‘ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی آئینی تاریخ فوجی طالع آزماو¿ںکے ہاتھوں تار تار ہونے سے عبارت ہے۔ جب بھی جمہوریت پرآمریت نے شب خون مارا تو پہلا وارآئین پر ہی ہوا‘ آئین کی دھجیاں بکھیر کر ہی جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔ پاکستان میں قائم کی جانے والی آمریت کی تاریخ میںپرویز مشرف کی آمریت کا دور وہ سیاہ دور ہے جس میں پاکستان کے مسلمہ اور متفقہ آئین کو ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ پامال کیا گیا۔1973ء کاآئین وہ متفقہ آئین ہے جس پر پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و دینی جماعتیں متفق ہیں‘ پرویزمشرف نے اس متفقہ آئین کو پامال کر کے پاکستان کو مملکت بے آئین بنانے کی کوشش کی۔اب جب کہ ملک میں جمہوریت بحال ہوگئی ہے ‘ نئی حکومت کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ آئین کی حقیقی بالادستی کے لئے اقدامات کرے اور73ءکے آئین کو 12 اکتوبر99ءکی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔پرویز مشرف کا9 سالہ دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے جسے قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی‘ پرویز مشرف نے آئین ‘ قانون اوردستور کو پامال کرکے صدارت کامنصب حاصل کیا تھا‘ قوم اورملک کی دینی و سیاسی جماعتوں نے انہیں کبھی آئینی صدر تسلیم نہیں کیا ۔ پرویز مشرف نے افغانستان پر حملے کیلئے امریکا کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جس کے نتیجے میںلاکھوں افغانیوں کا خون ہوا‘اپنے اقتدارکوبچانے کیلئے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کیا اوراپنے ہی عوام کو خاک و خون میںنہلایا گیا۔ روشن خیالی کے نام پر پاکستان میں مغربی اورہندوانہ تہذیب وثقافت کو رواج دینے کی کوشش کی گئی ‘ حقوق نسواں کے نام پر حدود قوانین میں تبدیلی کی گئی‘ جامعہ حفصہ ، اور لال مسجد آپریشن کر کے معصوم اور پاک باز طالبات کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور طلبہ وطالبات پر فاسفورس بم پھینک کر انہیں بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔فوج جو پاکستان کے عزت و وقار کی علامت اور پاکستان کی بقاء و سلامتی کی ضامن تھی اسے امریکا کے کرائے کی فوج میں تبدیل کیا گیا۔ دینی مدارس جو نہ صرف پاکستان کی اسلامی اور نظریاتی تشخص کے امین ہیں ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا ‘غیر ملکی طالب علموں کو امریکا کے کہنے پر ملک بدر کیا گیا۔پاکستان کے معصوم شہریوں کو پکڑ پکڑ کر چند ڈالروں کے عوض امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون ہے اس پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی اورریاست کے تمام ستونوںکو باری باری گراتے ہوئے آخری وار 9 مارچ 2007ءکو آزاد اور خود مختار عدلیہ پرکیا گیا‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدالتوں کے 60 سے زائد ججز کو نظر بند کردیا گیا اس ضمن میں آل پارٹیز کانفرنس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پرویز مشرف کامحاسبہ پاکستان کے 16 روڑ عوام کامطالبہ ہے‘ اگر انہیں محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی گئی تو یہ ملک و قوم سے غداری اور پاکستانی عوام کی امنگوں کے منافی ہوگا۔ انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میںڈالا جائے اوران کے جرائم کے خلاف مقدمات دائر کئے جائیں مزید براں آئین پاکستان کو دومرتبہ توڑنے پرآئین کی شق 6 کے تحت بغاوت کامقدمہ چلایا جائے۔ججز کی معطلی کا اقدام خلاف آئین اقدام تھا‘ موجودہ حکومت نے اعلان بھوربن کے ذریعے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اسمبلی کے قیام کے بعد 30 دنوںمیں ججز بحال کردئیے جائیں گے‘ مگر یہ وعدہ پورا نہیں کیاگیا اورکہا گیا کہ ججز 12 مئی کوبحال کئے جائیں گے اور جب ججز 12 مئی کو بھی بحال نہیں کئے گئے تو کہا گیا کہ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ججوں کوبحال کردیا جائے گا مگر پرویز مشرف کو مستعفی ہوئے 6 دن گزرگئے اس کے باوجود ججز بحال نہیں کئے جاسکے اب قوم کوایک نئی ڈیڈ لائن دیدی گئی ہے کہ ججز آنے والے ہفتے میں بحال کردئیے جائیں گے حکمران جماعت میں شامل بعض جماعتیں عدلیہ کی بحالی سے خوفزدہ ہیں اسی لئے مسلسل ڈیڈلائنوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اورعدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیاجارہا ہے جبکہ آل پارٹیز کانفرنس یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے دی جانے والی ڈیڈ لائن پرسختی سے عمل درآمدکیا جائے تاکہ قوم عصابی تناو سے باہر نکل سکے۔صدر کا منصب ایک انتہائی حساس اور غیر جانبدارانہ منصب ہے،اس منصب کے لیے کسی ایسے شخص کاانتخاب کیا جائے جو سیاسی وابستگی سے بالاترہوکر تمام سیاسی و دینی جماعتوں اور پاکستانی عوام کے لیے قابل قبول ہو۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment