International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, August 18, 2008

” خس کم جہاں پاک “ تحریر: محمد رفیق اے پی ایس


ججز تین دن میں بحال ہو نے کی توقع ہے اور پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے اعلان مری اوراسلام آباد میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ مواخذے کے فورا بعد ججز کو بحال کردیا جائے گا۔ ججز کو فورا بحال ہونا چاہیے اور عوام کویقین ہے کہ حکمران اتحاد کے وعدے کے مطابق تین دن میں جج بحال کردئیے جائیں گے۔ اور مشرف کا ستعفی ہوناوکلاءکی بھرپو ر جددجہد ‘ سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ لال مسجد آپریشن اور قبائلی علاقوں میں اپنے عوام کے خلاف کارروائی پرویز مشرف کے استعفی کا سبب بنی ہیں ” خس کم جہاں پاک “ پرویز مشرف بالاخر مستعفی ہو گئے ہیں پاکستان کی سیاسی جمہوری قوتوں وکلاءکی جدوجہد کی کامیابی ہے۔عوام کی قربانی رنگ لائی ہے ۔ حکمران اتحاد کی جانب سے اس معاملے میں پیش رفت کے باعث ملک وقوم کو مشرف سے نجات ملی پرویز مشرف کے لیے محفوظ راستہ حکمران اتحاد کی ساکھ کو تباہ کردے گا۔ حکمران اتحاد فوری طورپر وزیراعظم سے ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرائے اور تین نومبر 2007 ء کے معزول ججز کو بحال کرنے ہیںتو پی سی او ججز کو بھی پرویز مشرف کے ساتھ رخصت کیا جائے ۔ پرویز مشرف سانحہ 12 مئی‘ باجوڑ کے بے گناہ لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ‘ 9 الیون کے بعد یکطرفہ غلط پالیسی اختیار کرنے ‘ اور افغانستا ن کے بارے میں مسلمہ پالیسی کو تبدیل کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرا کو خطرات لاحق ہوئے ۔ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کے خلاف آزاد عدلیہ سے کارروائی کا آغاز کیا جائے ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور بے نظیر بھٹو شہید کے فرزند بلاول بھٹو زراری نے کہا ہے کہ پاکستان کا اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا تاہم فی الحال نام بتانے سے قاصر ہوں۔یہ بات انہوں نے دبئی سے واپسی پر کراچی ائیرپورٹ جناح ٹرمینل پر صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔انہوں نے اپنی بات چیت میں صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا اور عندیہ دیا کہ اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے استعفے سے یہ بات سچ ہوگئی کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ سابق صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کیلئے 9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کا دورانیہ سخت ترین ثابت ہوا۔عوامی مقبولیت کا گراف حد درجہ گرگیا اورمواخذے کی تحریک شروع ہوئی جبکہ یہ سلسلہ باالآخر صدر کے استعفے پر منقطع ہوا۔ صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے حکمران اتحاد کی جانب سے زور پکڑتی مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل 18 اگست 2008ءکو استعفیٰ دیا گیا۔صدر مملکت وسابق آرمی چیف مضبوط امریکی اتحادی کے طور پر پاکستان میں صدارت کرتے رہے تاہم گزشتہ 18 ماہ کے دوران ان کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کے دوران انہوں نے کئی ناپسندیدہ فیصلے کئے جن میں 9 مارچ2007ءکو انہوں نے ڈی ڑورے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا جس پر ملک بھر میں وکلاء تحریکوں کا آغاز ہوگیا۔10 جولائی کو لال مسجد پر فوج کشی کے احکامات صادر کئے گئے جس میں محتاط اندازے کے مطابق 105 افراد جاں بحق ہوئے اور ملک بھر میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔20 جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوگئے۔27 جولائی کو صدر پرویز مشرف نے دبئی میں بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات کی جس میں ملک کو سویلین اقتدار کی جانب لیجانے کی بات ہوئی اور بے نظیر بھٹو شہید کی جانب سے صدر سے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔10 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو جلاوطنی سے وطن واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے انہیں ملک واپسی کی کلین چٹ دی جاچکی تھی تاہم انہیں پاکستان سے سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔2 اکتوبر کو صدر پرویز مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو پر لگائے جانے والے تمام الزامات ختم کرنے کا اعلان کیا اور انہیں پاکستانی سیاست میں برارہ راست حصہ لینے کے لئے میدان فراہم کیا گیا۔16 اکتوبر کو پرویز مشرف بطور صدر منتخب ہوئے جبکہ 19 اکتوبر کو 8 سالہ خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر کارساز کے مقام پر خودکش حملہ ہوا۔3 نومبر کو صدر مملکت کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ہزاروں وکلاء و سیاستدانوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری معزول قرار دئے گئے۔11 نومبر کو صدر مشرف کی جانب ملک میں 8 جنوری 2008ءکو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا جبکہ 22 نومبر کودولت مشترکہ ممالک کی جانب سے پاکستان کی رکنیت معطل کردی گئی۔25 نومبر کو میاں نواز شریف پاکستان آگئے اور 28 نومبر کو صدر مملکت نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔15 دسمبر کو ملک میں ایمرجنسی رول اٹھالیا گیا اور آئین بحال کردیا گیا۔27 دسمبر سانحہ لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو شہید کردی گئیں جس کے بعد 2 جنوری 2008ء کو انتخابات کی تاریخ میں18 فروری تک اضافہ کردیا گیا۔18 فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط اتحادی حکومت وجود میں آئی اور سیاسی پنڈتوں کی جانب سے صدر پرویز کے استعفے کا عندیہ دیا گیا۔7 اگست 2008ءکو حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک کا آغاز کیا گیا جسے تمام صوبائی حکومتوںسے منظوری حاصل ہوئی۔16 اگست کو حکمراں اتحاد کی جانب سے صدر کے اقدامات کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی گئی اور18 اگست کو صدر مملکت نے استعفیٰ دے دیا۔صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر ملک کی تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا۔اسلام آباد اسٹاک ایکس چینج میں 117 پوائنٹس جبکہ لاہور اسٹاک مارکیٹ میں 173 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں صدر مملکت کے استعفیٰ پر کے ایس ای انڈیکس میں500 پوائنٹس جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک ہی جست میں 1روپے20 پیسے کااضافہ ہوا۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 4.47 فیصد یا 460.91 پوائنٹس اضافے سے 10719.62 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔283 سرگرم کمپنیوں میں سے 236 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 10 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم 15 کروڑ88 لاکھ حصص سے زائد رہا علاوہ ازیں کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 589.67 پوائنٹس اضافے سے 12279.90 پوائنٹس رہا۔ڈبلیو ای بروکریج ہاو¿س کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اظہر احمد باٹلہ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے استعفے سے ملک میں موجود سیاسی بے یقینی دم توڑ گئی ہے اور انڈیکس میں اضافہ اسکا عکاس ہے۔پیر کو نمایاں کمپنیوں میں نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے93پیسے اضافے سے 124روپے63پیسے رہے جبکہ بلحاظ حصص کاروبار نیشنل بنک آف پاکستان سرفہرست رہا جس کے 1کروڑ35لاکھ74ہزار5سو حصص کا کاروبار ہوا دیگر نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک کے حصص 1روپے اضافے سے 10روپے24پیسے، زیل پاکستان کے حصص 47پیسے اضافے سے 1روپے89پیسے، او جی ڈی سی ایل کے حصص 5روپے65پیسے اضافے سے 118روپے68پیسے، پرویز احمد کمپنی کے حصص 1روپے اضافے سے 19روپے43پیسے اور عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 5روپے82پیسے اضافے سے 122روپے37پیسے رہے۔شب برآت مشرف کے اقتدار کا سورج غروب کر گئی ۔ شب برآت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس روز فرشتے لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالی کے حضور پیش کرتے ہیں اور اس رات لوگوں کی قسمت کے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اس سال شب برآت مشرف کے اقتدار کی آخری رات ثابت ہوئی اور وہ رخصت ہو گئے ۔اے پی ایس


No comments: