International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Saturday, August 16, 2008

مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔تحریر چودھری احسن پریمی اے پی ایس،اسلام آباد

امریکہ اور پاک فوج آئین کے ساتھ ہیں اور وہ آئین کے تقاضوں کا احترام کریں گے۔ صدر کے پاس مستعفیٰ ہونے کے لیے صرف دو دن ہیں اگر وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو مواخذے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اگر ملک میں تمام فیصلے آئین کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے جائیںتو جمہوری ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے صدر کے مواخذے کا انحصار اس بات پر ہے کہ صدر مشرف مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں۔ انکے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے اگر وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں یہ فیصلہ ایک دو دن کے اندر اندر کرنا ہو گا کیونکہ اس کے بعد مواخذے کا عمل شروع ہو جاے گا مواخذے کا عمل آئین کے مطابق ہو رہا ہے اور اگر تمام فیصلے اور اقدامات آئین کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کیے جائیں تو ملک میں جمہوری ادارے مزید مضبوط ہوں گے۔ مواخذے کا عمل آئین اور قانون کے مطابق ہی ہونا چا ہیے کیونکہ بہت سے ممالک نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پاکستان اور قانون کا احترام کریں گے اور مواخذے کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے صدر کو محفوظ راستہ دینے کے حوالے سے حکمران اتحاد میں شامل اتحادی آپس میں مشاورت کریں تاکہ ایک ایسا راستہ نکلے جو امن و استحکام کی طرف جائےاگرچہ محفوظ راستے کا فیصلہ اتحادیوںکی مشاورت کے بعد ہی ہو گا صدر کو استعفی دینے کا فیصلہ آج یا کل ہی کرنا ہے کیونکہ اب اس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم امریکہ صدر کے مواخذے سے لاتعلق ہے۔ جبکہ پاکستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ قانون توڑنے اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے والوں کو محفوظ راستہ دینے کے بجائے ان سے 8سالوں کا حساب لیا جائے ان کی یہی رائے ہے کہ صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جانا چاہیے جن لوگوں نے 8 سال ملک کو برباد کیا او ر آئین کو ردی کی ٹوکری کے برابر بھی نہ سمجھا، عدلیہ کو بے وقعت کیا اورملک میں بد عنوانی کو ہو ادی ۔ وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں اور آئین او ر قانون کے مطابق ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران جس طرح ایک ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کے دوام کے لئے تمام اداروں کو تباہ کیا اور قانون کی دھجیاں بکھیریں اس کی وجہ سے پورے ملک کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا اور آج ہر شعبہ ابتری کا شکار ہے ناقص پا لیسیوں کی بناء پر صحت ، تعلیم اور امن و امان کی صورتحال سمیت تمام شعبے تنزلی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے آج ملک میں عام آدمی کو نہ تو طبی سہولتیں میسر ہیں او رنہ ہی تعلیم جبکہ اشرافیہ کو تمام سہولتیں میسر ہیں اور سرکاری افسران و سیاسی لیڈر سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کے لئے بھاری اخراجات کر رہے ہیں اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے تفاوت اور دوعملی کی پالیسی کو ختم کیا جائے۔ جبکہ عوامی حلقوں میں مواخذے کے حوالے سے شدید تشویش پا ئی جا تی ہے ان کے خیال میں بظاہر مواخذے کی گرد اڑا کر اس کی آڑ میں پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ۔پیپلز پارٹی کے وزرا کے یہ بیانات کہ ”صدر مستعفی ہو جائیں تو ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا “حیران کن اور افسوسناک ہے۔ جامعہ حفصہ کی بچیوں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل ،اپنے شہریوں کو امریکہ کے ہاتھ بیچنے ، دو بار آئین پاکستان کو توڑنے ، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو جبری معزول کرنے ، پاکستان کی آزادی و خود مختاری امریکہ کے ہاتھ فروخت کرنے اور امریکی مفادات کی جنگ کو پاکستان میں بھڑکانے والے پرویز مشرف کو بغیر مواخذہ کیے اور بغیر سزا دیئے ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کرنا ملک و قوم کے ساتھ غداری ہو گی یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ آج تک ملک کا آئین توڑنے والے کسی فوجی ڈکٹیٹر کا احتساب نہیں ہوا بلکہ یہاں تو ملک توڑنے والے فوجی آمر کو مرنے کے بعد قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا آئین بار بار فوجی بوٹوں تلے روندا جاتارہاہے ۔ آئین توڑنے والوں میں سے کسی ایک کو آئین میں درج سزا دے دی جاتی تو کسی دوسرے کو آئین توڑنے کی جرات نہ ہوتی ۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک قومی مجرم کو سزا سے بچانے کے لیے کئی قوتیں سرگرم عمل ہو گئی ہیں ملک کی بقا ، سلامتی ، عدل و انصاف کے قیام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پرویز مشرف کا آئین پاکستان کے تحت مواخذہ کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلا کر عبرت ناک سزا دی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے کہاہے کہ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوالے سے آئین قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں ۔ عوامی عدالتیں ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت راستہ موجود ہے۔ چارج شیٹ کایہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کا ٹرائل کیا جائے گا۔شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کا ہر اقدام آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ صدر کے مواخذے کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ ٹھوس اور جامع دلائل کے ساتھ چارج شیٹ تیار کی گئی ہے ۔ لیکن اسکایہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کا ٹرائل کیا جائے گا۔ قرار داد کے لیے پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ کسی ایسی بات پر عمل نہیں کیا جائے گا جس سے ملکی استحکام پر سمجھوتہ ہوتا ہو یا اس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو ۔ چاروں صوبے صدر کے مواخذے کے حوالے سے ووٹ دے چکے ہیں ۔ عوامی عدالتوں کا جمہوریت کے حق میں فیصلہ آیا ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت آج بھی ججوں کی بحالی کے معاملے میں دلچسپی رکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ججوں کی بحالی سے ان کے مسائل حل ہو جائیں گے گیلپ پاکستان کی نئی سروے رپورٹ کے مطابق67 فیصد عوام عدلیہ کے بحران میں دلچسپی رکھتی ہیں جبکہ71 فیصد عوام سمجھتی ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانا زیادہ اہم معاملہ ہے 59 فیصد کے خیال میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار سابق حکومت ہے سروے رپورٹ کے مطابق 67 فیصد پاکستانی عوام اب بھی عدلیہ کے بحران میں دلچسپی رکھتی ہے 32 فیصد عوام کی دلچسپی اس معاملے پر مزید دلچسپی بڑھ گئی ہے سروے کے مطابق جب عوام سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک ججوں کی بحالی سے ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے تو 43 فیصد نے اس کی حمایت کی جبکہ 35 فیصد نے اس کی مخالفت اور 22 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی جبکہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں 53 فیصد کے خیال میں ججوں کی بحالی تمام مسائل کا حل ہے جبکہ مسلم لیگ ق کے 60 فیصد حامی اس کے خلاف ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ججوں کی بحالی زیادہ اہم ہے یا مہنگائی پر قابو پانا تو 71 فیصد کے خیال میں مہنگائی پر قابو پانا زیادہ اہم ہے 21 فیصد کے خیال میں ججوں کی بحالی اور 8 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے تو 59 فیصد کے خیال میں سابق حکومت اس کی ذمہ دار ہے 29فیصد کے خیال میں غلط معاشی پالیسیاں اور 30 فیصد کے خیال میں بد عنوانی اس کی ذمہ دار ہے 34 فیصد کی رائے ہے کہ موجودہ حکومت اصل مسائل پر توجہ نہیں دے رہی6 فیصد نے کئی دوسری رائے دیں اس سروے میں 2100 مرد و خواتین سے رائے لی گئی جن کا تعلق چاروں صوبوں کے دیہی و شہری علاقوں سے تھا ان میں ہر عمر، آمدنی اور معاشی حالت رکھنے والے افراد شامل تھے یہ سروے 13سے 14 جولائی اور 20 سے 21، 2008ءکو کیا گیا جن لوگوں سے رائے لی گئی ان میں اعتماد کا لیول95فیصد تھا۔اے پی ایس

No comments: