International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, August 21, 2008

پر ویز مشرف کے ضما نتی ۔ مسلم اکثریتی ملکوں میں آمریت کی بلند شرح کے پیشِ نظر امریکی سرپرستوں نے سعودی عرب جلاوطنی کا ایک مقبول ٹھکانہ تلاش کیا۔






تحریر محمد رفیق اے پی ایس


آئین شکنی کے حوالے سے قومی مجرم کو معاف کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے ۔ محاسبہ نہ کیا گیا تو ملک میں آئین توڑنے کی روایت کو ختم نہیں کیا جا سکے گا قوم کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور آئین توڑنے کے حوالے سے معاف کرنے کا کسی کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے آئین شکنی میں ملوث پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے ۔ ایسا نہ کر سکے تو ملک میں آئین توڑنے کی روایت کو ختم نہیں کر سکیں گے ۔ عوام کیلئے یہ بھی بری خبر ہے کہ برطانیہ اور سعودی عرب یہ ضمانت حاصل کر چکے ہیں کہ صدارتی استعفےٰ کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ہتک آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا۔ واشنگٹن میں امریکہ محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق صدر کو گرفتار کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے اور اسلام آبادمیں بہتر سلوک کی ضمانت حاصل کرنے کے لئے امریکہ برطانیہ اور سعودی عرب کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے محکمہ خارجہ کے اعلی عہدیدار نے توقع ظاہر کی ہے کہ اب جبکہ پاکستان میں منتخب حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی کے کردار پر امریکی شکوک و شبہات دور کئے جائیں گے ۔پرویز مشرف کو سعودی عرب اور بر طا نیہ کے ضما نتی بننے پر ملک بھر کے عوام کا شدید ردعمل سا منے آیا ہے ۔عوام کا یہی کہنا ہے اگر چہ پا کستان اور سعودی عرب آپس میں گہرے ر شتوں میں منسلک ہیں۔ لیکن سعودی حکومت کو ملک و قوم کے مجرم پر ویز مشرف کیلئے پا کستان اور اسلام دشمن اسرائیل کی دلا لی کر تے ہو ئے ضما نت فرا ہم نہیں کر نی چا ہیے تھی۔ ملک بھر کے عوام سعودی عرب سے بہت دل بر داشتہ ہو ئے ہیں جبکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ مسلم دنیا تما م قو موں سے ہر شعبے میں اس لئے پیچھے رہ گئی ہے کہ پو ری مسلم دنیا کے مما لک کے عوام پر ا مر یکہ نے آمروں کو مسلط کیا ہوا ہے اور یہ تما م آمر امر یکہ کے ایجنٹ ہیں۔ اگر سعودی حکومت کے حوالے سے ایسی کو ئی با ت نہیں تو واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دیے گئے بیان کے رد عمل میں سعودی حکومت اپنی و ضا حت کر ے ۔ کیو نکہ اب پو ری دنیا جان چکی ہے کہ پرویز مشرف کے اسرا ئیل کے ساتھ مراسم تھے مشرف کے خلاف کسی طرح کی بھی قا نو نی کا ر وائی نہ کر نے اور اس حوالے سے اسے ہر طر ح کا تحفظ فراہم کر نے کی ضما نت فر اہم کر نے پر ملک بھر کے عوام میں سعودی حکومت کا وقار بہت مجروح ہوا ہے کیو نکہ اس نے پا کستان کے عوام کی بات کر نے کی بجا ئے مشرف کی حمایت کر کے اسرا ئیل کی حما یت کی ہے۔ جو کہ پا کستان کے عوام کیلئے نا قا بل قبول بات ہے۔آمریت آئین کی پامالی، آئینی اداروں کی توہین، سیاسی مکالمے کے تعطل اور اجتماعی ترقی کے عمل کو ہنگامی بے یقینی کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ پرویز مشرف کا دورِ صدارت پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے طویل وقفے کی حیثیت پائے گا جسے آئین کی ل±غت میں کوئی معنی نہیں دیا جا سکتا اور جمہوریت کے اصولوں میں جس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔پرویز مشرف کے بطور فوجی سربراہ آئینی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کو جدید عالمی تاریخ میں ایک خاص اعتبار سے روایت سے اِستثنیٰ سمجھا جاتا ہے۔بیسویں صدی میں جمہوری اور سیاسی قوتوں کے مقابلے میں غیر نمائندہ اور غیر منتخب سیاسی اور معاشی مفادات کی نمائندگی کرنے والی قوتوں کے اقتدار پر قابض ہونے کی روایت موجود تھی۔ اٹلی کے مسولینی اور سپین کے جنرل فرانکو سے لے کر ارجنٹائن کے پیرون اور نکاراگوا کے جنرل سموزا تک فوجی قوت سے اپنا جواز اخذ کرنے والے غیر جمہوری شخصی اقتدار کی مثالیں موجود تھیں۔ تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد اشتراکی دنیا اور سرمایہ دار دنیا میں سرد جنگ نے شخصی اقتدار کی اس روایت کو بالکل نئے خدوخال بخشے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے نوآزاد ملکوں میں مقبول سیاسی قیادتوں کو معزول کر کے اقتدار پر زبردستی قابض ہونے کی روایت نے ایک مانوس نمونہ اختیار کر لیا۔ بندوق کے بل پر اپنے ہی ملکوں کو فتح کرنے والے فوجی آمر اپنی سرپرستی کے لیے اشتراکی یا سرمایہ دار بلاک میں سے ایک کا انتخاب کر لیتے تھے۔ اِس سے ا±ن کی سیاسی تنہائی بھی ختم ہوتی تھی اور معاشی بقا کو بھی یقینی بنایا جا سکتا تھا۔ایک بڑی تعداد ا±ن شعبدہ بازوں آمروں کی بھی تھی جو بیک وقت اشتراکیت کی س±رخ ٹوپی اور سرمایہ داری کا دھاری دار ہیٹ تیار رکھتے تھے۔ ایک بلاک سے معاملہ نہ ہونے کی صورت میں دوسرے بلاک سے پینگیں بڑھانے کی دھمکی دی جاتی تھی۔ اِن آمروں کا اپنے عوام سے سلوک، انسانی حقوق کی پامالی اور بعض حالات میں وسیع پیمانے پر تشدد آمیز کارروائیوں سے روس اور امریکہ کو کوئی غرض نہیں تھی۔ بڑی طاقتوں کا اصل مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے فوجی مفادات، معاشی اثر و نفوذ اور سیاسی رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔ امریکہ اگر عراق کے صدام حسین، ایران کے رضا شاہ پہلوی، چلّی کے پنوشے یا فلپائن کے مارکوس کی حمایت کرتا تھا تو استعمار دشمنی کا دعویٰ رکھنے والے سوویت یونین کو کمبوڈیا کے پول پاٹ، شمالی کوریا کے کم ال سنگ یا یوگنڈا کے عدی امین کی سرپرستی میں عار نہیں تھا۔جب کسی غیر متوقع بحران یا عوام کے غیر معمولی احتجاج کی صورت میں آمر کو بادلِ نخواستہ اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑتا تھا تو ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا تھا کہ معزول آمر عوام کے غیظ و غضب سے محفوظ رہنے کے لیے کہاں پناہ لے گا؟ اشتراکی بلاک کی طفیلی ریاستوں میں تو ایسی صورت کم ہی پیدا ہوتی تھی کیونکہ عوامی احتجاج کے راستے بند تھے اور اقتدار کی داخلی کشمکش کا شکار ہونے والے ڈکٹیٹر کو گرفتار کر کے روس پہنچا دیا جاتا تھا۔ تاہم امریکہ کے دستِ نگر آمروں کا مخمصہ یک گونہ مختلف نوعیت رکھتا تھا۔ امریکہ کے لیے اپنے جمہوری دعوو¿ں اور عوامی دباو¿ کے پیش نظر اپنے سابق بندگانِ جہاں پناہ بلکہ بے پناہ کو امریکی زمین پر پناہ دینا مشکل تھا۔ ایران کے رضا شاہ فروری 1979ءمیں معزول ہوئے تو ا±نھیں مصر میں پناہ لینا پڑی۔ چلّی کے پنوشے پناہ کی تلاش میں اٹلی پہنچے۔ فلپائن کے مارکوس کو جزائر ہوائی میں جلاوطنی نصیب ہوئی۔ پانامہ کے جنرل نوریگا کو استثنیٰ سمجھنا چاہیے کہ ا±نھیں باقاعدہ فوجی کارروائی کر کے گرفتار کیا گیا اور منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ صدام حسین نے اپنے اقتدار کا آغاز امریکی سرپرستی ہی میں کیا تھا۔ مگر بیچ میں کویت اور کچھ ایسے جھگڑے آن پڑے کہ ا±نھیں بغداد ہی میں پھانسی پر جھولنا پڑا۔ چند برس پہلے مسلم اکثریتی ملکوں میں آمریت کی بلند شرح کے پیشِ نظر امریکی سرپرستوں نے سعودی عرب کی صورت میں جلاوطنی کا ایک مقبول ٹھکانہ تلاش کیا۔ مسلمانوں کے لیے سعودی عرب سے تقدیس کی بھی وابستگی ہے اور سعودی عوام کو احتجاج وغیرہ کا حق بھی میسر نہیں۔ یوگنڈا کے عدی امین سعودی عرب ہی میں رکھے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جدّہ کا سرور پیلس آج بھی کسی نئے مہمان کے لیے خالی رکھا گیا ہے۔یوگنڈا کے آمر عیدی امین نے سعودی عرب میں پناہ پائی ۔پرویز مشرف کو سوویت یونین اور امریکی کش مکش کا فائدہ حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ اقتدار سنبھالنے کے بعد کم و بیش دو برس تک ا±نھیں عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بِل کلنٹن چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے تو ا±نھوں نے فوجی صدر کے ساتھ رسمی تصویر تک ا±تروانا پسند نہیں کیا۔ لیکن 11ستمبر 2001ءکے دہشت گرد حملوں سے پرویز مشرف کی قسمت کھل گئی۔ اب وہ امریکیوں کو سوویت یونین کی جگہ مذہبی انتہا پسندوں کا ہوّا دِکھا سکتے تھے۔ پاکستان میں جمہوری روایت کبھی مضبوط نہیں ہوئی۔ لیکن عسکری آمریت ہو یا جمہوری لبادے میں آمرانہ ا±منگیں، ایک فرق واضح ہے۔ عوامی تائید کے بل پر حکومت کرنے والوں کا انجام زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ لیاقت علی خان سیاسی رہنما تھے، قتل ہوئے۔ بھٹو سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرتے تھے، پھانسی پا گئے۔ نواز شریف کو عوامی تائید ملی تو ا±نھیں اٹک قلعہ میں قید و بند اور پھر سعودی عرب میں طویل جلاوطنی نصیب ہوئی۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقبولیت رکھتی تھیں، سو ا±نھیں ہزاروں کے مجمعے میں قتل کیا گیا۔ دوسری طرف غیر سیاسی اور غیر جمہوری پس منظروالے پاکستانی حکمران زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئے۔ غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑی، وزیر اعظم برطرف کئے لیکن بستر میں موت نصیب ہوئی۔ سکندر مرزا برج کھیلنے کے شائق تھے اور سیاسی وزرائے اعظم کو پتّوں کی طرح پھینٹتے تھے، لندن میں طبعی موت پائی۔ ایوب خان اقتدار سے علیحدگی کے بعد اپنے گاو¿ں ریحانہ میں فوت ہوئے۔ یحییٰ خان کی صدارت میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔ یحییٰ خان نے سرکاری ریسٹ ہاو¿س میں موت پائی اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔ ضیاءالحق کی موت حادثاتی تھی لیکن ا±ن کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی۔پرویز مشرف کے استعفے کے باعث مواخذے کا عمل خودبخود ختم ہو گیا ہے۔ مواخذے کی تحریک پر پارلیمانی مباحثے کی صورت میں فوج کے ادارے کا وقار محفوظ رکھنا مشکل ہو جاتا۔ غالباً امکان ہے کہ پرویز مشرف کے گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد گزشتہ آٹھ برس کے اقدامات لپیٹ دیے جائیں گے۔ البتہ یہ امر ابھی تک قیاس آرائیوں کی زد میں ہے کہ پرویز مشرف جلاوطنی کا زمانہ کہاں گزاریں گے۔ پا کستان کے عوام کی مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، لیکن ان سے آئین توڑنے اور قانون کی دوسری خلاف ورزیوں کا حساب لینے والا کوئی تو ہونا چاہیئے جب مواخذے کی بحث شروع ہوئی تھی، آج سے کوئی5 1 دن پہلے۔ لیکن اس وقت یہ ضرور طے ہوا تھا کہ صدر کے مواخذے یا استعفے کے بعد جج بحال ہو جائیں گے۔اب جب کہ مشرف صاحب نے استعفیٰ دے دیا ہے تو ججوں کی بحالی کا یہی وقت ہے ۔عوام کاخیال تھا کہ اب تک بحال ہو جانا چاہیئے تھا لیکن ابھی تک وہ بحال نہیں ہوئے نواز شریف کی زرداری سے دو دن قبل گفتگو ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں دو مزید اتحادی رہنماو¿ں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی بات ہوئی ان دونوں نے کہا تھا کہ ہمیں 72 گھنٹے کا وقت دیں، تاکہ ہم کوئی راستہ نکال سکیں۔ زرداری کی نواز شریف کے ساتھ بڑی مضبوط کمٹمنٹ تھی کہ جج دوسرے ہی روز بحال ہو جائیں گے۔ اگرچہ معاہدہ بڑا صاف ہے، لیکن زرداری اس سلسلے میں واضح نہیں ہیں۔ پاکستان کے سو لہ کرور عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے، اور وہ ہے ججوں کی بحالی۔ ججوں کا بحال نہ ہونا سب کیلئے پریشان کن ہے۔ زرداری کے ساتھ نواز شریف کے تین معاہدے ہو چکے ہیں۔ بلکہ آخری معاہدے کی تو سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی، اسے دس دن ہوئے ہیں۔ ملک بھر کے عوام میں گہری تشویش پا ئی جا تی ہے کہ اگر تین معاہدے ہو چکے ہیں تو پھر انھیں ہر قیمت پر پورا ہونا چاہیئے۔سابق صدر پرویز مشرف کا آٹھ سال 10ماہ پر محیط دور ملک کی تاریخ کا سب سے مہنگا ثابت ہو ا ہے ۔ اس دوران مہنگائی میں 437.63فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 206.97فیصد سے 398.03فیصد، بجلی 221.95فیصد ، گیس 147.87فیصد، زرعی اجناس 45.67سے 437.63، گوشت 181.48سے 227.27فیصد ، اشیاءضروریات میں 40.51سے 205فیصد، پھلوں او ر سبزیوں کی قیمت میں 100سے 300اور تعمیراتی میٹرل کی قیمتوں میں 181.25سے 400فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔ آٹھ سال کے دور حکومت میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 98.50فیصد تک اضافہ ہوا ۔ بارہ اکتوبر 1999کو پیٹرول فی لیٹر 28.23روپے تھی جو آج 86.66روپے ہیں ۔ ڈیزل 12.87روپے سے 56.50روپے ، مٹی کا تیل 11.72سے 58.37روپے فی لیٹر ہو گیا ہے ۔ گندم فی کلو 7.72سے 20روپے ، آٹا فی کلو 8.35روپے سے 25روپے ، چاول 14.50روپے سے 90روپے ، چینی 19روپے فی کلو سے تیس روپے فی کلو ، دودھ پندرہ سے 35روپے، سیمنٹ 130سے 380روپے ، سینٹری سامان کی قیمتوں میں چار سو فیصد اور الیکٹرانکس سامان کی قیمتوں میں 390فیصد اضافہ ہوا ہے۔اے پی ایس

No comments: