

تاریخ پاکستان گواہ ہے کہ جب بھی سر زمین پاک بحران کی صورت سے دو چار رہی پاکستان پےپلز پارٹی وہ واحد سےاسی جماعت ہے جس نے ملک کے گرتے ہوئے ستونوں کو سہارا دےا اور ہر موڑ پر اےک مضبوط اور مستحکم تحفظ فراہم کےا۔ بات اےک متفقہ اسلا می آئےن کی ہو ، افواج پاکستان کے استحکام کی ہو ، اےٹمی طاقت کا تحفہ ہوےا پہلے منتحب جمہوری وزےر اعظم کی ہو کوئی بھی عمل اےسا نہےں جس نے ہمےشہ پاکستان کو آزاد ۔آئےنی اور طاقتور بنےاد فراہم نہ کی ہو۔قربانےوں کی تفصےل مےں جائےں تو قلم خون کے آنسوبہانے سے نہےں رکے گاکہ کس طرح اسلامی جمہورےہ پاکستان کے پہلے منتحب جمہوری وزےر اعظم شہےد ذوالفقار علی بھٹو شہےد کو اےک آمر نے تحتہ دار پر لٹکا دےا تھا۔ اور کس بے دردی سے شہےد جمہورےت محترمہ بے نظےر بھٹو کا راولپنڈی مےں بہےمانہ قتل کےا گےا۔ اور کتنے ہی پےپلز پارٹی کے شہےد گمنام راہنما ہوں ےا عام کارکن ہوں جس نے جےسی ضرورت ہوئی اس سر زمےن پاک کو ہمےشہ جمہورےت کی باقہ کے لئے اپنی جانوں کا نظرانہ پےش کےا۔ انہی قربانےوں کی وجہ سے پےپلز پارٹی ملک کی وہ واحد جمہوری پارٹی ہے جو ہمےشہ سر خرو رہی تھی ۔ رہی ہے اور تا دم پاکستان رہے گی ۔ اگر ہم ماجودہ صورتحال اور کشمکش کو سامنے رکھےں کہ کس طرح جمہوری اداروں کو آئنےی پامالی سے بچانے کے لئے اےک بار پھر پےپلز پارٹی نے مےدان مارا اور پےپلز پارٹی کے شرےک چئےر مےن جناب آصف علی زرداری صاحب نے تحمل مزاجی اعلیٰ سوچ و فراست۔ بر دباری و وسےع النظری سے اس اہم اور تارےخی وقت مےں جمہورےت کی بقا کے لئے تمام سےاسی ساتھےوں کی ساتھ ملا کر آمرےت کا خاتمہ کرنے کا بےڑا اٹھاےا اس امر مےں انہوں نے دن رات اےک کر دےا ۔ آخر کار رب العالمےن نے کامےابی اےک بار پھر پاکستان پےپلز پارٹی کو عطا فرمائی جس کے اصل و حقےقی ہےرو جناب آصف علی زرداری صاحب ہےں۔ اس کی عظےم مثال آج مورخہ 18 اگست 2008 ء وہ تارےخی دن ہے جب جمہورےت کی اصل فتح ہوئی اور آئےن پاکستان کو اےک محفوظ تحفظ ملا ےہ بھی پاکستان پےپلز پارٹی کا شاخسانہ ہی ٹھہرا کہ اس نے اےک بار پھر فےڈرےشن کو ٹوٹنے سے بچاےا ۔ اگر ہم سر زمےن پاک کے کونے کونے پر نظر ڈوڑائےں تو پاکستان پےپلز پارٹی وہ واحد جمہوری اور سےاسی طاقت ہے جس کی جڑےں ہر صوبے اور علاقے مےں ماجود ہےں۔ اسی وفاق پاکستان کی علامت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت ہماری عوام اور سےاسی مدبرےن اور راہنمائوں کو اےک اہم دانش مندانہ فےصلہ دل سے کرنا ہو گا کہ" صدر پاکستان " کا جب چنائو ہو تو وفاق پاکستان کی علامت پاکستان پےپلز پارٹی کے حصے مےں آئے اور اےوان صدر مےں صدر پاکستان "جئے بھٹو " کا نعرہ لگائے ۔مملکت خداد اد کو اس اہم موڑ پر اےک وفاق پاکستان کی علامت ۔ مضبوط آئےنی اور اعلیٰ ظرف صدر پاکستان کی ضرورت ہے جس کی سب سے بڑی حقدار پاکستان پےپلز پارٹی ہی ہے جو سےاسی حےثےت مےں وفاق پاکستان کی علامت ہے اور اس لمحہ سب سے مدبر شخصےت صرف اور صرف آصف علی زرداری صاحب ہےں جو تمام سےاسی پارٹےوں کو ےکجا رکھتے ہوئے وفاق پاکستان کا مضبوط سہار ا بن سکتے ہےں۔ اور آئےں پاکستان کے محافظ بھی۔جناب آصف علی زرداری صاحب کی فراست کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ تمام سےاسی ساتھےوں کی منشا اور خواہش کے پےش نظر ملک کو اےک انتہائی شرےف النفس ۔ اعلیٰ کردار اور غوث اعظم کے خادم جناب مخدوم زادہ سےد ےوسف رضا گےلانی جےسا وزےر اعظم منتحب کےا جو وفاق پاکستان اور جمہوری اداروں کی بقا کی علامت ہے اور جس کی شخصت مےں کوئی جھول نہےں۔انہی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم نظر ڈالےں تو صرف پاکستان پےپلز پارٹی ہی ملک کی واحد جماعت ہے جو وفاق پاکستان کی علامت ہے اس لئے صدر پاکستان پےپلز پارٹی سے منتحب ہو تو وفاق مضبوط ہوگا۔ اس تما م جمہوری فتح کی کاوش کی اصل سر چشمہ تو شہےد پاکستان محترمہ بے نظےر بھٹو کا خون ہے جس سے اس ملک کو اےک جمہوری و آئےنی قوت عطا ہوئی اور اس عظےم لےڈر کی قربانی نے ہی آج مورخہ18 اگست 2008ءکو قوم کو اےک بار پھر زندہ کر دےا۔ہمارا فرض ہے کہ اب ہم اس سر زمےن پاک کو قائدا عظم کے اصو لوں کے مطابق مضبوط سے مضبوط آئےنی رےاست بنانے مےن اپنے ذاتی اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے دن رات اےک کر دےں تاکہ پاکستان اکسوےں صدی کا اےک عظےم آئےنی آزاد معاشی طور پر مستحکم ملک بن کر سامنے آئے جہاں عدلےہ آزاد ہو عام آدمی کو سستا انصاف ملے ۔ ساتھ ساتھ ہمےں افواج پاکستان کا بھی شکر گزار ہونا چاہےے کہ جب اپنی تمام صلاحےتوں اور طاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مملکت کی سرحدوں کی حفاظت پر معمول ہے اور کسی مےلی آنکھ کی جر ا ءت نہےں کہ وہ ہماری عظےم افواج پاکستان کی آہنی دےوار مےں دراڑ ڈال سکے ۔آخر مےں۔ جےنا تو اسی کا جےنا ہے جو وطن پر مر جائے۔

No comments:
Post a Comment