International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 20, 2008

قوم کے مجرم کو سلامی ....تزئین اختر کاکالم رائے عامہ






ون۔ اے پارک روڈچک شہزاد میں پرویزمشرف کے فارم ہاؤس کا ایڈریس ہے جہاں ان کے عالیشان گھر کی تعمیر جاری ہے۔ اس کے آرکیٹیکٹ تو حماد حسین ہیں ۔ جو پرویزمشرف کے فیملی فرینڈ بتائے جاتے ہیں مگر زیادہ تر ڈیزائننگ خود پرویز مشرف اور صبہا بیگم نے کرائی ہے۔ اسلام آباد کے نواح کی پرسکون فضا میں واقع یہ گھر دارالحکومت کے لگژری (پرتعیش)گھروں میں سرفہرست ہوگا۔ پرویز مشرف نے اس کی تعمیر 4سال پہلے شروع کرائی تھی تب ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ انہیں اسی طرح ایوان صدر سے نکلنا پڑ سکتا ہے اور تب یہ گھران کے لئے گوشئہ عافیت ہوگا۔ گھر کا رقبہ 5ایکڑ ہے اور یہ میڈی ٹرینین سٹائل بنایا گیا ہے۔ سچی بات ہے میرے علم میں نہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے تو دو کمرے، کچن، باتھ روم، ٹوائلٹ چھوٹا سا صحن ہی گھر ہوتا ہے۔ پرویزمشرف اقتدار کے دنوں میں خودجاکر تعمیر کا جائزہ لیتے رہے ہیں جبکہ ان کی بیگم صبہا پردوں اور فٹنگز کا انتخاب خود کرتی رہی ہیں ۔ صرف پردوں اور فٹنگز پر 12لاکھ 50ہزار پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں ۔ چونکہ پرویزمشرف سبزہ بہت پسند کرتے ہیں اس لئے ہر کمرہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں سے اردگرد کا سبزہ صاف دکھائی دے۔ گھر کے اندر مچھلیوں کا تالاب، واکنگ ٹریک اور اردگرد خاردار تاروں کے ڈھیر ہیں ۔ ایک سایہ دار ٹیرس بھی بنایا گیا ہے جہاں شام کے وقت پرویز مشرف سگار وغیرہ یاجو بھی پینا چاہیں پیا کریں گے۔ آرکیٹیکٹ حماد حسین کا کہنا ہے کہ ’’اس گھر کی تعمیر سے پہلے پرویزمشرف کی مخالف جماعتوں کے سربراہوں نواز شریف اور آصف زرداری کے ذوق کا جائزہ بھی لیا گیا۔ نوازشریف نمائشی فرنیچر پسند کرتے ہیں جبکہ پرویزمشرف نے آصف زرداری کی گل فورڈ(Guilford)کے نزدیک کنٹری اسٹیٹ کی شرافت سے کاپی کی ہے مگر یہ سرے محل بہرحال نہیں ۔‘‘سرے محل بھلے نہ ہو مگر ’’مشرف محل‘‘ضرور ہے اوراس کی تکمیل میں ابھی کم از کم ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ اس عرصے میں پرویزمشرف کو کہیں اور رہنا ہے۔ فی الحال آرمی ہاؤس میں ہیں اور زیادہ امکانات یہی ہیں کہ اپنے گھر کی تکمیل تک وہیں رہیں ۔ اس دوران دیکھنا یہ ہے کہ ان کی نقل وحرکت آزادانہ رہتی ہے یا ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرح حفاظتی تحویل کا نام دے دیا جاتا ہے کیونکہ ڈاکٹر قدیر کو جتنا خطرہ باہر کے لوگوں سے تھا پرویزمشرف کو اس سے کہیں زیادہ خطرہ اندر کے لوگوں سے ہے۔ اس لئے پرویزمشرف کا باہر نکلنا ڈاکٹر قدیر کی نسبت زیادہ مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ جہاں تک ملک سے باہر جانے کی بات ہے اس پر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے خالد خواجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی ہے کہ پرویزمشرف کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی جائے مگر اس کاکوئی فائدہ ہوگا نہ ضرورت تھی کیونکہ ایسا کوئی سلسلہ ہی نہیں ہونے والا کہ پرویزمشرف کو جس سے بچ کر ملک سے نکل بھاگنے کی حاجت پیش آجائے۔ یہاں یہ بھی کلیئر کرلینا چاہئے کہ وہ باہر جا بھی سکتے ہیں مگر یہ ایسے ہی ہوگا جیسے عام پاکستانی بھی جاتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ ملک سے بھاگ گئے ہیں ۔ 18اگست کو انہیں قوم سے خطاب کرنے دیا گیا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے اپنا کیس پیش کیا ہے۔ بعدازاں مسلح افواج کے تینوں دستوں نے گارڈ آف آنر دیا ہے۔ مسلح افواج کے سربراہوں نے ان سے الوداعی ملاقات کی ہے۔ پرویزمشرف نے دوپہر کو خطاب کیا اور رات 10بجے استعفے پر دستخط کئے۔ پھرایوان صدر سے آرمی ہاؤس منتقل ہوگئے۔ اب وہاں سے کون مائی کا لال انہیں پکڑے گا۔فوج ایک بار پھر اپنے چیف کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر بھی لے گئی ہے اور غیرجانبداری کا تمغہ بھی سینے پر سجالیا ہے ورنہ اصل غیرجانبداری تو یہ تھی کہ پرویزمشرف کو آرمی ہاؤس سے پہلے ہی نکال دیا جاتا۔اور اگر وہ جو کہہ رہے تھے کہ میں مقابلہ کرسکتا ہوں اور چارج شیٹ کی کوئی حیثیت نہیں تو کرنے دیتے انہیں مقابلہ مارنے دیتے آخری مکا۔پہلے نہیں تو اب ہی کہہ دیتے کہ جو شخص صدر رہنے کا اہل نہیں وہ ہمارے چیف ہاؤس میں بھی نہیں رہ سکتا۔جب پاک فوج نے ایک شخص کو ملک کی اکثریت جسے قومی مجرم گردان رہی ہو، لعن طعن کررہی ہو اپنے چیف کے گھر میں پناہ دے رکھی ہوگی تو کیا پاک فوج کی پاکئی داماں ، داغدار نہ ہوگی؟یہ بات یقینا زیر غور ہوگی مگر اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا ان کے پاس۔ کارروائی ہوتی تو اکیلے پرویزمشرف کو تھوڑی رگڑا لگنا تھا اور بھی کئی پردہ نشینوں کے نقاب الٹ جانا تھے اور بھی کئی فرنٹ مینوں کے کڑاکے نکل جانا تھے۔ اکتوبر1999ء کا فوجی اقدام ہی بنیاد ہے ناں پرویزمشرف کے جرائم کی۔ یہ اقدام پرویزمشرف نے تو اٹھایا ہی نہیں تھا۔ وہ تو فضا میں معلق تھے۔ زمین پر تو مظفرعثمانی، محمد عزیز اور محمود تھے۔ منتخب وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ کون مانگتا رہا۔ یہ علی محمد جان اورکزئی اورمحمود تھے۔ انہی لوگوں نے بدتمیزی بھی کی اور تشدد بھی۔ گزشتہ سال میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض علی چشتی کاانٹرویو کررہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ جنرل ایوب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سکندر مرزا کو تھپڑ مارکر ایوان صدر سے نکالا تھا۔ کیا یہ سچ ہے؟ اس پر چشتی صاحب ہڑبڑا اٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کیا بات کررہے ہیں ۔ ایسا پولیس والے کرتے ہوں گے۔ جرنیل ایسے نہیں ہوتے‘‘۔ میرا چشتی صاحب سے سوال ہے کہ ان جرنیلوں کے متعلق ان کا کیا خیال ہے جو منتخب وزیراعظم کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں ۔؟پرویزمشرف کے خلاف قانونی کارروائی ایک ایسا پنڈورہ بکس ہے جو یہ حکومت کھول ہی نہیں سکتی اور اس کی پاک فوج بھی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ پنڈورہ بکس کھول دیا جائے تو سنبھالنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس میں دیگر جرنیلوں کو بھی اٹنشن کرنا پڑے گا۔ پرویزمشرف کا ساتھ دینے والے سیاستدانوں کی گردنیں بھی ناپنا پڑیں گی۔ بیوروکریٹوں کے کالر بھی چیک کرنا ہوں گے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ آدھے جرنیل ایک طرف ہوں گے اور آدھے دوسری طرف۔معین الدین حیدر، جمشید گلزار، احتشام ضمیر، عبدالقیوم سمیت پرویز مشرف کے ساتھ کام کرنے والوں کی ایک بات ہوگی اور مظفرعثمانی، محمد عزیز، محمود اورکزئی دوسری بات کررہے ہوں گے۔ پاک فوج کی جو رسوائی گزشتہ 9سال میں ہوئی وہ تو ہوئی مگر اب جوکیچڑ اچھلتا اور گھر کے بھیدی جو لنکاڈھاتے اس کے تصور ہی سے جھرجھری آجاتی ہے۔ پرویزمشرف نے بھلے ہی اپنے استعفے کے لئے ملک اور قوم کے مفاد کو جواز بنایا مگر ہماری دانست میں دراصل یہ ملک اور قوم سے زیادہ پاک فوج کے مفاد میں تھا کہ پرویزمشرف چلے جاتے اس لئے قوم کو زیادہ احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں ہاں اس لحاظ سے پرویزمشرف کی مہربانی مان لیتے ہیں کہ پاک فوج بھی ہماری ہے۔قوم تو ہمیشہ پاک فوج کی وجہ سے ان آمروں کا لحاظ کرگئی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ تالی ایک ہاتھ ہی سے بجتی رہی۔ اب بھی یہی ہوگیا ہے ورنہ ہم نے تو سنا تھا کہ پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔قوم نے یہ توقع تو نہیں کی تھی کہ جس کو وہ اپنا مجرم سمجھتی ہے۔ اس کو مسلح افواج سلامی بھی دے رہی ہوں اور سلامتی بھی۔

No comments: