International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, August 21, 2008

زرداری و مشرف کو سزا کا خدشہ اور نواز شریف علیحدگی۔ تحریر: محمد رفیق اے پی ایس



ججز کی بحالی کے حوالے سے عوامی انتظار سے ملک میں اضطراب دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے نواز شریف کی اتحاد کی بنیاد اعلان مری پر تھی ملک میں متعدد معاشی اور آئینی بحران ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ ججز جلد از جلد بحال ہوں اعلان اسلام آباد کے مطابق14 اگست تک ججز کو بحال ہو نا چاہیے تھا عوامی اضطراب بڑھ رہا ہے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اصولوں کی بنیاد پر سیاست کی جائے اب بھی پرویز مشرف کی بعض پالیسیوں پر عملدر آمد ہو رہا ہے ان پالیسیوں کو تبدیل کر نے کے لئے معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے جبکہ ملک بھر کے عوام نے فاٹا میں آپریشن کے خاتمے کامطالبہ کیا ہے۔ پرویز مشرف کو صدارت سے ہٹانا وکلاء برادری کی پہلی فتح ہے۔وہ اسے ملک سے بھاگنے نہیں دیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 6کے تحت اس کا ٹرائل کریں گے۔ وکلاءاور عوام کی تحریک کی اصل منزل عدلیہ کی بحالی ہے۔ انھیں مائنس ون یا ٹو فارمولا قبول نہیں۔ جمعہ کے روز ڈیڈ لائن ختم ہوجائے گی جس کے بعد وہ سول نافرمانی دھرنا اور دیگر احتجاجی عمل شروع کریں گے۔ آئندہ کوئی دوسرا طالع آزما منتخب عوامی حکومت کو ختم کرنے کا خواب نہیں دیکھے گا۔ حکمرانوں کو فوری طور پر عدلیہ بحال کرکے عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ جنرل مشرف کا استعفیٰ اصل میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے جرات مندانہ انکار کے باعث ہے جس کے نتیجہ میں وکلاءتحریک نے مشرف کو مجبور کردیا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ اگر پرویز مشرف کا ٹرائل نہ ہوا تو پھر کل کوئی دوسرا آمر اقتدار پر قبضہ کرنے آجائے گا۔ ملک دشمن عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان کو غیر متزلزل سیاسی صورتحال رکھی جائے۔ججز کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلوں کے لئے حکمران اتحاد کے قائدین کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں ہو گا مشاورتی کمیٹی اس ایشو کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی اجلاس میں پی پی پی پی کے شریک چیئر مین آصف علی زر داری،پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف،اے این پی کے صدر اسفند یار ولی خان ،جے یو آئی ف کے سر براہ مولانا فضل الرحمان ،چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری و دیگر رہنما شریک ہوں گے ججز کی بحالی کے حوالے سے اجلاس فیصلہ کن ہو نے کا امکان ہے ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاںمحمد نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ ججز کی بحالی کا فیصلہ جمعہ کو نہ کیا گیا تو وہ حکمران اتحاد سے الگ ہو سکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے انکار کیا ہے اور خبر دار کیا ہے کہ جمعہ تک ججز بحال نہ ہوئے تو ان کی جماعت حکومت گرائے بغیر اتحاد سے الگ ہو جائے گی، ایک امریکی اخبار”وال سٹریٹ جرنل “ کو انٹرویو میں نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ تمام ججوں کی بحالی پر متفق ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر ججز بحال نہ ہوئے تو جمہوریت کے لیے یہ ایک نیک شگون نہیں ہو گا۔ اورن لیگ اتحاد سے الگ ہو جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کی جائے گی لیکن ہمارے پاس حزب اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججوں کی معزولی میں پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ صدر مشرف کے مواخذے کے 24 گھنٹے کے اندر ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا اب ان کی باری ہے کہ وہ ججز کی بحالی کے بار ے میں ہماری حمایت کریں۔سابق صدر مشرف کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں انتقام پر یقین رکھنے والا شخص نہیں اگرچہ انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن میں ان سے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہتا تاہم جس شخص نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو ، آئین کو توڑ مروڑ دیا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو ، اس عوام کو یہ ضرور بتانا چاہئے کہ اس نے ایسا کیوں کیا قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اس سے ان سوالات کے جواب دینے چاہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ امریکہ نے تاحال پاکستان میں آزاد عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی کی حمایت نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات مستحکم ہوں۔ ادھر ایک امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ سوئس عدالت میں کوٹیکناکیسز ابھی زرداری اور ایک دوسرے فرد کے خلاف قائم ہیں اور اس سلسلے میں انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے ۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رانا مشہود نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جماعت کا نقطہ نظر بیان کرنے آئے ہیں اور انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کس کس سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جج بحال نہ ہوئے تو ن لیگ کا اتحاد میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ وفاق نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں وزراء اعلیٰ سے لئے گئے اختیارات جو کہ گورنر ز کو تقویض کئے گئے تھے واپس وزراء اعلیٰ کو حوالے کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے اس حوالے سے اپنے اختیارات کی تفصیلات وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو ارسال کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دوراقتدار میں چاروں صوبوں کے وزر اء اعلیٰ سے بعض اہم ترین اختیارات گورنرز کو تقویض کئے تھے ۔ جس کے باعث وزراء اعلیٰ نے اختیارات میں کمی پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اس حوالے سے شکایات کی تھی کہ ان کے اختیارات جو کہ گورنرز کو تقویض کئے گئے کو واپس وزرائاعلیٰ کو دیئے جائیں جس پرکابینہ ڈویڑن نے چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ سے اس حوالے سے تجاویز اور سفارشات طلب کی تھی اوران سے لئے گئے تمام اختیارات جو کہ گورنرز کو تقویض کئے تھے کی تفصیلات بھی طلب کی تھی ۔ چاروں صوبوں کے اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن اور وزراء اعلیٰ سیکرٹریٹ سے سفارشات اور اختیارات کی تمام تفصیلات سے کابینہ ڈویڑن اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کو آگاہ کر دیا ہے ۔ ملک بھر کے عوام نے و اہ کینٹ میں خود کش حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ملک بھر کے عوام کی طرف سے حملوں میں جاں بحق افراد کے ورثاء سے گہری ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا گیاہے۔ ملک بھر کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں امن کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے موثر اور جامع اقدامات کئے جائیں ۔ اگر چہ وزیر اعظم نے پنجاب حکومت دور متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو تمام مطلوبہ طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایات اور ان دھماکون کی تحقیقات کے اقدامات بھی جاری کر دیئے ہیں اور اس
عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کو کیف کردار تک پہنچانے سے حکومت کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ٹیکسلاکے قریب واہ کینٹ میں پاکستان کی سب سے بڑی اسلحہ ساز فیکٹری کے دونوں گیٹس 2 دھماکے ہوئے ہیں جس میں 40 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ دھماکوں میں کم از کم 57سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکے تھے ۔ پولیس چیف ناصر درانی نے 40 افراد کے جاں بحق اور 57سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ خودکش دھماکے تھے دھماکے سے زیادہ تر فیکٹری کے سویلین ملازمین نشانہ بنے ہیں فیکٹری حکام کا اپنا سیکورٹی طریقہ کار ہے ۔اطلاعات کے مطابق پاکستان اسلحہ ساز فیکٹری کے مین گیٹ اور گیٹ نمبر ایک کے قریب یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے ہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک گیٹ پر ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیااس کے فوراً بعد ہی دوسرے گیٹ پر دھماکا ہوا ۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے عین اس وقت ہوئے جب فیکٹری کے ملازمین چھٹی کرکے گھروں کو جارہے تھے۔ ایمبولینسیں اور دیگر امدادی ایجنسیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیاہے۔پولیس اور سیکورٹی فورسز علاقے میں پہنچ گئی ہیں اور علاقے کو سیل کردیا گیاہے۔ واہ فیکٹری میں 35 سے 40 ہزار افراد کام کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرا دھماکہ مین گیٹ کے قریب ہوا مین گیٹ کے قریب ہی واہ فیکٹری پی او ایف کے چیئرمین کی رہائش گاہ بھی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد افرا اتفرای پھیل گئی ۔ فیکٹری حکام نے مین گیٹس بند کردئیے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ملازمین اندر پھنس کر رہ گئے ۔ جنہیں بعدازاں وہاں سے نکالا گیا ۔ دھماکوں کے بعد واہ فیکٹری کے علاقے میں مواصلاتی نظام بھی جام کردیا گیا تھا۔ دھماکوں کے بعد اسلام آباد راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ آرڈیننس فیکٹری بہت بڑے رقبے پرواقع ہے اور اس کا ایک سراٹیکسلاجبکہ دوسرا حویلیاں ایبٹ آباد سے جاملتاہے۔ عوام نے ن واقعات کا ذمہ دار سابق صدرپرویز مشرف اور موجودہ حکومت کو قرار دیاہے کہ جب باجوڑ ایجنسی وزیرستان ، فاٹا اور دیگر قبائلی علاقوںمیں بمباری کر کے اپنے ہی لوگوں کو نیست ونابود کیاجارہاہے تو لوگوں میں انتقام کی آگ تو بھڑکے گی قوم پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے موجودہ حکومت بھی مشرف کی پالیسیوں پر چل نکلی ہے اور امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بہانہ بنا کر اپنے ہی لوگوں کو مارا جارہاہے دہشت گردی کے خلاف جنگ سب فراڈ ہے یہ دراصل امریکہ کی جنگ ہے امریکہ اس نام نہاد جنگ کا بہانا بنا کر عربوں کے تیل پر قبضہ برقرار برقرار رکھنے مسلمانوں کو تباہ کرنے ، چین کو دور رکھنے اور مسلمانوں کے وسائل کو ہتھیانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہمارے نام نہاد حکمران اس میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو امریکہ کے ساتھ مل کر مار رہے ہیں اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پردہ ہٹ جانا چاہیے اور اگر حکمران اسے اپنی جنگ سمجھتے ہیں تو اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لے جایا جائے اور فیصلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے مشرف دو آنسو بہا کر بری الذمہ ہو گئے ہیں ان کے ان آنسو کی قیمت پوری قوم ادا کر رہی ہے اور ہم اپنے ہی لوگوں کے خون کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت بھی مشرف کے نقش قدم پر چل رہی ہے اورکہتے ہیں کہ اگر ہم کارروائی نہیں کریں گے تو امریکہ حملہ کر دے گا۔ امریکہ پہلے کونسے حملے نہیں کر رہا وہ غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج تک 51حملے کر چکا ہے جس میں سینکڑوں بے گناہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں چاہیے تو یہ کہ امریکہ کو صاف کہہ دیا جائے کہ وہ آئے اور حملہ کرے ہم سے جو کچھ ہوا امریکہ کیسے جرات کرے گا ہماری قوم بہت رکھی ہے ان ان کے دکھوں کا مداوا ہونا چاہیے اور تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیں مگر افسوس کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے باہر ہورہاہے۔ امریکہ نے اصل میں ہمارے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے وہ ہوائی حملے پہلے بھی کر رہا ہے اور یہی ہو گا کہ ان میں مزید شدت آئے گی ہمارے حکمرانوں کا یہ کہنا انتہائی افسوس ناک ہے کہ ہم امریکہ کا سامنا نہیں کر سکتے۔جبکہ مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ عسکریت پسندوں کی بیخ کنی تک باجوڑمیں آپریشن جاری رہے گا ۔حکومتی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھیں گے اور اسے چیلنج کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ باجوڑ سے ڈھائی لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے ۔ بلوچستان اور فاٹا میں حکومت کی سیکیورٹی فورسز کے چار ہزار جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔شر پسند عناصر ملک میں شعیہ سنی فسادات چاہتے ہیں ۔ شرپسندوںکے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے جمعرات کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں امریکا کے انسداد دہشت گردی پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والی پولیس خواتین افسران میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب اورصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رحمان ملک نے کہا کہ گزشتہ چھ سالوں سے سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے عالمی برادری کا تعاون چاہیے ۔ تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ تربیت اور جدید آلات کی فراہمی کے حوالے سے عالمی برادری کا تعاون چاہیے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید سہولت اور مکمل تربیت دینا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوںکے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اینٹلی جنس کے شعبے میں تعاون کے ساتھ تربیت اہم ہے ۔ فاٹا میں حالات خراب ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے ۔پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ کو لڑیں گے ۔محفوظ پاکستان چاہتے ہیں کسی صورت عسکریت پسندوں کو برداشت کریں گے نہ انہیں حکومتی عملدرآری کو چیلنج کرنے دیں گے ایساہوگا تو سختی سے نمٹنا پڑے گا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا باجوڑ میں جنگجووں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہا کہ 80 فیصد خود کش حملوں میں کمی آ چکی ہے ۔پنجاب میں امن وامان کی صورتحال مجموعی طور پر بہترہے۔ انہوںنے کہاکہ شر پسند عناصر شیعہ سنی کو لڑاناچاہتے ہیں۔ ہم دونوں مسالک کے علماءکرام کو اکٹھا کررہے ہیں۔ یہ علماءکرام فرقہ واریت سے متاثرہ علاقوں میں اکٹھے نمازیں پڑھیں گے۔ باجوڑ سے ڈھائی لاکھ افراد نے ہجرت کی ہے ان کی مدد اور پڑاو کے لیے 20 کیمپ قائم کردئیے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکنان بھی نقل مکانی کرنے والے افرادکی مدد کر رہے ہیں۔اے پی ایس



No comments: