
عافےہ تم پاکستان کی بےٹی ہومسلم امہ کی شان اور پہچان ہوتمھاری رہائی کے لئے قائم کی جانےوالے کمےٹی اور اہل پاکستان نامی مےل اےڈرےس کے زرےعے خاکسار کو پےغام موصول ہواجس کے متن مےں شامل تھاغلاموں کو عےد آزادی مبارکمےری پےاری بہن مجھے تمھارے الفاظ سے کوئی تکلےف و درد نہےں ہواکےونکہ ہم واقعی غلام ہےںجس ملک کے بادشاہ اور پردھان منتری بھی آذادی سے حکومت کرنے کے قابل نہ ہوں تو بھلا وہاں کے باسی کس طرح ازاد ہو سکتے ہےںاور شائد تمھےں ےہ معلوم نہےںکہ جو غلامی کی بےڑےوں مےں جکڑے ہوئے ہوںوہ انتہائی ڈرپوک اور بزدل ہوتے ہےںجو اپنی حمےت اور حرمت کا سرعام جنازہ نکالتے ہےں اےسے کم بخت اےک طرف غےر ملکی طاقتوں کی قدم بوسی فرماتے ہےں تو دوسری طرف اپنے مسلمان ہونے کے دعوے زور شور سے کرتے ہےںاےک طرف پاکستان نام کا لفظ استعمال کرنے سے قبل اسلامی جمہورےہ کا ڈنکا ضرور بجاتے ہےںلےکن دوسری طرف شےطانوں کی جنگوں مےں اپنی بہو بےٹےوں کو غےر ملکی اےجنسےوں کے ہاتھوں فروخت کرکے خدائی فرامےن کے لباس کو تار تار کرکے شرک کرتے ہےں اور پھر اےسی بد فطرتی پر گردنےں اکڑاتے پھرتے ہےں کےا ےہ ہماری بدقسمتی نہےںکہ ہم جن کو اپنا خلےفہ وقت چنتے ہےںوہ اےک فون کال پر ےہود و نصاری کے قدموں مےںخزاں رسےدہ پتوں کی طرح ڈھےر ہوجاتا ہے دشمنان دےن اور حاسدےن پاکستان کی جنبش ابرو پر اپنی فوجوں کو اپنے ہم وطنوں و اسلامی بھائےوں پر اپنی فوجےں چھوڑنے مےں کوئی شرم محسوس نہےں کرتےتاکہ نپولےن بوناپارٹ کے اس قول کی ترجمانی ہوتی رہےبوناپارٹ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو اےک دوسرے پر چھوڑ دوتاکہ ےہ بھوکے شےروں کی طرح اےک دوسرے کو بھنبھوڑےں اور اےک دوسرے کو فنا کرڈالےںعافےہ خدا تعالی تم پر رحمتوں کی ےلغارکرامات کی بھرمار اور اپنی نوازشات کی برسات کرےخلےل جبران کا قول ہے کہ تم ظالموں اور ستم گروں کی مدد نہ کرو ورنہ روز جزا خدا کی عدالت متں تمھاری باز پرس ہوگی بے نظےر بھٹو نے اپنی گرانقدر خدمات اور قوم کے لئے جان کا نذرانہ پےش کرنے کے عوض پاکستان سمےت دنےا بھر کے مسلمانوں کے قلوب مےں ہمےشہ کے لئے بسےرا کر لےا ہےتم بھی اس بے حس اور لاغر قوم کے دلوں کی مہارانی بن چکی ہو ےاد رکھوتمھےں اغےار کے سپرد کرنے اور اسلامی تعلےمات کی بجائے روشن خےالی کی پرورش کرنے والے عنقرےب ذلت کے ٹوکرے اٹھانے والے ہےںانکی واپسی کی راہےں مسدود ہوچکےںظلم کی شب سےاہ جلد ہی ختم ہونے والی ہےےہود و نصاری اور عالمی جلادوں کی رکھےل کا کردار نبھانے والے جلد ہی احتساب کا نشانہ بننے والے ہےںپورا عالم انکی دنےاوی زلالت کے سےن بھی دےکھے گااور بروز قےامت بھی انکے چہروں پر تارےکی ناچ رہی ہوگیآئے دختر پاکستانمسلم امہ تمھاری جانبازی اور سرفروشی پر تو ناز کر سکتی ہے لےکن تم ہم پر فخر کرنے کی زحمت مت کرناکےونکہ جو غلام ہوتے ہےںانکے ہاتھوں مےں بے حسی کی ہتھکڑےاں اور پےروں مےں بے حمےتی کی بےڑےاں ہوتی ہےں وہ کبھی تمھاری طرح ہےرو بننے کے قابل نہےں رہتےاگر ہم ازاد ہوتے ےا ہم معراج انسانےت کی بلند قامت چوٹےوں پر فروزاں ہوتے اگر ہماری رگوں مےں دےن محمدی کی عقےدت خون بنکر دوڑتیاور ہم اپنے کردار و گفتار سے بھی مسلمانوں کے اوصاف سے مشابہت رکھتے تو ہماری زبان سے آج سامراجےوں کے خلاف شعلے ابل رہے ہوتے اور سولہ کروڑ کا اژدھام سڑکوں پر تمھاری رہائی کے لئے اودھم مچائے ہوئے ہوتالےکن ےہاں تو اطراف و جوانب مےں نفسا نفسیلوٹ مار اور حےوانےت کا مےلہ جما ہوا ہےقانون کے محافظ ہی سامراجےوں کی دلالی مےں جتے ہوئے ہےں پانچ سال تےن ماہ کا طوےل عرصہ ہوگےالےکن کسی نے تمھارے اوپر مسلط کی جانےوالی سامراجےت کے خلاف کوئی توانا اواز نہ اٹھائیعورتوں کے حقوق کے لئے مےڈےا مےں شائےں شائےں کرنے والی فتنہ سامان اےن جی اوز نے تمھارا زکر کرنا مناسب سمجھااور نہ ہی طالبان کی خون الود قبائےںاور قران کرےم ہاتھوں مےں تھام کر ووٹ اےٹھنے والی اےم اےم اے کو خوف خدا لا حق ہواجب تمھےں کراچی سے اغوا کےا گےا تو اس وقت نام نہاد جمہوری حکومت قائم تھیظلم تو ےہ ہے کہ ق لےگ کے ترجمان نے دنےاوی رکھ رکھاو کے لئے امرےکےوں کے سامنے کوئی احتجاج کےا اور نہ ہی اس دور کی اپوزےشن نے سامراج کو کھری کھری سنائےںعنقرےب تختہ مشق بننے والے صدر صاحب جو اپنی قوم کو مکے دکھاتے اور سےنہ پھلاتےاپنے بگ باس قاتل اعظم بش کو کہہ سکتے تھےکہ مےری اےک بےٹی گوانتاناموبے مےں بند ہےاسے رہا کردولےکن مےں معافی چاہتا ہوں کہ وہ اےسا کرنے کے قابل نہ تھےکےونکہ وہ بھی تو غلام ہےوائٹ ہاوس کامجھے اےک بے بس بے حمےت پاکستانی کی حثےت سے تمھاری رجال کاری پر ناز ہےکےونکہ تم نے دنےا کی اکےلی سپرپاور کو ناکوں چنے چبوادئےےوہ تم سے خائف اور خوف زدہ تھےتو تمھےں ڈالروں کے عوض خرےدا امرےکہ کے پاس جوہری ہتھےاروں کا ذخےرہ ہے کہ وہ دنےا کو کئی بار بھسم کرسکتے ہےںمسلم دنےا کے ستاون اسلامی ملکوں کی جی ڈی پر امرےکہ اکےلا بھاری ہےلےکن دنےا کا واحد خود ساختہ دےوتا اور اسکے جوہری ہتھےار موت برسانے والے ہزاروں طےارےمےزائل سب کچھ تمھاری بہادری کے سامنے تہہ خاک ہوگئےجب تمھےں عدالت مےں پےش کےا جارہا تھاتو تمھاری حالت پر مجھ اےسے پتھر دل کو رونا ےاد اگےالےکن چونکہ مےں غلام ہوں بے حس ہوں بے حمےت ہوں کہ مےں ترمھارے لئے نہ تو لب کشائی کرسکتا ہوںنہ ہی سڑک پر ماتم کرنے کا ملکہ رکھتا ہوں اور نہ ہی مےں اپنے ارد گرد پائے جانےوالے انسان نما جانوروں کو تمھاری روداد سنا کر کسی جلوس ےا جلسے کا انتظام کرسکتا ہوںمےری عزےز من عافےہ ابھی تمھےں کئی اور ظلم سہنے ہےںہوسکتا ہے کہ دور حاظرہ کا فرعون تمھےں جسمانی طور پر ہی ختم کردےکےونکہ غلاموں کی بستی مےں جو لوگ ازادےوں کے گےت گاتے ہےںوہ تمھاری طرح ہر دور کے امروں کی انکھوں مےں کٹھکتے ہےںاور پھر صلےب کی شان و شوکت بھی اےسے حرےت پسندوں کے خون سے سجتی ہےلےکن ےہ بھی ےاد رکھنا کہ تارےخ کے سنہری ابواب مےں صرف موسی کا نام قلمبند ہوتا ہےجبکہ فرعون ہمےشہ زلت و خواری اور گمنامی کے تارےک طاقوں مےں بند ہوجاتے ہےںتارےخ نے انکی قسمت مےں صرف اور صرف لعنت و ملامت ہی لکھی ہےجبکہ ہر دور کا حرےت پسند چاہے وہ منڈےلہ ہو ےا پھر بھٹو وہ جی گوےراہو ےا صلاح الدےن اےوبی وہ تاقےامت تارےخ اور عوام کے دلوں مےں زندہ و تابندہ رہتے ہےںاپنے اپکو دنےا کی مہذب ترےن قوم سمجھنے والے امرےکےوں کی چار فٹ کالی ہےبت ناک کوٹھڑی کی تنہائےوں مےں کبھی ےہ خےال بھولے سے اپنے من مےں نہ لاناکہ مسلم ملکوں جو دراصل جنگل ہےں سے کوئی سرپھرا تمھاری دستگےری کے لئے اگے بڑھے گا مےری بہن کوئی نہےں آئے گاکےونکہ ےہاں کی مٹی بانجھ ہوچکی ہےاب ےہاں نہ تو کوئی حجاج بن ےوسف ہے؛جس نے سندھ کی اےک بےٹی کے خط پر محمد بن قاسم کو راجہ داہر کا سر قلم کرنے کا حکم دے ڈالا تھااور اب نہ تو ہماری مائےں صلاح الدےن اےوبی اےسے لازوال جرنےل پےدا کرتی ہےںجس نے اےک نان مسلم عورت کی دہائی پر سپےنی فوجوں کو اپنے گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روند ڈالا تھالےکن ےہ بھی مت سمجھنا کہ ہم تمھےںفراموش کردےں گےہم غلام سہی لےکن ہمارے قلوب مےں احسا س زےاں کی وہ رمق باقی ہےجو ہمےں مسلم نشاة ثانےہ کی ےاد دلاتی ہےتمھاری داستان الم نے ہمارے پتھر نما ضمےروں مےں ارتعاش پےدا کردےا ہےہوسکتا ہےاس ارتعاش سے کسی روز حرےت کی کوئی چنگاری بھڑک اٹھےاور اےسا اتش فشاں بن جائے جو ےہود و نصاری کے ہر کاروں اور بادشاہوں کے فرعونی محلات کو بھسم کرڈالے پاکستان نامی جنگل کے سولہ کروڑ غلاموں کی طرف سے صرف نےک خواہشات کا سندےسہخدا تمھےں اپنے حفظ وامان مےں رکھےاتنا کہنے کے علاوہ ہم کچھ نہےں کرسکتےکےونکہ ہمےں تسلےم ہےکہ ہم غلام ہےںاور غلام خواہ صدر ہوےا وزےر افسر ہو ےا مزدور کبھی بھی اواز حق اٹھانے کی جرات نہےں کرتاعافےہ تم ہےرو ہو اور تا قےامت ہےرو ہی رہو گیکےا تم جانتی ہوہےروز ہےروز ہی ہوتے ہےںانکی شخصےت کے گرد تقدس کا اےک نورانی ساہالا ہمہ وقت موجود رہتا ہےوہ جو بھی ہوں جےسے بھی ہوں لوگوں کے دلوں مےں بستے ہےںانکے خوابوں مےں لو دےتے ہےںانکے فکر و احساس مےں گلاب کے پھولوں کی طرح مہکتے ہےںان سے محبت قوموں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دےتی ہےبلاشبہ وہ بھی انسان ہوتے ہےںاور انکی زندگی لغزشوں سے پاک نہےں ہوتی جو کارنامہ انہےں ہےروز کے منصب پر فائز کرتا ہےوہ انہےں فرشتہ نہےں بنادےتاہےروز کی کوہ قامت شخصےات کے مقابلے مےں چھوٹی چھوٹی کوتاہےاں بے معنہ ہوکر رہ جاتی ہےںزندہ قومےں اپنے ہےروز کو مشعل راہ بناتی ہےںلےکن عافےہ بی بی تمھے معلوم ہےکہ ہم قوم پاکستان ہےروکش قوم ہےںاگر ہم ہےروز سے عقےدت و الفت رکھنے والے ہوتےتو بانی پاکستان قائد اعظم کراچی کی سڑکوں پر سسک سسک کر نہ مرجاتاقائد ملت راولپنڈی کے لےاقت باغ مےں اپنوں کی بربرےت کی بھےنٹ نہ چڑھتااگر ہم ازاد ہوتےتو پاکستان کے ماتھے پر اےٹمی قوت کا تاج سجانے والا بھٹو کبھی پھانسی کے تختے پر بلک بلک کر نہ مرتا بے نظےر بھٹو انتہاپسندوں کی بہےمت کا نشانہ نہ بنتیاور اےٹمی قوت کا خالق آج تمھاری طرح قےد و بند مےں نہ گل سڑ رہا ہوتالےکن حالات کچھ بھی ہوںمجھے تسلےم ہےکہ ہم غلام ہےںاور غلاموں کو ازادی کی مبارکبادےں نہےں بھےجی جاتےںاے پی ایس

No comments:
Post a Comment