International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 13, 2008

کیا مشرف کے بعدبھی امریکی پا لیسیوں کا تسلسل جا ری رہے گا؟ تحریر ۔ محمد رفیق،اے پی ایس





پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی اورفوج اب سیاست میں ملوث نہیں ہیں ایک انٹرویو میں آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بھی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سیاست سے دور رہیں گی مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ پرویز مشرف اب چند دنوں کے مہمان ہیں وہ بہت جلد ایوان صدر میں نہیں ہوں گے جو بھی پاکستان کا نیا صدر ہو گا اس کا انتخاب تمام اتحادی جماعتیں باہمی صلاح مشورے سے کریں گی پرویز مشرف کی جگہ اب جو نیا صدر آئے گا وہ پاکستانی قوم کو سب سے پہلا تحفہ یہ دے گا کہ آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی ختم کر دے گا یہ قوم کیلئے اس کا پہلا تحفہ ہو گا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب نیا صدر ان اختیارات کے ساتھ ایوان صدر میں نہیں بیٹھے گا جو اختیارات اب صدر مشرف کے پاس ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کچھ دن پہلے ایک برطانوی اخبار نے ان کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی کہ پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی رقم میں کافی غبن کیا ہے اس حوالے سے اخبار نے خبر سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کی تھی آصف علی زرداری نے کہاکہ اس حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں او رپرویز مشرف پر یہ الزام لگانا قبل از وقت ہو گا اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں این آر او کے بارے میں انہوںنے کہاکہ این آر او دراصل پیپلزپارٹی کا صدر مشرف کے خلاف انتقام تھا جس آصف علی زرداری کے خلاف پرویز مشرف اور ان کی حکومت کئی سال تک پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کرتی رہی ہے کہ آصف علی زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ اور کرپٹ آدمی ہے اسی آصف علی زرداری کو پرویز مشرف کی حکومت نے این آر او جاری کر کے یہ تسلیم کیاکہ جو الزامات ان پر لگائے گئے تھے وہ سارے کے سارے سیاسی وجوہات کی بناء پر لگائے گئے تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے تو جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے نے قانونی امداد فراہم کی انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس امریکی عدالتی نظام کیلئے ایک بہت بڑا امتحان ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد پاکستان واپس آئیں گی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آصف علی زرداری نے تشویش کا اظہار کیا اور حریت رہنما شیخ عبدالعزیم کیلئے فاتحہ خوانی بھی انٹرویو کے دوران کی اور انہوںنے کہاکہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی اور فوج کے خلاف نئی جنگ چھیڑنا چاہتی ہے انہوں نے کہاکہ یہ ہماری اپنی آئی ایس آئی اور فوج ہے ہمارا اس کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم جمہوری جدوجہد کرنے والے لوگ ہیں اس عزم کا بھی آصف علی زرداری نے اظہار کیاکہ پرویز مشرف کے مواخذے کے فوراً بعد معزول ججز بحال ہوں گے اور اس کے بعد میثاق جمہوریت پر عملدر آمد ہو گا اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے گا۔سات برس میں پہلی بار ایوان صدر کی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان ہوا ہے ۔ایوان صدر میں پاکستان کے یومِ آزادی کی مجوزہ تقریبات کے انعقاد کے سلسلے میں ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ ایوانِ صدر میں ہونے والی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تقریبات شیڈول کے مطابق ہوں گی۔پاکستانی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے منگل کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ کی شب ایوان صدر میں یوم آزادی کے سلسلے میں ہونے والی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے اور یہ تقریب جمعرات کو شاہراہ دستور پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تیرہ اگست کی شب جو میوزیکل شو ایوان صدر میں ہوتا تھا اس کا اہتمام وزارت اطلاعات اور پاکستان ٹیلی وڑن کی انتظامیہ کرتی تھی اور اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چودہ اگست کو یوم آزادی کی تقریبات اسلام آباد میں کنونشن سینٹر اور شاہراہ دستور پر ہوں گی اور ان دونوں میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی مہمان خصوصی ہوں گے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ ہاو¿س کے احاطے میں بھی سٹیج بنائے گئے ہیں جہاں پر تقریبات کا انعقاد ہوگا۔ ا±دھر صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں ہونے والی تقریبات شیڈول کے مطابق ہوں گی۔ ان تقریبات میں پاکستان بھر سے فنکار حصہ لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر میں ہونے والی اس تقریب کے دعوت نامے بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں اس لیے یہ تقریب کسی طور پر بھی منسوخ نہیں کی جائے گی۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف موجودہ حکمراں اتحاد کی طرف سے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کے بعد ایوان صدر اور حکومت کے درمیان ایک تناو¿ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف الزام ترشیاں کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ سات سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے ایوان صدر میں یوم آزادی کی تقریبات منسوخ کی ہیں۔ اس سے پہلے ایوان صدر میں تیرہ اگست کی شب کو جو تقریبات ہوتی تھیں ا±س میں وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کے علاوہ فوجی اور سویلین افسران بھی شرکت کرتے تھے۔ جبکہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک آئندہ ہفتے پیش کر دی جائے گی۔ صدر پرویز مشرف کے دیرینہ ساتھی بھی اب ان کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں حکمران اتحاد نے تمام سیاستدانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر کے مواخذے کے حوالے سے حکومت کا ساتھ دیں۔ شیر پاو¿ گروپ جو ماضی میں صدر پرویز مشرف کا اتحادی رہا ہے اس نے بھی مواخذے کی تحریک کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے چارج شیٹ بہت پہلے ہی سے تیار ہے اب صرف اس کی نوک پلک درست کی جا رہی ہے جس کے بعد آئندہ ہفتے اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ صدر کے خلاف چارج شیٹ انتہائی مضبوط ہے اور اس میں صدر کو اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جارہا ہے۔ پنجاب اور سرحد اسمبلیوں میں صدر کے خلاف بھاری اکثریت سے قراردادیں منظور کی گئی ہیں جبکہ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک میں ضرورت سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ جبکہ حکمران اتحاد نے واضح کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کو مواخذہ عوامی عدالت کا فیصلہ ہے اسے کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس تحریک کو پارلیمنٹ سے نہیں نکلنے دیں گے۔ کسی ادارے نے پارلیمنٹ کی آزادی و خود مختاری اور آئین میں مداخلت کی تو پارلیمنٹ اسے برداشت نہیں کرے گا 15 اگست تک مواخذے کے حوالے سے چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سیاسی و جمہوری قوتوں کے درمیاں مواخذے کے بارے میں کوئی دورائے نہیں ہیںتمام سیاسی و جمہوری قوتیں متحد ہو رہی ہیں پنجاب اور صوبہ سرحد کی اسمبلیاں جمہوریت کے حق میں فیصلہ دے چکی ہیں قرار دادوں کو بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا ہے سندھ اور بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہو گی سرحد اسمبلی میں شیر پاو¿ گروپ کی جانب سے قرار داد کی حمایت سے واضح ہو چکا ہے کہ پرویز مشرف کو اسے پرانے حامیوں نے بھی چھوڑ دیا ہے اور ان کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں مواخذے کی تحریک کسی خاص یا ایک جماعت کی تحریک نہیں ہے ۔ جمہوری تحریک ہے جو سیاستدان سمبھتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے دامن کو پکڑے ہوئے ہیں وہ سب آمریت کے خلاف ووٹ دیں گے صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے پرویز مشرف کے خلاف عوام کا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔جبکہ سرحد اسمبلی میں صدر مشرف پر عدم اعتماد کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی ہے۔ قرار داد کے حق میں 107 ووٹ آئے ہیں جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ ڈالے گئے ۔ جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سنیئر وزیر بشیر احمد بلور نے صدر مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی۔ اس قرار داد میں چار بنیادی الزامات لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ صدر نے دو دفعہ آئین توڑا اور اسے پامال کیا۔ الزام لگایا گیا کہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوا اور ملک میں مختلف بحران آئے صدر پر الزام لگایا گیا کہ اکتوبر2007 ء میں جو صدارتی انتخاب ہوا تھا وہ غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ سپیکر نے ایوان میں قرار داد منظوری کے لیے پیش کی ۔ جس پر 107 اراکین نے قرار داد کی حمایت کی۔ جبکہ 4اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی۔ تفصیلات کے مطابق سرحد اسمبلی نے صدر مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کا مطالبیپر مبنی قرارداد بھاری اکثریت سے کامیاب کر لی ۔ منگل کے روز حکومتی اراکین کے ریکوزیشن پر بلائے گئے سرحد اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ چغر مٹی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ ایوان میں 111اراکین نے شرکت کی ۔ جبکہ کئی اراکین غیر حاضر رہے ۔ سرحد اسمبلی میں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے اجلاس کے دوران سپیکر سے استدعا کی کہ انہیں اسمبلی رولز 240معطل کر کے 124کے تحت قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی جس پر انہیں قرار داد پیش کرنے کی اجا زت دی ۔ اجازت دینے کے بعد بشیر احمد بلور ، اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی، سینئر صوبائی وزیر رحیم داد خان اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سرحد پیر صابر شاہ نے بار ی باری قراردادیں پیش کیں ۔ قرارداد پیش کرتے ہو ئے معزز اراکین اسمبلی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48کے تحت پختونخواہ اسمبلی جو صدر مشرف کا انتخابی حلقہ ہے 2007میں ہونے والے صدارتی انتخاب کو غیر آئینی تسلیم کرتے ہیں اسی لئے صدر مشرف اپنے حلقہ انتخاب یعنی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے دوبارہ اعتمادکا ووٹ لیں یا فوری طور پر آئین کے آرٹیکال 433کے تحت مستعفی ہو جائیں ۔ اور اعتماد کا ووٹ لینے اور مستعفی نہ ہونے کی صورت میں پارلیمان آرٹیکل 47کے تحت صدر کو مواخذے کا نوٹس دیں ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پرویز مشرف نے دو بار آئین کو توڑا اور جمہوریت کا راستہ روکا ۔ صدر مشرف نے صوبوں کے درمیان منافرت پھیلائی اور خود مختیاری سے انکار کیا ۔ جبکہ پرویز مشرف کی گزشتہ آٹھ سالہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان معاشی ، سیاسی اور سیکورٹی تباہی سے دوچار ہوا ۔ صدر نے 31دسمبر 2004کو وردی اتارنے کا اعلان کیا تھا تاہم انہوں نے قوم کے ساتھ دھوکہ دیاہے ۔ قرار دادمیں کہا گیا ہے کہ جنرل مشرف کی پختون دشمن پالیسیوں کی وجہ سے فاٹا اور صوبے میں سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو ئے اوران پالیسیوں کی نتیجے میں بڑے پیمانے پر فاٹا اور صوبے میں قتل عام ہوا ۔ سپیکر نے ایوان میں قرار داد پیش ہونے کے بعداس پر رائے شماری کا حکم دیا اور 111میں سے 107اراکین نے قرار دادکے حق میں جبکہ مسلم لیگ (ق) کے چار اراکین نگہت اورکزئی ، قلندر لودھی ، ظاہر شاہ شانگلہ اور چترال سے غلام محمد نے قرارداد کی مخالفت میں رائے دی۔ اسی طرح سرحداسمبلی نے صدر مشرف کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ۔پی پی پی شیر پاو¿ نے بھی صدر کے مواخذے کی حمایت کر دی ۔ منگل کے روز سرحداسمبلی کے اجلاس کے دوران صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کے مطالبے پر مبنی قرار داد پیش ہونے کے موقع پر پی پی پی شیر پاو¿ کے سکندر شیر پاو¿ تمام اراکین نے مواخذے کی تحریک کی حمایت کی اور صدر کے مواخذے کی حمایت میں پیش ہونے والی قرار داد کے حق میں رائے دی ۔ پی پی پی ( شیر پاو¿ ) کی جانب سے تحریک کے حمایت کے بعد پی پی پی شیر پاو¿ کا صوبہ سرحدمیں سیاسی مورال بلند ہونے کا امکان ہے ۔ ایوان گو مشر ف گو کے نعروں سے گونجتا رہا ۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن نے ایوان کے درمیان آکر مشرف کی تصویر پھاڑ دی جس پر نگہت اورکزئی اور شازیہ اورنگزیب کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ منگل کے روز سرحد اسمبلی کے اجلاس میں جب اکرم خان درانی نے صدر کے مواخذہ کرنے کے بارے میں قرار داد پڑھنا شروع کی تو مسلم لیگ (ق) کی خاتون رکن نگہت اورکزئی نے احتجاج شروع کیا تاہم اس دوران اراکین کی جانب سے گو مشرف گو کے نعروں سے ہال اجلاس کے ملتوی ہونے تک گونجتا رہا اور نگہت اورکزئی کو اراکین نے بات نہیں کرنی دی اس دوران مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن شازیہ اورنگزیب اپنی نشست سے اٹھی اور پرویز مشرف کی بڑی تصویر کو پھاڑ دیا ۔ اس دوران مسلم لیگ (ق) کی خاتون نگہت اورکزئی بھی آ گئی اوران کے درمیان تکرار شرو ع ہو ئی تاہم اسمبلی کے عملے نے بیچ بچاو¿کر کے دونوں کو اپنی نشستوں کو واپس بھیجوا دیا ۔ منگل کے روز سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران بشیر بلور کا مائیک بار بار خراب ہو رہا تھا جس پر سپیکر نے کہا کہ بشیر بلو ر جہاں پر جاتا ہے مائیک خراب ہو جاتا ہے ۔ بشیر بلور نے برجستہ جواب دیتے ہو ئے کہا کہ اس میں مشرف کی سازش لگ رہی ہے ۔ جبکہ سرحداسمبلی کے حکومتی اوراپوزیشن اراکان نے ہاتھ اٹھا کر صدر مشرف کو مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر لیا ۔ منگل کے روز سرحد اسمبلی کے اجلاس میں قرار داد وں کو پیش کرنے سے قبل سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور ، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر صابر شاہ ، سابق وزیر اعلیٰ سرحد اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی اور سینئر صوبائی وزیر رحیم داد خان نے صدرمشرف پر تنقید کر تے ہو ئے ملک پر جاری تشدد اور انہیں بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہو ئے ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ۔ پیر صابر شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم صدر مشرف کو نواز شریف اور پارٹی کے ساتھ زیادتیوں پر معاف کر سکتے ہیں تاہم جامعہ حفصہ میں ہزاروں بچیوں کو قتل کرنے ، فاٹا اور ملک کے دیگر حصوں میں ہزاروں افراد کے قتل عام اور عافیہ صدیقی کے کیس میں معاف نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر مشرف پر مقدمہ چلا کر پھانسی پر لٹکایا جائے ۔ پیر صابر شاہ نے کہاکہ بھارت ، اسرایل اور امریکا پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور صدر مشرف ان سازشوں میں شریک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صدر مشرف کو ملک سے باہر نہ جانے دیا اوراقتدار سے علیحدہ کر نے کے بعد ان پر مقدمہ چلایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ یحی خان ، ایوب خان ، جنرل ضیاء اور مشرف سمیت تمام آمر وں پر لعنت بھیجتے ہیں جنہوں نے اس ملک کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ انہوں نے ایوان سے استفسار کیا کہ اگر انہیں ان کا مطالبہ منظور ہے تو وہ ہاتھ کھڑا کر دیں جس پر اراکین نے ہاتھ کھڑا کر کے صدر مشرف پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ۔ بشیر احمد بلور نے اپنے تقریر میں کہا کہ آج کا تاریخی دن اس بات کا متقاضی ہے کہ صدر مشرف مواخذے کی تحریک آنے سے قبل مستعفی ہو جائے ۔ کیونکہ انہوں نے آٹھ سالوںمیں صوبہ پختونخواہ میں پختونوں کے قتل عام پر مبنی پالیسیاں بنائی جس کے وجہ سے آج پختونخواہ میں آگ لگی ہو ئی ہے ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف ، اسفندیار ولی اور آصف علی زرداری کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے قوم کی آواز بن کر صدر مشرف سے قوم کو نجات دلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اے این پی کو وزارت عظمی کی پیشکش کی تاہم ہم نے جمہوریت کا ساتھ دیا ۔ اس موقع پر اکرم خان درانی نے کہاکہ مشرف کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں معاشی بد حالی اور بدامنی پھیلی ہو ئی ہے اوراسے ہر صورت میں نجات ضروری ہے ۔ رحیم داد خان نے کہا کہ آمر وں نے ہمیشہ ملک کو تباہ کیا اور اب وقت آیا ہے کہ آمریت کے دروازے ہمیشہ کے لئے ملک میں بند کردیئے جائیں ۔با رہ مئی 2007کو کراچی میں ہونے والے واقعات ایک بار پھر سرحد اسمبلی میں توجہ کا مرکز بن گئی ۔ سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران بشیر احمد بلور نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ بارہ مئی کو غنڈہ گرد وں نے کراچی میں چالیس سے زائد معصوم لوگوں کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کے استقبال سے روکنے کے لئے شہید کیا اور مشرف نے اس روز اسلام آباد میں ڈھول کی تھاپ پر بنگڑوں کے دوران کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ تھا ۔ انہوں نے کہاکہ معصوم لوگوں کا خون کرنا کس طرح طاقت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بارہ مئی کے واقعات میں صدرمشرف ملوث ہے ۔ اور صدر مشرف کے خلاف چارج شیٹ میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے ۔ اس دوران ایوان نے صدر مشرف کے خلاف نعرے لگائے ۔ یاد رہے کہ بارہ مئی کو ایک لسانی تنظیم کے کارکنوں نے چالیس سے زائد افرا دکو فائرنگ کر کے شہید کیا ۔تحریک کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے سیاسی و جمہوری قوتوں کے درمیاں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوا لے سے کو ئی دورائے نہیں ہیں۔ملک حقیقی جمہوریت کی بحالی کے راستے پر گامزن ہے جبکہ شیری رحمان وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلم لیگ قاف کے ارکان بھی ہمارے ساتھ مل رہے ہیں سینٹ قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں جمہوریت کے حق میں فیصلہ ہو گا۔ سابق کنگ پارٹی کے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مواخذے کی تحریک کو معمولی نہ سمجھا جائے پاکستان کے عوام کے جذبات کی عکاسی ہو رہی ہے۔پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں اسمبلی جمہوری قوتیں اس طرح متحرک نہیں ہوئیں انہوں نے واضح بتایا کہ صدر کا مواخذہ عوام کی عدالت کا فیصلہ ہے اسے کسی اور عدالت میں چیلنج کیاجا سکتا ہے نہ پارلیمنٹ کے معاملات میں کوئی مداخلت کی جا سکتی ہے ۔ مواخذے کی تحریک کو پارلیمنٹ سے نہیں نکلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ کے حوالے سے اہم دستاویز ہو گئی کہ آخری وقت تک اس نوک پلک ٹھیک کی جاتی رہے گی جامع اور ٹھوس چارج شیٹ ہو گی مواخذے کی تحریک کی تاریخ کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ںنے کرنا ہے۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف ٹھوس اور جامع چارج شیٹ تیا ر کی جا رہی ہے ہر معاملے کا مختلف پہلوو¿ں سے جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ اس تاریخی دستاویزنے پوری قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے جاتا ہے بہت سے معاملات کو دیکھنا پڑ رہا ہے انہوں نے چارج شیٹ میں آئینی خلاف ورزیوں اور بدانتظامی سمیت دیگر امور کوشامل کیا جا رہا ہے مواخذے کی تحریک کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ ہے ۔ اسے صدر کے مواخذے کا حق حاصل ہے آئین میں اسے واضح کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مواخذے کو کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے یہ تاثر قطعی درست نہیں ہے کسی ادارے نے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی کوشش کی تو یہ پارلیمنٹ کی آزادی و مختاری اور اراکین میں مداخلت ہو گی پارلیمنٹ اسے برداشت نہیں کرے گاچارج شیٹ جب مکمل ہو جائے گی تو اسے شائع کیا جائے گا۔ ایشوز سامنے آ جائیں گے محفوظ راستے کے حوالے سے وہ کسی غیر ملکی دباو¿ سے آگاہ نہیں ہیں اس معاملے کا فیصلہ حکمران اتحاد کے قائدین کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صدر کا مواخذہ ہو رہا ہے اراکین اور قائدین کے مطابق چارج شیٹ تیار کر رہے ہیں اس لیے و قت لگ رہا ہے دو تین روز میں اسے حتمی شکل دے دی جائے گی۔ جبکہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مواخذے کے حوالے سے مطلوبہ تعداد سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کی رائے سامنے آ رہی ہے جس سے واضح طور پر عوام کے جذبات کی عکاسی ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ متعلقہ لوگ پرویز مشرف کو سمجھائیں کہ وہ مستعفی ہو جائیں ملک و قوم کا وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔جبکہ امریکی سفیر این ڈبلیو پیئرسن نے میاں نواز شریف سے ملاقات میں حکمران اتحاد میں صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے مسلم لیگ نون کے ذرائع کے مطابق رائے ونڈ میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکی سفیر کی کوشش تھی کہ ملک کی سیاسی خصوصاً حکمران قیادت کو صدر پرویز مشرف کے خلاف سخت اقدامات اور فیصلوں سے باز رکھا جائے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ اگر صدر پرویز مشرف استعفی دے کر محفوظ راستے سے امریکہ میں سکونت اختیار کرنا چاہیں توان کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ حکمران جماعتیں پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دیں ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے ۔ ان کے مواخذے کے ساتھ ساتھ معزول ججوں اور عدلیہ کو بھی بحال کیا جائے ۔ پارلیمنٹ اب یہ فیصلہ بھی کرے کہ اس نے ملک کی خود مختاری کی حفاظت کرنی ہے یا بیرونی پالیسیوں کے تحت چلنا ہے پرویز مشرف کے خلاف مواخذہ کی تحریک لانے کے بعد ان پر این آر او جاری کرنے ، آئین توڑنے ، لال مسجد آپریشن اور فوج کو عوام کے ساتھ لڑانے کے اقدامات پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے اگر جج پہلے بحال ہوجاتے تو پھر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی کامیابی یقینی ہوجاتی۔ اب حکومت پرویز مشرف کے خلاف پارلیمنٹ میں قرار داد لارہی ہے تو اس کے ساتھ ہی معزول ججوں کی بحالی کی قرار داد بھی لائے اور انہیں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جائے پرویز مشر ف کو کوئی محفوظ راستہ نہیں دیا جانا چاہیے ۔ مواخذہ کرنے کے بعد ان کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کی جائے اور غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔اگر پرویز مشرف کاجانا ٹھہر گیا ہے تاہم اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ملک کی پارلیمنٹ بالادست ہو گی اور وہ آزادی و خود مختاری کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد میں فیصلہ کر سکے گی اور ہم امریکی غلامی سے بھی نجات حاصل کرلیںگے یا پھر امریکی پالیسیوںکا تسلسل اسی طرح جاری رہے گا۔اے پی ایس



No comments: