
سابق صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ۔جنرل پرویزمشرف کو سات اکتوبر سنہ انیس اٹھانوے کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پراستعٰفی دے دیا تھا۔بارہ اکتوبر سنہ انیس ننانوے کو جنرل پرویزمشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔جنرل پرویزمشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ستائیس جنوری سنہ دو ہزار کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ بارہ مئی سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو تین مہینے کے اندر انتخابات کرانے کے لیے حکم دیا۔ سنہ دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور چودہ اگست دو ہزار ایک میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جبکہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا۔ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنرل پرویز مشرف امریکہ کےاتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔پانچ اپریل سنہ دو ہزار دو کو صدر مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تیس اپریل سنہ دوہزار کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔ اگست دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔ دس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے ۔ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔ تیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سے حلف لیا۔ پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کوراولپنڈی میں صدر مشرف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تاہم صدر مشرف محفوظ رہے۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس دسمبر سنہ دوہزار تین کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد سترھویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔یکم جنوری سنہ دو ہزار چار پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ چار فروری سنہ دو ہزار چار کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے۔ تیس جون سنہ دوہزار چار کو چودھری شجاعت حسین سے صدر مشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ پندرہ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو صدر مشرف کی جانب سے سرحد اسمبلی میں پاس کیے گئے حسبہ بل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ۔ پچیس ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو صدر پرویزمشرف کی کتاب ’ان لائن آف فائر‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی ۔ نو مارچ سنہ دوہزار سات کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ستائس جولائی کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ۔ پانچ اکتوبر کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکیا گیا۔ دو اکتوبر کو پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ۔ چھ اکتوبر کو ہونےوالے صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔ گیارہ نومبر صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔ پندرہ نومبر کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا۔ سولہ نومبر کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ا±نیس نومبر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ بائیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔ تئیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔ ستائیس نومبر صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا ۔اٹھائیس نومبر ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔ ا±نتیس نومبر صدر مشرف نے سویلئن لباس میں دوسری بار ملک کے صدر کا حلف ا±ٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔ نو دسمبر صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو ا±ٹھالی جائے گی۔ پندرہ دسمبر صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کو ناکامی ہوئی۔ پچیس مارچ دو ہزار آٹھ کو صدر مشرف نے وزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کوحلف دلوایا۔ سات اگست کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ پنجاب ،سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔ اٹھارہ اگست کو صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا۔ مشرف کا آخری قوم سے خطاب قارئین کی نذر ہے۔ صدر پرویز مشرف 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد آج پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاء جنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ آج یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔ جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فیصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی ریاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دیا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کیا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چیلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور میں نہیں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ء میں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چیلنج کا سامنا کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدیل ہوئی 2005 ء کے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گیا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو حل دیکھا اس میں ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجیح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل میں بھی میری یہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لیے دوجنگیں لڑیں خون کا نذرانہ دینے کے لیے تیار رہا یہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہیں کیا گیا یہ عناصر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری نو سالہ پالیسی غلط رہی ہے ۔ یہ ملک کے ساتھ فریب ہے۔ معیشت کے حوالے سے انہوںنے کہا ۔کہ دسمبر 2007 ء یعنی آٹھ ماہ قبل معیشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فیصد ، معیشت 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قیمت آٹھ سال تک 8 روپے کے ارد گرد رہی ۔ یہ معیشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنیا کی ایجنسیوں نے ملک کو این الیون ممالک میں قرار دیا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نیچے چلے گئے ۔ ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لوگ سرمایہ کار باہر لے جا رہے ہیں ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک دیا ۔ آٹے دال گھی کی قیمت دگنی ہو گئیں ۔ عوام تکالیف اٹھانے پر مجبور ہیں ۔ معیشت پختہ تھی ۔ اسی لیے عالمی صورتحال کا مقابلہ کیا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نو سالہ پالیسی کو غلط قرار دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پیسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو میں 3000 میگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ئ میں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000 میگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ء میں 10000 بجلی پیدا کررہے ہیں ۔ پیسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنیوں نے بجلی کی پیداوار میں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فریب جھوٹ ہے۔ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔میری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں میں ہر شعبے میں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام میں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو میٹر کوسٹل ہائی ، ایم ون ، ایم تھری ، اسلام آباد تا مری ایکسپریس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زیر تعمیر ہے۔ گوادر سے رتو ڈیرو شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئیں سڑکوں کا جال بچھایا ۔ میرانی ، سبک زئی ڈیم تعمیر کئے گئے منگلا ڈیم کی ریزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈیم کچی کینال زیر تعمیر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہیں مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15 سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوصبورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ئ سے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18 فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔ حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شففا انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علمائ کو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44 سال جان کو داو¿ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاو¿ں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں توقع ہے ذمہ داری ایک کردار جار رہے گا۔ میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا دل کی آواز کھل بنا دیا دل و دماغ میں جوخلفشار تھا قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی یہ ہمیشہ اس نے دکھائی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment