
صدارت پر پاکستان پیپلزپارٹی کا حق ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے اور آئندہ کا صدر بھی اسی جماعت سے ہی ہو گا جبکہ صدر اٹھاون ٹو بی کے اختیارات خود واپس کرے گا ،صدر مشرف کو استعفیٰ دینے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے کافیصلہ اتحادی جماعتوں سے باہم مشورے کے بعد کیا جائے گا۔ آصف زرداری معزول ججوں کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہے صدر مشرف کے ٹرائل کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی جسٹس افتخار چوہدری سے آصف زرداری کی کوئی ذاتی چپقلش نہیںوہ ان کے مستقبل میں رکاوٹ کیوں ڈالیں گے پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مذاکرات کی راہ اپنائی ہے اسی پالیسی کی و جہ سے جنرل (ر) محمود علی درانی کو مشرف کے پاس بھیجا اور استعفیٰ دینے کیلئے کہا گیا ۔ بیرونی ممالک کے سربراہوں کی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں صدر مشرف پر مقدمات نہ بنانے کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا جہاں عوام کے منتخب نمائندے موجودہوتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اکیلی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی پی پی پی اور اس کی قیادت انتقام پر یقین نہیں رکھتی،اس پالیسی پر گامزن ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کی شہادت کا بدلہ نظام بدل کر لیں گے بے نظیر بھٹو کے قتل کا بدلہ تب ہو گا جب بلاول ملک کی خدمت کرے گا آصف زرداری مخلوط حکومت کو مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں ان کا موقف ہے کہ قوموں پر مشکلات آتی رہتی ہیں ہم زندہ قومیں اپنے بلند حوصلوں سے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے ان پر قابو پالیتی ہیں کوریا اور کچھ دیگر ملکو ںکی مثالیں ہمارے سامنے ہیں آصف زرداری تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہیںجہاں پاکستان کو مشکلات ہیں وہاں پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاس ان کے خاتمے کیلئے تدبر اور حکمت بھی ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے مستعفی ہوجائیں ان کے پاس ہی دو راستے ہیں کہ وہ مستعفی ہو جائیں یا پھر پارلیمنٹ میں مواخذے کا سامنا کریں ۔ صوبائی اسمبلیاں جو صدر کے الیکٹرول کالج کا حصہ ہوتی ہیں انہوں نے بھی قراردادوں کے ذریعے صدر پرویز مشرف سے کہہ چکی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں ۔بار بار صدر مشرف کو عہدے سے دست بردار ہونے کی درخواست کر چکے ہیں ۔ اور صدر کو بھی سمجھداری کا ثبوت دینا چاہیئے۔ پرویز مشرف مواخذے سے بچنے کے لیے خیر باد کہہ دیں تو بہتر ہو گااس بارے میں دو مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے جن میں سے ایک یہ سوچ رکھتا ہے کہ صدر مشرف کو اسوقت میدان جنگ چھوڑ دینا چاہیے جب شکست یقینی ہو جبکہ دوسرے کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کو اپنا کام کرنے دیا جائے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ وہ لوگ جو کہتے تھے کہ پرویز مشرف کو رہنا چاہیئے وہ بھی آج کہہ رہے کہ صدرپرویز مشرف جا کیوں نہیں رہے ۔صدر پرویزمشرف کے مواخذے کی صورت میں فوج پاکستان کے آئین کے مطابق فوج کو سیاست میں دخل اندازی کی اجازت نہیں اورنہ ہی سیاست میں فوج کا کوئی کردارہے پیپلزپارٹی پاک فوج کو ایسے وقت کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتی جب جمہوریت کی فتح ہو رہی ہوصدر کے مواخذے کا فیصلہ ان کی جانب سے مبینہ طور پر حکومتی معاملات میں مسلسل رکاوٹیں ڈالنے کی بنا پر کیا گیا ہے آئندہ صدر کا فیصلہ حکمران اتحاد کرے گا اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا ہے ایوان صدر نے اٹارنی جنرل کی تبدیلی سے بھی انکار کیا صدر مشرف کے بعد داخلی سیاست اور خارج سطح پر تبدیلیاں آئیں گی صدر کے مواخذے کی پوری قوم خواہشمند ہے صوبائی اسمبلیوں نے جس قدر قرار داد کی حمایت کی ہے وہ اس بات کی غمازی کر تی ہے کہ پوری قوم صدر کا مواخذہ چاہتی ہے صدر مشرف حکومت کو غیر مستحکم کر نے کے لئے سازشوں میں مصروف تھے صدر مشرف کے جانے سے بہتر تبدیلیاں آئیں گی اور حالات بہتر ہوں گے۔اے پی ایس

No comments:
Post a Comment