International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, August 15, 2008

ست ماہے سینیٹرز




صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک میں سینیٹ کے ان ارکان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جن کی مدت اگلے سال مارچ 2009 ء میں ختم ہو رہی ہے اور ان کا صرف 7ماہ کاعرصہ باقی ہے ان میں اکثریت صدر مشرف کی حامی جماعتوں قائد لیگ، متحدہ قومی موومنٹ اور شیرپاؤ گروپ کی ہے۔ صدر کے حامیوں کی تعداد 23 ، مخالفین کی 19 اور آزاد وفاٹا کے سینیٹرز کی تعداد 7 ہے۔ حکمران اتحاد کے پاس سخت سے سخت مارکنگ کے بعد بھی 300 سے زیادہ ووٹ اکٹھے نہیں ہو رہے۔ مواخذے کی کامیابی کیلئے 295 ووٹ درکار ہیں ۔ اگر صدر 300 میں سے چھ یا سات بندے توڑ لیتے ہیں تومواخذہ کی تحریک ناکام ہو جائے گی۔ پارلیمانی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اگر نوٹ چلتے ہیں تو وہ کون سے ووٹ ہیں جن کو زیادہ قوت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں ۔ اس پر پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چمک کے سامنے ان سینیٹرز کی آنکھیں خیرہ ہونے کے زیادہ امکانات ہیں جن کی مدت چند ماہ رہ گئی ہے۔ صدر کے ’’بظاہر‘‘ یا ’’کاغذوں ‘‘ میں حامیوں اور مخالفین سینیٹرز کے نام پارٹی وائز اس طرح ہیں ۔ صدر مشرف کی حامی جماعتوں کے جن سینیٹرز کی مدت صرف 7ماہ رہ گئی ہے۔ ان میں قائد لیگ سے 18 سینیٹر پری گل آغا ، بی بی یاسمین شاہ، چوہدری محمد انور بھنڈر، ڈاکٹر خالد رانجھا، کلثوم پروین، کامل علی آغا، نصیر مینگل، ولی محمد بادینی، محمد میاں سومرو چیئرمین سینیٹ، محمد علی درانی، امجد عباس قریشی، مشاہد حسین، نثار اے میمن، رازینہ عالم خان ، سردار محمود خان ، دلاور عباس ، طاہرہ امین، ظفر اقبال چوہدری ، متحدہ قومی موومنٹ سے 3 سینیٹر علامہ محمد عباس کومیلی، بابر غوری، ڈاکٹر محمد علی بروہی۔ پیپلزپارٹی شیرپاؤ گروپ سے 2 سینیٹر انیسہ زیب طاہر خیلی ، شجاع الملک شامل ہیں ۔ ان کی کل تعداد 23 ہے۔ صدر مشرف کی مخالف جماعتوں کے جن سینیٹرز کی مدت 7 ماہ رہ گئی ہے ان میں ایم ایم اے کے 8 سینیٹرز، جماعت اسلامی سے ڈاکٹر کوثر فردوس، ڈاکٹر محمد ساعد، جے یو آئی (ف) سے کامران مرتضیٰ، لیاقت علی بنگلزئی، مولانا راحت حسین، مولانا عبدالغفور حیدری، صاحبزادہ خالد جان اور جے یو آئی (س) سے مولانا سمیع الحق، پیپلزپارٹی سے 5 سینیٹرز، انجینئر رخسانہ زبیری، فاروق نائیک، ملک ممتاز حسین محفوظ، انور بیگ، سردار لطیف کھوسہ، اے این پی سے حاجی محمد عدیل، مسلم لیگ (ن) سے 3 سینیٹر ظفر اقبال جھگڑا، سعدیہ عباسی، ساجد میر، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے 2 سینیٹر نواب ایاز خان جوگیزئی، رضا محمد رضا شامل ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 19 ہے۔ آزاد سینیٹرز جو مارچ 2009ء میں فارغ ہو رہے ہیں ان میں سینیٹر گلزار احمد، ان کے بیٹے وقار احمد، آصف جتوئی، فاٹا سے انجینئر رشید احمد خان، حافظ عبدالمالک قادری، ناصر خان اور سید محمد حسین شامل ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 7ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے جن لوگوں کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ان کا ووٹ بلینک چیک میں بدلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں مگر نوٹ دونوں طرف سے چل سکتے ہیں اور ووٹ بھی دونوں طرف سے خریدے جا سکتے ہیں اور ایسے 7ماہے سینیٹرز (جن کا مستقبل کوئی نہیں ) جس طرف زیادہ بولی لگے گی اس طرف لڑھک سکتے ہیں مگر یہ صورتحال ایسی صورت میں ہوگی جب فوجی قیادت غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں پہلوانوں (حکمران اتحاد اور صدر مشرف) کے لئے میدان کھلا چھوڑ دے گی۔ ایسی حالت میں صدر کا کام آسان اور حکمران اتحاد کا مشکل ہو جائے گا کیونکہ بندے پورے کرنا تحریک لانے والوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کی تعداد 268 ہے۔ اس میں فاٹا اور آزاد 10 ایم این اے اور 4 سینیٹرز بھی ملا لیں جیسا کہ نور الحق قادری نے زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا تو بھی تعداد 282 بنتی ہے۔ ہم مزید رعایت کرتے ہوئے یہ 290 فرض کر لیتے ہیں پھر بھی حکمران اتحاد کو 5 لازمی اور کم از کم 10 ووٹ احتیاطاً شمار کرتے ہوئے 15 مزید ووٹوں کی ضرورت ہے جو اب تک یہ کہہ رہے ہیں کہ قائد لیگ سے کئی لوگ مشرف کے خلاف ووٹ دیں گے وہ مخدوم امین فہیم، صفدر عباسی سمیت پیپلزپارٹی کے ناراض گروپ کو بھی سامنے رکھیں جو صدر کے حق میں بے شک نہ جائیں مگر غیر حاضر ہو جائیں یا (Abstain) ہی کر جائیں تو اس کا نقصان کسے ہوگا؟ اور کتنا ہوگا؟ اس طرح اگر فوج غیر جانبدار رہتی ہے تو مواخذے کی تحریک ناکام بنانا صدر کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ سینیٹر نثار میمن نے اسی لئے گزشتہ دنوں ’’ جناح ‘‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ بندے ہمارے ہی نہیں ان کے بھی ٹوٹ سکتے ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فوج صدر پر کلیئر کر دے کہ Enough is Enough کافی ہو گیا۔ اب آپ عزت سے رخصت ہو جائیں ۔ اس طرح ہوا تو مواخذے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور صدر مشرف استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں گے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم گیلانی کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد مواخذے کا مطلب یہی ہے کہ وہ امریکہ سے گرین سگنل لے آئے ہیں ۔ دوسرا بڑا اشارہ صدر مشرف کے دورہ چین کی منسوخی ہے جہاں صدربش بھی موجود ہیں مگر صدر مشرف نہیں جا سکے اور وہاں بھی وزیراعظم گیلانی ہی صدربش سے رابطے میں رہے۔ تیسرا بڑا اشارہ شیخ رشید کا بیان قرار دیا جا رہا ہے کہ اب صدر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اس لئے صدر کے جانے کے حق میں زیادہ آراء سامنے آ رہی ہیں اور واقعی لگ رہا ہے کہ ’’نو گیارہ‘‘ فیم صدر اب ’’نو دو گیارہ‘‘ ہونے والے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں میں تیسرا امکان بھی زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ صدر مشرف جاتے جاتے پھر کوئی کمانڈو ایکشن کرسکتے ہیں جیسے 12ا کتوبر 1999ء کو جاتے جاتے کر دیا تھا۔ پارلیمان کے اندربعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مواخذہ اتنا آسان نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ رائے بہت کم لوگوں کی ہے کہ فوج صدر کی حمایت کرے گی۔ مگر پھر بھی یہ تاثر موجود ضرور ہے کہ صدر جو یہ کہتے رہے ہیں کہ میں مقابلہ کئے بغیر استعفیٰ نہیں دوں گا تو ان کے پاس بھی کوئی پتا ابھی تک موجود ہے جو استعمال کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر ایسی بات ہے اوران کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے یا انہیں کسی طرف سے کوئی اشارہ ہے تو ایسے کیس میں صدر کا کام بالکل آسان ہوجائے گا۔ بلکہ انہیں کچھ بھی نہیں کرنا پڑے گا اور مواخذہ خود بخود ناکام ہو جائے گا۔ یہاں بعض مقامات ایسے ہیں جو ابھی تک اطلاعات کی آزادی کے آرڈیننس کی زد سے محفوظ ہیں اور وہاں بہت سی فائلیں پڑی ہوئی ہیں ۔ ان میں سے مطلوبہ تعداد میں فائلیں کھل جائیں گی اور ان پر جن ارکان پارلیمنٹ کے نام ہوں گے وہ صدر کے کہے بغیر خود چل کر ان کی ٹوکری میں بیٹھ جائیں گے۔ کسی خرید وفروخت کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ حکمران اتحاد اس تنخواہ پر کام جاری رکھ سکے گا یا اسے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر جانا پڑے گا ؟ سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ یہاں منظر بدلتے دیر نہیں لگتی۔ آپشنز سارے موجود ہیں مگر تھیلے میں سے کیا باہر آتا ہے اس کے لئے اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔




No comments: