International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Saturday, August 23, 2008

آزاد عدلیہ ہی پا کستان کا مستقبل ہے ۔ تحریر : محمد رفیق اے پی ایس






حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے جبکہ تجزیہ کا روں کا خیال ہے کہ آ صف زرداری معزول ججز کی بحالی سے پہلے ایوان صدر پہنچ کر ان کے اندر کا زہر نکا ل کر بحال کر نا چا ہتے ہیں تا کہ کم از کم وہ کسی معزول جج کے ڈسنے سے محفوظ رہ سکیں اور دوسری بات وہ ان معزول ججز کا کر یڈٹ بھی نواز شریف کو نہیں دینا چا یتے جن کی بنیاد پر ان کے نزدیک نواز شریف اپنی سیا سی دوکا ن چمکا ءرہے ہیں۔ جبکہ بعض تجزیہ کا روں کا خیال ہے کہ اگر آصف زرداری ایوان صدر پر قا بض ہو جا تا ہے تو نواز شریف کو بھی اس پر تحفظات ہیں کیونکہ اگر مو جو دہ صورتحال کا تسلسل یو نہی بر قرار رہا تو دو ما ہ یا چار ماہ بعد دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں تو مو جودہ حکومت کی طرف سے معزول ججز کو بحال نہ کر نے کے عوامی نفرت کے شدید رد عمل میں دو بارہ نواز شریف بھا ری اکثریت سے کا میاب ہو تا ہے۔ تو ایوان صدر میں گھات لگا ئے بیٹھا جیا لا نئی منتخب حکومت کو نقصان پہنچا کر اسے عدم استحکام کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے آصف علی زر داری کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے جبکہ آصف علی زر داری نے اس عہدے کے لئے امیدوار ہو نا قبول کر لیا ہے اس بات کا اعلان پی پی پی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر رضا ربانی نے اسلام آباد میں وفاقی وزراء سید خورشید شاہ اور شیری رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا رضا ربانی نے کہا کہ پارٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سینیٹر آصف علی زر داری پی پی پی کے صدارتی امیدوار ہوں گے اور وہ ٦ ستمبر کو ہو نے والے صدارتی امیدوار میں حصہ لیں گے جبکہ آصف علی زر داری نے اس عہدے کے لئے امیدوار ہو نا خندہ پیشانی سے قبول کر لیا ہے ججز کی بحالی کے بارے میں رضا ربانی نے کہا کہ ججز ضرور بحال ہوں گے تاہم اس کے لئے کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی قیادت نے عوام کو کبھی دھوکہ نہیں دیا اور ججز کی بحالی میں بھی دھوکہ نہیں دے گی اور تمام ججز کو ضرور بحال کیا جائے گا انہوںنے کہا کہ ہماری پارٹی نے جو معاہدے کیے ہیں اس پر کار بند ہے وہ کبھی ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گی ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آصف علی زر داری کا صدارتی امیدوار ہو نے کا اعلان بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور آصف زر داری نے بھی اسی بات کے پیش نظر یہ فیصلہ قبول کر لیا ہے کہ آصف زر داری نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ان کی حکمت عملی کی ہی بدولت آمر سے نجات ملی اور پہلی بار آمر کو عوام کے سامنے جھکنا پڑا حکمران اتحاد کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اتحاد قائم رہے گا اور اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں ہم سب مل کر ہی عوام کو مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں انہوںنے کہا کہ اتحاد ٹوٹنے کی باتیں کر نے والے جمہوریت کے دشمن ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی اور دیگر امور پر ہونے والے معاہدوں کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوئی قرآن کے الفاظ یا حدیث تو نہیں ہیں کہ ان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ تبدیلی نہ لائی جاسکے۔آصف علی زرداری کے نہیں نزدیک سیاسی جماعتوں میں کوئی معاہدے نہیں ہوتے بلکہ مفاہمت ہوتی ہے۔ ان کے بقول سیاسی مفاہمت میں کبھی پچاس فیصد کامیابی ہوتی ہے تو کبھی کچھ زیادہ تو کبھی انہیں کامیاب مانا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری نے ججوں کی بحالی اور اس سے متعلق ٹائم فریم کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ٹائم فریم پر انہوں نے کہا ہے کہ نہ وہ الٹی گنتی میں یقین رکھتے ہیں نہ سیدھی گنتی میں اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم دے سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی انتقام میں یقین نہیں رکھا۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے یحیٰ خان کا مواخذہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق بھٹو صاحب نے یحیٰ خان کا مواخذہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر زیر حراست جنرل نیازی کا بھی مواخذا ہوتا اور شیخ مجیب تو بھارت سے کہہ رہے تھے کہ جنرل نیازی ان کے حوالے کیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرنے والے نسیم حسن شاہ کے اقرار کے باوجود بینظیر بھٹو نے کچھ نہیں کیا۔ ’شہید بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ جمہوریت ہی بہتر انتقام ہوتی ہے۔‘ آصف علی زرداری نے ایک سوال کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کا ساتھ چلنا اب مشکل نہیں رہا ؟تو انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کافی عرصہ جمہوریت پسند قوتوں سے دور رہے ہیں۔ ’ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ انہیں جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔‘ جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء28 اگست کو ملک کی اہم شاہراہوں پر دو گھنٹے تک دھرنادیں گے۔نہوں نے کہا کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو دھرنے کا دورانیہ اور دن بڑھائے جا سکتے ہیں۔ یہ دھرنا دوپہر بارہ بجے سے لیکر دو بجے تک ہوگا اور ملک بھر کے تاجروں سے بھی دو گھنٹے کے لیے شٹر ڈاو¿ن کے لیے کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ 4 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا جس میں ملک بھر کی وکلا نمائندہ تنظیموں کے ارکان شرکت کریں گے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے پر امن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دھرنوں کو منظم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور کمیٹی کے ارکان اس حوالے سے ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ مقامی ٹریفک پولیس کے تعاون سے دھرنے کے دوران صرف سکول وین، ایمبولنس اور ڈاکٹروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ اگرچہ عوام کو ان دھرنوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور وکلاء برادری کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کو بھوربن معاہدے کے تحت بحال ہونا چاہیے تھا۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حکمران اتحاد کی بقا کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو پیر تک ججز کی بحالی کا روڈ میپ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی قوت کی وجہ سے پرویز مشرف مستعفی ہوئے۔ صدارتی انتخاب کا شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا ۔ یہ اعلان قبل از وقت ہے۔ ” حصول اقتدار “ نہیں ” اقدار“ کا شو ق ہے۔ پی پی پی کے وفد سے ملاقات کے بعد یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وفد نے صدر کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی حمایت کے لیے بات کی۔ اس سلسلے میں وہ ہم سے تعاون چاہتے ہیں ہم نے 5اور 7 اگست کے معاہدے انہیں یاد دلائے کہ اس کی رو سے آگے چلنا ہے ۔ جماعتوں کے درمیان معاہدے اور ان کی دستاویز مقدس ہوتی ہیں معاہدے کے گواہ بھی اور میرے اور آصف علی زرداری کے دستخط بھی موجود ہیں۔علان مری سے ایفاءعہد نہیں کیا گیا تھا۔ 7 اگست کو تیسر امعاہدہ ہوا دو ہفتوں قبل طے پانے والے ان معاہدہ کے تحت صدر پرویز مشرف کے استعفی یا مواخذہ دونوں صورتوں میں 24 گھنٹوں میں ججز کو بحال ہونا تھا اس معاہدے میں درج سے ججز کی بحالی کے بعد آئندہ صدر کے انتخاب سے سترہویں ترمیم کو آئین سے دور کرنا تھا۔ جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی صدر کے عہدے کے لیے جسے نامزد کرے گی چاروں اتحادیوں کا اس سے اتفاق رائے ہو گا۔ معاہدے کے مطابق ایسا نہ ہوا اور سترہویں ترمیم آئین سے دو رنہ کیا جا سکا تھا یہی اتفاق رائے ہوا کہ پورے ملک میں ایسا قومی رہنما جو ملک بھر کی نمائندگی کرتے ہوں ۔ وفاق کی علامت نظر آئیں جس کی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو صدر بنانے پر چاروں اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے ہے دونوں جماعتیں معاہدے کی پابند ہوں گی ۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میںسیاسی استحکام کا مسئلہ ہے پاکستان کا معاملہ ہے 9,8 سالوں سے پاکستان اور اس کے اداروں کو تباہ کردیا گیا ہے نواز شریف اور نہ پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر کے عہدے کی خواہش رکھتی ہے اگر دیکھا جائے تو بڑے اتحادی ہونے کے ناطے اس پر پی ایم ایل ن کا حق ہے کیونکہ وزارت عظمی ، سپیکر قومی اسمبلی کاتعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے ۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں صدارتی عہدہ طلب کیا تھا نوز شریف اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ دو متحارب جماعتوں کا اتحاد پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے ۔ دو طرفہ تعاون ہونا چاہیے نواز شریف نے تیس دنوں میں ججز کی بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن اعلان مری کو پانچواں ماہ شروع ہو چکا ہے ۔ بار بار اتفاق کیا گیاکہ ججز کو بحال کیا جائے ۔ آزا د عدلیہ سے پاکستان اور آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے ۔ آئین قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ نوز شریف کا مقصد ہے تاکہ اگر کل کو کوئی طالعآزما آنے کی جرات کر ئے تو آزاد عدلیہ آئین اور قانون کو قائم کرتے ہوئے اس طالع آزما کو عبرت ناک سزا د ے سکے ۔ نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو وزارت عظمی صدارت ، کابینہ کسی کا لالچ نہین ہے۔ حصول اقتدار کا نہیں ، اقدار کا شوق ہے کیونکہ طالع آزما نے پاکستان کے ماضی ، حال ، مستقبل کو تاریک کر دیا ہے نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل کو تاریک کردیا ہے مستقبل کو نہ بچایا گیا تو پھر کوئی طالع آزما آئین و قانون کو توڑ کر جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتا ہے ۔ ملک میں جمہوریت ہوتی تو قبائلی علاقوں کی یہ صورت حال نہ ہوتی جمہوریت میںاحسن طریقے سے ہر معاملے کو حل کیا جاتا ہے ا مریت کیونکہ خلا میں ہوتی ہے اس لیے وہ تباہی لے کر آتی ہے ملک آئینی ڈگر پر ہوتا تو کبھی مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا اس وقت بھی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا تھاملک خطرات سے دوچار ہو نہ یہ چاہتے ہیں کہ بار بار اسمبلیاں آئین قانون عدلیہ ٹوٹے ۔ کوئی دوبارہ عدلیہ کو برطرف اور ججز کو گرفتار نہ کر سکے ۔ 34 سالوں میں طالع آزماو¿ں کا اور قوم کے ساتھ مذاق تھا۔ پاکستان مزید تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا یہی وہ راستہ ہے پاکستان کو بچا سکتا ہے سترہویں ترمیم کے تحت اگر آصف علی زرداری کے پاس اختیارات ہوتے تو ہمیں اس سے کوئی خوف نہیں ہے ۔ ہم وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی بحالی چاہتے ہیں ۔ پیر کو ججز کی بحالی ہونی چاہیے پیر کی شام ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا چاہیے اور رات کو ججز کو بحال ہو جانا چاہیے یہی روڈ میپ نواز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کو دیا ہے ۔ جبکہ نواز شریف نے یہ بھی وا ضح کیا ہے مشرف نے عوامی قوت کی وجہ سے استعفی دیا ۔ جو کہ عوام کے اٹھارہ فروری کو ہار گیا تھا۔ عوامی قوت کے علاوہ وہ کسی دوسری قوت کو نہیں جانتے ہمارے موقف میں کمزوری ہوتی تو پرویز مشرف کبھی مستعفی نہ ہوتے۔ پانچ اور سات اگست کے معاہدے کی دستاویز خفیہ ہیں اخلاقی تقاضا ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے بارے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا جلدی میں صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کیا گیا نوز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ کے اعلان کے حوالے سے وہ پارٹی کو اعتماد میں لیں گے۔پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ماہ اگست کے پہلے ہفتے میں صدر کے مواخذہ واستعفے اور اس کے 24گھنٹے بعد معزول ججوں کی بحالی کا معاہدہ دو بار صحافیوں کو دکھایا۔ میاں نوازشریف نے بتایا کہ اس معاہدہ پر ان کے اور آصف علی زرداری دونوں کے دستخط ہیں لیکن افسوس پیپلز پارٹی سے کئے گئے اعلان مری پر بھی عمل نہ ہوسکا اور اب اس معاہدہ پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان معاہدوں کوبہت مقدس اور ان پر عملدرآمد کرنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرار داد ججز کی بحالی کو دنیا بھر میں قانونی حیثیت دے گی اعلان مری سے این آر او کا کوئی تعلق نہیںہے اعلان مری کے وقت آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت کے مطابق مذاکرات کئے گئے تھے یہ لکھا تھا کہ جب پارلیمنٹ میں قرار داد آئے گی تو اس کو قانونی حیثیت دی جا ئے گی۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ ہی فیصلے کرتی ہے اور پارلیمنٹ پر یقین اور اعتماد کیا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ سے قرار داد پاس کر کے یہ پیغام دینا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کی جو ساری دنیا میں قابل قبول ہو گا این آر او کا اعلان مری سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بعض مسائل این آر او کی وجہ سے التواءکا شکار ہیں۔ اول تو یہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے اور شاید یہ بالکل صحیح ہو کر یہ کیسز ان کے خلاف غلط تھے اور اس لیے کے اگر یہ کیسز غلط تھے تو پیپلز پارٹی کو دیگر معاملات سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے ۔ جس ملک میں آپ رہتے ہو اور وہ امریکہ ہو اگر ایک قیدی ماچس کی ڈبی پرانصاف لکھ دے اور اگر یہ ماچس کی ڈبی چیف جسٹس کے پاس پہنچ جائے تو وہ اسکو انصاف فراہم کرتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک خود مختار ملک میں ایک خود مختار شخص کو حراست میں رکھا جائے اور اس سے ان کی اہلیہ خاندان اور عزیز واقف نہ ہو ۔پھر آپ ان کو چند ڈالرز کے عوض کسی اور کے حوالے کر دیں اگر عدلیہ عام شہریوں کے حقوق کی تحفظ کرتی ہے تو وہ انہیں انصاف بھی دیتی اور اگر جج اس میں اپنا کردار آئین کے تحت ادا کر رہے ہوں تو انہیں سراہنا چاہیے اگر آپ تاخیری حربے استعمال کریں گے تو ہرشخص کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے طریقے سے رسائی حاصل کرے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی(پیپکو) آئی پی پیز کی اور آئی پی پیز آئل مارکیٹ کمپنیوں کے نادہندہ ہوگئے ہیں۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سرکلر ڈیبٹ نظام میں درستگی کیلئے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ٹیرف میں 61 فیصد اضافے کی تجویز جبکہ حکومت کی جانب سے یہ اضافہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کرنے کا امکان ہے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بھی وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کا گرین سگنل دیا جاچکا ہے۔پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوںکے ٹیرف میں مذکورہ اضافہ ملک میں افراط زر کی شرح اور رمضان سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوگا۔وزارت مالیات کے ذرائع کے مطابق مارچ2008ء سے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا حالانکہ ایندھن کی قیمتوں میں حددرجہ اضافہ ہوا تھا تاہم اب ایندھن کی قیمتیں قابو سے باہر ہوگئی ہیں جن کے اثرات کو جزب کرنا حکومت کیلئے ناممکن ہوتا جارہا ہے۔پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) بھی انہی مسائل کے باعث شدید مالیاتی بحران کا شکار ہے اور سیالیات زر (لیکویڈیٹی) کی عدم دستیابی سے یہ بجلی کے نجی پیداواری ذرائع (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں سے قاصر ہے جنہوں نے پیپکو کو بجلی کی فراہمی میں انقطاع کی دھمکی بھی دی ہے۔آئی پی پیز کی جانب سے حکومتی سیکیورٹیز کی منتقلی زر (انکیشمنٹ)کا عندیہ بھی دیا گیا جو فنڈز کی عدم دستیابی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے تیل نہیں خرید پارہی ہیں جو پلانٹ کی پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح اس سرکلر ڈیبٹ کے نظام میں خرابیوں سے تمام فریقین متاثر ہورہے ہیں اسلئے پیپکو کو مالیاتی بحران سے نکالنے کیلئے نرخوں میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا انتظامیہ اس سلسلے میں تاحال مصروف ہے اور اضافے کی حتمی شرح کا تعین نہیں ہوسکا ہے تاہم ابتدائی حساب کے بعد منسٹری آف فنانس کو نیپرا کی جانب سے 61 فیصد اضافے کی تجوزیز دی گئی ہے۔واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک نرخوں میں اضافے کا تعین ہوجائیگا جبکہ منسٹری آف فنانس کی اعلیٰ انتظامیہ سے بات چیت کے بعد اسے حتمی شکل دی جائیگی۔ پا کستان کے عوام نے وزیر اعظم پا کستان سید یو سف رضا گیلانی سے مطا لبہ کیا ہے کہ عوام دشمن پا لیسیون کا مطا لبہ کیا گیا ہے کہ آ پکو" یس مین" کے کر دار سے نکلنا ہوگا۔ کیو نکہ ابھی تک ملک بھر کے عوام یہی محسوس کر رہے ہیں کہ اب بھی وزیر اعظم جیسے شو کت عزیز ہی ہے۔ جبکہ عا لمی ذرائع ابلاغ بھی اپنی رپو ر ٹوں میں یہی لکھ رہے کہ سید یو سف رضا گیلانی ایک یس مین یعنی ربڑ سٹیمپ وزیر اعظم ہیں جو کہ ایک جمہوری دعوے دار حکومت کیلئے بد نا می کا با عث ہے۔اے پی ایس



No comments: