International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, August 17, 2008

جانے نہ پائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گیا تو آپ بھی گئے: تزئین اختر کا کالم رائے عامہ





14,13 اگست کی درمیانی شب صدر مشرف آزادی شو کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اللہ اللہ کر رہے تھے اس سے ہماری نظر میں دو باتیں صاف ہو گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ جنرل (ر) مشرف کے بارے میں جو لوگ کہتے تھے کہ یہ مسلمان نہیں ان کو اب اطمینان ہو جانا چاہئے کہ وہ مسلمان ہی ہیں کیونکہ آج کل کے مسلمان ایسے ہی ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ مشکل کے وقت ہی یاد آتا ہے اور جنرل (ر) مشرف کے لئے موجودہ سے زیادہ مشکل وقت اور کیا ہوگا؟ دوسری بات یہ کہ امریکہ اور آرمی نے واقعی ان کو تنہا چھوڑ دیا ہے تبھی وہ اللہ کو یاد کر رہے ہیں ورنہ سب سے پہلے امریکہ تھا پھر آرمی اور اللہ تو ان کو 9سال یاد ہی نہیں آیا۔ویسے عید گاہ شریف والے پیر نقیب الرحمان صاحب جنرل مشرف کو پہلے ہی سند مسلمانی عطاء کرچکے ہیں جب انہوں نے آگے بڑھ کر صدر صاحب کے والد سید مشرف الدین کی نماز جنازہ پڑھانا قبول کرلیا تھا۔ جنرل (ر) مشرف پر اس وقت ساری قوم لعن طعن کر رہی ہے مگر مجھے ذاتی طورپر ان کے ساتھ ہمدردی محسوس ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عزت دی‘ آرمی چیف بنایا‘ صدر بنایا 17 کروڑ مسلمانوں کی قیادت عنایت کی مگر نہ والد کا سفر آخرت آبرومندانہ بناسکے نہ خود قصر صدارت سے اچھے انداز میں رخصت نصیب ہورہی ہے ۔ ابھی لوگ بحث مباحثے کر رہے ہیں کہ پرویز مشرف کی رخصتی باعزت ہوگی یا نہیں؟ پاکستان ٹیلی ویژن نیوز میں مواخذے کے موضوع پر اسرار کسانہ کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی ان کا سوال بھی یہی تھا کہ کیا جنرل (ر) مشرف کی رخصتی باعزت ہوگی، اس پر میرا جواب یہ تھا کہ کون سی عزت اور کون سی آبروباقی رہ گئی ہے؟ ابھی کل ہی انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کلپ جاری کیا گیا ہے جس میں ایک عورت جنرل(ر) مشرف کے متعلق ایسے الفاظ اور ایسے کلمات ادا کر رہی تھی کہ جنہیں سن کر مرد بھی پانی پانی ہو جائیں یہ خاتون نہ نواز لیگ کی تھی نہ پی پی پی کی۔ مجھے امریکہ سے ای میل پر یہ کلپ ملا جس کا عنوان تھا ’’جنرل (ر) مشرف کے نام ایک پاکستانی آنٹی کا پیغام‘‘ منظر یوں تھا کہ کچھ لوگ امریکی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کے راستے میں ایک رکشہ پر دو خواتین سوار ہیں ان میں سے ایک خاتون جنرل (ر) مشرف کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتی ہے وہ سخت غصے میں ہے اور اس کے لہجے سے سخت نفرت ظاہر ہو رہی ہے وہ رکشے سے نکل کر مظاہرین کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور کیمرے کی طرف منہ کرکے جنرل (ر) مشرف کو للکار للکار کر پھٹکار پھٹکار کر ان کی کلاس لینا شروع کر دیتی ہے ‘ شاید ہی کوئی ایسا گندہ لفظ یا کیفیت ایسی ہو جو اس نے جنرل (ر) مشرف کے لئے نہ کہی ہو۔ وہ خاتون جنرل (ر) مشرف کا نام لے کر الٹی میٹم دیتی ہے کہ ’’اب اس ملک کی جان چھوڑ دو ورنہ تمہاری جان لینے کے لئے صرف ایک جان کی ضرورت ہے (یہ غالباً خود کش حملے کی دھمکی ہے) اور یہ جان میری بھی ہوسکتی ہے (یعنی اگر تم میرے سامنے آگئے تو حملہ کردوں گی) ۔ خاتون نے جنرل (ر) مشرف کو جن برے ناموں سے پکارا اور جو بھی طعنے انہیں دیئے وہ سننے کے بعد اپنے ان دوستوں کی سادگی پر حیران ہوئے بغیر رہا نہیں جاتا جو سوال کرتے ہیں کہ کیا ’’جنرل (ر) مشرف کی رخصتی باعزت ہوگی ‘‘؟۔ ان سے سوال ہے کہ کونسی عزت‘ کون سا وقار باقی رہ گیا ہے ‘ یہ تو ٹریلر ہے ‘ پکچر نہ جانے کیا ہوگی؟
شاید ہم اس کی تفصیل میں نہ جاتے مگرصورتحال کی وضاحت کے لیے یہ ضروری تھا صدرپرویزمشرف کی جرنیلی ساری کی ساری اپنی قوم کے لیے ہے ۔ابھی بھی کمانڈو کمانڈو کیے جارہے ہیں خودبھی بے عزت ہورہے ہیں اور ساتھ ہی صدرکے معززترین منصب کی بھی مٹی پلید کررہے ہیں ۔صوبائی اسمبلیاں قراردادیں پاس کررہی ہیں۔ ان کے اپنے لوگ راستے بدل کرپتلی گلی سے نکل رہے ہیں اوریہ کہتے ہیں مقابلہ کروں گا ۔سوال یہ ہے کہ کس سے ؟قوم سے ؟اپنی قوم سے ؟آفرین ہے بھئی۔یہ ہیں ہمارے ملک صدر مملکت ۔ اورکتنی بدقسمت قوم ہیں ہم جن کے بڑے اس طرح کے ہیں ۔جشن آزادی کی شب ’’شہ رگ پاکستان ‘‘والے خالدمحمود شاہ نے مبارکباد کاجو ایس ایم ایس بھیجا اس کی عبارت تھی ۔
’’61سال پہلے ایک قوم اپنے وطن عزیزکے لیے زمین کاایک ٹکڑا تلاش کررہی تھی اورآج زمین کا یہ ٹکڑا ایک قوم کو تلاش کررہاہے ‘‘۔صحیح بات ہے اگر ہم قوم ہوتے تو کوئی بھی طالع آزما لاٹھی ،گولی کے بل بوتے پر ہمارے سروں پر کیسے آبیٹھتا ۔سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا ۔13اور14اگست کی شب اس قوم کا صدر پریذیڈنسی میں ناچ گانے سے مواخذے کا غم غلط کررہاتھا اوراس قوم کے مستقبل کے معماروں نے سڑکوں پر طوفان بدتمیزی برپا کررکھا تھا ۔اس رات جڑواں شہروں میں موٹرسائیکلوں ،کاروںجیپوں میںسوار نوجوان جس طرح آزادی کا جشن منارہے تھے وہ دیکھ کر دل یہی کہہ رہا تھا کہ یہ لوگ آزادی کے قابل ہے ہی نہیں ۔ان پر واقعی کوئی ڈنڈے والا بیٹھا ہونا چاہیے جو سو مارے اورہربار ننانوے پر پہنچ کر گنتی بھول جائے ۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جیسی قوم ہو اللہ تعالیٰ اس پر ویسے ہی لیڈر مسلط کردیتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہم پر جنرل پرویز مشرف مسلط ہوگئے اب اگر ان کو خدا یاد آرہاہے تو سڑکوں پر اودھم مچا کر خوش ہونے والے نوجوانوں کو بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دے لینا چاہیے۔ جنرل مشرف توبہ کر رہے ہیں تو یہ نوجوان بھی تہذیب کا چلن سیکھنا شروع کر دیں۔ ویسے جہاں تک پرویز مشرف کی بات ہے ان پر تو بہ کا تو اللہ جانتا ہے مگر کم از کم ’’سیاسی توبہ‘‘ کا دروازہ بند ہو چکا ہے ۔اور اب تو بہ کا کیا فائدہ
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

جشن آزادی کی رات جنرل مشرف کا خطاب ان کے پہلے ’’خطبوں‘‘سے بالکل مختلف تھا ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر حقیقت کے در وا ہونے لگے ہیں۔اس رات مفاہمت کی باتیں کررہے تھے جبکہ ابھی ایک ماہ پہلے ہی حکومت کوخبردار کررہے تھے ۔صنعتکاروں کے ساتھ میٹنگوں سے دوبارہ فعال ہونے کی کوشش ان کے لیے بہت مہنگی ثابت ہوئی ۔انہی صنعتکاروں نے واضح کردیاکہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا معیشت بہترنہیں ہوسکتی اورسیاسی استحکام موجودہ سیاسی ترکیب میں ناممکن ہے ۔ایوان صدر اورحکومت ایک دوسرے کی ضدہیں ۔دونوں میں سے ایک کو جانا ہوگااوراس مرتبہ جانے کا قرعہ خود صدرمشرف کے نام نکل آیا مگر حکمران اتحاد کے لئے یہ خوش ہونے کا موقع نہیں جنرل مشرف سے بھی بڑی آزمائش کا وقت ان پر آگیا ہے۔ صدر مشرف کا جانا کوئی ایشو نہیں ۔قوم ان کا احتساب چاہتی ہے ۔ جس نے انہیں جانے دیا وہ بھی مارا جائے گا۔ اس لئے خیال رہے ۔اس بار کام پورا کرنا ہے۔ برے کو اس کے گھر تک پہنچانا ہے ۔ورنہ پھر کوئی آجائے گا۔قرآن کہتا ہے یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ وقت نے اس میں ہنود کو بھی شامل کردیا۔ پس ہنودونصاریٰ کا جو دوست ہے وہ ہمارا خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتا لہٰذااس بار غیروں کا دوست اور اپنوں کا دشمن جانے نہ پائے۔گیا تو پھر آپ بھی گئے۔

No comments: