International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, July 31, 2008

یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف“ تحریر: صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن








وقت کس طرح بدل گیا ہے کہ وہ جماعت جو عوامی ہونے کی دعویدار ہے وہی اب عوام کی تذلیل کر رہی ہے آج پہلے یہ چند تازہ ترین شعر پڑھ لیجئے اور پھر بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو پچھلی حکومت کو تو“کشکول توڑنے“ کے طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے اور خود آج کشکول نہیں بلکہ پورا جہاز لے کر گئے ہیں خیرات حاصل کرنے کے لیئے۔اول تو میں کالم نگار ہی نہیں ہوں اور اگر کسی طرف سے ہوں بھی توان کالم نگاروں میں سے نہیں ہوں جو ایک تو واقعہ رونما ہونے سے پہلے ہی اس پر تبصرہ لکھ ڈالتے ہیں اور دوسرے تبصرہ لکھتے ہوئے خبر،مضمون،تجزیے اور تبصرے میں فرق ہی نہیں کر پاتے۔ میں اگر خود کو کسی خانے میں ڈالوں تو شاید“حقائق نگار“ کہہ سکوں۔اسی حقائق نگاری کو آیئے آج ایک لمحے کے لیئے پہلے اشعار کی شکل میں دیکھیں اور پھر بات کو آگے بڑھائیں
یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف


یاجیسے مصر کے بازار میں گیا یوسف۔


۔۔۔۔یہ کیا کہ بھوکے سے کھانے کی بھیک مانگی ہے


یہ کیسے قریہ خونخوار میں گیا یوسف۔


۔۔۔۔صدا یہ آتی ہے ہر لمحہ چاہِ یوسف سےسنو


کہ وادیئ بیزار میں گیا یوسف


۔۔۔۔ضمیر بیچنا اک فن ہے اس زمانے میں


پلٹ کے ذات کے پندار میں گیا یوسف۔


۔۔۔گداگری سے تو بہتر ہے خود کشی یارو


عجب ہے درد کی منجدھار میں گیا یوسف۔


۔۔۔بنامِ تمغہ جمہور یہ ملامت ہےبس ایک


عرصہءآزار میں گیا یوسف


۔۔۔۔یہ اقتدار بھی صفدر عجیب لعنت ہے


نکل کے حجرے سے سرکار میں گیا یوسف
ان اشعار کی وجہ نزول کو سمجھنا کوئی ایسا مشکل بھی نہیں اور جن کے لیئے مشکل ہے انکے لیئے میرے خیال میں یہ ایک پیرا گراف ہی کافی ہے کہ “ صدر جارج ب±ش کی طرف سے پاکستان کو اناج کی خریداری کے لیے اگلے دو سالوں میں ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ وزیر اعظم گیلانی کے اس دورے کی ایک بڑی کامیابی ہے“۔ت±ف بر تو اے آسماں۔۔کیا زمانہ آ گیا ہے کہ خیرات کے حصول کو بھی ایسے سرکاری دوروں کی کامیابی کا پیمانہ بتایا جارہا ہے اور یہ تحریریں ایسے ہی مبصروں اور کالم نگاروں میں سے ایک کی ہے جو ہر حکومت میں صدر اور وزیر اعظم کے بیرونی ممالک دوروں میں شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے صحافی یا کالم نگار یا تجزیہ نگار کی بات نہیں گزشتہ تیس سال میں پاکستان میں ایسے صحافیوں کی اسی شاندار فصل تیار ہوئی ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور مولانا محمد علی جوہر سے لیکر آغا شورش کاشمیری تک کی روح بے چین ہوتی ہو گی۔اس انٹر نیٹ کی دنیا نے جہاں ہر کس و نا کس کودانشور،ادیب،شاعر،محقق،سفرنامہ نگار،تاریخ نویس،تجزیہ نگار،کالم نویس،صحافی اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا ہے وہاں کھمبیوں کی طرح پیدا ہونے والے ایسے ایسے مبصر بھی پیدا کیئے ہیں جو خود اپنے آپ کو اپنے ہی قلم سے “معروف اور مقبول“ بھی لکھتے ہیں۔ ایسے ہی “معروف اور مقبول“ مبصروں اور کالم نگاروں نے روایتی درباری کالم نگاروں اور مبصرین کا کردار ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کی “امریکہ یاترا“ سے پہلے ہی راگ درباری میں یہ الاپنا شروع کرد یا تھا کہ وزیر اعظم کا یہ تاریخی دورہ نہایت کامیاب رہے گا اور امریکہ و با اعتماد دوستی کے ایک نئے بندھن میں بندھیں گے۔خیر چھوڑیں اس بے بصر عہد میں کامیابی کے حکیمانہ نسخوں کو کہ شاید ہم جیسے قلم کار کبھی “اسٹیبلشمنٹ دوست“ ہو ہی نہیں سکتے اور جن لوگوں کو اپنے اپنے عہد میں مٹی کو سونا بنانے کا فن نہ آتا ہو انہیں اسی قلم کی حرمت کے نام پر رجب اور شعبان میں بھی رمضان کی طرح کے طویل روزے رکھنے چاہئیں۔ہم شاید من حیث المجموع بے حسی کی صورت حال سے بھی آگے نکل چکے ہیں اور گزشتہ ساٹھ سال کے عرصے میں بابائے قوم اور قائد ملت کے بعد آنے والے نام نہاد رہنماو¿ں اور قائدین نے ہمیں “عوامی غلامی“ کے ایسے حصار میں قید کر دیا ہے کہ پہلے ہم گداگروں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے دیکھتے تھے تو افسوس کای کرتے تھے لیکن اب جب اپنے قائدین اور رہنماو¿ں کو ملک سے باہر جا کر بھیک مانگتے دیکھتے ہیں تو فخر سے سر اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہمارے صدر کا وزیر اعظم کا دورہ نہایت کامیاب رہا ہے۔ یاد رہے ایک آفاقی فارمولا ہے جو افراد اور اقوام پر ایک ہی طرح صادق آتا ہے کہ “بے حسی بے حیائی کو جنم دیتی ہے“۔ یہ بے حیائی صرف جسم فروشی ہی نہیں ملت فروشی اور ضمیر فروشی بھی ہے۔ خبروں کی دنیا سے چوبیس گھنٹے منسلک ہونے کی وجہ سے ہم جیسے لوگوں کو وہ سب کچھ بھی سننا اور پڑھنا پڑتا ہے جو ہم نہیں چاہتے اور جو چاہتے ہیں ایسی کوئی خبر ایک عرصے سے رونما ہی نہیں ہو رہی۔ قائدین اور رہنما تو وہ ہوتے ہیں جو جنگ عظیم کے بعد بھی اپمے ملکوں اور عوام کو اعتماد اور یقین کی دولت بخشتے ہیں اور ملبے کے ڈھیر سے نئے اور روشن شہر تعمیر کرتے ہیں نا کہ اپنے باضمیر عوام کو بے ضمیر بناتے ہیں روشن شہروں کو تاریک گوٹھوں میں بدل دیتے ہیں۔ القمر آن لائن پر بلاگرز کی دنیا میں برسلز بلجیم سے میرے “دیوانے دوست“ عمران چوہدری نے شاید میری ہی بات اپنے الفاظ میں کہہ دی ہے “ہمارے وزیرِاعظم صاحب ہیں کہ م±لک میں عوام الناس آٹا، پانیَ بِجلی اور دیگر اشیاءصرف سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور قوتِ خرید اِتنی کم ہو گئی ہے کہ افراد خود فروشی پر ت±ل گئے ہیں اور پِھر بھی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور بجائے اِس کے کہ گندم اور بِجلی کی سمگلنگ کو روکا جائے وہ بذاتِ خود آٹے روٹی کی بھیک مانگنے فرعونِ وقت کے دربار میں حاضر ہو گئے ہیں اور کِتنے فخر کے ساتھ بیان دیا ہے کہ ہمیں چند ملین ڈالر آٹے کی مد میں بھیک مِل گئی ہے۔ جِس روزی سے عِزتِ نفس مجروح ہو رہی ہو ا±س سے بہتر ہے کہ بھوک سے مر جایا جائے۔ اور پِھر کیا ہماری زمینیں بنجر ہو گئی ہیں یا کیا وہ ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو زمینوں سے سونا نِکالا کرتے تھے اگر نہیں تو پِھر چیف ایگزیکٹیو صاحب اپنی اور اپنی ٹیم کی اِصلاح کرنے کی بجائے آپکو پوری قوم کی توہین کا مینڈیٹ کِس نے دیا ہے، میرا دِل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔“عمران چوہدری تو شاید اس سے آگے لکھتے ہوئے ر±ک گیا لیکن میرا قلم مجھے اسکی اجازت نہیں دیتا اس لیئے عمران کی اسی بات کو میں آگے بڑھاتا ہوں کہ“چیف ایگزیکٹیو صاحب اپنی اور اپنی ٹیم کی اِصلاح کرنے کی بجائے آپکو پوری قوم کی توہین کا مینڈیٹ کِس نے دیا ہے، میرا دِل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔اگر کوئی عالمی قانون ایسا ہو تو میں آپ کو اور آپ کی پشت پناہی کرنے والوں کو کسی عالمی عدالت میں لے جاو¿ں اور ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھوں کہ اس ملک کی سونا اگلتی زمینوں کو اور اس ملک کے بیدار مغز عوام کے ذہنوں کو کس نے بنجر بنا دیا ہے۔اگر کہیں اسلامی دور ہوتا تو حاکم وقت سے ملک کے غربت زدہ عوام یہ سوال کر سکتے کہ ہمارے گھروں میں بجلی نہیں،آٹا نہیں، پانی نہیں،بنیادی سہولتیں نہیں اور آپ اتنے بڑے بڑے وفود کے ساتھ شاہی ایوانوں میں بیٹھ کے جو “نائن کورس ڈنر“ کرتے ہیں تو یہ لقمہ تر آپ کے حلق سے کیسے اترتا ہے؟ میرا دل کرتا ہے کہ کاش غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے زندگی گزارنے والے ان عوام کی بڑی تعداد یہ شعور کر لے کہ ان کی زندگیوں کے ساتھ ایس طرح کھیلنے کا حق کسی کو بھی نہیں اور یہ پاو¿ں ننگے عوام ان ایوانوں کا ر±خ کریں جہاں انکے حالات بہتر بنانے کے فیصلے نہیں کیئے جاتے بلکہ انہیں غلام بنائے رکھنے کے فارمولے تیار کیئے جاتے ہیں۔ عوام کا نام دراصل ایک گالی بن گیا ہے اور یہی بات اب عوام کو سوچنا ہوگی۔ صدر بش نے ہمارے وزیرا عظم سے ملاقات کر کے،خیرات میں کچھ دن کے لیئے کھانا مہیا کر کے اور ہماری “خود مختاری“ کے احترام کا اعلان کر جو ساری خفتہ قوم پر جو احسان کیا ہے اسکا بدلہ ہم اگر اتار سکے تو صرف شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اتار سکیں گے۔وقت کس طرح بدل گیا ہے کہ وہ جماعت جو عوامی ہونے کی دعویدار ہے وہی اب عوام کی تذلیل کر رہی ہے، وہ سب لوگ جو انتخابات سے قبل یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم اپنے شہروں میں امریکی مفادات کی لڑائی لڑ کر اپنے جوان مروا رہے ہیں اب وہ نہایت دیدہ دلیری سے چہرے پر ایک جھوٹی مسکراہٹ سجا کر کیمروں کی روشنیوں میں یہ بیان دیتے ہیں کہ یہ لڑائی پاکستان کی اپنی لڑائی ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔امریکہ یاترا ہو سکتا ہے کہ حجِ اکبر کی طرح ہو کہ حج اکبر میں “قلب المنقلبون“ کا معجزہ ہو جاتا ہے اور امریکہ یاترا میں دل کے ساتھ نگاہیں بھی اس طرح بدل جاتی ہیں کہ“ لیلیٰ نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے“۔ اے پی ایس

No comments: