
وزیر اعظم کے دورہ امر یکہ کے حوالے سے مبصرین اور عوامی حلقوں میں یہی بحث ہو رہی ہے۔ کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اسی طرح تھا جس طرح قیام پا کستان کے فورا بعد لیاقت علی خان جلد بازی میں روس کی طرف رخ کر نے کی بجا ئے امریکہ یا ترا چلے گئے۔ اور ہما رے حکمران آج تک امریکی غلامی سے نجات حا صل نہیں کر سکے۔ اور لیا قت علی خان نے واپس آکر اپنی کا بینہ کو کہہ دیا تھا کہ قیام پا کستان کا مقصد امریکی پا لیسیوں کو Fallow کر نا ہے۔ اگر قا رئین اس بات سے اتفاق نہیں کر تے تو صرف کیلکو لیٹر لے کر ما ہر ریا ضی دان کی طرح ساٹھ سا لہ پاک امریکہ تعلقات کا دن بدن کب، کہاں، کیوں اور کیسے فار مو لے کے تحت بھی نتا ئج اخذ کر سکتے ہیں کہ مذ کورہ با لا بات میں کس حد تک صداقت ہے۔ پالیساں حا لات کے تا بع ہوتی ہیں اور اس وقت جو صورتحال ہے اس میں ہمارے حکمرانوں کو یہ دیکھنا ہے کہ پا کستان دشمن کون ہے اور پا کستان دوست کون ہے۔ اس وقت پاکستان جو آئے دن عدم استحکام کی طرف بڑ ھ رہا ہے اگرچہ اس کے پس پردہ پاکستان دشمن عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ اس حوالے سے ضروری تھا کہ وزیر اعظم امریکہ کی طرف منہ کرنے کی بجائے پہلے چین جا تے اور عنقریب مستقبل میں پاکسان دشمن عالمی طاقتوں کی طرف سے پا کستان کو درپیش آنے والے خوفناک خطرات کا سا منا کرنے اور ان سے نمٹنے کیلئے کو ئی فا ئنل حکمت عملی وضع کر تے۔ جبکہ اس مو قع پرچین نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جن چاو¿ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی چھوڑ دے اور صدر بش بیجنگ میں ہونے والی اولمپکس گیمز کو سیاسی بنانے کی کوشش نہ کرے۔ چینی وزارت خارجہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اولمپکس گیمز کو شروع ہونے میں صرف 8دن باقی رہ گئے ہیں۔ لی جن چاو¿ نے کہا کہ امریکی صدربش نے واشنگٹن میں 5چین مخالف گروہوں کے رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کی ہیں جو چین کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔جبکہ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت جو دنوں کی مہمان ہے وہ دڈالر اکھٹے کر نے کے چکر میں ہے۔ جبکہ پاکستان کے عوام نے یہ بھی مطا لبہ کیا ہے ۔ کہ امریکہ کی طرف سے پا کستان کو حا لیہ اربوں ڈالر ملنے والی غیر فوجی امداد پر نظر رکھی جائے ۔خدشہ ہے کہ کہیں سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کی لوٹ مار پروگرام کی نظر نہ ہو جائے۔ عوامی حلقوں میں یہ بھی پشین گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت جو اس وقت بو کھلاہٹ کا شکار ہے یہ عوامی توجہ کے ایشو سے توجہ ہٹانے کیلئے معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے کوئی نیا شگوفہ چھوڑ ے گی۔ اور کچھ دنوں بعد پھر یو ٹرن لے جائے گی۔ آئی ایس آئی کا ایشو بھی ابھی سب کی نظروں میں ہے۔ آ ئی ایس آئی جو ابھی تک خدائی مدد سے چل رہی ہے اگر حکمرانوں کا بس چلتا تو اسے بھی پرائیویٹائز کر کے کمیشن کھا بیٹھے ہوتے۔ پاکستان کے عوام کو قو می سلامتی کی ضا من آ ئی ایس آئی پر فخر ہے۔ پاکسان کے عوام کو جب کبھی بھی ما یوسی ہوئی ہے اپنے حکمرانوں اور دفتر خارجہ کے افسروں سے کیونکہ ڈائیلاگ اور مذاکرات میں ہم نے ہمیشہ شکست کھا ئی ہے اور جس کا نتیجہ ہم کئی بحرانوں میں بھگت رہے ہیں۔ جبکہ پی ایم ایل ق نے ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کی ہے جس میں وزیر اعظم کے دورے کو تنقید کہا نشا نہ بنا نے کیلئے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کادورہ امریکہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کا انتظامی لحاظ سے سب سے زیادہ غیر منظم دورہ تھا۔ جس کے دوران وزارت خارجہ اور وزارت اطلاعات کے درمیان کسی قسم کی کو آرڈینیشن نظر نہ آئی،اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر قدم پر انتطامی نا اہلی کا ثبوت دیا گیا اس نا اہلی سے وزیر اعظم کو کافی ندامت کا سامنا کرنا پڑا اور ایسادکھائی دیتا ہے کہ نا اہلی کی یہ خصوصیت پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز بن گئی ہے ، جس کی حالیہ مثال 20جولائی کو وزیر اعظم کا قوم سے خطاب بھی تھا ۔ یہ حقیقت کہ ،وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے اہم مسئلے پر پارلیمان سے مینڈیٹ لئے بغیر امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ، سے بھی وہ سیاسی طور پرکمزورہوئے ۔اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے 15جولائی کو مسلم لیگ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمان کے ایک مشترکہ سیشن کا اجلاس بلوائے تا کہ ان کا دورہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہو اور ان کو مکمل سیاسی تائید و حمایت حاصل ہو ۔1۔آئی ایس آئی کے متعلق جاری کردہ ناکام نوٹیفکیشن کی وجہ سے وزیراعظم کی واشنگٹن میں آمد کی خبر پس پردہ چلی گئی ۔ 2۔جس دن وزیر اعظم واشنگٹن پہنچے عین اسی دن امریکہ نے وزیرستان میں میزائل حملوں کا تحفہ دیا ،جس میں6شہری مارے گئے ایک رپورٹ کے مطابق امریکی دبائو کے تحت پاکستان نے بھارت امریکہ جوہری معاہدے پر تنقید کرنا بند کر دیا جس پر ایک مشترکہ بیان میں ملک کے 30ریٹائرڈ سفیروں اور خارجہ سیکرٹریوں نے احتجاج کیا ۔1۔وزیرا عظم کا یہ پہلا دورہ ہے کہ جس میں وزار ت خارجہ کی جانب سے نہ تو وفد کے اراکین اور نہ ہی میڈیا ٹیم کو بریفنگ دی گئی ۔2۔پیپلز پارٹی کی مخصوص نا اہلی کے بموجب ©وزیراعظم کے دورے پر گئے ہوئے صحافیوں کے لئے ذرائع ابلاغ کی کوئی سہولیات فراہم نہ کی گئیںجس پر محمود شام نے ایک رپورٹ لکھی ۔3۔ وزیرا عظم کی سرکاری میڈیا ٹیم کے 13ارکان میں سے 6کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر روانگی سے صرف ایک گھنٹہ قبل جہاز سے اتارا گیا کیونکہ انہیں امریکی ویزا نہیںدلوایا جا سکا ۔یہ وزارت اطلاعات اور وزارت خارجہ کی انتہائی نا اہلی کا نتیجہ تھا ۔ ”ہیتھرو ایئر پورٹ پر وزیر ااعظم کے طیارے کی دیر سے لینڈنگ “ کے مطابق وزیر اعظم کے طیارے کو کافی دیر تک ہوا میں رکھا گیا اور انہیں کوئی باقاعدہ پروٹوکول بھی نہیں دیا گیا،جو عموماً ملکی سربراہان کو دیا جاتا ہے ۔5۔ہیتھرو ایئر پورٹ پر وزیر اعظم کے استقبال کے لئے کوئی بھی موجود نہ تھا ۔لندن میں نہ تو برطانوی حکومت کا کوئی عہدیداران کے استقبال کے لئے موجود تھا اور نہ ہی وزیر اعظم اپنے ہوٹل سے باہر نکلے کہ وہ پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کر سکیں ۔6۔ حکومتی نا اہلی کا یہ عالم تھا کہ 27جولائی کی صبح 10:30بجے ہیتھرو ایئر پورٹ پر جب میڈیا ٹیم اتر ی تو انہیں بتایا گیا کہ پروگرام میں اچانک تبدیلی لائی گئی ہے اور وہ شام 6:00بجے وہاں سے رخصت ہوں گے۔7۔ہیتھرو ایئرپورٹ پر جہاں صحافیوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا وہاں سیکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے وی آئی پی لائونج پر بھی انہیں دو تین گھنٹے روکا گیا ۔ پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے فلائیٹ آپریشن ڈیپارٹمنٹ نے وزیراعظم کے طیارے کی بابت برطانوی ایئر ٹریفک کنٹرول کے اہلکاروں کو آگاہ کیا تھا اور نہ ہی اس متعلق کوئی درخواست دائر کی گئی ،جس کی وجہ سے گیلانی کے طیارے کو ٹیک آف کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی وزیراعظم جب واشنگٹن اترے تو انہیں طیارے سے شیڈ تک دو تین منٹ پیدل جانا پڑا جبکہ شیڈ کی گیٹ پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری رچرڈبائوچر کے علاوہ کوئی اعلیٰ عہدیدار موجود نہ تھا ۔ پیدل جاتے وقت گیلانی اور انکی اہلیہ کافی پریشان دکھائی دیئے کیونکہ نہ تو انکے استقبال کےلئے کوئی عام قالین اور نہ ہی سرخ قالین ،جو بالعموم سرکاری دوروں پر بچھائی جاتی ہے، نظر آئی جبکہ شیر ی رحمان سمیت تما وزراءاور دوسرے لو گو ں کو جہا ز میں ہی رہنے کو کہا گیا۔10۔وزیرا عظم کے لئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے اعشائیے کے موقع پرچار صحافیوں کو مدعو کیا گیا جن کو عوام الناس کی موجودگی میں پولیس کے سراغ رساں کتوں کے ذریعے تلاشی کے تذلیل آمیز مرحلے سے گزرنا پڑا۔ متعلقہ وزارتیں وزیراعظم کی میڈیا ٹیم کے ساتھ غلط انداز میں پیش آئیں ۔میڈیا ٹیم کو نہ صرف غلط انداز میں ہینڈل کیا گیا بلکہ وزیراطلاعات اور پاکستانی سفیر نے ان کے بارے میں نازیبا الفاظ بھی استعمال بھی کئے ۔ رپورٹ کے مطابق مقامی اور قومی میڈیا نے واشنگٹن میں صدر بش اور وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے موقع پر وزیراطلاعات شیری رحمان اور پاکستانی سفیر حسین حقانی کے رویئے پر سخت احتجاج کیا اور اسے تذلیل آمیز سلوک قرار دیا ۔12۔بد انتظامی اس حدتک تھی کہ پاکستانی وفد وائٹ ہائوس میں مقررہ وقت سے قبل ہی پہنچ گیا جس کی وجہ سے ان کے استقبال کے لئے وہاں پر کوئی بھی امریکی عہدیدار موجود نہیں تھا ۔13۔یہ پہلا موقع تھا کہ غیر ملکی دورے پر گئے ہوئے معزز مہمان وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان کوئی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد نہ کی گئی اور نہ ہی صحا فیو ں کے سوالات کے جو ابا ت دیئے گئے ۔1۔دورے کے دوران وزیر اعظم یاا ن کے کسی وزیر میں یہ اخلا قی جر ات نہ تھی کہ وہ پا کستان پر امریکہ حملے کی مذ مت کر تے ۔2۔ امریکہ کے بارے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک معذرت خواہانہ اورمدافعانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔اس کا واحد کام امریکی الزمات کو رد کئے بغیر بار بار دہرانہ ہے مثال کے طور پر وزیراعظم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے 11ستمبر جیسے حملے کا امریکی خدشہ رد کئے بغیر دوبارہ دہرایا ،حالانکہ 11ستمبر کے حملوں میں کوئی ایک پاکستانی بھی شامل نہ تھا۔3۔امریکی دورے کے دوران وزیر دفاع احمد مختار نے 30جولائی کو آئی ایس آئی کے متعلق سی آئی اے کے الزامات دہرائے ۔کم از کم حکومت کو سی آئی اے کی سابقہ کارکردگی کو چیلینج کرتے ہوئے الزامات کی نفی کرنی چاہیئے تھی ۔جو اس نے عراق کے جوہری ہتھیاروں کے متعلق جاری کی تھی جس کی وجہ سے عراق پر مارچ 2003میں حملہ کیا گیا ،علاوہ ازیں سی آئی اے 1998ءمیں انڈیا کے جوہری دھماکوں کی پیشگی اطلاع دینے میں ناکام رہا ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پی پی پی حکومت پارلیمنٹ کو نظر انداز یا بائی پاس کرنے کا سلسلہ بند کرے اور وزیر اعظم وطن واپسی پر امریکی دورے کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے ۔سینٹ کا سیشن 4اگست کو ہو رہا ہے، وزیر اعظم کو چاہیئے کہ وہ یہ موقع اپنے دورے کے متعلق تفصیلات پیش کرنے کے لئے استعمال کرے۔ پی پی پی حکومت ایک انکوائری بٹھائے جو وزیر اعظم کے دورے کے دوران آئی ایس آئی کے متعلق غلط نوٹیفیکشن جاری کرنے والوں کو سراغ لگائے ۔ جبکہ پی ایم ایل ق نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پی پی پی حکومت کے ساتھ اس امر پر مکمل تعاون کرے گی کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر موجود تمام سیاسی قوتوں کے باہمی مشورے اور اتفاق سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک خارجہ پالیسی مرتب کرے۔ امریکہ کے ممتاز اخبارات نے امریکہ پاکستان تعلقات کو آنے والے برسوں میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بش انتظامیہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورے کے موقع پر پاکستانی عوام کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنائے ۔ وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کے موقع پر واشنگٹن پوسٹ نے اپنے تبصرے میں دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کئی چیلنجوں کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے پاکستان کے عوام میں کامیابی کی امید پیدا ہو گئی ہے امریکہ اس اہم دورے میں پاکستان میں نئی جمہوری حکومت کی مکمل حمایت کرے اور دونوں ملکوں کے درمیان ا سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو فروغ دے ۔ ذرائع کے مطابق ایک اور ممتاز روزنامے نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری قوّتوں اور ترقیاتی کاموں کے اپنے وعدوں کی پاس داری کرے ۔ امریکہ میں خارجہ امور کی کونسل میں جنوبی ایشیاء امور کے ماہر ڈیمنل ملکی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی کاموں میں تعاون کرنا ہو گا ۔ امریکہ دوران سفر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی کہا کہ 2008ء کے انتخابات کو کسی حد تک آزادانہ اور منصفانہ بنانے اور موجودہ جمہوریت کی بحالی میں امریکا کا واضح کردار ہے۔ ہم اسی حوالے سے پاکستانی عوام کیلئے جمہوریت کے منافع میں عوام کا حصہ حاصل کرنے کیلئے امریکی صدر کی دعوت پر امریکا جارہے ہیں ہم امریکا کھلے ذہن سے جارہے ہیں ہمارے کوئی تحفظات نہیں ہیں ہم انکی دعوت پر جارہے ہیں اسی لئے پہلے وزرائے اعظم یا صدور کی طرح کوئی شاپنگ لسٹ لیکر نہیں اور نہ ہی امداد مانگنے جارہے ہیں۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان وائٹ ہاو¿س کے اوول آفس میں 50 منٹ سے زائد دیر تک مذاکرات ہوئے صدر بش نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہمارے مذاکرات بہت تعمیری تھے، اوول آفس میں بات چیت بہت اچھی رہی، ابھی میں وزیراعظم کو وائٹ ہاو¿س کھانے کی دعوت دے رہا ہوں، پاکستان ہمارا پرانا اتحادی ہے، یہاں کی فعال جمہوریت اور خود مختاری کی ہم قدر کرتے ہیں، ہماری بات چیت زیادہ تر معیشت پر رہی۔ امریکا پاکستان اور پاکستانی عوام کی اقتصادی خوشحالی کیلئے تعاون کر رہا ہے۔ یہ بات وزیراعظم سمجھتے ہیں اور اس کیلئے پرعزم ہیں۔ وہ انتہا پسندی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، انتہا پسند بہت ہی خطرناک ہیں۔ ہم نے پاک افغان سرحد کی سیکیورٹی پر بھی بات کی ہے۔ افغانستان میں جمہوریت، پاکستان کے حق میں ہے، وزیراعظم گیلانی نے بھی کہا کہ وہ مستحکم افغانستان چاہتے ہیں، پاکستان ایک ترقی کرتی ہوئی جمہوریت ہے اور ہم اس کی خود مختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں، وزیراعظم کے انتہاپسندی کے خلاف شدید مخالفانہ خیالات ہیں اور وہ اپنے ملک میں انتہاپسندوں کیخلاف بہت ہی مثبت کام کر رہے ہیں، ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ پاکستان میں جمہوریت اور خود مختاری کیلئے جو تعاون کر رہے ہیں اس کی ہم قدر کرتے ہیں، ہم نے جمہوریت اور دوسرے شعبوں پر بات چیت کی ہے، ہمارے امریکا سے دو طرفہ تعلقات 60 سال سے ہیں اور انہوں نے لبرٹی (آزادی) کا نعرہ بلند کیا، ہم بھی انکے لبرٹی اور خود ارادیت کے نعروں سے متاثر ہوئے ہیں۔ انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں ہم پرعزم ہیں، وہ ہمارے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، دنیا کا امن خراب کر رہے ہیں، یہ ہماری اپنی جنگ ہے، یہ دہشت گردی پاکستان کیخلاف ہے، اسلئے ہم اپنے طور پر اسے اپنی جنگ کہتے ہیں، دہشت گردی کی وجہ سے ہی ہم اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو سے محروم ہوچکے ہیں، پاکستان کے عوام اور بالخصوص صوبہ سرحد اور فاٹا کے لوگ محب وطن ہیں، امن چاہتے ہیں اور امن کے قیام کے سلسلے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں، انتہاپسند اور دہشت گرد بہت محدود اور مٹھی بھر ہیں، ہم نے صدر بش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے، جمہوریت اور عوام کی خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے، صدر بش نے بھی ہمیں اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کی بات چیت کے اختتام پر صحافیوں کو سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور صدر بش وزیراعظم کو لیکر واپس اوول آفس چلے گئے۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے بیان میں متعدد بار صدر بش کو مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے پاکستان کیلئے ا±ن کی حمایت کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر بش نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنے بیان میں پاکستان پر دباو¿ بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے اس مثبت بیان پر اکتفا کیا کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے مفید کردار انجام دے رہا ہے اور دہشت گردی کے بارے میں وزیراعظم کے انتہائی سخت الفاظ کے استعمال کرنے کو سراہا۔ نیز نئی منتخب جمہوری پاکستانی حکومت کی حمایت کی۔ صدر بش کا یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کیلئے پاکستان پر مزید دباو¿ بڑھانے کے مطالبے کے تناظر میں ایک مثبت امریکی سرکاری رویّہ ہے، البتہ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے گیلانی حکومت کیلئے حمایت اور تعاون کا اظہار عوامی سطح پر کیا گیا ہے تاکہ کمزور اتحادی گیلانی حکومت کا اعتماد اور امیج بہتر ہوسکے لیکن نجی طور پر وزیراعظم گیلانی پر واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کیلئے ملٹری آپریشن اور دیگر فیصلے اور اقدامات پاک فوج کی قیادت پر چھوڑ دیا جائے اور امریکی سینٹرل کمان، افغانستان میں اتحادی کمان اور پاک افواج کے درمیان رابطوں اور مشوروں سے طے پانے والے فیصلوں اور اقدامات پر سویلین حکومت اپنی رائے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے کام پر توجہ مرکوز رکھے۔ گیلانی حکومت کو اقتصادی اور سیاسی مسائل کے حل کرنے کیلئے بش حکومت تعاون کرے گی اور یہ پاکستانی حکومت کا دائرہ اختیار ہو گا۔ بعض مبصرین نے بش، گیلانی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقات بالکل ویسی ہی ملاقات ہے جیسی عراق کے وزیراعظم نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان تھی۔ خوشحال پاکستان پوری مہذب دنیا کے مفاد میں ہے، امریکا جلد بازی نہ کرے اور یکطرفہ کارروائی خودمختاری کے خلاف ہو گی پاکستان نے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کا عزم کررکھا ہے وہ جمہوریت کے استحکام اور قومی مفاہمت کی سیاست پر یقین ر کھتا ہے امریکہ کو مزید صبر کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے اندر جنگجوو¿ں کیخلاف یکطرفہ کارروائی نہیں کرنا چا ہیے یوسف رضا گیلانی نے براہ راست امریکہ پر میزائل حملے کا الزام لگانے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ثابت ہوگیا کہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے تو یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگا انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر امریکی بے صبری اور جلد باز واقع ہوئے ہیں مستقبل میں انٹیلی جنس تعاون بڑھانا ہوگا اور اگر کوئی کارروائی کرنا پڑی تو پاکستان خود کرے گا ۔امریکا پاکستان کی حدود میں دہشت گردی کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں کرنے کے بجائے ہمیں جدید ترین اسلحہ دے تاکہ ہم افغانستان سے آنے والے خطرناک غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف موثر جنگ لڑ سکیں۔ وہ کو نسل آف فارن ریلیشنز اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ اہتمام سے منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں امریکا کے ممتاز دانشوروں، پاکستانی امور کے ماہروں، سابق ا ور موجودہ سفارت کاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں کی بڑی تعدا د نے شرکت کی۔ کونسل آف فارن ریلیشنز کے صدر رچرڈ این ہاس خود بھی تند و تیز سوالات کررہے تھے اور شرکاءکی طرف سے ارسال کردہ تحریری سوالات بھی پڑھ کر سنارہے تھے۔ زیادہ تر سوالات پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں، پاکستان میں جمہور یت کی ناکامی، پاکستان کے وجود اور خودمختاری کو لاحق خطرات، صدرپرویز مشرف سے تعلقات کار، بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ امریکی صدارتی انتخابی مہم میں یہ حوا لہ بار بار آرہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کیخلاف جان بوجھ کر موثر اقدامات نہیں کررہا ہے اس لئے امریکا کو یکطرفہ کاررو ائی کر نی پڑ رہی ہے۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے۔ وز یر اعظم نے جواب میں کہا کہ امریکا اگر یکطرفہ کارروائی یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں تو یہ تاثر بالکل غلط ہے ہمارے پاس طاقت ہے لیکن یہ عسکریت پسند دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیچنیا سے ہیں، ازبک ہیں اور دوسری قوموں سے ہے۔ انہیں ہم نشانہ بناتے ہیں تو یہ افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں کاررو ائی ہوتی ہے تو پاکستان آجاتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ تربیت یافتہ ہیں ان کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہتھیار ہیں، فنڈز ہیں، امریکا بھی ان پر قابو نہیں پاسکا ہمیں انٹیلی جنس میں تعاون کرنا ہوگا، ہمیں جدید ترین اسلحہ بھی درکار ہے اس سے ہم اپنی فوج کی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ ان دشوار گزار علاقوں میں یہ عسکریت پسند گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں جس کی فوجوں کو تربیت نہیں ہے تربیت اور نئے ہتھیار ہی زیادہ اہلیت بڑھا سکتے ہیں۔ رچرڈ ہاس بار بار ایک جیسے سوالات کرکے پاکستان کے وزیراعظم کو دباو¿ میں لانے کی کوشش کررہے تھے۔ وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا جنگ کا حامی ہے غیر منتخب حکومت ہو تو وہ امریکا کے دبا و¿ میں آجاتی ہے۔ انہوں نے فوج استعمال کی تھی لیکن انہیں سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی اس لئے وہ ناکام رہے اب منتخب صوبائی حکومت کو دہشت گردوں نے 5 دن کی دھمکی دی تو انہوں نے فوج کی مدد حاصل کی فوج آئی اسے عوام کی سیاسی حمایت حاصل تھی، عو ام نے مدد کی تو فوج کامیاب رہی۔ ہمیں امید ہے کہ ا مریکا منتخب حکومت سے بھرپور تعاون کرے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاک بھارت معاملات میں امریکا کیا کوئی کردار ادا کرسکتا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ بالکل کرسکتا ہے، کر نا چاہئے۔ بھارت سے ہمارا دیرینہ تنازع کشمیر پر ہے اس مسئلے کو حل کروا نے میں اسے مدد کرنا چاہئے۔ رچرڈ ہاس نے کہا کہ کس طرح، کیا وہ ثالثی کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا تو جو چاہے کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا آمرانہ حکومتوں کی طویل عرصے تک مدد کرتا رہا ہے اب انہیں پالیسی بدلنا پڑے گی۔ بعض مبصرین نے کہا ہے کہ ممتاز امریکی تھنک ٹینک کو نسل آن فارن ریلیشنز اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے باہمی اشتراک سے منعقدہ اجتماع سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خطاب ایک اہم اور تاریخی واقعہ یوں ہے کہ اس وقت امریکا کی نظرمیں پاکستان کی جو اہمیت ہے اس کے تناظر میں پاکستانی وزیراعظم کے خطاب کو سننے کیلئے امریکا کے پالیسی سازوں، دانشوروں اور عالمی امور کے ماہرین میں اتنا اشتیاق تھا کہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے چوٹی کے امریکی ماہرین اور سفارتکار پہلے سے اپنی شرکت کو کنفرم کرکے سننے کیلئے آئے ہوئے تھے ان میں کا رل انڈرفرتھ (سابق اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیا) جو طالبان سے مذاکرات بھی کرتے رہے ہیں، رابرٹ ہاتوے، ڈائریکٹر ایشیا پروگرام وڈروولسن سنٹر، جارج ٹاو¿ن کے پروگر ام لاء ایشیا کی سوزن روزویلٹ، تھنک ٹینک سی ایس ایس آئی ایس کی ٹریسٹا شیفر، کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ایمرٹیس اور سابق ڈین پروفیسر ایمبری جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی کے ڈا ئریکٹر آف اسٹڈیز اور سابق سفارتکار ہاورڈ شیفر، کونسل آف فارن ریلیشنز کے سربراہ رچرڈ ہاس، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ پاکستان میں امریکا کی سابق سفیر وین ڈی چیمبرلین شامل تھے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا موقف پیش کرکے امریکی ایوانوں میں امریکی پالیسی کو متاثر کرنے کا کتنا اہم اور سنہری موقع تھا جسے وز یر اعظم یوسف رضا گیلانی کی انتہائی مایوس کن کارکردگی نے نہ صرف ضائع کردیا بلکہ خود وزیراعظم کی شخصیت اور صلاحیت کے بارے میں امریکیوں پر انتہائی منفی تاثر چھوڑا ہے پاکستان، بھارت اور امریکا کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا منظر اپنی آنکھوں سے اور وز یر اعظم کے جوابات اپنے کانوں سے سنے ہیں اور پھر تقریب کے اختتام پر سامعین کے چہروں اور تبصروں کو بھی دیکھا اور سنا گیاہے۔ کوئی بھی پاکستان کا دوست امریکی یا پاکستانی ایسا نہیں ملا جو شرمندگی اور غصہ کی حالت میں نہ ہو۔ ہمیں ان پابندیوں کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہوگا۔ کیونکہ ورلڈ بینک نے دیامر بھاشا ڈیم سمیت آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں بننے والے پانی وبجلی کے منصوبوں کیلئے فنڈز دینے سے قطعی طورپر انکار کردیا ہے۔ ا بینک کی طرف سے فنڈز کی فراہمی سے انکار نے دیامربھاشا ڈیم کو عملی طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment