International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, July 31, 2008

ہائی کورٹ نے پنجاب کے ٤٨٨ پراسیکیوٹر کی برطرفی کا حکم معطل کردیا

راولپنڈی ۔ عدالت العالیہ راولپنڈی بینچ کے جسٹس خلیل احمد نے عبوری حکم کے تحت پنجاب بھر کے 488 پراسیکویٹر کی برطرفی کے حوالے سے حکومت پنجاب کا حکم نامہ معطل کردیا ہے ۔ اور حکم نامے سے متاثر ہونے والے راولپنڈی ڈویژن کے 29 پراسیکویٹر کو رٹ پٹیشنوں کے فیصلے تک ان کے عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ فاضل عدالت نے اس حوالے سے چار دائر الگ الگ رٹ پٹشنوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے بھی تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے ۔ فاضل جج نے یہ عبوری حکم ملک نازک اور ظفر اللہ سمیت دیگر 29 متاثرہ پراسیکیوٹروں کی طرف سے دائر چار الگ الگ رٹ پٹیشنوں کی ابتدائی سماعت کے موقع پر جاری کیا ۔ راولپنڈی کے 24 ‘ چکوال کے 4 اور اٹک کے 2 متاثرہ پراسیکیوٹر نے سردار عبدا رازق کے ذریعے پراسیکویشن پنجاب کے اس حکم نامے کو چیلنج کیا تھا کہ جس میں صوبہ بھر کے 488 پراسیکیوٹر کو بیک جنبش قلم برطرف کردیا گیا تھا۔ متاثرہ پراسیکیوٹر نے اپنے رٹ پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ قواعد وضوابط کے مطابق اسسٹنٹٹ ڈسٹرکٹ پبلک پرسیکیوٹر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے عہدوںپر تعینات ہوئے اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت ‘ تعلیمی قابلیت اور دل جمعی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کررہے تھے۔ نو منتخب سیاسی اور جمہوری صوبائی حکومت نے کسی پیشگی یا شوکاز نوٹس کے بغیر ایک حکم نامے کے تحت انہیں برطرف کردیا گیا ۔ رٹ میں کہا گیا تھا کہ انہین سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا کر صوبائی حکومت ان کی جگہ اپنے منظور نظر افراد کو تعینات کرنا چاہتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی ہدایت پر پراسیکیویشن پنجاب کا یہ حکم نامہ بدنیتی پر مبنی ہے لہذا اسے کالعدم قراردے کر انہیں ان کے عہدوںپر بحال کیا جائے جمعرات کے روز سماعت کے موقع پر حکومت کی پیروی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کی ۔ جبکہ درخواست گزاروں کی طرف سے عبدالرازق نے دلائل دئیے ۔ ابتدائی سماعت کے موقع پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے انہیں تفصیلی جواب داخل کرنے کی مہلت دے ۔ جس پر فاضل جج نے استدعا مسترد کرتے ہوئے عبوری حکم جاری کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردی ۔

No comments: