International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, July 31, 2008

اب کوئی ٥٨ ٹو بی استعمال نہیں کرسکتا موجودہ اسمبلیاں وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی ۔سینٹر رضا ربانی

لاہور۔ سینٹ میں لیڈر آف ہاؤس رضا ربانی نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں ہے رجعت پسند اور آمرانہ قوتیں حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اقتصادی طور پر کامیاب رہا ہے ۔پہلی بار امریکی سرزمین پر وزیراعظم نے ملکی سلامتی پر کھل کر بات کی ہے اور امریکہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ک اگر حکومتی اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کا فائدہ آمرانہ قوتوں کو ہوگا اور نقصان جمہوری قوتوں کو اٹھانا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض بھی موجود تھے ۔رضا ربانی نے کہا کہ سینٹ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے آئین کے مطابق چاروں صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہے ۔اتحادی حکومت اصولی طور پر سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اسی صورت ہو سکتی ہے جب بڑے ایشوز پارلیمنٹ میں آئیں اس لئے میں نے بطور لیڈر آف ہاؤس یہ فیصلہ کیا ہے چاروں صوبوں کا دورہ کیا جائے اور چاروں وزرائے اعلیٰ اور سپیکر اسمبلی سے ملاقاتیں کرکے ان سے ایسے ایشوز بارے معلومات حاصل کی جائیں جو وفاق سے متعلقہ ہیں اور انہیں سینٹ میں لاکر ان پر سیر حاصل گفتگو کی جائے اور حکومت کو مناسب تجاویز دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں ہے رجعت پسند اور آمرانہ قوتیں حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں بالخصوص 18فروری کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ملنے والے مینڈیٹ کے بعد یہ کوششیں جاری ہیں ۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب کوئی 58ٹو بی استعمال نہیں کرسکتا موجودہ اسمبلیاں وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اقتصادی طور پر کامیاب رہا ہے اس دورے کے بعد ہمیں جو امداد مل رہی ہے اس کو دیکھتے ہو ئے اس دورے کو ہرگز ناکام نہیں کہا جاسکتا۔ اور پھر پہلی بار امریکی سرزمین پر وزیراعظم نے ملکی سلامتی پر کھل کر بات کی ہے اور امریکہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے ۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق سوال پر رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت تحفوں پر یقین نہیں رکھتی۔صوبائی حکومت کی درخواست پر قبائلی علاقوں میں آپریشن کیا گیا اور وزیر اعظم کے امریکہ جانے سے پہلے اہداف حاصل کرکے آپریشن ختم کردیا گیا۔ اب فاٹا میں سیکورٹی فورسز پر حملہ ہوا ہے جس کے بعد محدود ایکشن کیا گیا ہے۔ایک اور سوال پر انہو ں نے کہا کہ آئی ایس آئی بلاشبہ پاکستان کی اہم اور بڑی انٹیلی جنس ایجنسی ہے ۔میثاق جمہوریت میں بھی ہم نے اس حوالے سے بات کی ہے اور تمام جمہوری قوتوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیاسی ونگز ختم کئے جائیںتاہم ان کے دیگر آپریشنز چلتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد اپنی مدت پوری کرے گا ۔آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اسے برقرار رہنا چاہیے تاہم اگر اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کا فائدہ آمرانہ قوتوں کو ہوگا اور نقصان جمہوری قوتوں کو اٹھانا پڑے گا۔

No comments: