International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, July 30, 2008

آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری



کراچی۔ غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو حق رائے دہی دلوایا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی بہترین حکومتی نظم و نسق اسکے بغیر ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں بدھ کو سندھ ہائیکورٹ بارہال اپنے نام سے منسوب ہونے کے حوالے سے یہاں تختی کشائی کے بعد بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں کیا۔افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیگی۔انہوں نے کہا کہ ان کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان عہدیداری کے دوران ملک میں قانون اور آئین کا اطلاق ہوتا تھا۔اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ امداد علی اعوان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اور ان کی واقفیت اس وقت سے ہے جب میں وکالت کی پریکٹس کرتا تھا اور ان کی وفات پر ہم سب افسردہ ہیں۔انہوں نے کراچی اپنی آمد پر کراچی کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کی جانب سے بہترین کوریج کو بھی سراہا اور کہا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھرپور تعاون ہمیں حاصل ہے۔جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 12 مئی اور9 اپریل سانحات کے دوران شہید ہوجانے والے افرادکو بھی خراج عیقدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ منو بھیل جیسے کیسز جلد حل ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔دریں اثناء غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے جبکہ ان کے ہمراہ بیرسٹر اعتزا ز احسن اور ان کے ترجمان اطہر من اللہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔تفصیلی خبر ۔۔۔۔آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو انتخابات میںحق رائے دہی دلوایاملک میں سرمایہ نہیں آ رہا اور صرف اس لئے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیںہےغیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا خطاب

کراچی ۔ غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو انتخابات میںحق رائے دہی دلوایا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی بہترین حکومتی نظم و نسق اسکے بغیر ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنے نام سے منسوب کئے جانے والے ہال کی تقریب نقاب کشائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے غیر فعال جسٹس راجہ فیاض، غیر فعال جسٹس غلام ربانی، پشاور ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس طارق پرویز، لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین غیر فعال جسٹس خواجہ شریف، سندھ ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس صبیح الدین احمد، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس (ر) رشید اے رضوی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال بھی بہترنہیں رہی اور اخبارات سے واضح ہے کہ ملک میں سرمایہ نہیں آ رہا اور صرف اس لئے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیںہے۔ یہ بات اٹل ہے کہ اگر عدلیہ آزاد اور قانون کی بالادستی نہیں ہوگی تو ترقی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے ہی حالیہ انتخابات سے قبل 3کروڑ ووٹرز کو حق رائے دہی دلوایا کیونکہ 18 اکتوبر سے قبل محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کردہ ووٹر لسٹوں میں 3کروڑ ووٹروں کے نام درج نہیں جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا تو کہا گیا کہ ووٹروں کے اندراج میں ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہے جس پر سپریم کورٹ کے حکم پر صرف ایک ماہ میںان ووٹروں کا اندراج کیا گیا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے عدلیہ کی آزادی پر زور دیتے ہوئے بعض مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے پروفیسر غازی اور ان کی اہلیہ پنشن نہ ملنے کے باعث غربت سے اپنے گھر میں ہی دم توڑ گئے تاہم سپریم کورٹ نے اس پر بھی سوموٹو ایکشن لیا اور حکومت سے جواب طلبی کی۔ انہوں نے کہا کہ عمر کوٹ میں دو بچے نہر میں نہاتے ہوئے بجلی کے کرنٹ سے جاں بحق ہوئے تو اس کی اخبار میں خبر شائع ہوئی جس پر از خود نوٹس کارروائی کی گئی اور متعلقہ محکمہ سے جواب طلب کیا گیا اور مقتولین کے اہل خانہ کو چھ چھ لاکھ روپے ہرجانے کی رقم دلوائی گئی۔ غیر فعال چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی کوئی بھی معاشرہ پھل پھول نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کے بعد وکلاء نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اس لئے وکلاء کے ساتھ آج جج صاحبان بھی کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی تک جدوجہد جاری رہے گی اور کوئی بھی جج متزلزل نہیں ہوگا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے کراچی کے 12 مئی اور 9 اپریل کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کے بعد پوری قوم نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ ملک میں آزاد عدلیہ قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز دیہاتی علاقوں میں بھی ایسے لوگ ہمارے پاس چل کر آتے ہیں جن کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انصاف کے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے امداد اعوان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے ماحول سوگوار ہے تاہم وہ اہلیان کراچی کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے مختصر نوٹس پر شاندار استقبال کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 60 سالوں سے سوئی ہوئی قوم کو جگا دیا ہے اور ہمیں زندہ ہونے کا احساس دلایا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس خواجہ شریف نے کہا کہ پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کر کے ہم نے وہ قرض بھی اتار دیا ہے جو سابقہ ججوں نے ہم پر ڈالا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے کہا کہ پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کر کے ہمیں کوئی شرمندگی نہیں بلکہ اس فیصلے پر آج بھی ہمیں فخر ہے۔

No comments: