International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, July 31, 2008

جہاد اکنامکس اینڈ اسلا مک بینکنگ اسلامی معاشی نظام کو کنٹرول کرنے کی امریکی آرمڈ گروپس رپورٹ

مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف ”مٹھی بھر دہشت گردوں “کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کے ایمان اور عقیدے کے خلاف جنگ کا نام ہے۔رپورٹ: اے پی ایس ، اسلام آباد
امریکی آرمڈ گروپس نے قومی سلامتی اور دہشت گردی و عسکریت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ جیتنا ناممکن ہے اس جنگ کو جیتنے کے لئے تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلامک فنانشنل سسٹم ( اسلام کے مالیاتی نظام ) کوکنٹرول کرنا ہو گا جو مغربی معیشت اور منڈیوں پر قبضہ کر رہا ہے ۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسلامی بینکوں میں سرمائے کو بڑھا رہی ہیں جس سے اسلامی معاشی نظام اور جہاد باالمال کو وسعت مل رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے میں سعودی حکومت کا کردار کس سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ 2008 ء میں اسلامی عسکریت پسندی کی سعودی حکومت کی جانب سے مدد کے ثبوت ملے ہیں ۔ شیخ زید بن سلطان پہلا عرب حکمران تھا جس نے معاشی جہاد کی اہمیت کو سمجھا اور تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اسلام کے معاشی نظام کو پھیلنے سے روکنا ہو گا ۔ ڈاکٹر رچل ارینفیلڈ اور الیسا اے لیپن کی اس رپورٹ میں جس کا عنوان ” جہاد اکنامکس اینڈ اسلامک بینکنگ “ ہے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ جدید فوجی ٹیکنالوجی سے نہیں جیت سکتے اس جنگ کو جیتنے کے لئے عالمی سطح پر پروان چڑھنے والے نظریئے اور سیاسی تحریک میں شریعت اور اخوان المسلمون کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کو اسلام کے معاشی نظام کی زبردست حمایت حاصل ہے یہ معاشی نظام مغربی معیشتوں اور منڈیوں کو زیر کر رہا ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی معاشی نظام ایک نئے ہتھیار کے طور پر سامنے آ رہا ہے ۔ اس اسلامی معیشت کے نظریئے کو استعمال کر کے امت کے تصور کو حاصل کیا جائے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرنے کی وجہ سے ” معاشی جہاد “ کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اس لئے امریکہ کو اس ” فنانشنل جہاد “ کے خاتمے کے لئے پالیسی ترتیب دینی چاہئے ۔ رپورٹ میں جہاد کی مالی معاونت یا جہاد با المال کو ” فنانشنل جہاد “ کہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ معروف عالم دین یوسف القرضاوی نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ مجاہدین کے لئے چندہ جمع کرنا صرف ایک تحفہ نہیں بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں مال دے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1920 ء میں مصر کے اندر اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء نے سیاسی معاشی اور مالی بنیادیں فراہم کیں تاکہ ” مالی جہاد “ کیا جا سکے اور یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے اس ضرورت پر وزر دیا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے ایک خود مختار اسلامی معاشی نظام ترتیب دینا ہو گا اور پھر اسی نظریئے کے تحت اسلامی معیشت اور بینکاری کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ 1930 ء میں بھارت کے اندر اور 1964 ءمیں جمال عبدالناصر نے مصر میں اسلامی بینک قائم کرنے پر پابندی لگا دی تھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اس نئے معاشی نظام کو 1954 ء سے 1961 ء تک اپنے ملک میں خوب پروان چڑھایا اور اس کے تحت دنیا بھر میں رفاحی ادارے قائم کئے گئے جو دہشت تنظیموں کی مالی معاونت کر رہے ہیں اسی طرح 1978 ءمیں انٹرنیشنل اسلامک ریلیف کی بنیاد رکھی گئی جو دوسری کئی رفاحی تنظیموں کی طرح 9/11 کے حملوں میں اور فلسطین کی مالی معاونت کر رہی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام رفاحی تنظیمیں دراصل اخوان المسلمون اور سعودی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ اسی طرح اسلامی ترقیاتی بینک بھی یہی کام سرانجام دے رہا ہے اسلامی ترقیاتی بینک تعلیم کے میدان میں شدت پسند اسلام کو پروان چڑھا رہا ہے ۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے 2001 ءمیں فلسطین کے دوسرے انتفادہ کے لئے 538 ملین ڈالر کی مدد دی ۔ اسی طرح سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکن لائبریری آف کانگریس کی 1991 ءکی رپورٹ کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک سوڈان میں الفیصل اسلامک بینک کی مدد کرتا ہے اور سوڈان کی حکومت نے 1989 ء میں اپنے 25 بینکوں کی اسلامی نظام میں تبدیل کر دیا تھا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی آمدنی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمون کے ویڑن کو نافذ کیا جا رہا ہے اور اسلامک بینکنگ سسٹم ایک جہاد ہے جو مغربی معاشی نظام کے لئے خطرہ ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسلامک بینکوں میں سرمائے کو بڑھا رہی ہیں جس سے اسلامی معاشی نظام اور مالی جہاد کو مزید وسعت مل رہی ہے ۔ جو غیر مسلم دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے بھی 9/11 کے حملوں کے وقت مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ امریکی معیشت کو نشانہ بنائیں اور دشمن کے بنیادی ستون کو تباہ کر دیں ۔ اسی طرح سے اس رپورٹ میں اسلام کے اہم ستون زکوٰ? کے بارے میں کہا گیا ہے کہ زکوٰ? بھی دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے میں استعمال کی جا رہی ہے کیونکہ جہادی تنظیموں کو زکوٰ? کا ایک بڑا حصہ دیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007 ء میں سعودی عرب میں 18 بلین ڈالر زکوٰ? کی مد میں جمع کئے گئے اسی طرح سعودی حکومت نے 1970 ء کی دہائی میں 100 بلین ڈالر دنیا بھر میں مساجد اسلامی ادارے اور اسلامی یونیورسٹیاں بنانے پر خرچ کئے تاکہ مسلم امہ کی طاقت کو بڑھاتے ہوئے مغربی معیشت کو زیر کیا جا سکے اور مغربی معیشت ‘ سیاسی نظام ‘ ثقافت ‘ تعلیمی نظام اور قانونی سٹرکچر کی جگہ پر شریعت لاگو کی جائے ۔ اسی طرح سے سعودی حکومت نے گزشتہ 13 سالوں کے دوران برطانوی یونیورسٹیز میں اسلامک سنٹر قائم کرنے کے لئے 459 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی مدد کرنے میں سعودی عرب کا کردار ڈھکا چھپانہیں ہے ۔ 2008 ء کے آغاز میں امریکی حکام نے اس بات کا پتہ چلایا کہ سعودی حکومت عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کر رہی ہے ۔ اسی طرح سے عرب امارات کی حکومت بھی اس میں ملوث ہے رپورٹ کے مطابق شیخ زید بن سلطان پہلا عرب حکمران جس نے ” اکنامک جہاد “ کی اہمیت کو سمجھا اور 1973 ءمیں تیل کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا اور 1991 ء کی خلیجی جنگ کے دوران اسرائیل کو مسلمانوں کا دوسرا بڑا دشمن قرار دیا جبکہ ہیومن اپیل انٹرنیشنل ایسا ادارہ ہے جس کے بورڈ میں عرب امارات کا صدر بھی ہوتا ہے یہ ادارہ فلسطینی شہید قیدیوں کے خاندانوں اور تنظیموں کی مدد کرتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغرب کو یہ جنگ جیتنے کے لئے اسلام کے معاشی نظام کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ مسلمان دنیا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے شریعت کو اپناتے ہیں ۔ جبکہ شریعت کو ایک دشمن کے طور پر نہیں لیاگیا اور نہ ہی اس کو سمجھا گیا ہے ۔ حالانکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کو جیتنے کا طریقہ اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے کہ شرعی ریاست کے قیام ،اسلامی رفاحی تنظیموں اور انفرادی سطح پر اس کو روکا جائے ۔ اسی طریقے سے ہم شریعت کے عالمی نظام کو زیر کر سکتے ہیں اور اس کے نظام کو اسی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ کمیونزم کو بھی اسی طرح سے ختم کیا گیا تھا ۔ جبکہ امریکی وزارت دفاع ”پنٹاگون “سے ملحق ادارے ”رینڈ “ نے امریکہ کو تجویز دی ہے کہ ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کا استعمال بند کردیا جائے۔ نیز دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھاری بھرکم فوجی کارروائیوں پر انحصار ختم کرکے پالیسیاں بنانے اور انٹیلی جنس کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنے پر توجہ دی جائے ۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹرنے رینڈ کارپوریشن کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اصطلاح ترک کردی جائے ۔ رینڈ کارپوریشن کے تحقیقی مطالبے ”دہشت گرد گروپ کس طرح ختم ہوسکتے ہیں ‘القاعدہ کو ختم کرنے سے ملنے والے سبق “میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ واشنگٹن ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کی اصطلاح کو ”دہشت گردی مقابلہ “ کا نام دیا جائے۔ دہشت گردوں کو مجرم سمجھا جائے اور کہا جائے کہ مقدس جنگجو نہ کہا جائے۔ رینڈ کارپوریشن امریکی افواج کے لیے ریسرچ کے ادارے کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتارہاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف جو سٹریٹجی اختیار کرتے ہیں ‘ ان اصطلاحات کا صحیح پس منظر میں ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس قسم کی قوت کا استعمال کیا جائے ۔ وائٹ ہاو¿س کی ویب سائٹ پر صفحہ موجود ہے جس کا نام ہی ”دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ “ہے ‘ رینڈ کی تحقیق کے مطابق تقریباً امریکہ کے تمام اتحادی مثلاً برطانیہ اور آسٹریلیا نے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “کی اصطلاح کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ برطانوی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفیروں اور ترجمانوں سے کہا ہے کہ وہ اس متنارعہ ”جملے “ یا ”عنوان “کو استعمال کرنا بند کردیں تاکہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اس کے کوئی دیگر مفاہیم مرتب نہ کئے جاسکیں اور اس سے نقصان ہوسکتاہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف ”مٹھی بھر دہشت گردوں “کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کے ایمان اور عقیدے کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ ناقدین کا کہناہے کہ یہ ”ملٹری “ اصطلاح ہے اور اس میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو بیان نہیں کیاگیا۔ دوسروں کاکہناہے کہ عسکریت پسند جنگ کے مفاہیم سے آگاہ ہیں‘ ”تہذیبی کشمکش سے بھی آگاہ ہیں “ اور انہی کو بنیاد بنا کر رضا کار بھرتی کرتے ہیں۔رینڈ تحقیقاتی ادارے کی تحقیق میں اختتام پر بتایا گیاہے کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی جس میں فوجی قوت کے دہشت گرد گروپوں کے خلاف زیادہ ”استعمال ‘ ‘ پر زور دیاگیاہے ‘ ناکام ہوچکی ہے ۔ تحقیقی رپورٹ کے مرتب اور سیاسیات کے ماہر سیٹھ جونز کا کہناہے کہ ”امریکہ القاعدہ یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر طویل مدتی مہم اس وقت تک نہیں چلا سکتا جب تک امریکہ کو یہ علم نہ ہو کہ دہشت گردگروپوں کا خاتمہ کس طرح کیا جاتاہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف فوجی قوت کے استعمال سے کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ اس معروف تحقیقی ادارے رینڈ میں کام کرنے والے محققوں نے 648دہشت گرد گروپوں کا مطالعہ کیا کہ جو 1968اور 2006ء کے درمیان منظر عام پر آئے اور ان میں سے چند ایک ہی کو فوجی طریقوں سے شکست دی جاسکی۔ جن گروپوں کامطالعہ کیاگیا ان میں سے صرف 7فیصد کو فوجی کارروائیوں سے ختم کیا جاسکا۔اس مطالعے میں بتایا گیاہے کہ دیگر دہشت گرد گروپ جس طرح ختم ہوئے ‘ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ان کی اکثریت نے یا تو سیاسی مراحل میں شرکت کرلی یا ان کو پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے گرفتار کرلیا ‘ یا ختم کردیا ۔ اقوام متحدہ کے فارن پالیسی رسالے نے نمایاں امریکی ماہرین اور سابق عہدیداران نے سروے کرکے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ ہار رہاہے۔ رینڈ نے متوازی حکمت عملی کی تجویز دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں القاعدہ کے خلاف فوجی قوت کا استعمال نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں کا استعمال کارآمد رہے گا۔ خفیہ ایجنسیوں کے استعمال کو 11ستمبر کے بعد کے مراحل میں کافی اہمیت دی گئی ہے۔ اے پی ایس

No comments: