اسلام آباد۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ 8 اگست سے بینجنگ میں شروع ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران بیرونی صحافیوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لئے مکمل آزادی نہیں دی جائے گی۔ اولمپک کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان سن وید کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے درمیان بعض ویب سائٹس کو بلاک کردیا جائے گا اور خاص طور پر فولانگونگ نامی روحانی تحریک سے متعلق ویب سائٹ کو بلاک رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ سات برس پہلے چین نے جب اولمپک کھیلوں کے بولی لگائی تھی تو اس نے کہا تھا کہ کھیلوں کے دوران صحافیوں کو انٹرنیٹ کی مکمل اور آزادانہ رسائی ہوگی۔ عالمی اولمپک کمیٹی کے سینئر اہلکار کیوان گوسپر کا کہنا ہے کہ وہ یہ معاملہ چین کے سات اٹھائیں گے۔ یہ ایک فکر کن بات ہے اور اس معاملے کی تفتیش کریں گے۔ ہمارا مقصد ہے کہ بیجنگ اولمپک کوور کرنے والے صحافی پہلے کسی بھی اولمپک کھیلوں کے طرح رپورٹنگ کرسکیں اور اگر انہیں انٹرنیٹ کے استعمال کی جہاں کہیں بھی پوری آزادی نہیں ملے گی ہم اس کی تفتیش کریں گے۔چین کے وزارات خارجہ کے ترجمان لیوجیان شو کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک فلونگونگ کی سائٹ کا سوال ہے آپ کو معلوم ہے کہ ملک کے قانون کے مطابق فلونگونگ مسلک پر پابندی عائد ہے اور ہم اپنی پوزیشن پر اٹل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض ویب سائٹس کے ساتھ یہ پریشانی ہے کہ وہ آسانی سے کھلتی نہیں ہیں۔اس سے پہلے اولمپک میڈیا سینٹر میں کام کرنیو الے صحافیوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں سیاسی طور پر حساس ویب سائٹس دیکھنے سے روکا گیا ہے۔ 2008 کے اولمپک کھیل بیجنگ میں آٹھ اگست سے شروع ہونے والے ہیں اور کھیلوں کے کوریج کے لیے 20 ہزار سے زیادہ صحافیوں کے پہنچنے کی امید ہے۔ لیکن اگر صحافیوں کو انٹرنیٹ کی مکمل اور آزادانہ رسائی حاصل نہیں کی گئی تو چینی حکام کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے لیے کھیلوں کے شروع ہونے سے پہلے عالمی اولمپک ایسویشن کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ صحافی کھیلوں کا مکمل کوریج کر سکیں۔
International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment