International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Saturday, August 2, 2008

امریکی نئی د فاعی حکمت عملی" توازن "






وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دنیا کو د ہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ سارک ممالک سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ۔ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ سارک کانفرنس میںپاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے قابل فخر ہے اور سارک ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو جنوبی ایشیاء کے مسائل کو حل کر سکتا ہے انہوں نے گزشتہ سال کے دوران بھارتی وزیراعظم من موہن کی طرف سے سارک کی صدارت کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سارک کے ممبر ممالک کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ اپنے معاشی وسائل کو بروئے کار لائے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ، اس لیے ہمیں اپنے وسائل بروئے کار لانے ہوں گے ۔ خطے میں غربت کے خاتمے کے لیے سارک کے سوشل چارٹر اور بچوں و خواتین کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا شدہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے جن میں خصوصی طور پر پن بجلی ، شمسی توانائی پر انحصار کیا جائے اور تیل گیس پائپ لائن کے ذریعے سے توانائی کی ضروریات پوری کریں سارک ممالک کو چاہیئے کہ توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے ا یک دوسرے سے تعاون کریں ۔ عالمی سطح پر غذائی قلت کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے سارک ممالک کو اپنا آبپاشی نظام جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے زراعت کے شعبے میں تحقیق اور ذرائع کو جدید بنانے کی ضرورت ہے ۔ سارک ممالک غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ د یں جنوبی ایشیاء کے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے سارک ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا۔ پاکستان گزشتہ دو عشروں سے اقتصادی تعاون کررہا ہے اپنی تجاویز میں وزیراعظم نے کہا کہ سارک ممالک کے درمیان نان ٹیرف بیریئرز کا خاتمہ کیا جائے ۔ ٹرانسپورٹیشن اور کمیونیکشن کے ذریعے رابطے بڑھائے جائیں ۔ بینکنگ اور فنانسنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے اور سارک ممالک کے تمام مرکزی بینکوں کے گورنروں کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے رابطوں کو مضبوط بنائیں سیاحت کے شعبے میں بھی تعاون کو بڑھانا بے حد ضروری ہے وزیراعظم نے دہشت گردی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بل میں بھارتی سفارت خانے پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتا ہے حالانکہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور ہماری اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کی نذر ہوئیں ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ انفرادی اور اجتماعی سطح پر لڑنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے سارک ممالک کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے آج کے اس دور میں کوئی ملک الگ تھلگ نہیں رہ سکتا ہمیں خطے کے تمام ہمسایہ ماملک کو ساتھ لے کر چلنا ہے انہوں نے کہا کہ میں تمام سارک اجلاس میں موجود مبصر ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جنوبی ایشیاء میں سارک کے پروگراموں میں تعاون کریں تاکہ خطے کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ خطہ بنایا جائے ۔ خطے کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ممبر ممالک کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے سارک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ممبر ممالک کو اپنے تنازعات سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل جاری ہے جس کے ذریعے ہم اپنے تنازعات کو حل کریں گے اور خطے کے ماحول کو بچانے کے لیے بھی ہمیں مل کر حکمت عملی طے کرنا ہو گی ۔جنوبی ایشیائی ممالک کی دو روزہ سارک سربراہ کانفرنس سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں گذشتہ روزشروع ہوئی تھی سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ،بھوٹان کے وزیر اعظم جگمے تھنلے،بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹو فخر الدین احمد،سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے،نیپال کے عبوری وزیر اعظم گریجا پراساد کوئرالا،بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ ،افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شرکت کی۔ جب کہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی اور امریکی نایب وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر مبصر کی حیثیت سے شریک تھے ۔سارک سربراہ کانفرنس کے موقع ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔افتتاحی اجلاس سے خطاب میں سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے نے کہا کہ خطے کے بیشتر ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کر نے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام کی خوشحالی سارک کا بنیادی مقصد ہے اور سارک ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنا ہے ۔اس سے قبل دو روزہ سار ک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کانفرنس کا ایجنڈا ترتیب دیا گیا تھا ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی خطے کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے اس کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے بنگلور اور احمد آباد میں دھماکوں کا سلسلہ خطے کے امن خراب کی دھمکی ہے ۔ دہشت گردی سلامتی اور ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ سارک ممالک کو خطے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ ہمارا مقصد خوشحال ‘ مستحکم اور پرامن جنوبی ایشیاء ہے ۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ خطے کی اقتصادیات پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوئی ہے اور اس خطے کے ممالک اقتصادی تعاون سے جڑے ہوئے ہیں ۔ بھارت پچھلے چار سال سے 8.8 فیصد کرشرح سے ترقی کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ساو¿تھ ایشین کسٹم یونین اور ساو¿تھ ایشین اکنامک یونین قائم کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سارک ڈویلپمنٹ فنڈ خطے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ جنوبی ایشیاء کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباءکو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملنا چاہئے ۔ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کابل، بنگلور اور احمد آباد میں ہونے والے دھماکے ایک ہی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی خوشحالی کیلئے توانائی، خوراک کا بحران اور دہشت گردی بڑا خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے دھماکے پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے اظہار افسوس کرتا ہوں ۔دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہم سب کو مل کر مشترکہ اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کو شکست دینا امریکی ملٹری کی اولین ترجیح ہے لیکن تنہا عراق اور افغانستان کی جنگیں جیت لینے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی منظور کردہ نیشنل ڈیفنس اسٹرایٹیجی 2008 ء میں کہا گیا ہے کہ تنہا طاقت کا استعمال ابھی اس مشن کو مکمل نہیںکر سکے گا۔ پالیسی کے تحت ملٹری اہم ترین جو کام کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ دوستوں اور اتحادی ملکوں کو اپنے خود کا دفاع کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ دفاعی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب کے لیے تشد د پر آمادہ شدت پسند تحریکات کے خلاف طویل جنگ جیتنا امریکہ کے مرکزی نصب العین ہو گیا ہے ۔ عراق اور افغانستان اس کشمکش کے مرکزی محاذ برقرار رہیں گے۔ لیکن دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ طویل مدتی کثیر محاذی ، کثیر رخی لڑائی کے مضمرات سے اپنی نگاہیں نہیں ہٹا سکتا ۔ کیونکہ یہ لڑائی کمیونزم کے ساتھ سرد جنگ کے ٹکراو¿ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کہیں زیادہ متنوع ہے ۔“ 23 صفحات پر مشتمل نیشنل ڈیفنس اسٹرایٹیجی میں پرزور انداز میں کہا گیا ہے ۔ ڈ اس لڑائی کو جیتنے کے لیے عراق اورافغانستان میں کامیابی بے حد ضروری ہے لیکن تنہا یہ کامیابی بھی فتح کی نوید نہیں سنائے گی ۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیاہے کہ طاقت کا استعمال ایک رول ادا کرتا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ سرکاری ومعاشی پروگراموں میں مقامی حصہ داری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات اس سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ترقی کے ساتھ ہی ساتھ ان شکایات کو سمجھنا اور ان کا ازالہ کرنا بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہی شکایات اکثر شورش کی سب سے اہم وجہ بنتی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے بعد میںپینٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج پر اس بات میں توازن برقرار رکھنا لازمی ہے کہ طویل چلنے والی بے قاعدہ لڑائیوں کو جیتنے کی اہلیت کو یقینی بنایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی روایتی بالادستی کو برقرار رکھا جائے ۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر میں نئی قومی دفاعی حکمت عملی کو ایک لفظ میں بیان کر سکوں تو وہ لفظ ” توازن “ ہو گا۔ جبکہ دو روزہ عالمی کشمیر امن کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اجتماعی قبروں کی تحقیقات کے لیے آزادانہ اور قابل اعتبار تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نویں عالمی کشمیر امن کانفرنس واشنگٹن میں ختم ہو گئی ہے۔ کانفرنس کا اہتمام کشمیری امریکن کونسل اور ایسوسی ایشن آف ہیونٹیرین لائیرز نے کیاتھا۔ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں دریافت ہونے والی بے نام اجتماعی قبروں اور بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت سے کہا گیاہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کا وعدہ پورا کیا جائے پاکستان اور بھارت قیام امن کے تحت بات چیت کے عمل میں کشمیر کو مرکزی اہمیت دیں ۔ کشمیر کا مسئلہ پر امن طور پر پائیدار بنیادوں پر اسی صورت میں حل ہو سکتا ہے جب اس کے لیے جمہوری طریقہ اپنایا جائے ۔ کشمیریوں کی مرضی معلوم کی جائے ۔ اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت پر زور دیاگیا ہے کہ مذاکراتی عمل کا ٹائم فریم طے کیاجائے اور بات چیت کے عمل میں کشمیریوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے ۔ کشمیر کے سلسلے میں اعتماد کی بحالی کے مزید اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بات چیت کا ماحول بہتر ہو ۔ اعلامیے میں بھارت پر زور دیاگیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ، کالے قوانین و اپس لئے جائیں ۔ لوگوںکے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو سزا دی جائے ۔ کانفرنس نے امرناتھ شرائن بورڈ کو الاٹ کی گئی زمین کی واپسی کا خیر مقدم کیاگیا ۔ یہ بھی مطالبہ کیاگیاکہ پنڈتوں سمیت تمام بے گھر ہوئے کشمیریوں کی با عزت اور باوقار واپسی کے لیے اقدامات کئے جائیں ۔ اعلامیہ دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، جسٹس ریٹائرڈ راجندر سچل کی سربراہی میں 8 رکنی ڈرافٹ کمیٹی نے تیار کیا تھا کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اعلامیہ کی منظوری دی ۔ڈرافٹ کمیٹی میں راجندر سچل کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فرزانہ راجہ ، کشمیر ٹائمز گروپ کے چےئرمین وید بھیسن ، چتندر بخشی صدر جموںو کشمیر فورم ، برطانوی مصنفہ وکٹوریہ شیفلڈ ، ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر ، کشمیر سنٹر لندن کے سربراہ پروفیسر نذیر احمد شال اور کشمیری امریکن کونسل کے سربراہ ڈاکٹر غلام نبی فائی شامل تھے۔اے پی ایس


No comments: