International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, August 7, 2008

قبائلی علاقوں میں نیا طالبان اتحاد بن گیا ، پاکستان جب جہاں حملہ کرے گا اسی انداز میں ہی بدلہ لیں گے۔ ۔ ۔ نئے طالبان اتحادی کی دھمکی

وانا ۔ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو دنوں سے سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر میزائل حملوں اور بم دھماکوں کی ذمہ داری وزیرستان کے نئے طالبان اتحاد نے قبول کی ہے۔دوسری طرف جنوبی وزیرستان میں ہی قومی لشکر نے غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں تین مقامی قبائل کے گھروں کو نذر آتش کیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزیرستان کے نئے طالبان اتحاد نے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ نئے اتحاد کے امیر حافظ گل بہادر کے ترجمان احمداللہ احمدی نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان جب اور جہاں بھی ان کے اوپر حملہ کریگا وہ اسی انداز میں ہی بدلہ لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکی تنظیم منظم ہے اور تنظیم میں شامل لوگ پرامن ہیں اور وہ اپنے امیر کے اطاعت کے پابند ہے۔ ’ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔ پاکستان حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ اس قسم کے کارروائیوں سے باز رہے اور علاقے کو آگ میں دھکیلنے کی بجائے وہاں امن امان قائم کرنے کی کوشش کرے۔‘ یہ نیا اتحاد مقامی طالبان گل بہادر گروہ اور مولانا نذیر گروہ کا ہے۔ ان کا حکومت کے ساتھ پچھلے ایک سال سے امن معاہدہ ہے۔اس کے علاوہ وانا میں احمدزئی وزیر قبائل کے ایک قومی لشکر نے غیر ملکی ازبکوں کو پناہ دینے کے الزام میں تین مقامی قبائل کے گھروں کو نذرآتش کیا ہے۔ قومی لشکر کا کہنا ہے کہ پناہ دینے والے تینوں قبائل سے دس دس لاکھ جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ایک سال سے غیر ملکی ازبکوں کو علاقے سے نکالنے کے بعد امن امان قائم ہوا تھا۔ لیکن گزشتہ تین دنوں سے فوجی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ وانا کے علاقے اعظم ورسک میں ایک مکان پر میزائل حملے میں امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ملوث ہے۔

No comments: